ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے آدھا دن پہلے داخل ہوں گے اور یہ آدھا دن پانچ سو برس کے برابر ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “They poor of the Muslims will enter Paradise before their rich half a day ahead and that is five hundred years.” [Ahmed 10659]
حسن صحيح انظر الحديث (2472)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2354
مسروق کہتے ہیں کہ میں ام المؤمنین عائشہ ؓ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے ہمارے لیے کھانا طلب کیا اور کہا کہ میں کسی کھانے سے سیر نہیں ہوتی ہوں کہ رونا چاہتی ہوں پھر رونے لگتی ہوں۔ میں نے سوال کیا: ایسا کیوں؟ عائشہ ؓ نے کہا: میں اس حالت کو یاد کرتی ہوں جس پر رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہوا، اللہ کی قسم! آپ روٹی اور گوشت سے ایک دن میں دو بار کبھی سیر نہیں ہوئے۔
Masruq narrated: I visited Sayyidah Ayshah (RA) and she ordered food to be served to me. She said, “Never do I eat to a full stomach but feel like crying and I cry.” I asked her, “Why?” She said, “I recall the condition in which Allah’s Messenger (RA) departed from this world. By Allah, he never had bread and meat to a full belly twice a day.” [Muslim 2974]
تفرد بہ المؤلف، وانظر مایأتي بعدہ (تحفة الأشراف: ١٧٦٢٧) (ضعیف) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف ہیں، اگلی روایت صحیح ہے جس کا سیاق اس حدیث کے سیاق سے قدرے مختلف ہے )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اہل خانہ نے مسلسل تین دن تک گیہوں کی روٹی سیر ہو کر نہیں کھائی یہاں تک کہ آپ رحلت فرما گئے۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ and his family never had wheat bread for three consecutive days to a full stomach till he died. [Muslim 2976, Ibn e Majah3343]
صحيح، ابن ماجة (3343)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2358
ابوامامہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے گھر سے جو کی روٹی (اہل خانہ کی) ضرورت سے زیادہ نہیں ہوتی تھی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that in the house of Allah’s Messenger ﷺ there never was more barley bread than necessary.
صحيح مختصر الشمائل (124)، التعليق الرغيب (4 / 110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2359
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - یحییٰ بن ابی بکیر کوفی ہیں، ابوبکیر جو یحییٰ کے والد ہیں سفیان ثوری نے ان کی حدیث روایت کی ہے، ٣ - یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر مصری ہیں اور لیث کے شاگرد ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی گھر میں آٹے کی مقدار اتنی کم ہوتی تھی کہ اس سے بمشکل آپ کے گھر والوں کی ضرورت پوری ہوتی، کیونکہ یہ لوگ دوسروں کو ہمیشہ اپنے پر ترجیح دیتے تھے اور «ويؤثرون علی أنفسهم ولو کان بهم خصاصة» (الحشر: ٩ ) کا کامل نمونہ تھے، بقدر کفاف زندگی گزارنا پسند کرتے تھے، اسی لیے جو کی روٹی بھی ضرورت سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والے مسلسل کئی راتیں خالی پیٹ گزار دیتے، اور رات کا کھانا نہیں پاتے تھے۔ اور ان کی اکثر خوراک جو کی روٹی ہوتی تھی۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ passed many nights together on an empty stomach and his family did not find food for the evening meal. And most of their diet consisted of barley bread. [Ibn e Majah3347]
حسن، ابن ماجة (3347)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2360
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤٩ (٣٣٤٧) (تحفة الأشراف: ٦٢٣٣) (حسن )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کی «اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا» اے اللہ! محمد ﷺ کے گھر والوں کو صرف اتنی روزی دے جس سے ان کے جسم کا رشتہ برقرار رہ سکے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed (O Allah, let the provision of the family of Muhammad be enough for subsistence). [Bukhari 6460, Muslim 1055, Ibn e Majah4139, Ahmed 10241]
صحيح، ابن ماجة (4136)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2361
