گواہیوں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 33 · 131 hadiths · Page 3 of 6

2335Sunan At-Tirmidhi

امیدوں کے کم ہونے کے متعلق

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي السَّفَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ نُعَالِجُ خُصًّا لَنَا، فَقَالَ: مَا هَذَا ؟ فَقُلْنَا: قَدْ وَهَى فَنَحْنُ نُصْلِحُهُ، قَالَ: مَا أَرَى الْأَمْرَ إِلَّا أَعْجَلَ مِنْ ذَلِكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو السَّفَرِ اسْمُهُ سَعِيدُ بْنُ يُحْمِدَ، وَيُقَالُ: ابْنُ أَحْمَدَ الثَّوْرِيُّ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس سے گزرے، ہم اپنا چھپر کا مکان درست کر رہے تھے، آپ نے پوچھا: یہ کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ گھر بوسیدہ ہوچکا ہے، لہٰذا ہم اس کو ٹھیک کر رہے ہیں، آپ نے فرمایا: میں تو معاملے (موت) کو اس سے بھی زیادہ قریب دیکھ رہا ہوں ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ passed by us while we were repairing our hut. He said, “What is this?” We said, “It has gone down and we are repairing it.” He said, “I do not see the command except that it is quicker than that.” (He meant death.) [Abu Dawud 5236, Ibn e Majah 4160] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، المشکاة (5275 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2335
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کے ارشاد کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مکان کی لیپا پوتی اور اس کی اصلاح و مرمت نہ کی جائے بلکہ مراد اس سے موت کی یاد دہانی ہے، تاکہ موت ہر وقت انسان کے سامنے رہے اور کسی وقت بھی اس سے غفلت نہ برتے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٦٩ (٥٢٣٥)، سنن ابن ماجہ/الزہد ١٣ (٤١٦٠) (تحفة الأشراف: ٨٦٥٠) (صحیح )
2336Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ اس امت کا فتنہ مال میں ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَوَّارٍ، حَدَّثَنَا لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عِيَاضٍ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ فِتْنَةً، وَفِتْنَةُ أُمَّتِي الْمَالُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ.

کعب بن عیاض ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ہر امت کی آزمائش کسی نہ کسی چیز میں ہے اور میری امت کی آزمائش مال میں ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ka’b ibn Iyad reported that he heard the Prophet ﷺ say, “There is a trial for every ummah, and the trial of my ummah is wealth and property.” [Ahmed 17478]

صحيح، الصحيحة (594)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2336
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس حدیث کو ہم معاویہ بن صالح کی روایت ہی سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: فتنہ سے مراد آزمائش ہے، اس حدیث میں اس امت کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ مال کی محبت میں اعتدال سے کام لے، ورنہ وہ اس آزمائش میں ناکام ہوسکتی ہے اور یہ مال جو اللہ کی نعمت ہے اس کے لیے شدید عذاب کا سبب بن سکتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١١١٢٩)، و مسند احمد (٤/١٦٠) (صحیح )
2337Sunan At-Tirmidhi

اگر کسی شخص کے پاس دو وادیاں مال سے بھری ہوں تب بھی اسے تیسری کی حرص ہو گی

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ ذَهَبٍ لَأَحَبَّ أَنْ يَكُونَ لَهُ ثَانِيًا، وَلَا يَمْلَأُ فَاهُ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَعَائِشَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَأَبِي وَاقِدٍ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر آدمی کے پاس سونے کی دو وادیاں ہوں تو اسے ایک تیسری وادی کی خواہش ہوگی اور اس کا پیٹ کسی چیز سے نہیں بھرے گا سوائے مٹی سے۔ اور اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی توبہ قبول کرتا ہے جو اس سے توبہ کرے ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If the son of Aadam had one valley full of gold then he would crave for a second. Nothing can fill his stomach but dust. And Allah relents to one who repents.” [Ahmed 12717, Bukhari 6439, Muslim 1048]

