گواہیوں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 33 · 131 hadiths · Page 5 of 6

2375Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ هِلَالٍ الصَّوَّافُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لُعِنَ عَبْدُ الدِّينَارِ لُعِنَ عَبْدُ الدِّرْهَمِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيث مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيْضًا أَتَمَّ مِنْ هَذَا وَأَطْوَلَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دینار کا بندہ ملعون ہے، درہم کا بندہ ملعون ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah is reported that Allah’s Messenger said, “Cursed is the slave of the dinar. Cursed is the slave of the dirham.”

ضعيف، المشکاة (5180 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (4695) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2375
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢ - یہ حدیث اس سند کے علاوہ «عن أبي صالح عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مروی ہے اور یہ بھی سند اس سے زیادہ مکمل اور طویل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٨) (ضعیف) (سند میں حسن بصری مدلس ہیں، اور ابوہریرہ ؓ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے، اور روایت عنعنہ سے ہے )
2376Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَةَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلَا فِي غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَى الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِينِهِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَيُرْوَى فِي هَذَا الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَصِحُّ إِسْنَادُهُ.

کعب بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دو بھوکے بھیڑیئے جنہیں بکریوں کے ریوڑ میں چھوڑ دیا جائے اتنا نقصان نہیں پہنچائیں گے جتنا نقصان آدمی کے مال و جاہ کی حرص اس کے دین کو پہنچاتی ہے ١ ؎۔

Ibn Ka’b ibn Maalik Ansari (R.A) reported from his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “Two hungry wolves sent to sheep do not cause more destruction than a man’s greed for property and honour causes to his religion.” [Ahmed 15784]

صحيح، الروض النضير (5 - 7)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2376
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر ؓ سے بھی روایت ہے، اور وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں لیکن اس کی سند صحیح نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ مال و جاہ کی محبت اور حرص جس کے اندر آ گئی وہ ہلاکتوں سے اپنا دامن نہیں بچا سکتا، بدقسمتی سے آج امت اسی فتنہ سے دو چار ہے اور اس کی تباہی کا یہ عالم ہے کہ جس انتشار اور شدید اختلافات کا یہ امت اور اس کی دینی جماعتیں شکار ہیں ان کے اسباب میں بھی مال وجاہ کی محبت سر فہرست ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١١٣٦)، وانظر: مسند احمد (٣/٤٥٦، ٤٦٠)، وسنن الدارمی/الرقاق ٢١ (٢٧٧٢) (صحیح )
2377Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، أَخْبَرَنِي الْمَسْعُودِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ، عَنْإِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى حَصِيرٍ، فَقَامَ وَقَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوِ اتَّخَذْنَا لَكَ وِطَاءً، فَقَالَ: مَا لِي وَمَا لِلدُّنْيَا مَا أَنَا فِي الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ اسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا ، قَالَ: وفي الباب عن ابْنِ عُمَرَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک چٹائی پر سو گئے، نیند سے بیدار ہوئے تو آپ کے پہلو پر چٹائی کا نشان پڑگیا تھا، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہم آپ کے لیے ایک بچھونا بنادیں تو بہتر ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا مطلب ہے، میری اور دنیا کی مثال ایسی ہے جیسے ایک سوار ہو جو ایک درخت کے نیچے سایہ حاصل کرنے کے لیے بیٹھے، پھر وہاں سے کوچ کر جائے اور درخت کو اسی جگہ چھوڑ دے ۔

Sayyidina Abdullah (R.A) narrated: Allah’s Messenger ﷺ slept on a reed mat. He got up and its marks were impressed on his body. We said, “O Messenger of Allah, if we could fetch for you a bed!” He said, “What have Ito do with the world? I am not in this world but like a rider who shades himself under a tree only to move onward and leave it.” [Ibn e Majah4109, Ahmed 3709]

صحيح، ابن ماجة (4109)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2377
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عمر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٣ (٤١٠٩) (تحفة الأشراف: ٩٤٤٣) (صحیح )
2378Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، وَأَبُو دَاوُدَ، قَالَا: حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ وَرْدَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الرَّجُلُ عَلَى دِينِ خَلِيلِهِ، فَلْيَنْظُرْ أَحَدُكُمْ مَنْ يُخَالِلُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے، اس لیے تم میں سے ہر شخص کو یہ دیکھنا چاہیئے کہ وہ کس سے دوستی کر رہا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “A man is on the religion of his friend, so let each of you observe whom he be friends.” [Ahmed 8034, Abu Dawud 833]

حسن، الصحيحة (927)، المشکاة (5019)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2378
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اچھے انسان کی صحبت سے اچھائی اور برے انسان کی صحبت سے برائی حاصل ہوتی ہے، اس لیے کسی سے دوستی کرتے وقت یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ دوست دیندار ہو ورنہ بری صحبت تباہی کا باعث ہوگی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٩ (٤٨٣٣) (تحفة الأشراف: ١٤٦٢٥)، و مسند احمد (٢/٣٠٣، ٣٣٤) (حسن )
2379Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ هُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَتْبَعُ الْمَيِّتَ ثَلَاثٌ فَيَرْجِعُ اثْنَانِ وَيَبْقَى وَاحِدٌ، يَتْبَعُهُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ وَعَمَلُهُ، فَيَرْجِعُ أَهْلُهُ وَمَالُهُ، وَيَبْقَى عَمَلُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مردے کے ساتھ قبر تک تین چیزیں جاتی ہیں، پھر دو چیزیں لوٹ آتی ہیں اور ساتھ میں ایک باقی رہ جاتی ہے، اس کے رشتہ دار، اس کا مال اور اس کے اعمال ساتھ میں جاتے ہیں پھر رشتہ دار، اور مال لوٹ آتے ہیں اور صرف اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہ جاتا ہے ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (R.A) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Three things follow the deceased, two return while one remains. His family, his wealth and his deeds follow him. His family and his wealth return while his deeds remain behind.” [Ahmed 12081, Bukhari 6514, Nisai 1933]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2379
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرقاق ٤٢ (٦٥١٤)، صحیح مسلم/الزہد ١ (٢٩٦٠)، سنن النسائی/الجنائز ٥٢ (١٩٣٩) (تحفة الأشراف: ٩٥٠)، و مسند احمد (٣/١١٠) (صحیح )
2380Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں میں کہ زیادہ کھانا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ،وَحَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ . حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ نَحْوَهُ، وَقَالَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مقدام بن معدیکرب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا، آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ اپنے کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے باقی رکھے ١ ؎۔