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ ایسی زندگی گزارنا پسند کرتے تھے جو دنیوی آلائشوں اور آرام و آسائش سے پاک ہو، کیونکہ بعثت نبوی کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ لوگوں کو دنیا کے ہنگاموں، مشاغل اور زیب و زینت سے ہٹا کر آخرت کی طرف متوجہ کریں، اسی لیے آپ ﷺ نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے حق میں مذکورہ دعا فرمائی، آپ کی اس دعا سے علماء اور داعیان اسلام کو نصیحت حاصل کرنا چاہیئے کہ ہماری زندگی سادگی کا نمونہ اور دنیاوی تکلفات سے پاک ہو، اگر اللہ ہمیں مال و دولت سے نوازے تو مالدار صحابہ کرام کا کردار ہمارے پیش نظر ہونا چاہیئے تاہم مال و دولت کا زیادہ سے زیادہ حصول ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیئے اور نہ اس کے لیے ہر قسم کا حربہ و ہتھکنڈہ استعمال کرنا چاہیئے خواہ اس حربے اور ہتھکنڈے کا استعمال کسی دینی کام کے آڑ میں ہی کیوں نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٧ (٦٤٦٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٣ (١٠٥٥)، والزہد ١ (١٠٥٥/١٨)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٣٦) (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٨)، و مسند احمد (٢/٢٣٢، ٤٤٦، ٤٨١) (صحیح )
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے چوکی (یا میز) پر کھانا کبھی نہیں کھایا اور نہ ہی کبھی باریک آٹے کی روٹی کھائی یہاں تک کہ دنیا سے کوچ کر گئے۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ never ate on a (small) table and he never ate thin bread till he died. [Bukhari 6450, Ibn e Majah3293]
صحيح، ابن ماجة (3292 و 3293)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2363
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث سعید بن ابی عروبہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
سہل بن سعد ؓ سے روایت ہے کہ ان سے پوچھا گیا: کیا رسول اللہ ﷺ نے کبھی میدہ کی روٹی کھائی ہے؟ سہل نے جواب دیا: رسول اللہ ﷺ نے میدہ کی روٹی دیکھی بھی نہیں یہاں تک کہ رحلت فرما گئے۔ پھر ان سے پوچھا گیا: کیا آپ لوگوں کے پاس عہد نبوی میں چھلنی تھی؟ کہا ہم لوگوں کے پاس چھلنی نہیں تھی۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ آپ لوگ جو کے آٹے کو کیسے صاف کرتے تھے؟ تو کہا: پہلے ہم اس میں پھونکیں مارتے تھے تو جو اڑنا ہوتا وہ اڑ جاتا تھا پھر ہم اس میں پانی ڈال کر اسے گوندھ لیتے تھے۔
Sayyidina Sahl ibn Sad was asked whether Allah’s Messenger ﷺ ever ate white flour and he said “Allah’s Messenger did not see white flour till he met Allah.” He was asked “Did you have a sieve in the Prophet’s times?” He said, “We did not have a sieve (in his times).” He was asked. “Then how did you sift barley flour?” He said, “We used to blow, so what had to blow off below away and we poured water on the rest and kneaded the mixture.” [B5413, Ibn e Majah3335] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3335)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2364
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس حدیث کو مالک بن انس نے بھی ابوحازم سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأطعمة ٢٣ (٥٤١٣) (وانظر أیضا: ٥٤١٠)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٤٤ (٣٣٣٥) (تحفة الأشراف: ٤٧٠٤)، و مسند احمد (٥/٣٣٢) (صحیح )
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں خون بہایا (یعنی کافر کو قتل کیا) اور میں پہلا شخص ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا، میں نے اپنے آپ کو محمد ﷺ کے ساتھیوں کی ایک جماعت کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے دیکھا ہے، کھانے کے لیے ہم درختوں کے پتے اور «حبلہ» (خاردار درخت کے پھل) کے علاوہ اور کچھ نہیں پاتے تھے، یہاں تک کہ ہم لوگ بکریوں اور اونٹوں کی طرح قضائے حاجت میں مینگنیاں نکالتے تھے، اور قبیلہ بنی اسد کے لوگ مجھے دین کے سلسلے میں طعن و تشنیع کرتے ہیں، اگر میں اسی لائق ہوں تو بڑا ہی محروم ہوں اور میرے تمام اعمال ضائع و برباد ہوگئے ١ ؎۔
Sayyidina Sa’d ibn Abu Waqqas (RA) narrated: I was the first person to to shed blood in he path of Allah and I was the first person to shoot an arrow in the path of Allah. Indeed. I remember well that I participated in battles with a group of the companions of Muhammad and we did not eat but leaves of trees and bean (or acacia) so that we passed stool like the droppings of sheep and camels. Then the people of Banu Asad censured me about religion and I feared that in that case my deeds were wasted.