صحيح تخريج مشكلة الفقر (14)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2337
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابی بن کعب، ابو سعید خدری، عائشہ، ابن زبیر، ابو واقد، جابر، ابن عباس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کا یہ مطلب ہے کہ ابن آدم کے اندر دنیاوی حرص اس قدر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے کہ اس کے پاس مال کی بہتات ہو پھر بھی اسے آسودگی نہیں ہوتی یہاں تک کہ موت اسے اپنی آغوش میں لے لیتی ہے پھر قبر کی مٹی سے ہی وہ آسودہ ہوتا ہے، لیکن اللہ کے کچھ بندے ایسے ہیں جنہیں دنیا سے بےرغبتی ہوتی ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ انہیں دنیاوی حرص سے محفوظ رکھتا ہے، اور قناعت کی دولت سے وہ سب مالا مال ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٠ (٦٤٣٩)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٩ (١٠٤٨) (تحفة الأشراف: ١٥٠٨)، و مسند احمد (٣/١٢٢، ١٧٦، ١٩٢، ١٩٨، ٢٣٨، ٢٧٢)، وسنن الدارمی/الرقاق ٦٢ (٢٨٢٠) (صحیح )
2338Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ بوڑھے کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَلْبُ الشَّيْخِ شَابٌّ عَلَى حُبِّ اثْنَتَيْنِ: طُولُ الْحَيَاةِ وَكَثْرَةُ الْمَالِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دو چیزوں کی محبت میں بوڑھے کا دل جوان رہتا ہے: لمبی زندگی کی محبت، دوسرے مال کی محبت ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The heart of an old man is young in the love of two things (love of) life and abundance of wealth.” [Bukhari 6420, Muslim 1046, Ahmed 8087]

حسن صحيح، ابن ماجة (4233)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2338
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ بوڑھے کا دل لمبی عمر کی خواہش اور کثرت مال کی محبت سے سرشار ہوتا ہے، یعنی بوڑھا ہونے کے باوجود اس کے اندر مال کی ہوس اور عمر کی زیادتی کی تمنا یہ دونوں خواہشیں جوان ہوتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٧ (٤٢٣٣) (تحفة الأشراف: ١٢٨٦٩)، و مسند احمد (٢/٣١٧، ٣٣٥، ٣٣٨، ٣٣٩، ٣٥٨، ٣٧٩، ٣٩٤، ٤٤٣، ٤٤٧) (حسن صحیح )
2339Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ بوڑھے کا دل دو چیزوں کی محبت پر جوان ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَهْرَمُ ابْنُ آدَمَ وَيَشِبُّ مِنْهُ اثْنَتَانِ: الْحِرْصُ عَلَى الْعُمُرِ، وَالْحِرْصُ عَلَى الْمَالِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے البتہ اس کے اندر دو چیزیں جوان رہتی ہیں ایک (لمبی) زندگی کی خواہش، دوسرے مال کی حرص ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The son of Aadam grows old but two things grow young in him greed for long life and greed for wealth.” [Muslim 1047, Ibn e Majah 4234, Ahmed 12143]

صحيح، ابن ماجة (4234)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2339
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٩ (١٠٤٧)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٧ (٤٢٣٤) (تحفة الأشراف: ١٤٣٤)، و مسند احمد (٣/١١٥، ١١٩، ١٦٩، ١٩٢، ٢٥٦، ٢٧٥) (صحیح )
2340Sunan At-Tirmidhi

دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ حَلْبَسٍ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الزَّهَادَةُ فِي الدُّنْيَا لَيْسَتْ بِتَحْرِيمِ الْحَلَالِ وَلَا إِضَاعَةِ الْمَالِ، وَلَكِنَّ الزَّهَادَةَ فِي الدُّنْيَا أَنْ لَا تَكُونَ بِمَا فِي يَدَيْكَ أَوْثَقَ مِمَّا فِي يَدَيِ اللَّهِ، وَأَنْ تَكُونَ فِي ثَوَابِ الْمُصِيبَةِ إِذَا أَنْتَ أُصِبْتَ بِهَا أَرْغَبَ فِيهَا لَوْ أَنَّهَا أُبْقِيَتْ لَكَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ عَائِذُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، وَعَمْرُو بْنُ وَاقِدٍ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ.