Sayyidina Miqdam ibn Ma’dikarib (R.A) reported that he heard Allah’s Messenger say, “A man does not fill a vessel worse than his belly. Enough for the son of Aad are a few morsels to keep his back straight. But, if it is unavoidable then let him apportion one-third for his food, one-third for his drink and one-third for his breath.” [Ahmed 17186, Ibn e Majah3349]

صحيح، ابن ماجة (3349) صحيح، ابن ماجة (3349)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2380 اس حدیث کو ہم سے حسن بن عرفہ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: ہم سے اسماعیل بن عیاش نے اسی جیسی حدیث بیان کی، اور سند یوں بیان کی «لمقدام بن معدي كرب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اس میں انہوں نے «سمعت النبي صلی اللہ عليه وسلم» کا ذکر نہیں کیا۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2380
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں زیادہ کھانے کی ممانعت ہے اور کم کھانے کی ترغیب ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور حکماء و اطباء کا اس پر اتفاق ہے کہ کم خوری صحت کے لیے مفید ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٠ (٣٣٤٩) (تحفة الأشراف: ١١٥٧٥)، و مسند احمد (٤/١٣٢) (صحیح)
2381Sunan At-Tirmidhi

ریا کاری اور شہرت کے متعلق

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ هِشَامٍ، عَنْ شَيْبَانَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يُرَاءِ يُرَاءِ اللَّهُ بِهِ، وَمَنْ يُسَمِّعْ يُسَمِّعِ اللَّهُ بِهِ . (حديث مرفوع) (حديث موقوف) قَالَ: قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ لَا يَرْحَمُ النَّاسَ لَا يَرْحَمْهُ اللَّهُ ، وفي الباب عن جُنْدَبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو ریاکاری کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے لوگوں کے سامنے ظاہر کر دے گا، اور جو اللہ کی عبادت شہرت کے لیے کرے گا تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اسے رسوا و ذلیل کرے گا ، فرمایا: جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا اس پر اللہ تعالیٰ بھی رحم نہیں کرتا ۔

Sayyidina Abu Sa’eed (R.A) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone displays (his piety), Allah will display it and if he causes it to be heard, Allah will cause him to be heard.” He also reported that he said, “If anyone is not merciful to people then Allah is merciful to him.” [Ahmed 11357]

صحيح، ابن ماجة (4206)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2381
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں جندب اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢١ (٤٢٠٦) (تحفة الأشراف: ٤٢٢٠)، و مسند احمد (٣/٤٠) (صحیح) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے )
2382Sunan At-Tirmidhi

ریا کاری اور شہرت کے متعلق

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَخْبَرَنِي الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي الْوَلِيدِ أَبُو عُثْمَانَ الْمَدَائِنِيُّ، أَنَّ عُقْبَةَ بْنَ مُسْلِمٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ شُفَيًّا الْأَصْبَحِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ قَدِ اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟ فَقَالُوا: أَبُو هُرَيْرَةَ، فَدَنَوْتُ مِنْهُ حَتَّى قَعَدْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ وَهُوَ يُحَدِّثُ النَّاسَ، فَلَمَّا سَكَتَ وَخَلَا قُلْتُ لَهُ: أَنْشُدُكَ بِحَقٍّ وَبِحَقٍّ لَمَا حَدَّثْتَنِي حَدِيثًا سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتَهُ وَعَلِمْتَهُ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: أَفْعَلُ لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقَلْتُهُ وَعَلِمْتُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً فَمَكَثَ قَلِيلًا، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى، ثُمَّ أَفَاقَ فَمَسَحَ وَجْهَهُ، فَقَالَ: لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا وَهُوَ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَنَا أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً أُخْرَى، ثُمَّ أَفَاقَ وَمَسَحَ وَجْهَهُ، فَقَالَ: أَفْعَلُ لَأُحَدِّثَنَّكَ حَدِيثًا حَدَّثَنِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا مَعَهُ فِي هَذَا الْبَيْتِ مَا مَعَهُ أَحَدٌ غَيْرِي وَغَيْرُهُ، ثُمَّ نَشَغَ أَبُو هُرَيْرَةَ نَشْغَةً شَدِيدَةً، ثُمَّ مَالَ خَارًّا عَلَى وَجْهِهِ فَأَسْنَدْتُهُ عَلَيَّ طَوِيلًا، ثُمَّ أَفَاقَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى إِذَا كَانَ يَوْمُ الْقِيَامَةِ يَنْزِلُ إِلَى الْعِبَادِ لِيَقْضِيَ بَيْنَهُمْ وَكُلُّ أُمَّةٍ جَاثِيَةٌ فَأَوَّلُ مَنْ يَدْعُو بِهِ رَجُلٌ جَمَعَ الْقُرْآنَ، وَرَجُلٌ قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ كَثِيرُ الْمَالِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لِلْقَارِئِ: أَلَمْ أُعَلِّمْكَ مَا أَنْزَلْتُ عَلَى رَسُولِي ؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا عُلِّمْتَ ؟ قَالَ: كُنْتُ أَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: إِنَّ فُلَانًا قَارِئٌ فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، وَيُؤْتَى بِصَاحِبِ الْمَالِ فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: أَلَمْ أُوَسِّعْ عَلَيْكَ حَتَّى لَمْ أَدَعْكَ تَحْتَاجُ إِلَى أَحَدٍ ؟ قَالَ: بَلَى يَا رَبِّ، قَالَ: فَمَاذَا عَمِلْتَ فِيمَا آتَيْتُكَ ؟ قَالَ: كُنْتُ أَصِلُ الرَّحِمَ وَأَتَصَدَّقُ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: كَذَبْتَ، وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلَانٌ جَوَادٌ فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، وَيُؤْتَى بِالَّذِي قُتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَيَقُولُ اللَّهُ لَهُ: فِي مَاذَا قُتِلْتَ ؟ فَيَقُولُ: أُمِرْتُ بِالْجِهَادِ فِي سَبِيلِكَ فَقَاتَلْتُ حَتَّى قُتِلْتُ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى لَهُ: كَذَبْتَ، وَتَقُولُ لَهُ الْمَلَائِكَةُ: كَذَبْتَ، وَيَقُولُ اللَّهُ: بَلْ أَرَدْتَ أَنْ يُقَالَ: فُلَانٌ جَرِيءٌ، فَقَدْ قِيلَ ذَاكَ، ثُمَّ ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رُكْبَتِي، فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ أُولَئِكَ الثَّلَاثَةُ أَوَّلُ خَلْقِ اللَّهِ تُسَعَّرُ بِهِمُ النَّارُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، وَقَالَ الْوَلِيدُ أَبُو عُثْمَانَ: فَأَخْبَرَنِي عُقْبَةُ بْنُ مُسْلِمٍ، أَنَّ شُفَيًّا هُوَ الَّذِي دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ فَأَخْبَرَهُ بِهَذَا، قَالَ أَبُو عُثْمَانَ، وَحَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، أَنَّهُ كَانَ سَيَّافًا لِمُعَاوِيَةَ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَأَخْبَرَهُ بِهَذَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: قَدْ فُعِلَ بِهَؤُلَاءِ هَذَا، فَكَيْفَ بِمَنْ بَقِيَ مِنَ النَّاسِ ثُمَّ بَكَى مُعَاوِيَةُ بُكَاءً شَدِيدًا حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ هَالِكٌ، وَقُلْنَا: قَدْ جَاءَنَا هَذَا الرَّجُلُ بِشَرٍّ، ثُمَّ أَفَاقَ مُعَاوِيَةُ وَمَسَحَ عَنْ وَجْهِهِ، وَقَالَ: صَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لا يُبْخَسُونَ 15 أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الآخِرَةِ إِلا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ 16 سورة هود آية 15-16، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