صحيح مختصر الشمائل (114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2365
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سعد ؓ نے یہ بات اس وقت کہی تھی جب بعض جاہل لوگوں نے آپ پر چند الزامات لگائے تھے، ان الزامات میں سے ایک الزام یہ بھی تھا کہ آپ کو ٹھیک سے نماز پڑھنا نہیں آتی، یہ آپ کے کوفہ کے گورنری کے وقت کی بات ہے، اور شکایت خلیفہ وقت عمر فاروق ؓ سے کی گئی تھی۔
سعد بن مالک (ابی وقاص) ؓ کہتے ہیں کہ میں عرب کا پہلا شخص ہوں جس نے راہ خدا میں تیر پھینکا، اور ہم نے اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کرتے وقت دیکھا ہے کہ ہمارے پاس خاردار درختوں کے پھل اور کیکر کے درخت کے علاوہ کھانے کے لیے کچھ نہ تھا یہاں تک کہ ہم لوگ قضائے حاجت میں بکریوں کی طرح مینگنیاں نکالا کرتے تھے ١ ؎، اور اب قبیلہ بنی اسد کے لوگ مجھے دین کے سلسلے میں ملامت کرنے لگے ہیں، اگر میں اسی لائق ہوں تو بڑا ہی محروم ہوں اور میرے اعمال ضائع ہوگئے۔
Sayyidina Sad ibn Maalik (RA) narrated: I was the first man among the Arabs who threw an arrow in Allah’s path. Indeed, I recall that we participated in battles with Allah’s Messenger ﷺ and we had no food except Aublah (been) and samar (acacia) so that our stool was like the droppings of sheep. With that the Banu Asad ridiculed me on this religion so that I feared that my deeds were wasted. [Ahmed 1498, Bukhari 3728, Muslim 2966]
صحيح انظر ما قبله (2365)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2366
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عتبہ بن غزوان سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ جہاد جیسے افضل عمل کو انجام دیتے وقت ہماری تنگی کا یہ حال تھا کہ ہم جنگلی درختوں کے پتے کھانے پر مجبور ہوجاتے تھے، کیونکہ وسائل کی کمی کے باعث اتنا سامان خوراک ساتھ نہیں ہوتا تھا جو اختتام تک کفایت کرتا۔
محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ ہم ابوہریرہ ؓ کی خدمت میں موجود تھے، آپ کے پاس گیرو سے رنگے ہوئے دو کتان کے کپڑے تھے، انہوں نے ایک کپڑے میں ناک پونچھی اور کہا: واہ واہ، ابوہریرہ! کتان میں ناک پونچھتا ہے، حالانکہ ایک وہ زمانہ بھی تھا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سامنے، اور حجرہ عائشہ ؓ کے درمیان بھوک کی شدت کی وجہ سے بیہوش ہو کر گرپڑتا تو کوئی آنے والا آتا اور میری گردن پر اپنا پاؤں رکھ دیتا اور سمجھتا کہ میں پاگل ہوں، حالانکہ میں پاگل نہیں ہوتا تھا ایسا صرف بھوک کی شدت کی وجہ سے ہوتا تھا ١ ؎۔
Muhammad ibn Sirin narrated: We were with Abu Hurayrah He had two pieces of cloth, red in colour. He cleaned his nose with one of them and said, “Good, Abu Hurayrah (RA) uses this cloth today to clean his nose. I remember the time when I had fallen down due to hunger between the pulpit of Allah’s Messenger ﷺ and the apartment of Sayyidah Ayshah (RA), unconsciousness had overtaken me. Those who passed by put their feet on my neck supposing that I had gone mad though I was not mad, only hunger had overtaken me.’ [Ahmed 23993]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2367
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اور اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ انتہائی تنگی کی زندگی گزارنے کے باوجود صحابہ کرام بےانتہا خوددار، صابر اور قانع تھے۔
فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب لوگوں کو نماز پڑھاتے تو صف میں کھڑے بہت سے لوگ بھوک کی شدت کی وجہ سے گرپڑتے تھے، یہ لوگ اصحاب صفہ تھے، یہاں تک کہ اعراب (دیہاتی لوگ) کہتے کہ یہ سب پاگل اور مجنون ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ جب نماز سے فارغ ہوتے تو ان کی طرف متوجہ ہوتے اور فرماتے: اگر تم لوگوں کو اللہ کے نزدیک اپنا مرتبہ معلوم ہوجائے تو تم اس سے کہیں زیادہ فقر و فاقہ اور حاجت کو پسند کرتے ١ ؎، فضالہ ؓ کہتے ہیں: میں اس وقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا۔
Sayyidina Fadalah ibn Ubayd (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ led the salah, some men of the ashab us suffab fell down out of hunger. The villagers would remark “They are insane.” So, when the prayer was over, Allah’s Messenger turned to them and said, “if you were to know how much blessing Allah will bestow on you because of this poverty and hunger, you would prefer a greater degree of poverty and hunger.” Fadalah said, “That day, I was with Allah’s Messenger”
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اصحاب صفہ کس قدر تنگی اور فقر و فاقہ کی حالت میں تھے، پھر بھی ان کی خودداری کا یہ عالم تھا کہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے صبر و قناعت کی زندگی گزارتے تھے، یہ بھی معلوم ہوا کہ دینی علوم کے سیکھنے کے لیے ایسی جگہوں کا انتخاب کرنا چاہیئے جہاں تعلیمی و تربیتی معیار اچھا ہو چاہے کھانے پینے کی سہولتوں کی کمی ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اصحاب صفہ کی زندگی سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ خلاف معمول ایسے وقت میں گھر سے نکلے کہ جب آپ نہیں نکلتے تھے اور نہ اس وقت آپ سے کوئی ملاقات کرتا تھا، پھر آپ کے پاس ابوبکر ؓ پہنچے تو آپ نے پوچھا: ابوبکر تم یہاں کیسے آئے؟ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اس لیے نکلا تاکہ آپ سے ملاقات کروں اور آپ کے چہرہ انور کو دیکھوں اور آپ پر سلام پیش کروں، کچھ وقفے کے بعد عمر ؓ بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے پوچھا: عمر! تم یہاں کیسے آئے؟ اس پر انہوں نے بھوک کی شکایت کی، آپ نے فرمایا: مجھے بھی کچھ بھوک لگی ہے ١ ؎، پھر سب مل کر ابوالہیشم بن تیہان انصاری کے گھر پہنچے، ان کے پاس بہت زیادہ کھجور کے درخت اور بکریاں تھیں مگر ان کا کوئی خادم نہیں تھا، ان لوگوں نے ابوالھیثم کو گھر پر نہیں پایا تو ان کی بیوی سے پوچھا: تمہارے شوہر کہاں ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ وہ ہمارے لیے میٹھا پانی لانے گئے ہیں، گفتگو ہو رہی تھی کہ اسی دوران! ابوالہیشم ایک بھری ہوئی مشک لیے آ پہنچے، انہوں نے مشک کو رکھا اور رسول اللہ ﷺ سے لپٹ گئے اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، پھر سب کو وہ اپنے باغ میں لے گئے اور ان کے لیے ایک بستر بچھایا پھر کھجور کے درخت کے پاس گئے اور وہاں سے کھجوروں کا گچھا لے کر آئے اور اسے رسول اللہ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے فرمایا: ہمارے لیے اس میں سے تازہ کھجوروں کو چن کر کیوں نہیں لائے؟ عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے چاہا کہ آپ خود ان میں سے چن لیں، یا یہ کہا کہ آپ حضرات پکی کھجوروں کو کچی کھجوروں میں سے خود پسند کرلیں، بہرحال سب نے کھجور کھائی اور ان کے اس لائے ہوئے پانی کو پیا، اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے یقیناً یہ ان نعمتوں میں سے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن سوال کیا جائے گا اور وہ نعمتیں یہ ہیں: باغ کا ٹھنڈا سایہ، پکی ہوئی عمدہ کھجوریں اور ٹھنڈا پانی ، پھر ابوالھیثم اٹھ کھڑے ہوئے تاکہ ان لوگوں کے لیے کھانا تیار کریں تو آپ ﷺ نے ان سے کہا: دودھ والے جانور کو ذبح نہ کرنا ، چناچہ آپ کے حکم کے مطابق انہوں نے بکری کا ایک مادہ بچہ یا نر بچہ ذبح کیا اور اسے پکا کر ان حضرات کے سامنے پیش کیا، ان سبھوں نے اسے کھایا اور پھر آپ نے ابوالھیثم سے پوچھا؟ کیا تمہارے پاس کوئی غلام ہے؟ انہوں نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا: جب ہمارے پاس کوئی قیدی آئے تو تم ہم سے ملنا ، پھر نبی اکرم ﷺ کے پاس دو قیدی لائے گئے جن کے ساتھ تیسرا نہیں تھا، ابوالھیثم بھی آئے تو آپ ﷺ نے ان سے کہا کہ ان دونوں میں سے کسی ایک کو پسند کرلو، انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! آپ خود ہمارے لیے پسند کر دیجئیے۔ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: بیشک جس سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے۔ لہٰذا تم اس کو لے لو (ایک غلام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے) کیونکہ ہم نے اسے نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور اس غلام کے ساتھ اچھا سلوک کرنا ، پھر ابوالھیثم اپنی بیوی کے پاس گئے اور رسول اللہ ﷺ کی باتوں سے اسے باخبر کیا، ان کی بیوی نے کہا کہ تم نبی اکرم ﷺ کی وصیت کو پورا نہ کرسکو گے مگر یہ کہ اس غلام کو آزاد کر دو، اس لیے ابوالھیثم نے فوراً اسے آزاد کردیا، نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے کسی نبی یا خلیفہ کو نہیں بھیجا ہے مگر اس کے ساتھ دو راز دار ساتھی ہوتے ہیں، ایک اسے بھلائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے روکتا ہے، جب کہ دوسرا ساتھی اسے خراب کرنے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتا، پس جسے برے ساتھی سے بچا لیا گیا گویا وہ بڑی آفت سے نجات پا گیا ٢ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that once the Prophet ﷺ came out of his house at an hour he never came out and no one would come to meet him (at that hour). Abu Bakr (RA) came to him (suddenly) and he asked, “What is with you, O Abu Bakr?” He said, “I came out to meet Allah’s Messenger and observe his face and to offer my salutation to him.’ Hardly had any time passed when Umar (also) came, and he asked, “What is it with you, O Umar?” He said, “Hunger, O Messenger of Allah.” He said, “And I too found something of that (on me).” So, they set out to the house of Abul Haytham ibn Tayyihan Ansari. He possessed a lot of palm trees and sheep, but he had no servant. They did not find him. They asked his wife “Where is your life partner?” She said, He has gone to fetch us sweet water.”Not much time gone by when he came with a water skin of sweet water. He put it down and embraced Prophet ﷺ and said, “My parents be ransomed to you.” Then he went with them to his garden and spread for them a mat. He went to a palm tree and returned with a bunch of dates which he placed down. The Prophet ﷺ said to him, “Why did you not pick out (only) fresh dates for us?” He said, “O Messenger of Allah, I thought that you might choose for yourself fresh and the dried.” They ate and drank from that water. Allah’s Messenger ﷺ said, “By Him Who Has