عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا کہ قسم مدعی علیہ پر ہے۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ gave verdict that the defendant must swear. [Bukhari 1239, Muslim 1711] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الإرواء (2641)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1342
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ گواہ مدعی کے ذمہ ہے اور قسم مدعی علیہ پر ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الرہن ٦ (٢٥١٤)، والشہادات ٢٠ (٢٦٦٨)، وتفسیر سورة آل عمران ٣ (٤٥٥٢)، صحیح مسلم/الأقضیة ١ (١٧١١)، سنن ابی داود/ الأقضیة ٢٣ (٣٦١٩)، سنن النسائی/القضاة ٣٦ (٥٤٤٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٧ (٢٣٢١)، (تحفة الأشراف: ٥٧٩٢)، و مسند احمد (١/٢٠٣، ٢٨٨، ٣٤٣، ٣٥١، ٣٥٦، ٣٦٣) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا۔ ربیعہ کہتے ہیں: مجھے سعد بن عبادہ کے بیٹے نے خبر دی کہ ہم نے سعد ؓ کی کتاب میں لکھا پایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah ﷺ rerported that Allah’s Messenger ﷺ passed judgernent on the testimony of one witness and the oath of the defendant. Rabi’ah said that a son of Sad ibn Ubadahh (RA) told him that they found in his book that the Prophet ﷺ had decided that an oath must be taken along with the presentation of a witness. [Abu Dawud 3610, Ibn e Majah 2369] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2368 - 2671)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1343
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں علی، جابر، ابن عباس اور سرق ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ کیا حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو تو دوسرے گواہ کے بدلے مدعی سے قسم لے کر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا، جمہور کا یہی مذہب ہے کہ مالی معاملات میں ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے فیصلہ درست ہے۔
ابو جعفر صادق سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ کیا، راوی کہتے ہیں: اور علی نے بھی اسی سے تمہارے درمیان فیصلہ کیا۔
Ja’far ibn Muhammad reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ judged on the basis of an oath and a single witness, And, he said, “Ali also decided between you on that basis.” --------------------------------------------------------------------------------
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث زیادہ صحیح ہے، ٢ - اسی طرح سفیان ثوری نے بھی بطریق: «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» مرسلاً روایت کی ہے۔ اور عبدالعزیز بن ابوسلمہ اور یحییٰ بن سلیم نے اس حدیث کو بطریق: «عن جعفر بن محمد عن أبيه عن علي عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» (مرفوعاً ) روایت کیا ہے، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، ان لوگوں کی رائے ہے کہ حقوق اور اموال کے سلسلے میں ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم کھلانا جائز ہے۔ مالک بن انس، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے صرف حقوق اور اموال کے سلسلے ہی میں فیصلہ کیا جائے گا۔ ٤ - اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے فیصلہ کرنے کو جائز نہیں سمجھتے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: باب کی یہ احادیث اہل کوفہ کے خلاف حجت ہیں، ان کا استدلال «وأشهدوا ذوي عدل منکم إذا استشهدوا شهدين من رجالکم» سے استدلال کامل نہیں بالخصوص جبکہ وہ مفہوم مخالف کے قائل نہیں۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا ، اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو غلام کی واجبی قیمت کو پہنچ رہا ہو تو وہ اس مال سے باقی شریکوں کا حصہ ادا کرے گا اور غلام (پورا) آزاد ہوجائے گا ورنہ جتنا آزاد ہوا ہے اتنا ہی آزاد ہوگا ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘If anyone sets free his share in a slave and he has enough property that is equal to the market price of the slave then that slave is free, otherwise only to the extent of his share.” Sometimes Njafi narrated this hadith with the word (that is). The narrator was unsure what word the Prophet ﷺ used, but the meaning is nearly the same, ‘share. [Bukhari 2524, Muslim 1501, AD3941, Ibn e Majah 2528, Ahmed 5927]
صحيح، ابن ماجة (2528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1346
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابن عمر ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے سالم بن عبداللہ نے بھی بطریق: «عن أبيه عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کیا ہے۔
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا اور اس کے پاس اتنا مال ہو جو اس کی قیمت کو پہنچ رہا ہو (تو وہ باقی شریکوں کا حصہ بھی ادا کرے گا) اور وہ اس کے مال سے آزاد ہوجائے گا ۔
Saalim reported on the authority of his father that the Prophet ﷺ said, If anyone sets free the portion of his slave (who belongs in partnership) and he ha.s enough wealth as covers the price of the slave then the slave is free (meaning), that he must pay tie’ other partners the price of the slave and liberate him wholly.