عقبہ بن مسلم سے شفیا اصبحی نے بیان کیا کہ ایک مرتبہ وہ مدینہ میں داخل ہوئے، اچانک ایک آدمی کو دیکھا جس کے پاس کچھ لوگ جمع تھے، انہوں نے پوچھا کہ یہ کون ہیں؟ لوگوں نے جواباً عرض کیا: یہ ابوہریرہ ؓ ہیں، شفیا اصبحی کا بیان ہے کہ میں ان کے قریب ہوا یہاں تک کہ ان کے سامنے بیٹھ گیا اور وہ لوگوں سے حدیث بیان کر رہے تھے، جب وہ حدیث بیان کرچکے اور تنہا رہ گئے تو میں نے ان سے کہا: میں آپ سے اللہ کا باربار واسطہ دے کر پوچھ رہا ہوں کہ آپ مجھ سے ایسی حدیث بیان کیجئے جسے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہو اور اسے اچھی طرح جانا اور سمجھا ہو۔ ابوہریرہ ؓ نے فرمایا: ٹھیک ہے، یقیناً میں تم سے ایسی حدیث بیان کروں گا جسے مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ہے اور میں نے اسے اچھی طرح جانا اور سمجھا ہے۔ پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہوگئے، تھوڑی دیر بعد جب افاقہ ہوا تو فرمایا: یقیناً میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے اسی گھر میں بیان کیا تھا جہاں میرے سوا کوئی نہیں تھا، پھر دوبارہ ابوہریرہ نے چیخ ماری اور بیہوش ہوگئے، پھر جب افاقہ ہوا تو اپنے چہرے کو پونچھا اور فرمایا: ضرور میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے بیان کیا ہے اور اس گھر میں میرے اور آپ کے سوا کوئی نہیں تھا، پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہوگئے، اپنے چہرے کو پونچھا اور پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا: ضرور میں تم سے وہ حدیث بیان کروں گا جسے رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے بیان کیا ہے اور اس گھر میں میرے اور آپ کے سوا کوئی نہیں تھا، پھر ابوہریرہ نے زور کی چیخ ماری اور بیہوش ہو کر منہ کے بل زمین پر گرپڑے، میں نے بڑی دیر تک انہیں اپنا سہارا دیئے رکھا پھر جب افاقہ ہوا تو فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے: قیامت کے دن جب ہر امت گھٹنوں کے بل پڑی ہوگی تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلے کے لیے نزول فرمائے گا، پھر اس وقت فیصلہ کے لیے سب سے پہلے ایسے شخص کو بلایا جائے گا جو قرآن کا حافظ ہوگا، دوسرا شہید ہوگا اور تیسرا مالدار ہوگا، اللہ تعالیٰ حافظ قرآن سے کہے گا: کیا میں نے تجھے اپنے رسول پر نازل کردہ کتاب کی تعلیم نہیں دی تھی؟ وہ کہے گا: یقیناً اے میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو علم تجھے سکھایا گیا اس کے مطابق تو نے کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: میں اس قرآن کے ذریعے راتوں دن تیری عبادت کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی اس سے کہیں گے کہ تو نے جھوٹ کہا، پھر اللہ تعالیٰ کہے گا: (قرآن سیکھنے سے) تیرا مقصد یہ تھا کہ لوگ تجھے قاری کہیں، سو تجھے کہا گیا، پھر صاحب مال کو پیش کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: کیا میں نے تجھے ہر چیز کی وسعت نہ دے رکھی تھی، یہاں تک کہ تجھے کسی کا محتاج نہیں رکھا؟ وہ عرض کرے گا: یقیناً میرے رب! اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تجھے جو چیزیں دی تھیں اس میں کیا عمل کیا؟ وہ کہے گا: صلہ رحمی کرتا تھا اور صدقہ و خیرات کرتا تھا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ کہا اور فرشتے بھی اسے جھٹلائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: بلکہ تم یہ چاہتے تھے کہ تمہیں سخی کہا جائے، سو تمہیں سخی کہا گیا، اس کے بعد شہید کو پیش کیا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تجھے کس لیے قتل کیا گیا؟ وہ عرض کرے گا: مجھے تیری راہ میں جہاد کا حکم دیا گیا چناچہ میں نے جہاد کیا یہاں تک کہ شہید ہوگیا، اللہ تعالیٰ اس سے کہے گا: تو نے جھوٹ کہا، فرشتے بھی اسے جھٹلائیں گے، پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تیرا مقصد یہ تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے سو تجھے کہا گیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے میرے زانو پر اپنا ہاتھ مار کر فرمایا: ابوہریرہ! یہی وہ پہلے تین شخص ہیں جن سے قیامت کے دن جہنم کی آگ بھڑکائی جائے گی ۔