ابوذر غفاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: دنیا کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آدمی حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے اور مال کو برباد کر دے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے، اس پر تم کو اس مال سے زیادہ بھروسہ نہ ہو جو اللہ کے ہاتھ میں ہے اور تمہیں مصیبت کے ثواب کی اس قدر رغبت ہو کہ جب تم مصیبت میں گرفتار ہوجاؤ تو خواہش کرو کہ یہ مصیبت باقی رہے ۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) reported from the Prophet ﷺ that he said, “Asceticism in this world is not to forbid the lawful to oneself or to waste property. But, asceticism in this world is that you rely more on what is in Allah’s hand than on what is in your hand and that you long for reward against hardship to such an extent that you wish that it would beset you continuously.” [Ibn e Majah 4100]

ضعيف جدا، ابن ماجة (4100) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (894)، المشکاة (5301 / التحقيق الثاني)، ضعيف الجامع الصغير (3194) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2340
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢ - راوی حدیث عمرو بن واقد منکرالحدیث ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١ (٤١٠٠) (تحفة الأشراف: ١١٩٢٥) (ضعیف جداً ) (سند میں عمرو بن واقد متروک الحدیث راوی ہے )
2341Sunan At-Tirmidhi

دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا حُرَيْثُ بْنُ السَّائِبِ، قَال: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي حُمْرَانُ بْنُ أَبَانَ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيْسَ لِابْنِ آدَمَ حَقٌّ فِي سِوَى هَذِهِ الْخِصَالِ بَيْتٌ يَسْكُنُهُ، وَثَوْبٌ يُوَارِي عَوْرَتَهُ، وَجِلْفُ الْخُبْزِ وَالْمَاءِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ حَدِيثُ الْحُرَيْثِ بْنِ السَّائِبِ، وَسَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ سُلَيْمَانَ بْنَ سَلْمٍ الْبَلْخِيَّ يَقُولُ: قَالَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ: جِلْفُ الْخُبْزِ يَعْنِي: لَيْسَ مَعَهُ إِدَامٌ.

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: دنیا کی چیزوں میں سے ابن آدم کا حق سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اس کے لیے ایک گھر ہو جس میں وہ زندگی بسر کرسکے اور اتنا کپڑا ہو جس سے وہ اپنا ستر ڈھانپ سکے، اور روٹی اور پانی کے لیے برتن ہوں جن سے وہ کھانے پینے کا جتن کرسکے ۔

Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “There are no rights for the son of Aadam except these particular ones: a house to live in, garments to cover his private parts and vessels to hold bread and water “

ضعيف، الضعيفة (1063)، نقد الکتاني ص (22) // ضعيف الجامع الصغير (4914) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2341
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث حریث بن سائب کی روایت سے ہے، ٣ - میں نے ابوداؤد سلیمان بن سلم بلخی کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نضر بن شمیل نے کہا: «جلف الخبز» کا مطلب ہے وہ روٹی ہے جس کے ساتھ سالن نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٧٩٠)، وانظر مسند احمد (١/٦٢) (ضعیف) (سند میں حریث وہم کے شکار ہوجایا کرتے تھے، اسی لیے اسرائیلی روایات کو انہوں نے مرفوع سمجھ کر روایت کردیا ہے، دیکھیے: الضعیفة رقم ١٠٦٣ )
2342Sunan At-Tirmidhi

دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَقُولُ: أَلْهَاكُمُ التَّكَاثُرُ سورة التكاثر آية 1، قَالَ: يَقُولُ ابْنُ آدَمَ: مَالِي مَالِي، وَهَلْ لَكَ مِنْ مَالِكَ إِلَّا مَا تَصَدَّقْتَ فَأَمْضَيْتَ أَوْ أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن شخیر ؓ سے روایت ہے کہ وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچے اور آپ «ألهاكم التکاثر» کی تلاوت کر رہے تھے تو آپ نے فرمایا: ابن آدم کہتا ہے کہ میرا مال، میرا مال، حالانکہ تمہارا مال صرف وہ ہے جو تم نے صدقہ کردیا اور اسے آگے چلا دیا ١ ؎، اور کھایا اور اسے ختم کردیا یا پہنا اور اسے پرانا کردیا ۔

