Sunan At-Tirmidhi 2380

گواہیوں کا بیان

2380Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں میں کہ زیادہ کھانا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ،وَحَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنْ مِقْدَامِ بْنِ مَعْدِ يكَرِبَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا مَلَأَ آدَمِيٌّ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ بِحَسْبِ ابْنِ آدَمَ أُكُلَاتٌ يُقِمْنَ صُلْبَهُ، فَإِنْ كَانَ لَا مَحَالَةَ، فَثُلُثٌ لِطَعَامِهِ وَثُلُثٌ لِشَرَابِهِ وَثُلُثٌ لِنَفَسِهِ . حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ نَحْوَهُ، وَقَالَ الْمِقْدَامُ بْنُ مَعْدِ يكَرِبَ: عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

مقدام بن معدیکرب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا، آدمی کے لیے چند لقمے ہی کافی ہیں جو اس کی پیٹھ کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ اپنے کھانے کے لیے، ایک تہائی پانی پینے کے لیے اور ایک تہائی سانس لینے کے لیے باقی رکھے ١ ؎۔

Sayyidina Miqdam ibn Ma’dikarib (R.A) reported that he heard Allah’s Messenger say, “A man does not fill a vessel worse than his belly. Enough for the son of Aad are a few morsels to keep his back straight. But, if it is unavoidable then let him apportion one-third for his food, one-third for his drink and one-third for his breath.” [Ahmed 17186, Ibn e Majah3349]

صحيح، ابن ماجة (3349) صحيح، ابن ماجة (3349)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2380 اس حدیث کو ہم سے حسن بن عرفہ نے بیان کیا وہ کہتے ہیں: ہم سے اسماعیل بن عیاش نے اسی جیسی حدیث بیان کی، اور سند یوں بیان کی «لمقدام بن معدي كرب عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اس میں انہوں نے «سمعت النبي صلی اللہ عليه وسلم» کا ذکر نہیں کیا۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 2380
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں زیادہ کھانے کی ممانعت ہے اور کم کھانے کی ترغیب ہے، اس میں کوئی شک نہیں اور حکماء و اطباء کا اس پر اتفاق ہے کہ کم خوری صحت کے لیے مفید ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٠ (٣٣٤٩) (تحفة الأشراف: ١١٥٧٥)، و مسند احمد (٤/١٣٢) (صحیح)