Shufayya Asbahi narrated: I entered Madinah and came upon a man around whom people had gathered. I asked, “Who is he?” They said, “Abu Hurayrah (R.A)“ So, I went near him till I sat down opposite him while he was narrating hadith to the people. When he paused and was alone I said to him, “I ask you by Truth, by Allah, narrate to me a hadith that you may have heard from Allah’s Messenger ﷺ , understood it and remembered it.” He said, “ I will do that, narrate to you a hadith that Allah’s Messenger narrated to me and I understood it and I remember it” Then he shrieked and fell unconscious and revived after a while and repeated, “Surely, I will narrate to you a hadith that Allah’s Messenger ﷺ narrated to me in this house, there being no one else with us, only I and he.” Then, Abu Hurayrah shrieked loudly and fell unconscious. He recovered shortly, wired his face and said, “I will do it. Surely I will narrate to you a hadith that Allah’s Messenger narrated to me I and he were in this house, there being no one else with us, besides me and him.” Then he shrieked loudly and fell unconscious and, as he was falling done on his face, I supported him for a long time. Then he regained consciousness and said, “Allah’s Messenger ﷺ narrated to me that on the Day of Resurrection, Allah the Exalted, will come down to the worshippers to judge between them and all the ummahs will kneel down. The first of those who are summoned will be a man who had memorised the Qur’an, a man who was slain in Allah’s path and a man who had much wealth Allah will say to the reciter of the Quran, ‘Did I not teach you what I had revealed to My Messenger?’ He would answer, ‘Certainly, O my Lord! He would ask, ‘So what did you do with what you had learnt?’. He would say, ‘I stood up with it in the night and during day in prayer Allah will say to him, ‘You lie,’ and the angels will say to him, ‘You have lied’. Allah will say to him, ‘Rather, you hoped to be cited as a reciter and that has been done’. The man of wealth will be presented next and Allah will say ‘Did I not give you plenty so that you may not depend on anyone?’. He would confirm, ‘Certainly, O my Lord!’ He will ask, ‘Then what did you do with that which I gave you?’ He would answer, ‘I joined ties of relationship and gave sadaqah’. Allah will say to him, ‘You lie,’ and the angels will also say, ‘You have lied’. Allah will say, ‘Rather, you loved to be referred to as a philanthropist and that was done’. Then the one who was slain in Allah’s path will be presented and Allah will ask, ‘Why were you killed?’ He will say, ‘you commanded (us) to wage jihad in Your path, so I fought till I was killed’. Allah will say to him ‘You lie,’ and the angels will affirm, ‘You have lied’. And, Allah will say, ‘Rather, you hoped to be called brave and that was done’. After that, Allah’s Messenger patted me on my knee and said, ‘O Abu Hurayrah! They are the first three of Allah’s creatures with whom the fire will be kindled on the Day of Resurrection’. Walid Abu Uthman Mada’ini said: Uqbah ibn Muslim informed me that Shufayya was the very one who had come to Mu’awiyah and informed him with that. Abu Uthman reported from Ata ibn Abu Hakim, the executioner in Muawiyah’s court that a man came to him and narrated it from Abu Hurayrah (RA). Mu’awiyah said , “If that is how it is done with them then how will it be with the rest of the men?”Then Mu’awiyah (RA)i wept and he wept profusely till the others around imagined that he would die. They said, “This man has come to us with evil in mind.” Then Mu’awiyah recovered and wiped his face and said, “Allah has spoken the truth and His Messenger” (when He said:) Whose desires the life of this world and its adornment; we shall pay them in full for their deeds therein, and they shall not be made to suffer (any) loss in it. Those are they for whom is nothing in the Hereafter except the Fire. All that they contrive here would be in vain, and void would be that they used to do. (11: 15-16)

صحيح، التعليق الرغيب (1 / 29 - 30)، التعليق علی بن خزيمة (2482)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2382
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ولید ابوعثمان کہتے ہیں: عقبہ بن مسلم نے مجھے خبر دی کہ شفیا اصبحی ہی نے معاویہ ؓ کے پاس جا کر انہیں اس حدیث سے باخبر کیا تھا۔ ابوعثمان کہتے ہیں: علاء بن ابی حکیم نے مجھ سے بیان کیا کہ وہ معاویہ ؓ کے جلاد تھے، پھر معاویہ کے پاس ایک آدمی پہنچا اور ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے اس حدیث سے انہیں باخبر کیا تو معاویہ نے کہا: ان تینوں کے ساتھ ایسا معاملہ ہوا تو باقی لوگوں کے ساتھ کیا ہوگا، یہ کہہ کر معاویہ زار و قطار رونے لگے یہاں تک کہ ہم نے سمجھا کہ وہ زندہ نہیں بچیں گے، اور ہم لوگوں نے یہاں تک کہہ ڈالا کہ یہ شخص شر لے کر آیا ہے، پھر جب معاویہ ؓ کو افاقہ ہوا تو انہوں نے اپنے چہرے کو صاف کیا اور فرمایا: یقیناً اللہ اور اس کے رسول نے سچ فرمایا ہے اور اس آیت کریمہ کی تلاوت کی «من کان يريد الحياة الدنيا وزينتها نوف إليهم أعمالهم فيها وهم فيها لا يبخسون أولئك الذين ليس لهم في الآخرة إلا النار وحبط ما صنعوا فيها وباطل ما کانوا يعملون» جو شخص دنیاوی زندگی اور اس کی زیب و زینت کو چاہے گا تو ہم دنیا ہی میں اس کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے دیں گے اور کوئی کمی نہیں کریں گے، یہ وہی لوگ ہیں جن کا آخرت میں جہنم کے علاوہ اور کوئی حصہ نہیں ہے اور دنیا کے اندر ہی ان کے سارے اعمال ضائع اور باطل ہوگئے (سورۃ ہود: ١٦ ) ۔ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٣٤٩٣)، وأخرج نحوہ: صحیح مسلم/الإمارة ٤٣ (١٩٠٥)، سنن النسائی/الجھاد ٢٢ (٣١٣٩)، و مسند احمد (٢/٣٢٢) (صحیح )
2383Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنِي الْمُحَارِبِيُّ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ سَيْفٍ الضَّبِّيِّ، عَنْ أَبِي مُعَانٍ الْبَصْرِيِّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ جُبِّ الْحَزَنِ ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَا جُبُّ الْحَزَنِ، قَالَ: وَادٍ فِي جَهَنَّمَ تَتَعَوَّذُ مِنْهُ جَهَنَّمُ كُلَّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ ، قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَمَنْ يَدْخُلُهُ، قَالَ: الْقُرَّاءُ الْمُرَاءُونَ بِأَعْمَالِهِمْ ، قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «جب الحزن» (غم کی وادی) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو ، صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! «جب الحزن» کیا چیز ہے؟ آپ نے فرمایا: جہنم کی ایک وادی ہے جس سے جہنم بھی ہر روز سو مرتبہ پناہ مانگتی ہے ، پھر صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس میں کون لوگ داخل ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: ریاکار قراء (اس میں داخل ہوں گے) ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Seek refuge in Allah from jubb al-hazn.” They asked, “O Messenger of Allah, what is jubb al-hazn?” He said “It is a valley in Hell from which (the rest of) Hell seeks refuge a hundred times each day.” It was said, “O Messenger of Allah, who will enter it?” He said, “The reciters (of the Quran) who display their deeds.” [Ibn e Majah2561]