Mutarrif narrated: My father went to the Prophet ﷺ and he was reciting: (your rivalry for amassing riches distracts you) (102:1). He said, “The son of Aadam says, “My property, my property!” But, is there anything for you from your wealth except that which you gave in charity and advanced (to Allah for yourself), or consumed and finished, or put on (or donned) and wore off?” [Ahmed 16427, Muslim 2958]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2342
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ آدمی اس مال کو اپنا مال سمجھتا ہے جو اس کے پاس ہے حالانکہ حقیقی مال وہ ہے جو حصول ثواب کی خاطر اس نے صدقہ کردیا، اور یوم جزاء کے لیے جسے اس نے باقی رکھ چھوڑا ہے، باقی مال کھا پی کر اسے ختم کردیا یا پہن کر اسے بوسیدا اور پرانا کردیا، صدقہ کئے ہوئے مال کے علاوہ کوئی مال آخرت میں اس کے کام نہیں آئے گا، اس حدیث میں مستحقین پر اور اللہ کی پسندیدہ راہوں پر خرچ کرنے کی ترغیب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٥٩)، سنن النسائی/الوصایا ١ (٣٦٤٣)، ویأتي عند المؤلف في تفسیر ” التکاثر “ (٣٣٤٩) (تحفة الأشراف: ٥٣٤٦)، و مسند احمد (٤/٢٤، ٢٦) (صحیح )
2343Sunan At-Tirmidhi

دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ يُونُسَ هُوَ الْيَمَامِيُّ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا ابْنَ آدَمَ، إِنَّكَ إِنْ تَبْذُلِ الْفَضْلَ خَيْرٌ لَكَ، وَإِنْ تُمْسِكْهُ شَرٌّ لَكَ، وَلَا تُلَامُ عَلَى كَفَافٍ، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَالْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَشَدَّادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ يُكْنَى: أَبَا عَمَّارٍ.

ابوامامہ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: ابن آدم! اگر تو اپنی حاجت سے زائد مال اللہ کی راہ میں خرچ کرے گا تو یہ تیرے لیے بہتر ہوگا، اور اگر تو اسے روک رکھے گا تو یہ تیرے لیے برا ہوگا، اور بقدر کفاف خرچ کرنے میں تیری ملامت نہیں کی جائے گی اور صدقہ و خیرات دیتے وقت ان لوگوں سے شروع کر جن کی کفالت تیرے ذمہ ہے، اور اوپر والا (دینے والا) ہاتھ نیچے والے ہاتھ (مانگنے والے) سے بہتر ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Umamah reported that Allah’s Messenger said, “if you, O son of Aadam, spend the excess (in good cause), that is good for you. But, if you retain it then it is bad for you. There is no blame on spending over the necessities. And, begin (charity) with those whom you support. And, the upper hand is better than the lower. “ [Muslim 1036, Ahmed 22328]

صحيح، الإرواء (3 / 318 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2343
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اگر اللہ نے تمہیں مال و دولت سے نوازا ہے تو اس سے اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضرورت و حاجت کا خیال رکھو اور ضرورت سے زائد مال حاجتمندوں اور مستحقین کے درمیان تقسیم کر دو کیونکہ جمع خوری کا نتیجہ دنیا اور آخرت دونوں جگہ صحیح نہیں، جمع خوری سے معاشرے میں بہت سی خرابیاں پیدا ہوجاتی ہیں، اور آخرت میں بخل کا جو انجام ہے وہ بالکل واضح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣٢ (١٠٣٦) (تحفة الأشراف: ٤٨٧٩)، و مسند احمد (٥/٢٦٢) (صحیح )
2344Sunan At-Tirmidhi

دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرُزِقْتُمْ كَمَا تُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَالِكٍ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: اگر تم لوگ اللہ پر توکل (بھروسہ) کرو جیسا کہ اس پر توکل (بھروسہ) کرنے کا حق ہے تو تمہیں اسی طرح رزق ملے گا جیسا کہ پرندوں کو ملتا ہے کہ صبح کو وہ بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ واپس آتے ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Umar ibn Khattab reported that Allah’s Messenger said “If you trust in Allah observing a true trust in Him, then, indeed, He will give you provision as - provides the birds who emerge hungry in the morning and return with a full belly in the evening.” [Ahmed 205, lMuslim 4164]

صحيح، ابن ماجة (4164)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2344
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، اسے ہم صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: معلوم ہوا کہ مومن کی زندگی رزق و معیشت کی فکر سے خالی ہونی چاہیئے، اور اس کا دل پرندوں کی طرح ہونا چاہیئے جو اپنے لیے کچھ جمع کر کے نہیں رکھتے بلکہ ہر روز صبح تلاش رزق میں نکلتے ہیں اور شام کو شکم سیر ہو کر لوٹتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ١٤ (٤١٦٤) (تحفة الأشراف: ١٠٥٨٦)، و مسند احمد (١/٣٠، ٥٢) (صحیح )
2345Sunan At-Tirmidhi

دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ أَخَوَانِ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَانَ أَحَدُهُمَا يَأْتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَالْآخَرُ يَحْتَرِفُ، فَشَكَا الْمُحْتَرِفُ أَخَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَعَلَّكَ تُرْزَقُ بِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں دو بھائی تھے، ان میں ایک نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں رہتا تھا اور دوسرا محنت و مزدوری کرتا تھا، محنت و مزدوری کرنے والے نے ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ سے اپنے بھائی کی شکایت کی تو آپ نے فرمایا: شاید تجھے اسی کی وجہ سے روزی ملتی ہو ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that there were two brothers in the time of the Prophet ﷺ One of them used to keep company of the Prophet ﷺ the other pursued his occupation (and earned a living). He (the bread-earner) complained about his brother to the Prophet ﷺ ’ who said, “Perhaps you are given provision on account.”

صحيح، المشکاة (5308)، الصحيحة (2769)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2345
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: محنت مزدوری کرنے والے نے یہ شکایت کی کہ یہ کمانے میں میرا تعاون نہیں کرتا اور میرے ساتھ کھاتا ہے، اس پر آپ ﷺ نے شکایت کرنے والے کی یہ فہمائش کی کہ وہ علم دین سیکھنے کے لیے میرے پاس رہتا ہے، اس لیے یہ سمجھو کہ تم کو جو تمہاری کمائی سے روزی ملتی ہے اس میں اس کی برکت بھی شامل ہے، اس لیے تم گھمنڈ میں مت مبتلا ہوجاؤ، واضح رہے کہ دوسرا بھائی یونہی بیکار نہیں بیٹھا رہتا تھا، یا یونہی کام چوری نہیں کرتا تھا، علم دین کی تحصیل میں مشغول رہتا تھا، اس لیے اس حدیث سے بےکاری اور کام چوری کی دلیل نہیں نکالی جاسکتی، بلکہ اس سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اللہ کے راستہ میں لگنے والوں کی تائید اور معاونت دیگر اہل خانہ کیا کریں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٣٧٩) (صحیح )
2346Sunan At-Tirmidhi

دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَحِيزَتْ: جُمِعَتْ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ نَحْوَهُ، وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ.

عبیداللہ بن محصن خطمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی ١ ؎۔

Ubaydullah ibn Mihsan Khatami (RA) reported from his father who was a sahabi that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who wakes up in the morning peaceful among his people, healthy in body, his provision for the day with him, then it is as though the world is brought together for him.” [Ibn e Majah4141]

حسن، ابن ماجة (4141) حسن، ابن ماجة (4141)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2346 اس سند سے بھی عبیداللہ بن محصن خطمی ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اس باب میں ابوالدرداء ؓ سے بھی روایت ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2346
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف مروان بن معاویہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اور «حيزت» کا مطلب یہ ہے کہ جمع کی گئی۔
Notes · وضاحت
؎: مفہوم یہ ہے کہ امن و صحت کے ساتھ ایک دن کی روزی والی زندگی دولت کے انبار والی اس زندگی سے کہیں بہتر ہے جو امن و صحت والی نہ ہو، گویا انسان کو مال و دولت کے پیچھے زیادہ نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ صبر و قناعت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ امن و سکون اور راحت و آسائش اسی میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٤١) (تحفة الأشراف: ٩٧٣٩) (حسن ) انظر ماقبلہ (حسن )
2347Sunan At-Tirmidhi

گزارے کے لائق روزی پر صبر کرنا

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زَحْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْقَاسِمِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ أَغْبَطَ أَوْلِيَائِي عِنْدِي لَمُؤْمِنٌ خَفِيفُ الْحَاذِ ذُو حَظٍّ مِنَ الصَّلَاةِ أَحْسَنَ عِبَادَةَ رَبِّهِ وَأَطَاعَهُ فِي السِّرِّ وَكَانَ غَامِضًا فِي النَّاسِ لَا يُشَارُ إِلَيْهِ بِالْأَصَابِعِ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا فَصَبَرَ عَلَى ذَلِكَ ثُمَّ نَفَضَ بِيَدِهِ، فَقَالَ: عُجِّلَتْ مَنِيَّتُهُ قَلَّتْ بَوَاكِيهِ قَلَّ تُرَاثُهُ .

ابوامامہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے دوستوں میں میرے نزدیک سب سے زیادہ رشک کرنے کے لائق وہ مومن ہے جو مال اور اولاد سے ہلکا پھلکا ہو، نماز میں جسے راحت ملتی ہو، اپنے رب کی عبادت اچھے ڈھنگ سے کرنے والا ہو، اور خلوت میں بھی اس کا مطیع و فرماں بردار رہا ہو، لوگوں کے درمیان ایسی گمنامی کی زندگی گزار رہا ہو کہ انگلیوں سے اس کی طرف اشارہ نہیں کیا جاتا، اور اس کا رزق بقدر «کفاف» ہو پھر بھی اس پر صابر رہے، پھر آپ نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا اور فرمایا: جلدی اس کی موت آئے تاکہ اس پر رونے والیاں تھوڑی ہوں اور اس کی میراث کم ہو ۔

Sayyidina Abu Umamah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The most enviable of my friends to me is the believer with a light property, much devoted to salah , excellent in worship of his Lord, obeying Him in private, obscure among people, not pointed out with fingers, and his provision is enough and he is content over that.” Then, he snapped his fingers and said, “His time comes soon, there being few women to mourn him and his legacy is little.”--From the same sanad from the Prophet.--He said, “My Lord offered me to make the valley atha of Makkah full of gold for me. I said: O Lord, but I wish to be satiated one day and hungry the next day--or, he said: three days, or something like that--”when I am hungry, let me beseech You and remember You and when I am satiated, let me thank you and praise you.” [Ibn e Majah 4117, Ahmed 22252]

ضعيف، المشکاة (5189 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1397) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2347
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٩٠٩) (ضعیف) (یہ سند معروف ترین ضعیف سندوں میں سے ہے، عبیداللہ بن زحرعن علی بن یزید عن القاسم سب ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی ٣٦٤ )
2348Sunan At-Tirmidhi

گزارے کے لائق روزی پر صبر کرنا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ بْنِ شَرِيكٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْحُبُلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَدْ أَفْلَحَ مَنْ أَسْلَمَ وَكَانَ رِزْقُهُ كَفَافًا وَقَنَّعَهُ اللَّهُ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کامیاب ہوا وہ شخص جس نے اسلام قبول کیا اور بقدر «کفاف» اسے روزی حاصل ہوئی اور اللہ نے اسے (اپنے دئیے ہوئے پر) «قانع» بنادیا ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amr (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He has succeeded who has submitted to Islam, given enough provision with which Allah has made him content.” [Ahmed 6583, Muslim 1054, Ibn e Majah4138]

صحيح، ابن ماجة (4138)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2348
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آخرت کی کامیابی کا دارومدار صرف اور صرف اسلام ہے، اگر بدقسمتی سے کسی کا دامن دولت اسلام سے خالی رہا تو دنیا بھر کے خزانے اسے اخروی کامیابی سے ہمکنار نہیں کرسکتے، اسی طرح بقدر ضرورت اور برابر سرابر والی زندگی میں جو امن و سکون میسر ہے وہ زیادہ سے زیادہ دولت کمانے کی خواہش رکھنے والے انسان کو کبھی حاصل نہیں ہوسکتی، گویا بقدر کفاف روزی کے ساتھ قناعت و استغنا کامل جانا امن و سکون کی ضمانت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٤٣ (١٠٥٤)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٣٨) (تحفة الأشراف: ٨٨٤٨)، و مسند احمد (٢/١٦٨، ١٧٣) (صحیح )
2349Sunan At-Tirmidhi

گزارے کے لائق روزی پر صبر کرنا

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلَانِيُّ، أَنَّأَبَا عَلِيٍّ عَمْرَو بْنَ مَالِكٍ الْجَنْبِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طُوبَى لِمَنْ هُدِيَ إِلَى الْإِسْلَامِ وَكَانَ عَيْشُهُ كَفَافًا وَقَنَعَ ، قَالَ: وَأَبُو هَانِئٍ اسْمُهُ: حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

فضالہ بن عبید ؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: مبارکبادی ہو اس شخص کو جسے اسلام کی ہدایت ملی اور اسے بقدر «کفاف» روزی ملی پھر وہ اسی پر قانع و مطمئن رہا ۔