صحيح، ابن ماجة (2528)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1347
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کیا تو باقی حصے کی آزادی بھی اسی کے مال سے ہوگی اگر اس کے پاس مال ہے، اور اگر اس کے پاس مال نہیں ہے تو اس غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی، پھر غلام کو پریشانی میں ڈالے بغیر اسے موقع دیا جائے گا کہ وہ کمائی کر کے اس شخص کا حصہ ادا کر دے جس نے اپنا حصہ آزاد نہیں کیا ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allahs Messenger said, ‘If anyone emancipates his share (he said either or in a jointly-owned slave then if he is wealthy he must get him released wholly, but if he does not have enough wealth then a fair price of the slave must be determined. After that the slave must be made to work only to the extent of the share(s) not emancipated, without burdening him. [Bukhari 2526, Muslim Th02, Abu Dawud 3934, Ibn e Majah 2527, Ahmed 10875] --------------------------------------------------------------------------------
سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمریٰ ١ ؎ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہوجاتا ہے ، یا فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کی میراث ہے ۔
Sayyidina Samurah reported that the Prophet ﷺ said, “Umraa (donating a home to someone for a lifetime) is allowed. The house belongs to one to whom it is givin.” Or, he said, ‘it is a legacy for its occupants.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1349
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس باب میں زید بن ثابت، جابر، ابوہریرہ، عائشہ، عبداللہ بن زبیر اور معاویہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی کو عمر بھر کے لیے کوئی چیز ہبہ کرنے کو عمریٰ کہتے ہیں، مثلاً یوں کہے کہ میں نے تمہیں یہ گھر تمہاری عمر بھر کے لیے دے دیا۔
جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس آدمی کو عمریٰ دیا گیا وہ اس کا ہے اور اس کے گھر والوں یعنی ورثاء کا ہے کیونکہ وہ اسی کا ہوجاتا ہے جس کو دیا جاتا ہے، عمری دینے والے کی طرف نہیں لوٹتا ہے اس لیے کہ اس نے ایسا عطیہ دیا ہے جس میں میراث ثابت ہوگئی ہے ۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone is given a home to himself for life and for his family then it belongs to whom it is given and it will not return to the donor, for he gave something over which the heirs have right.’ [Bukhari 2625, Muslim 1625] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2380)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1350
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور اسی طرح معمر اور دیگر کئی لوگوں نے زہری سے مالک کی روایت ہی کی طرح روایت کی ہے اور بعض نے زہری سے روایت کی ہے، مگر اس نے اس میں «ولعقبه» کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣ - اور یہ حدیث اس کے علاوہ اور بھی سندوں سے جابر سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا جاتا ہے اس کے گھر والوں کا ہوجاتا ہے اور اس میں «لعقبه» کا ذکر نہیں ہے۔ یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٤ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب دینے والا یہ کہے کہ یہ تیری عمر تک تیرا ہے اور تیرے بعد تیری اولاد کا ہے تو یہ اسی کا ہوگا جس کو دیا گیا ہے۔ اور دینے والے کے پاس لوٹ کر نہیں جائے گا اور جب وہ یہ نہ کہے کہ (تیری اولاد) کا بھی ہے تو جسے دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد دینے والے کا ہوجائے گا۔ مالک بن انس اور شافعی کا یہی قول ہے ١ ؎، ٥ - اور دیگر کئی سندوں سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: عمریٰ جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہوجائے گا ، ٦ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں: جس کو گھر دیا گیا ہے اس کے مرنے کے بعد وہ گھر اس کے وارثوں کا ہوجائے گا اگرچہ اس کے وارثوں کو نہ دیا گیا ہو۔ سفیان ثوری، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان کا کہنا ہے کہ اس نے اس آدمی کو اس چیز سے فائدہ اٹھانے کا اختیار دیا تھا نہ کہ اس چیز کا اسے مالک بنادیا تھا۔ ٢ ؎: عمرہ کی تین قسمیں ہیں: ایک ہمیشہ ہمیش کے لیے دینا، مثلاً یوں کہے کہ یہ مکان ہمیشہ کے لیے تمہارا ہے یا یوں کہے کہ یہ چیز تیرے اور تیرے وارثوں کے لیے ہے، تو یہ اس کی ملکیت میں دینا اور ہبہ کرنا ہوگا جو دینے والے کی طرف لوٹ کر نہیں آئے گا، دوسری قسم وہ ہے جو وقت کے ساتھ مقید ہو، مثلاً یوں کہے کہ یہ چیز تمہاری زندگی تک تمہاری ہے اس صورت میں نہ یہ ہبہ شمار ہوگی نہ تملیک بلکہ یہ عارضی طور پر ایک مخصوص مدت تک کے لیے عاریۃً دینا شمار ہوگا، مدت ختم ہونے کے ساتھ یہ چیز پہلے کی طرف لوٹ جائے گی اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس شرط کے ساتھ عمریٰ صحیح نہیں، نیز ایک قول یہ بھی ہے کہ اس طرح مشروط طور پر عمریٰ کرنا صحیح ہے مگر شرط فاسد ہے، پہلے کی طرف نہیں لوٹے گی، لیکن راجح قول پہلا ہی ہے، آخری دونوں قول مرجوح ہیں، اور تیسری قسم بغیر کسی شرط کے دینا ہے، مثلاً وہ یوں کہے کہ میں نے اپنا مکان تمہارے لیے عمریٰ کیا، جمہور نے اس صورت کو بھی تملیک پر محمول کیا ہے، اس صورت میں بھی وہ چیز پہلے کی طرف واپس نہیں ہوگی، اور ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ منافع کی ملکیت کی صورت ہے، رقبہ کی ملکیت کی نہیں، لہٰذا جسے یہ چیز عمریٰ کی گئی ہے اس کی موت کے بعد وہ پہلے کی طرف لوٹ آئے گی، لیکن راجح جمہو رہی کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ٣٢ (٢٦٢٥)، صحیح مسلم/الہبات ٤ (١٦٢٦)، سنن ابی داود/ البیوع ٨٧ (٣٥٥٠-٣٥٥٢)، و ٨٨ (٣٥٥٣- ٣٥٥٧) و ٨٩ (٣٥٥٨)، سنن النسائی/العمری ٢ (٣٧٥٨، ٣٧٦٠-٣٧٦٢، و ٣٧٦٦-٣٧٧٠)، و ٣ (٧٧١-٣٧٧٣، ٣٧٨٢)، ٤ (٣٧٨٢)، سنن ابن ماجہ/الہبات ٣ (٢٣٨٠)، و ٤ (٢٣٨٢)، (تحفة الأشراف: ٣١٤٨) (صحیح )
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ جس کو دیا گیا اس کے گھر والوں کا ہے اور رقبیٰ ١ ؎ بھی جس کو دیا گیا ہے اس کے گھر والوں کا ہے ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Umra is lawful (and it belongs to him to whom it is given), and ruqba is also lawful (and is his to whom it is donated).” [Abu Dawud 3558, Nisai 3742] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2383)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1351
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن ہے، ٢ - اور بعض نے اسی سند سے ابوزبیر سے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے جابر سے موقوفاً نقل کیا ہے، اسے نبی اکرم ﷺ تک مرفوع نہیں کیا ہے، ٣ - رقبیٰ کی تفسیر یہ ہے کہ کوئی آدمی کہے کہ یہ چیز جب تک تم زندہ رہو گے تمہاری ہے اور اگر تم مجھ سے پہلے مرگئے تو یہ پھر میری طرف لوٹ آئے گی، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ عمریٰ کی طرح رقبیٰ بھی جسے دیا گیا ہے اس کے گھر والوں ہی کا ہوگا۔ احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔ اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے عمریٰ اور رقبیٰ کے درمیان فرق کیا ہے، ان لوگوں نے عمریٰ کو تو معمر (جس کے نام چیز دی گئی تھی) کی موت کے بعد اس کے ورثاء کا حق بتایا ہے اور رقبیٰ کو کہا ہے کہ ورثاء کا حق نہیں ہوگا بلکہ وہ دینے والی کی طرف لوٹ جائے گا۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «رقبیٰ»، «رقب» سے ہے جس کے معنی انتظار کے ہیں۔ اسلام نے اس میں اتنی تبدیلی کی کہ وہ چیز موہوب لہ (جس کو وہ چیز دی گئی) کی ہی رہے گی۔ موہوب لہ کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کو وراثت میں تقسیم ہوگی۔ واہب کو بھی نہیں لوٹے گی، جیسے عمریٰ میں ہے۔ رقبیٰ میں یہ ہوتا تھا کہ ہبہ کرنے والا یوں کہتا کہ یہ چیز میں نے تم کو تمہاری عمر تک دے دی، تمہاری موت کے بعد یہ چیز مجھے لوٹ آئے گی، اور اگر میں مرگیا تو تمہاری ہی رہے گی، پھر تم مرجاؤ گے تو میرے وارثوں کو لوٹ آئے گی۔ اب ہر ایک دوسرے کی موت کا انتظار کیا کرتا تھا۔