ضعيف، ابن ماجة (256) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (52) أتم من هنا وفي نسخة القراء، المشکاة (275)، ضعيف الجامع الصغير (2460) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2383
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢٣ (٢٥٦) (تحفة الأشراف: ١٤٥٨٦) (ضعیف) (سند میں ” ابو معان “ یا ” ابو معاذ “ مجہول راوی ہے، اور ” عمار بن سیف “ ضعیف الحدیث، ابوہریرہ ؓ سے اس کا دوسرا طریق بھی ضعیف ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: ٥٠٢٣، و ٥١٥٢ )
2384Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا أَبُو سِنَانٍ الشَّيْبَانِيُّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَعْمَلُ الْعَمَلَ فَيُسِرُّهُ فَإِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ أَعْجَبَهُ ذَلِكَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَهُ أَجْرَانِ أَجْرُ السِّرِّ وَأَجْرُ الْعَلَانِيَةِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُالْأَعْمَشُ، وَغَيْرُهُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَأَصْحَابُ الْأَعْمَشِ لَمْ يَذْكُرُوا فِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: إِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ فَأَعْجَبَهُ فَإِنَّمَا مَعْنَاهُ أَنْ يُعْجِبَهُ ثَنَاءُ النَّاسِ عَلَيْهِ بِالْخَيْرِ، لِقَوْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنْتُمْ شُهَدَاءُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ فَيُعْجِبُهُ ثَنَاءُ النَّاسِ عَلَيْهِ، لِهَذَا لِمَا يَرْجُو بِثَنَاءِ النَّاسِ عَلَيْهِ فَأَمَّا إِذَا أَعْجَبَهُ لِيَعْلَمَ النَّاسُ مِنْهُ الْخَيْرَ، لِيُكْرَمَ عَلَى ذَلِكَ وَيُعَظَّمَ عَلَيْهِ فَهَذَا رِيَاءٌ ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: إِذَا اطُّلِعَ عَلَيْهِ فَأَعْجَبَهُ رَجَاءَ أَنْ يَعْمَلَ بِعَمَلِهِ فَيَكُونُ لَهُ مِثْلُ أُجُورِهِمْ، فَهَذَا لَهُ مَذْهَبٌ أَيْضًا.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آدمی نیک عمل کرتا ہے پھر اسے چھپاتا ہے لیکن جب لوگوں کو اس کی اطلاع ہوجاتی ہے تو وہ اسے پسند کرتا ہے؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس کے لیے دو اجر ہیں ایک نیکی کے چھپانے کا اور دوسرا اس کے ظاہر ہوجانے کا ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that a man said to Allah’s Messenger ﷺ “O Messenger of Allah, a man performs a deed and keeps it a secret. But when it becomes known, it pleases him.” He said, “He has two rewards, reward for the secret and reward for it being known.” [Ibn e Majah 4226]

ضعيف، ابن ماجة (4226) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (927) صفحة (347) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2384
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے۔ ٢ - اعمش وغیرہ نے اس حدیث کو «حبيب بن أبي ثابت عن أبي صالح عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» کی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور اعمش کے شاگردوں نے اس میں «عن أبي هريرة» کا ذکر نہیں کیا، ٣ - بعض اہل علم نے اس حدیث کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا: اس کے نیک عمل کے ظاہر ہوجانے پر لوگوں کے پسند کرنے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کی تعریف اور ثناء خیر کو وہ پسند کرتا ہے اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ تم لوگ زمین پر اللہ کے گواہ ہو ، یقیناً اسے لوگوں کی تعریف پسند آتی ہے کیونکہ اسے لوگوں کی تعریف سے آخرت کے خیر کی امید ہوتی ہے، البتہ اگر کوئی لوگوں کے جان جانے پر اس لیے خوش ہوتا ہے کہ اس کے نیک عمل کو جان کر لوگ اس کی تعظیم و تکریم کریں گے تو یہ ریا و نمود میں داخل ہوجائے گا، ٤ - اور بعض اہل علم نے اس کی تفسیر یہ کی ہے کہ لوگوں کے جان جانے پر وہ اس لیے خوش ہوتا ہے کہ نیک عمل میں لوگ اس کی اقتداء کریں گے اور اسے بھی ان کے اعمال میں اجر ملے گا تو یہ خوشی بھی مناسب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٢٥ (٤٢٢٦) (تحفة الأشراف: ١٢٣١١) (ضعیف) (سند میں سعید بن سنان حافظہ کے کمزور ہیں، اس لیے مرسل روایت کو مرفوع ومتصل بنادیا ہے، تفصیل کے لیے دیکھیے: الضعیفة رقم: ٤٣٤٤ )
2386Sunan At-Tirmidhi

آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ صحبت رکھے گا

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَلَهُ مَا اكْتَسَبَ ، وفي الباب عن عَلِيٍّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَصَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي مُوسَى، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اسے وہی بدلہ ملے گا جو کچھ اس نے کمایا ۔

SayyidiiAnas (RA) reported that a man came to Allah’s Messegner ﷺ and asked “When will the Hour come?” The Prophet ﷺ stood up for salah and when he had finished the salah, he asked, “Where is he who asked about the Hour?” The man said, “Yes! O Messenger of Allah.” He asked. “What have you prepared for it?” He said, “I have not prepared for it with lenghty salah or fasting, but that I love Allah and His Messenger ﷺ .“ So, Allah’s Messenger ﷺ said, “A man is with whom he loves and you will be with him whom you love.” The narrator said, “And I did not see the happiness of the Muslims after Islam like their happiness at this (disclosure).” [Ahmed 12011]