Sayyidinah Fadalah ibn Ubayd reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “Blessed is he who is guided to Islam and his sustenance is enough and he shows contentment.’ [Ahmed 2399]

صحيح، التعليق الرغيب (2 / 11)، الصحيحة (1506)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2349
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ابوہانی کا نام حمید بن ہانی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (تحفة الأشراف: ١١٠٣٣) (صحیح )
2350Sunan At-Tirmidhi

فقر کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ نَبْهَانَ بْنِ صَفْوَانَ الثَّقَفِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ أَسْلَمَ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ أَبُو طَلْحَةَ الرَّاسِبِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَازِعِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، فَقَالَ: انْظُرْ مَاذَا تَقُولُ ؟ قَالَ: وَاللَّهِ إِنِّي لَأُحِبُّكَ، ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ تُحِبُّنِي فَأَعِدَّ لِلْفَقْرِ تِجْفَافًا، فَإِنَّ الْفَقْرَ أَسْرَعُ إِلَى مَنْ يُحِبُّنِي مِنَ السَّيْلِ إِلَى مُنْتَهَاهُ .

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے عرض کیا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو ، اس نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، آپ نے فرمایا: جو کہہ رہے ہو اس کے بارے میں سوچ سمجھ لو ، اس نے پھر کہا: اللہ کی قسم! میں آپ سے محبت کرتا ہوں، اسی طرح تین دفعہ کہا تو آپ نے فرمایا: اگر تم مجھ سے واقعی محبت کرتے ہو تو فقر و محتاجی کا ٹاٹ تیار رکھو اس لیے کہ جو شخص مجھے دوست بنانا چاہتا ہے اس کی طرف فقر اتنی تیزی سے جاتا ہے کہ اتنا تیز سیلاب کا پانی بھی اپنے بہاؤ کے رخ پر نہیں جاتا ۔

Sayyidina Abdullah ibn Muhghaffal reported that a man said to the Prophet ﷺ “O Messenger of Allah! ﷺ By Allah, I love you.” He said, “Think over what you say.., He said, “By Allah, I do love you.” He said that three times. He said, “If you love me then be prepared for poverty as your armour, for, poverty comes running to one who loves me more swiftly than the flood that flows down to its outlet.”

ضعيف، الضعيفة (1681) // ضعيف الجامع الصغير (1297) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2350
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٩٦٤٧) (ضعیف) (سند میں ” جابر بن عمرو ابو الوازع “ وہم کے شکار ہوجایا کرتے تھے، اور اسی لیے یہ منکر حدیث روایت کردی، دیکھیے الضعیفہ رقم: ١٦٨١ )
2351Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فقرا مہاجرین امرا سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فُقَرَاءُ الْمُهَاجِرِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِخَمْسِ مِائَةِ سَنَةٍ ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَابِرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مہاجر فقراء جنت میں مالدار مہاجر سے پانچ سو سال پہلے داخل ہوں گے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The poor of the muhajirs will enter Paradise preceding their rich by five hundred years.” [Ibn e Majah4123]