my life in His hand! You will be asked on the day of Resurrection about these blessings: the cool shade, the fresh dates and cool water.” Abul Haytham engaged himself to prepare a meal for them. The Prophet ﷺ said to him, “Do not slaughter a milk-yielding animal.” So, he slaughtered a kid and brought (the cooked food) to them. They ate. The Prophet ﷺ asked him, “Do you have a servant?” He said, “No.” He said, “When captives are brought to us, you come.” (Soon) two captives were brought to the Prophet ﷺ and there was not a third with them, and Abu Haytham also came to him. The Prophet ﷺ said to him, “Chose one of them.” He said, “O Prophet ﷺ of Allah, you select for me.” The Prophet ﷺ said, “The one who is consulted is trusted. Take this one, for I have seen him offer salah. And, he instructed him to be kind to him in treatment. Abu Haytham went to his wife and conveyed to her the instruction of the Prophet. So, his wife said to him, “You will not be able to abide by the saying of the Prophet ﷺ except that you set him free.” He said, “He is free.” So, the Prophet ﷺ said, “Surely. Allah does not send a Prophet, or a khalifah (caliph) except that he has two kinds of retinue, one who enjoin that which is pious and forbids that which is evil, and the other who make him wicked. And he who is protected from evil friends has been saved, indeed.” [Bukhari 7198, Ahmed 11342]
١ ؎: کتاب الزہد اور اس باب سے اس حدیث کی مناسبت اسی ٹکڑے میں ہے، مطلب یہ ہے کہ آپ اور آپ کے صحابہ بھی کھانے کے لیے کچھ نہیں پاتے تھے اور بھوک سے دو چار ہوتے تھے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ اور آپ کے جاں نثار صحابہ کس قدر تنگ دستی کی زندگی گزار رہے تھے، ایسے احباب کے پاس طلب ضیافت کے لیے جانا جائز ہے جن کی بابت علم ہو کہ وہ اس سے خوش ہوں گے، اس حدیث میں مہمان کی عزت افزائی اور اس کی آمد پر اللہ کا شکر ادا کرنے کی ترغیب ہے، اسی طرح گھر پر شوہر کی عدم موجودگی میں اگر کسی فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو عورت اپنے شوہر کے مہمانوں کا استقبال کرسکتی، اور انہیں خوش آمدید کہہ سکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٢٣ (٥١٢٨)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٧ (٣٧٤٥) (وکلاہما بقولہ: ” المستشار مؤتمن “ ) ویأتي عند المؤلف في الأدب ٥٧ (٢٨٢٢) (تحفة الأشراف: ١٤٩٧٧) (صحیح )
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے (مرسل) روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر و عمر ؓ گھر سے نکلے، اس کے بعد راوی نے مذکورہ حدیث جیسی حدیث بیان کی، لیکن اس میں ابوہریرہ کا ذکر نہیں کیا، شیبان کی (سابقہ) حدیث ابو عوانہ کی (اس) حدیث سے زیادہ مکمل اور زیادہ طویل ہے، شیبان محدثین کے نزدیک ثقہ اور صاحب کتاب ہیں ١ ؎، ابوہریرہ ؓ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی مروی ہے، اور یہ حدیث ابن عباس سے بھی مروی ہے۔
Salih ibn Abdulaah reported a hadith like it from Abu Awanah from Abdul Malik ibn Umayr, from Abu Salamah but did not mention Abu Hurayrah (RA). This hadith is lengthier than the hadith of Abu Awanah, and also complete. Shayban was trustworthy. This hadith is reported from Abu Hurayrah from other sanad too. It is also reported from lbn Abbas (RA).