صحيح بلفظ: أنت مع من احببت ولک ما احتسبت، الصحيحة (3253) // ضعيف الجامع الصغير (5923) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2386
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن بصری کی روایت سے حسن غریب ہے، اور حسن بصری نے انس بن مالک سے اور انس بن مالک نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں، ٢ - یہ حدیث نبی اکرم ﷺ سے دوسری سندوں سے بھی مروی ہے، ٣ - اس باب میں علی، عبداللہ بن مسعود، صفوان بن عسال، ابوہریرہ اور ابوموسیٰ اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (تحفة الأشراف: ٥٣٠) (صحیح) (” أنت مع من أحببت ولک ما اکتسبت “ کے سیاق سے صحیح ہے )
2385Sunan At-Tirmidhi

آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ صحبت رکھے گا

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَتَى قِيَامُ السَّاعَةِ، فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ قِيَامِ السَّاعَةِ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: مَا أَعْدَدْتَ لَهَا ؟ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَعْدَدْتُ لَهَا كَبِيرَ صَلَاةٍ، وَلَا صَوْمٍ إِلَّا أَنِّي أُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ وَأَنْتَ مَعَ مَنْ أَحْبَبْتَ ، فَمَا رَأَيْتُ فَرِحَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدَ الْإِسْلَامِ فَرَحَهُمْ بِهَذَا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: اللہ کے رسول! قیامت کب آئے گی؟ نبی اکرم ﷺ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوگئے، پھر جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: قیامت کے بارے میں سوال کرنے والا کہاں ہے؟ اس آدمی نے کہا: میں موجود ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: قیامت کے لیے تم نے کیا تیاری کر رکھی ہے ، اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں نے کوئی زیادہ صوم و صلاۃ اکٹھا نہیں کی ہے (یعنی نوافل وغیرہ) مگر یہ بات ہے کہ میں اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس سے محبت کرتا ہے، اور تم بھی اسی کے ساتھ ہو گے جس سے محبت کرتے ہو ۔ انس کا بیان ہے کہ اسلام لانے کے بعد میں نے مسلمانوں کو اتنا خوش ہوتے نہیں دیکھا جتنا آپ کے اس قول سے وہ سب خوش نظر آ رہے تھے۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger said, “A man will be with one whom he loves. And for him is what he earns.” [Ahmed 12625]

صحيح، الروض النضير (104)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2385
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٦ (٣٦٨٨)، والأدب ٩٥ (٦١٦٧)، و ٩٦ (٦١٧١)، والأحکام ١٠ (٧١٥٣)، صحیح مسلم/البر والصلة ٥٠ (٣٦٣٩) (تحفة الأشراف: ٥٨٥)، و مسند احمد (٣/١٠٤، ١١٠، ١٥٩، ١٦٥، ١٦٧، ١٦٨، ١٧٣، ١٧٨، ١٩٢، ١٩٨، ٢٠٠) (صحیح )
2387Sunan At-Tirmidhi

آدمی اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ وہ صحبت رکھے گا

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ جَهْوَرِيُّ الصَّوْتِ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ الرَّجُلُ يُحِبُّ الْقَوْمَ وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ حَدِيثِ مَحْمُودٍ.

صفوان بن عسال ؓ کہتے ہیں کہ ایک دیہاتی جس کی آواز بہت بھاری تھی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے محمد! ایک آدمی قوم سے محبت کرتا ہے البتہ وہ ان سے عمل میں پیچھے ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آدمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے ۔

Sayyidina Safwan ibn Assal narrated: A villager who had a loud voice came and said,” O Muhammad ﷺ , a man loves a people but his deeds are not identical to theirs.” Allah’s Messenger said, “A man is with one whom he loves.” [Ahmed 11813]

حسن، الروض النضير (360) حسن، الروض النضير (360)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2387 اس سند سے بھی صفوان بن عسال ؓ سے محمود بن غیلان کی حدیث جیسی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2387
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٤٩٥٢) (حسن) انظر ماقبلہ (حسن )
2388Sunan At-Tirmidhi

اللہ تعالیٰ سے حسن ظن رکھنے کے متعلق

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ اللَّهَ يَقُولُ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا دَعَانِي ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جیسا وہ گمان مجھ سے رکھے، اور میں اس کے ساتھ ہوں جب بھی وہ مجھے پکارتا ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, that Allah, the Exalted, sads, “I am as My slave thinks of Me. And I am with him when he cals Me. [Bukhari 7405, Muslim 2675]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2388
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی ترغیب ہے، لیکن عمل کے بغیر کسی بھی چیز کی امید نہیں کی جاسکتی ہے، گویا اللہ کا معاملہ بندوں کے ساتھ ان کے عمل کے مطابق ہوگا، بندے کا عمل اگر اچھا ہے تو اس کے ساتھ اچھا معاملہ اور برے عمل کی صورت میں اس کے ساتھ برا معاملہ ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الدعاء والذکر ٦ (٢٦٧٥) (تحفة الأشراف: ١٤٨٢١) (وراجع أیضا: صحیح البخاری/التوحید ١٥ (٧٤٠٥)، و ٣٥ (٥٥٣٧)، وصحیح مسلم/التوبة ١ (٢٦٧٥)، وماعند المؤلف في الدعوات برقم ٣٦٠٣)، وسنن ابن ماجہ/الأدب ٥٨ (٣٨٢٢)، و مسند احمد (٢/٢٥١)، ٣٩١، ٤١٣، ٤٤٥، ٤٨٠، ٤٨٢، ٥١٦) (صحیح )
2389Sunan At-Tirmidhi

نیکی اور بدی کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّوَّاسِ بْنِ سَمْعَانَ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْبِرِّ وَالْإِثْمِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْبِرُّ حُسْنُ الْخُلُقِ، وَالْإِثْمُ مَا حَاكَ فِي نَفْسِكَ وَكَرِهْتَ أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ النَّاسُ .