صحيح، ابن ماجة (4123)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2351
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوہریرہ، عبداللہ بن عمرو اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس لیے کہ غریب مہاجر کے پاس چونکہ مال کم تھا، اس لیے انہیں حساب و کتاب میں زیادہ تاخیر نہیں ہوگی، جب کہ مالدار مہاجرین کو مال کے حساب میں بہت تاخیر ہوگی، اس سے غریب کی فضیلت معلوم ہوئی۔ آخرت کا آدھا دن دنیا کے پانچ سو سال کے برابر ہوگا، اس لحاظ سے جس حدیث میں آدھے دن کا ذکر ہے اس سے آخرت کا آدھا دن مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٦ (٤١٢٣) (تحفة الأشراف: ٤٢٠٧) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے )
2352Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فقرا مہاجرین امرا سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ وَاصِلٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا ثَابِتُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَابِدُ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا الْحَارِثُ بْنُ النُّعْمَانِ اللَّيْثِيُّ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مِسْكِينًا وَأَمِتْنِي مِسْكِينًا وَاحْشُرْنِي فِي زُمْرَةِ الْمَسَاكِينِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِنَّهُمْ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا، يَا عَائِشَةُ لَا تَرُدِّي الْمِسْكِينَ وَلَوْ بِشِقِّ تَمْرَةٍ، يَا عَائِشَةُ أَحِبِّي الْمَسَاكِينَ وَقَرِّبِيهِمْ فَإِنَّ اللَّهَ يُقَرِّبُكِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے دعا کی: «اللهم أحيني مسكينا وأمتني مسكينا واحشرني في زمرة المساکين يوم القيامة» یا اللہ! مجھے مسکینی کی حالت میں زندہ رکھ اور مسکینی کی حالت میں وفات دے اور قیامت کے روز مسکینوں کے زمرے میں اٹھا ، ام المؤمنین عائشہ ؓ نے دریافت کیا اللہ کے رسول! ایسا کیوں؟ آپ نے فرمایا: اس لیے کہ مساکین جنت میں اغنیاء سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے، لہٰذا اے عائشہ کسی بھی مسکین کو دروازے سے واپس نہ کرو اگرچہ کھجور کا ایک ٹکڑا ہی سہی، عائشہ! مسکینوں سے محبت کرو اور ان سے قربت اختیار کرو، بیشک اللہ تعالیٰ تم کو روز قیامت اپنے سے قریب کرے گا ٢ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed: (O Allah, cause me to live among the poor and to die among them, and on the day of resurrection, gather me among the group of the poor. Sayyidah Ayshah (RA) asked, “Why, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “They will enter Paradise, preceding their rich by forty years. O Ayshah, do not turn away the poor even if you give her half a date. O Ayshah, love the poor and draw them near, Allah will draw you near on the day of resurrection.”

(حديث أنس: اللهم أحيني ... ) صحيح، (من أول قول عائشة: لم يا رسول الله؟ قال: إنهم يدخلون .... ) ضعيف جدا (حديث أنس: اللهم أحيني ... )، ابن ماجة (4126) // صحيح سنن ابن ماجة باختصار السند برقم (3328) //، (من أول قول عائشة: لم يا رسول الله؟ .... )، الإرواء (3 / 359) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (861) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2352
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Notes · وضاحت
٢ ؎: اس حدیث میں تواضع کے اپنانے اور کبر و نخوت سے دور رہنے کی ترغیب ہے، ساتھ ہی فقراء مساکین سے محبت اور ان سے قربت اختیار کرنے کی تعلیم ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٥١٩) (صحیح )
2353Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فقرا مہاجرین امرا سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَدْخُلُ الْفُقَرَاءُ الْجَنَّةَ قَبْلَ الْأَغْنِيَاءِ بِخَمْسِ مِائَةِ عَامٍ نِصْفِ يَوْمٍ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: فقراء جنت میں مالداروں سے پانچ سو برس پہلے داخل ہوں گے اور یہ قیامت کے آدھا دن کے برابر ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The poor will enter Paradise preceding the rich by five hundred years (which is) half of that day.” [Ibn e Majah4122, Ahmed 9830]

حسن صحيح، ابن ماجة (4122)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2353
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں پانچ سو سال کا ذکر ہے، جب کہ اس سے پہلے والی حدیث میں چالیس سال کا ذکر ہے، مدت میں فرق فقراء کے درجات و مراتب میں فرق کے لحاظ سے ہے، معلوم ہوا کہ کچھ فقراء اپنے مراتب و درجات کے لحاظ سے پانچ سو سال پہلے جنت میں جائیں گے جب کہ کچھ فقراء چالیس سال پہلے جائیں گے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٦ (٤١٢٢) (تحفة الأشراف: ١٥٠٢٩) (حسن صحیح )
2355Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں کہ فقرا مہاجرین امرا سے پہلے جنت میں داخل ہوں گے

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الدُّورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ جَابِرٍ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَدْخُلُ فُقَرَاءُ الْمُسْلِمِينَ الْجَنَّةَ قَبْلَ أَغْنِيَائِهِمْ بِأَرْبَعِينَ خَرِيفًا ، هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: فقیر و محتاج مسلمان جنت میں مالداروں سے چالیس سال پہلے داخل ہوں گے ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The poor of the Muslims will enter Paradise preceding their rich by forty years.” [Ahmed 14483]

صحيح بلفظ: ... فقراء المهاجرين ... // ضعيف الجامع الصغير (6423) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2355
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٢٥٠٣)، وانظر مسند احمد (٣/٣٢٤) (صحیح) (فقراء المہاجرین کے لفظ سے صحیح ہے )