عمرو بن عوف مزنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: صلح مسلمان کے درمیان نافذ ہوگی سوائے ایسی صلح کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال۔ اور مسلمان اپنی شرطوں کے پابند ہیں۔ سوائے ایسی شرط کے جو کسی حلال کو حرام کر دے یا کسی حرام کو حلال ۔
Kathir ibn Abdullah ibn Umar ibn Awf al-Muzani reported from his father from his grandfather that Allah’s Messenger ﷺ said, “Reconciliation between Muslims is lawful, but not the reconciliation whereby lawful is made unlawful or the forbidden is declared permissible. And, the Muslims must fulful their conditions except the condition that turns the lawful into unlawful and the unlawful into lawful.” [Ibn e Majah 2353, Ahmed 8792]
صحيح، ابن ماجة (2353)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1352
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٣ (٢٣٥٣)، (تحفة الأشراف: ١٠٧٧٥) (صحیح) (شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ ” کثیر بن عبداللہ “ ضعیف راوی ہیں، دیکھئے: الارواء رقم ١٣٠٣ )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اس سے اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے ۔ ابوہریرہ ؓ نے جب یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے تو انہوں نے کہا: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ اس سے اعراض کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم میں اسے تمہارے شانوں پر مار کر ہی رہوں گا یعنی تم سے اسے بیان کر کے ہی رہوں گا۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “If one of you seeks permission of his neighbour to keep a piece of wood on his wall then he should not disallow him.” When Abu Hurayrah narrated this hadith, the people bowed down their heads. He asked, “What is wrong? Why do you turn away from it? By Allah, I will strike with it (the hadith) between your shoulders.” (He meant that he would compel them to abide by it). [Bukhari 2463]
صحيح، ابن ماجة (2335)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1353
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس اور مجمع بن جاریہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں، ٤ - بعض اہل علم سے مروی ہے: جن میں مالک بن انس بھی شامل ہیں کہ اس کے لیے درست ہے کہ اپنے پڑوسی کو دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر دے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قسم اسی چیز پر واقع ہوگی جس پر تمہارا ساتھی (فریق مخالف) قسم لے رہا ہے (توریہ کا اعتبار نہیں ہوگا) ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘The oath is to be on what your companion will confirm you.” [Muslim 1653, Abu Dawud 3255] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2121)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1354
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے ہشیم ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے انہوں نے عبداللہ بن ابی صالح سے روایت کی ہے۔ اور عبداللہ بن ابی صالح، سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، ٤ - ابراہیم نخعی کہتے ہیں کہ جب قسم لینے والا ظالم ہو تو قسم کھانے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا، اور جب قسم لینے والا مظلوم ہو تو قسم لینے والے کی نیت کا اعتبار ہوگا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان والنذور ٤ (١٦٥٣)، سنن ابی داود/ الأیمان والنذور ٨ (٣٢٥٥)، سنن ابن ماجہ/الکفارات ١٤ (٢١٢٠)، (تحفة الأشراف: ١٢٨٢٦)، و مسند احمد (٢/٢٢٨)، و سنن الدارمی/النذور ١١ (٢٣٩٤) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب راستے کے سلسلے میں تم میں اختلاف ہو تو اسے سات ہاتھ (چوڑا) رکھو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, When you quarrel about the road, then keep it seven cubits (wide).” [Bukhari 2473, Muslim 1613, Ahmed 9542] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1356