صحيح انظر ما قبله (2369)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2370
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کے پاس احادیث کا لکھا ہوا مجموعہ بھی ہے۔
ابوطلحہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے (جنگ خندق کے دوران) رسول اللہ ﷺ سے بھوک کی شکایت کی اور اپنے پیٹ سے کپڑا اٹھایا جن پر ایک ایک پتھر بندھا ہوا تھا سو آپ نے اپنے مبارک پیٹ سے کپڑا اٹھایا تو اس پر دو پتھر بندھے ہوئے تھے۔
Sayyidina Abu Talhah (RA) narrated: We complained to Allah’s Messenger ﷺ about our hunger and raising from our stomach (the garment) bared the stone each of us had tied to it. He showed that he had two stones (tied to his stomach.)
نعمان بن بشیر ؓ کہتے ہیں کہ تم لوگ جو چاہتے ہو کھاتے پیتے ہو حالانکہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو اس حال میں دیکھا کہ ردی کھجوریں بھی اس مقدار میں آپ کو میسر نہ تھیں جن سے آپ اپنا پیٹ بھرتے۔
Simak in Harb reported baving heard Nu’man ibn Bashir ﷺ say, “Do you have to eat and drink what you like? I had seen your Prophet ﷺ and he did not find even bad dates with which to fill his belly”
صحيح مختصر الشمائل (110)
صحيح مختصر الشمائل (110)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2372
ابو عوانہ اور ان کے علاوہ کئی لوگوں نے سماک بن حرب سے ابوالاحوص کی حدیث کی طرح روایت کی ہے، شعبہ نے یہ حدیث «عن سماک عن النعمان بن بشير عن عمر» کی سند سے روایت کی ہے۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2372
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مالداری ساز و سامان کی کثرت کا نام نہیں ہے، بلکہ اصل مالداری نفس کی مالداری ہے ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said “Richness does not lie in abundant wealth and property, but richness is the richness at hear (contentment of heart). [Ahmed 7320, Bukhari 6446, Muslim 1051, Ibn e Majah4137]
صحيح، ابن ماجة (4137)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2373
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: انسان کے پاس جو کچھ ہے اسی پر صابر و قانع رہ کر دوسروں سے بےنیاز رہنا اور ان سے کچھ نہ طلب کرنا درحقیقت یہی نفس کی مالداری ہے، گویا بندہ اللہ کی تقسیم پر راضی رہے، دوسروں کے مال و دولت کو للچائی ہوئی نظر سے نہ دیکھے اور زیادتی کی حرص نہ رکھے۔
حمزہ بن عبدالمطلب کی بیوی خولہ بنت قیس ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: یہ مال سرسبز اور میٹھا ہے ١ ؎ جس نے اسے حلال طریقے سے حاصل کیا اس کے لیے اس میں برکت ہوگی اور کتنے ایسے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول کے مال کو حرام و ناجائز طریقہ سے حاصل کرنے والے ہیں ان کے لیے قیامت کے دن جہنم کی آگ تیار ہے ۔
Abu Walid reported that he heard Sayyidah Hawlah bint Qays (RA) wife of Sayyidina Hamzah ibn Abdul Muttalib says that she heard Allah’s Messenger ﷺ say, “Surely, this wealth is green and sweet. He, who gets it rightfully, there is blessing in it for him. And there is many an encroacher in it desiring for himself from the wealth of Allah and His Messenger ﷺ but there is nothing for him on the Day of Resurrection but the Fire.” [Ahmed 27386, Bukhari 3118]
١ ؎: مال سے مراد دنیا ہے، یعنی دنیا بےانتہا میٹھی، ہری بھری، اور دل کو لبھانے والی ہے، زبان اور نگاہ سب کی لذت کی جامع ہے، اس لیے اس کے حصول کے لیے حرام طریقہ سے بچ کر صرف حلال طریقہ اپنانا چاہیئے، کیونکہ حلال طریقہ اپنانے والے کے لیے جنت اور حرام طریقہ اپنانے والے کے لیے جہنم ہے۔