Sunan At-Tirmidhi 2346

گواہیوں کا بیان

2346Sunan At-Tirmidhi

دنیا سے بے رغبتی کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَالِكٍ، وَمَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ الْبَغْدَادِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي شُمَيْلَةَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِحْصَنٍ الْخَطْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ أَصْبَحَ مِنْكُمْ آمِنًا فِي سِرْبِهِ، مُعَافًى فِي جَسَدِهِ، عِنْدَهُ قُوتُ يَوْمِهِ، فَكَأَنَّمَا حِيزَتْ لَهُ الدُّنْيَا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مَرْوَانَ بْنِ مُعَاوِيَةَ، وَحِيزَتْ: جُمِعَتْ. حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ نَحْوَهُ، وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ.

عبیداللہ بن محصن خطمی ؓ کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: تم میں سے جس نے بھی صبح کی اس حال میں کہ وہ اپنے گھر یا قوم میں امن سے ہو اور جسمانی لحاظ سے بالکل تندرست ہو اور دن بھر کی روزی اس کے پاس موجود ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا سمیٹ دی گئی ١ ؎۔

Ubaydullah ibn Mihsan Khatami (RA) reported from his father who was a sahabi that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who wakes up in the morning peaceful among his people, healthy in body, his provision for the day with him, then it is as though the world is brought together for him.” [Ibn e Majah4141]

حسن، ابن ماجة (4141) حسن، ابن ماجة (4141)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2346 اس سند سے بھی عبیداللہ بن محصن خطمی ؓ سے اسی جیسی حدیث مروی ہے۔ اس باب میں ابوالدرداء ؓ سے بھی روایت ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2346
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، اسے ہم صرف مروان بن معاویہ ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢ - اور «حيزت» کا مطلب یہ ہے کہ جمع کی گئی۔
Notes · وضاحت
؎: مفہوم یہ ہے کہ امن و صحت کے ساتھ ایک دن کی روزی والی زندگی دولت کے انبار والی اس زندگی سے کہیں بہتر ہے جو امن و صحت والی نہ ہو، گویا انسان کو مال و دولت کے پیچھے زیادہ نہیں بھاگنا چاہیے بلکہ صبر و قناعت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے کیونکہ امن و سکون اور راحت و آسائش اسی میں ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٤١) (تحفة الأشراف: ٩٧٣٩) (حسن ) انظر ماقبلہ (حسن )