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ (سابقہ) وکیع کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢ - بشیر بن کعب کی حدیث جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، اور بعض نے اسے قتادہ سے اور قتادہ نے بشیر بن نہیک سے اور بشیر نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے اور یہ غیر محفوظ ہے، ٣ - اس باب میں ابن عباس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سات ہاتھ راستہ آدمیوں اور جانوروں کے آنے جانے کے لیے کافی ہے، جسے دونوں فریق کو مل کر چھوڑنا چاہیئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٢٩ (٢٤٧٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٣١ (البیوع ٥٢)، (١٦١٣)، سنن ابی داود/ الأقضیة ٣١ (٣٦٣٣)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٦ (٢٣٣٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٢٢٣)، و مسند احمد (٢/٤٦٦) (صحیح )
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو اختیار دیا کہ چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے اپنی ماں کے ساتھ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ gave choice to a child between his father and his mother (to stay with one of them). [Abu Dawud 2277, Ibn e Majah 235]
صحيح، ابن ماجة (2351)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1357
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبدالحمید بن جعفر کے دادا ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ماں باپ کے درمیان بچے کے سلسلے میں اختلاف ہوجائے تو بچے کو اختیار دیا جائے گا چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے وہ اپنی ماں کے ساتھ رہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بچہ کم سن ہو تو اس کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ اور جب وہ سات سال کا ہوجائے تو اس کو اختیار دیا جائے، چاہے تو باپ کے ساتھ رہے یا چاہے تو ماں کے ساتھ رہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ٣٥ (٢٢٧٧)، سنن النسائی/الطلاق ٥٢ (٣٥٢٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٢ (٢٣٥١)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٣)، و مسند احمد (٢/٤٤٧)، وسنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٩) (صحیح )
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب سے پاکیزہ چیز جس کو تم کھاتے ہو تمہاری اپنی کمائی ہے اور تمہاری اولاد بھی تمہاری کمائی میں سے ہے ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah narrated that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of what you eat is from your (own) earnings and surely, your children are part of your earnings.” [Abu Dawud 3528, Nisai 4461, Ibn e Majah 2290, Ahmed 25351] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (2137)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1358
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - بعض لوگوں نے عمارہ بن عمیر سے اور عمارہ نے اپنی ماں سے اور ان کی ماں نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے، لیکن اکثر راویوں نے «عن أمّه» کے بجائے «عن عمته» کہا ہے یعنی عمارہ بن عمیر نے اپنی پھوپھی سے اور انہوں نے عائشہ ؓ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں جابر اور عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ باپ کو بیٹے کے مال میں کلی اختیار ہے وہ جتنا چاہے لے سکتا ہے، ٥ - اور بعض کہتے ہیں کہ باپ اپنے بیٹے کے مال سے بوقت ضرورت ہی لے سکتا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عبداللہ بن عمرو ؓ سے اسی معنی کی ایک حدیث مروی ہے، «أَنْتَ وَ مَالُكَ لأَبِيْكَ» یعنی تم اور تیرا مال تیرے باپ کا ہے (سنن ابی داود رقم: ٣٥٣٠ /صحیح) اس میں بھی عموم ہے، ضرورت کی قید نہیں ہے، اور عائشہ ؓ کی اس حدیث میں سنن أبی داود میں (برقم: ٣٥٢٩ ) جو «إذا احتجتم» جب تم ضرورت مند ہو کی زیادتی ہے وہ بقول ابوداؤد منکر ہے، لیکن لڑکے کی وفات پر (پوتے کی موجودگی میں) باپ کو صرف چھٹا حصہ ملتا ہے، اس سے حدیث کی تخصیص ہوجاتی ہے۔ یعنی بیٹے کا کل مال باپ کی ملکیت نہیں، صرف بقدر ضرورت ہی لے سکتا ہے۔ «واللہ اعلم»۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی کسی بیوی نے آپ کے پاس پیالے میں کھانے کی کوئی چیز ہدیہ کی، عائشہ ؓ نے (غصے میں) اپنے ہاتھ سے پیالے کو مار کر اس کے اندر کی چیز گرا دیا، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کھانے کے بدلے کھانا اور پیالے کے بدلے پیالہ ہے ١ ؎۔