نواس بن سمعان ؓ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور بدی کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: نیکی اچھے اخلاق کا نام ہے اور گناہ وہ ہے جو تمہارے دل میں کھٹک پیدا کرے اور لوگوں کا مطلع ہونا تم اس پر ناگوار گزرے ١ ؎۔

Sayyidina Nawwas ibn Sam’an (RA) reported that a man asked Allah’s Messenger about piety and sin. The Prophet ﷺ said, “Piety is good character while sin is what pinches you in your heart and you dislike that people should know about it.” [Ahmed 17650, Bukhari 295, Muslim 3553]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2389
Notes · وضاحت
١ ؎: اسلام میں اچھے اخلاق کا درجہ بہت اونچا ہے، دوسروں کے کام آنا، ہر اچھے کام میں لوگوں کا تعاون کرنا، کسی کو تکلیف نہ پہنچانا یہ سب ایسی اخلاقی خوبیاں ہیں جو اسلام کی نظر میں نیکیاں ہیں، اس حدیث میں گناہ کی دو علامتیں بیان کی گئی ہیں، ایک علامت یہ ہے کہ گناہ وہ ہے جو انسان کے دل میں کھٹکے اور دوسری علامت یہ ہے کہ دوسروں کے اس سے باخبر ہونے کو وہ ناپسند کرے، گویا انسانی فطرت صحیح بات کی طرف انسان کو رہنمائی کرتی ہے، اور برائیوں سے روکتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/البر والصلة ٥ (٢٥٥٣) (تحفة الأشراف: ١١٧١٢)، و مسند احمد (٤/١٨٢) (صحیح )
2390Sunan At-Tirmidhi

اللہ کے لئے محبت کرنا

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي مَرْزُوقٍ، عَنْعَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيِّ، حَدَّثَنِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْمُتَحَابُّونَ فِي جَلَالِي لَهُمْ مَنَابِرُ مِنْ نُورٍ يَغْبِطُهُمُ النَّبِيُّونَ وَالشُّهَدَاءُ ، وفي الباب عن أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَابْنِ مَسْعُودٍ، وَعُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي مَالِكٍ الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ ثُوَبَ.

معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میری عظمت و بزرگی کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کے لیے قیامت کے دن نور (روشنی) کے ایسے منبر ہوں گے جن پر انبیاء اور شہداء بھی رشک کریں ١ ؎۔

Sayyidina Mu’az ibn Jabal (RA) reported that he heard Allah’s Messenger narrated : Allah, the Glorious, the Majestic said, “Those who love each other for My Glory will have pulpits of light that the Prophet’s and the martyrs would cherish.” [Ahmed 22141]

صحيح، المشکاة (5011 / التحقيق الثانی)، التعليق الرغيب (4 / 47)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2390
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابو الدرداء، ابن مسعود، عبادہ بن صامت، ابوہریرہ اور ابو مالک اشعری ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مفہوم یہ ہے کہ اللہ کی عظمت و بزرگی کے لیے آپس میں محبت کرنے والوں کا مقام و مرتبہ اس قدر اونچا ہوگا کہ انبیاء و شہداء باوجود یہ کہ سب سے اونچے مراتب پر فائز ہوں گے اگر دوسروں کے حال پر قیامت کے دن رشک کرتے تو ایسے لوگوں کے مراتب پر ضرور رشک کرتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١١٣٢٥)، وانظر: مسند احمد (٥/٢٢٩، ٢٣٩) (صحیح )
2391Sunan At-Tirmidhi

اللہ کے لئے محبت کرنا

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَأَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَبْعَةٌ يُظِلُّهُمُ اللَّهُ فِي ظِلِّهِ يَوْمَ لَا ظِلَّ إِلَّا ظِلُّهُ، إِمَامٌ عَادِلٌ، وَشَابٌّ نَشَأَ بِعِبَادَةِ اللَّهِ، وَرَجُلٌ كَانَ قَلْبُهُ مُعَلَّقًا بِالْمَسْجِدِ إِذَا خَرَجَ مِنْهُ حَتَّى يَعُودَ إِلَيْهِ، وَرَجُلَانِ تَحَابَّا فِي اللَّهِ فَاجْتَمَعَا عَلَى ذَلِكَ وَتَفَرَّقَا، وَرَجُلٌ ذَكَرَ اللَّهَ خَالِيًا فَفَاضَتْ عَيْنَاهُ، وَرَجُلٌ دَعَتْهُ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، فَقَالَ: إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ فَأَخْفَاهَا حَتَّى لَا تَعْلَمَ شِمَالُهُ مَا تُنْفِقُ يَمِينُهُ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ مِثْلَ هَذَا وَشَكَّ فِيهِ، وَقَالَ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَوْ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، رَوَاهُ عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَلَمْ يَشُكَّ فِيهِ، يَقُولُ: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ یا ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سات قسم کے لوگ ایسے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اس دن کہ جب اس کے (عرش کے) سائے کے علاوہ کوئی سایہ نہ ہوگا اپنے عرش کے سائے میں جگہ دے گا: ان میں سے ایک انصاف کرنے والا حکمراں ہے، دوسرا وہ نوجوان ہے جو اللہ کی عبادت میں پلا بڑھا ١ ؎، تیسرا وہ شخص ہے جس کا دل مسجد میں لگا ہوا ہو ٢ ؎ چوتھا وہ دو آدمی جنہوں نے صرف اللہ کی رضا کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ محبت کی، اسی کے واسطے جمع ہوتے ہیں اور اسی کے واسطے الگ ہوتے ہیں ٣ ؎، پانچواں وہ آدمی جو تنہائی میں اللہ کا ذکر کرے اور عذاب الٰہی کے خوف میں آنسو بہائے، چھٹا وہ آدمی جسے خوبصورت عورت گناہ کی دعوت دے، لیکن وہ کہے کہ مجھے اللہ کا خوف ہے، ساتواں وہ آدمی جس نے کوئی صدقہ کیا تو اسے چھپایا یہاں تک کہ اس کے بائیں ہاتھ کو بھی نہ پتہ چلے کہ دائیں ہاتھ نے کیا خرچ کیا۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There are seven whom Allah will provide shade under His shadow on the day when there will be no shade except his shade. (They are:) a just imam; a young man who grew up in worship of Allah, a man whose heart is attached to the mosque when he comes out of it till he returns to it; two men who love one another for the sake of Allah and they meet for that and separate on that; a man who remembers Allah in solitude and his eyes become moist; a man whom a woman of wealth and beauty invites, but he says, ‘I fear Allah, the Majestic, the Glorious;’ and a man who gives charity and keeps it a secret so that his left hand does not know what his right has spent (on it)”. [Ahmed 9671, Bukhari 660, Muslim 1031]

