Sunan At-Tirmidhi 2361

گواہیوں کا بیان

2361Sunan At-Tirmidhi

رسول اللہ ﷺ اور آپ کے گھر والوں کا رہن سہن

حَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهُمَّ اجْعَلْ رِزْقَ آلِ مُحَمَّدٍ قُوتًا ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ دعا کی «اللهم اجعل رزق آل محمد قوتا» اے اللہ! محمد ﷺ کے گھر والوں کو صرف اتنی روزی دے جس سے ان کے جسم کا رشتہ برقرار رہ سکے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed (O Allah, let the provision of the family of Muhammad be enough for subsistence). [Bukhari 6460, Muslim 1055, Ibn e Majah4139, Ahmed 10241]

صحيح، ابن ماجة (4136)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2361
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ ایسی زندگی گزارنا پسند کرتے تھے جو دنیوی آلائشوں اور آرام و آسائش سے پاک ہو، کیونکہ بعثت نبوی کا مقصد ہی یہ تھا کہ وہ لوگوں کو دنیا کے ہنگاموں، مشاغل اور زیب و زینت سے ہٹا کر آخرت کی طرف متوجہ کریں، اسی لیے آپ ﷺ نے اپنے اور اپنے گھر والوں کے حق میں مذکورہ دعا فرمائی، آپ کی اس دعا سے علماء اور داعیان اسلام کو نصیحت حاصل کرنا چاہیئے کہ ہماری زندگی سادگی کا نمونہ اور دنیاوی تکلفات سے پاک ہو، اگر اللہ ہمیں مال و دولت سے نوازے تو مالدار صحابہ کرام کا کردار ہمارے پیش نظر ہونا چاہیئے تاہم مال و دولت کا زیادہ سے زیادہ حصول ہماری زندگی کا مقصد نہیں ہونا چاہیئے اور نہ اس کے لیے ہر قسم کا حربہ و ہتھکنڈہ استعمال کرنا چاہیئے خواہ اس حربے اور ہتھکنڈے کا استعمال کسی دینی کام کے آڑ میں ہی کیوں نہ ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ١٧ (٦٤٦٠)، صحیح مسلم/الزکاة ٤٣ (١٠٥٥)، والزہد ١ (١٠٥٥/١٨)، سنن ابن ماجہ/الزہد ٩ (٤١٣٦) (تحفة الأشراف: ١٤٨٩٨)، و مسند احمد (٢/٢٣٢، ٤٤٦، ٤٨١) (صحیح )