Sayyidina Anas (RA) narrated: One of the honourable wives of the noble Prophet ﷺ sent to him some food in a bowl as a gift. Sayyidah Ayshah struck it with her hand and its contents fell down. The Prophet ﷺ said, “Food for food and vessel for vessel.” [Bukhari 2481]
صحيح، ابن ماجة (2334)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1359
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ کسی کی کوئی چیز کسی سے تلف ہوجائے تو وہ ویسی ہی چیز تاوان میں دے اور جب اس جیسی چیز دستیاب نہ ہو تو اس صورت میں اس کی قیمت ادا کرنا اس کے ذمہ ہے۔
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ قَصْعَةً، فَضَاعَتْ فَضَمِنَهَا لَهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ، وَإِنَّمَا أَرَادَ عِنْدِي سُوَيْدٌ الْحَدِيثَ الَّذِي رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، وَحَدِيثُ الثَّوْرِيِّ أصح اسم أبي داود عمر بن سعد.
انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک پیالہ منگنی لیا وہ ٹوٹ گیا، تو آپ نے جن سے پیالہ لیا تھا انہیں اس کا تاوان ادا کیا۔
Sayyidina Anas (RA) narrated that the Prophet ﷺ borrowed a bowl from someone. But it was misplaced, so he returned another bowl as a replacement. --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد جداصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1360
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث محفوظ نہیں ہے، ٢ - سوید نے مجھ سے وہی حدیث بیان کرنی چاہی تھی جسے ثوری نے روایت کی ہے ١ ؎، ٣ - ثوری کی حدیث زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ سوید بن عبدالعزیز کو مذکورہ حدیث کی روایت میں وہم ہوا ہے انہوں نے اسے حمید کے واسطے سے انس سے «أن النبي صلی اللہ عليه وسلم استعار قصعة» کے الفاظ کے ساتھ روایت کردیا جو محفوظ نہیں ہے بلکہ محفوظ وہ روایت ہے جسے سفیان ثوری نے حمید کے واسطے سے انس سے «أهدت بعض أزواج النبي صلی اللہ عليه وسلم» کے الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: ٦٨٨) (ضعیف جداً ) (سند میں ” سوید بن عبد العزیز “ سخت ضعیف ہے، صحیح واقعہ وہ جو اگلی حدیث میں مذکور ہے )
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ مجھے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ایک لشکر میں پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے (لشکر میں) قبول نہیں کیا، پھر آئندہ سال مجھے آپ کے سامنے ایک اور لشکر میں پیش کیا گیا اور اس وقت میری عمر پندرہ سال کی تھی تو آپ نے مجھے (لشکر میں) قبول کرلیا۔ نافع کہتے ہیں: میں نے عمر بن عبدالعزیز سے اس حدیث کو بیان کیا تو انہوں نے کہا: بالغ اور نابالغ کے درمیان یہی حد ہے۔ انہوں نے اپنے عاملوں کو لکھا کہ جو پندرہ سال کے ہوجائیں (مال غنیمت سے) ان کو حصہ دیا جائے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated, “I was presented to Allah’s Messenger ﷺ for an army while I was fourteen years old. He did not accept me (in the army). Then, I was presented to him next year for the army while I as fifteen years old and he accepted me.” Nafi said that he narrated this hadith to Umar ibn Adul Aziz and he said, “This is the distinction between childhood and adulthood.” And he wrote to his officers that the fifteen years-olds must be given a share of the booty. [Bukhari 2664, Muslim 1868, Ibn e Majah 2543] .