صحيح، الإرواء (887)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2391
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - یہ حدیث امام مالک بن انس سے اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی اسی کے مثل مروی ہے، ان میں بھی راوی نے شک کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے «عن أبي هريرة أو عن أبي سعيد» اور عبیداللہ بن عمر عمری نے اس حدیث کو خبیب بن عبدالرحمٰن سے بغیر شک کے روایت کیا ہے، اس میں انہوں نے صرف «عن أبي هريرة» کہا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی بچپن سے ہی اس کی تربیت اسلامی خطوط پر ہوئی اور جوانی کی آنکھیں کھولتے ہی وہ اللہ کی عبادت کو سمجھتا تھا اور پھر وہ اس پر کاربند رہا۔ ٢ ؎: یعنی وہ اس انتظار میں رہے کہ کب اذان ہو اور وہ نماز پڑھنے کے لیے مسجد میں جائے۔ ٣ ؎: یعنی ان کے اکٹھا ہونے اور جدا ہونے کی بنیاد دین ہے، گویا دین کی پابندی انہیں ایک دوسرے سے وابستہ رکھتی ہے اور دین سے انحراف انہیں باہم جدا کردیتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٦ (٦٦٠)، والزکاة ١٦ (١٤٢٣)، والرقاق ٢٤ (٦٤٧٩)، والحدود ١٩ (٦٨٠٦)، صحیح مسلم/الزکاة ٣٠ (١٠٣١)، سنن النسائی/القضاة ٢ (٥٣٨٢) (تحفة الأشراف: ١٢٢٦٤، و ٣٩٩٦)، وط/الشعر ٥ (١٤)، و مسند احمد (٢/٤٣٩) (صحیح )
2392Sunan At-Tirmidhi

محبت کی خبر دینے کے متعلق

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ، حَدَّثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُعْلِمْهُ إِيَّاهُ ، وفي الباب عن أَبِي ذَرٍّ، وَأَنَسٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْمِقْدَامِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْمِقْدَامُ يُكْنَى: أَبَا كَرِيمَةَ.

مقدام بن معدیکرب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے کسی مسلمان بھائی سے محبت کرے تو وہ اپنی اس محبت سے آگاہ کر دے ١ ؎۔

Sayyidina Miqdam ibn Ma’dikarib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If one of you loves his brother, let him inform him about it.” [Ahmed 21570, Bukhari 542, Abu Dawud 5I24]

صحيح، الصحيحة (417 و 2515) // ضعيف الجامع الصغير (269) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2392
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - مقدام کی حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢ - اس باب میں ابوذر اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ جب دونوں ایک دوسرے کی محبت سے آگاہ اور باخبر ہوجائیں گے تو لازمی طور پر ان میں باہمی محبت پیدا ہوگی اور دو اسلامی بھائیوں کے دلوں سے کدورت و اختلاف سے متعلق ساری چیزیں دور ہوجائیں گی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٢٢ (٥١٢٤)، سنن النسائی/عمل الیوم واللیلة ٧٨ (٢٠٦) (تحفة الأشراف: ١١٥٥٢)، و مسند احمد (٤/١٣٠) (صحیح )
2393Sunan At-Tirmidhi

تعریف کرنے اور تعریف کرانے والوں کی برائی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ، قَالَ: قَامَ رَجُلٌ فَأَثْنَى عَلَى أَمِيرٍ مِنَ الْأُمَرَاءِ، فَجَعَلَ الْمِقْدَادُ يَحْثُو فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ، وَقَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثُوَ فِي وُجُوهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ ، وفي الباب عن أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَى زَائِدَةُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَحَدِيثُ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ أَصَحُّ، وَأَبُو مَعْمَرٍ اسْمُهُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَخْبَرَةَ، وَالْمِقْدَادُ بْنُ الْأَسْوَدِ هُوَ الْمِقْدَادُ بْنُ عَمْرٍو الْكِنْدِيُّ وَيُكْنَى: أَبَا مَعْبَدٍ وَإِنَّمَا نُسِبَ إِلَى الْأَسْوَدِ بْنِ عَبْدِ يَغُوثَ لِأَنَّهُ كَانَ قَدْ تَبَنَّاهُ وَهُوَ صَغِيرٌ.

ابومعمر عبداللہ بن سخبرہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کھڑے ہو کر ایک امیر کی تعریف شروع کی تو مقداد بن عمرو کندی ؓ اس کے چہرے پر مٹی ڈالنے لگے، اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں ١ ؎۔

Abu Ma’mar reported that a man stood up and began to praise one of the amirs. So Miqdad ibn Aswad (RA) poured dust on his face, saying, “Allah’s Messenger ﷺ commanded us that we should pour dust on the face of those who praise.” [Ahmed 23885, Bukhari 339, Muslim 3002, Abu Dawud 4804,Ibn e Majah3742]

صحيح، ابن ماجة (3742)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2393
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - زائدہ نے یہ حدیث مجاہد سے، مجاہد نے ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے حالانکہ مجاہد کی روایت جو ابومعمر سے ہے وہ زیادہ صحیح ہے، ٣ - ابومعمر کا نام عبداللہ بن سخبرہ ہے اور مقداد بن اسود مقداد بن عمرو الکندی ہیں، جن کی کنیت ابو معبد ہے۔ اسود بن عبدیغوث کی طرف ان کی نسبت اس لیے کی گئی کیونکہ انہوں نے مقداد کو لڑکپن میں اپنا متبنی بیٹا بنا لیا تھا، ٤ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مٹی ڈالنے کا حکم شاید اس لیے ہے کہ جب کسی کی تعریف اس کے منہ پر کی جائے گی تو اس کے اندر کبر و غرور پیدا ہونے کا احتمال ہے اور اپنے عیب کو ہنر اور دوسرے مسلمان بھائی کو حقیر سمجھنے کا خدشہ ہے، اس لیے تعریف کرنے والا کسی کی بےجا تعریف سے اور جس سے مذکورہ خطرہ محسوس ہو اپنے آپ کو بچائے کیونکہ اسے محرومی کے سوا کچھ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزہد ١٤ (٣٠٠٢)، سنن ابی داود/ الأدب ١٠ (٤٨٠٤)، سنن ابن ماجہ/الأدب ٣٦ (٣٧٤٢) (تحفة الأشراف: ١١٥٤٥)، و مسند احمد (٦/٥) (صحیح )
2394Sunan At-Tirmidhi

تعریف کرنے اور تعریف کرانے والوں کی برائی

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ سَالِمٍ الْخَيَّاطِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَحْثُوَ فِي أَفْوَاهِ الْمَدَّاحِينَ التُّرَابَ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ.

٤ - ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بےجا تعریف کرنے والوں کے منہ میں مٹی ڈال دیں۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ commanded us to the pour dust in the mouths of those who praise.”

صحيح بما قبله (2393)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2394
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابوہریرہ ؓ کی روایت سے غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ١٢٢٤٩) (صحیح) (سند میں حسن بصری کا سماع ابوہریرہ ؓ سے نہیں ہے، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے )