Sunan At-Tirmidhi 1353

فیصلوں کا بیان

1353Sunan At-Tirmidhi

پڑوسی کی دیوار پر لکڑی رکھنا

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا اسْتَأْذَنَ أَحَدَكُمْ جَارُهُ أَنْ يَغْرِزَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ، فَلَا يَمْنَعْهُ . فَلَمَّا حَدَّثَ أَبُو هُرَيْرَةَ، طَأْطَئُوا رُءُوسَهُمْ، فَقَالَ: مَا لِي أَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِينَ، وَاللَّهِ لَأَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ أَكْتَافِكُمْ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَرُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، قَالُوا لَهُ: أَنْ يَمْنَعَ جَارَهُ أَنْ يَضَعَ خَشَبَهُ فِي جِدَارِهِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: جب تم میں سے کسی کا پڑوسی اس کی دیوار میں لکڑی گاڑنے کی اس سے اجازت طلب کرے تو وہ اسے نہ روکے ۔ ابوہریرہ ؓ نے جب یہ حدیث بیان کی تو لوگوں نے اپنے سر جھکا لیے تو انہوں نے کہا: کیا بات ہے، میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ اس سے اعراض کر رہے ہو؟ اللہ کی قسم میں اسے تمہارے شانوں پر مار کر ہی رہوں گا یعنی تم سے اسے بیان کر کے ہی رہوں گا۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “If one of you seeks permission of his neighbour to keep a piece of wood on his wall then he should not disallow him.” When Abu Hurayrah narrated this hadith, the people bowed down their heads. He asked, “What is wrong? Why do you turn away from it? By Allah, I will strike with it (the hadith) between your shoulders.” (He meant that he would compel them to abide by it). [Bukhari 2463]

صحيح، ابن ماجة (2335)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1353
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں ابن عباس اور مجمع بن جاریہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ شافعی بھی اسی کے قائل ہیں، ٤ - بعض اہل علم سے مروی ہے: جن میں مالک بن انس بھی شامل ہیں کہ اس کے لیے درست ہے کہ اپنے پڑوسی کو دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع کر دے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المظالم ٢٠ (٢٤٦٣)، صحیح مسلم/المساقاة ٢٩ (البیوع ٥٠)، (١٦٠٩)، سنن ابی داود/ الأقضیة ٣١ (٣٦٣٤)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ١٥ (٢٣٣٥)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٥٤)، وط/الأقضیة ٢٦ (٣٢)، و مسند احمد (٢/٣٩٦) (صحیح )