فیصلوں کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 15 · 74 hadiths · Page 3 of 4

1362Sunan At-Tirmidhi

جو شخص اپنے والد کی بیوی سے نکاح کرے

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ: مَرَّ بِي خَالِيأَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ وَمَعَهُ لِوَاءٌ، فَقُلْتُ: أَيْنَ تُرِيدُ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ، أَنْ آتِيَهُ بِرَأْسِهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ قُرَّةَ الْمُزَنِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْبَرَاءِ حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاق، هَذَا الْحَدِيثَ عن عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ الْبَرَاءِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِيهِ، وَرُوِي عن أَشْعَثَ، عَنْ عَدِيٍّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ، عَنْ خَالِهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ میرے ماموں ابوبردہ بن نیار ؓ میرے پاس سے گزرے اور ان کے ہاتھ میں ایک جھنڈا تھا، میں نے پوچھا: آپ کہاں کا ارادہ رکھتے ہیں؟ کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے ایک ایسے شخص کے پاس بھیجا ہے جس نے اپنے باپ کی (دوسری) بیوی سے شادی کر رکھی ہے تاکہ میں اس کا سر لے کر آؤں۔

Sayyidina Bara narrated : My maternal uncle, Abu Bardah ibn Niyar passed by me. He had a spear in his hand. I asked him, “Where are you going?” He said, “Allah’s Messenger ﷺ has sent me to a man who has married his father’s wife that I may bring him this man’s head.” [Abu Dawud 4457] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2607)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1362
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - براء کی حدیث حسن غریب ہے، ٢ - محمد بن اسحاق نے بھی اس حدیث کو عدی بن ثابت سے اور عدی نے عبداللہ بن یزید سے اور عبداللہ نے براء ؓ سے روایت کی ہے، ٣ - یہ حدیث اشعث سے بھی مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن براء سے اور یزید نے براء ؓ سے روایت کی ہے، ٤ - نیز یہ اشعث سے مروی ہے انہوں نے عدی سے اور عدی نے یزید بن البراء سے اور یزید نے اپنے ماموں سے اور ان کے ماموں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٥ - اس باب میں قرہ مزنی سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الحدود ٢٧ (٤٤٥٦)، ٤٤٥٧)، سنن النسائی/النکاح ٥٨ (٣٣٣٣)، سنن ابن ماجہ/الحدود ٣٥ (٢٦٠٧)، (تحفة الأشراف: ١٥٥٣٤)، و مسند احمد (٤/٢٩٢، ٢٩٥، ٢٩٧) (صحیح )
1363Sunan At-Tirmidhi

دو آدمیوں کا اپنے کھیتوں کو پانی دینے سے متعلق جن میں سے ایک کا کھیت اونچا اور دوسرے کا کھیت پست ہو۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ أَنَّهُ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَيْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي شِرَاجِ الْحَرَّةِ الَّتِي يَسْقُونَ بِهَا النَّخْلَ، فَقَالَ الْأَنْصَارِيُّ: سَرِّحْ الْمَاءَ يَمُرُّ فَأَبَى عَلَيْهِ، فَاخْتَصَمُوا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلزُّبَيْرِ: اسْقِ يَا زُبَيْرُ، ثُمَّ أَرْسِلِ الْمَاءَ إِلَى جَارِكَ ، فَغَضِبَ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنْ كَانَ ابْنَ عَمَّتِكَ، فَتَلَوَّنَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: يَا زُبَيْرُ، اسْقِ ثُمَّ احْبِسْ الْمَاءَ حَتَّى يَرْجِعَ إِلَى الْجَدْرِ ، فَقَالَ الزُّبَيْرُ: وَاللَّهِ، إِنِّي لَأَحْسِبُ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ فِي ذَلِكَ فَلا وَرَبِّكَ لا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ سورة النساء آية 65. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْعُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَرَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ اللَّيْثِ، وَيُونُسُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ نَحْوَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.

عبداللہ بن زبیر ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری نے رسول اللہ ﷺ کے پاس زبیر سے حرہ کی نالیوں کے بارے میں جس سے لوگ اپنے کھجور کے درخت سینچتے تھے جھگڑا کیا، انصاری نے زبیر سے کہا: پانی چھوڑ دو تاکہ بہتا رہے، زبیر نے اس کی بات نہیں مانی، تو دونوں نے رسول اللہ کی خدمت میں اپنا قضیہ پیش کیا۔ رسول اللہ ﷺ نے زبیر سے فرمایا: زبیر! (تم اپنے کھیت کو) سیراب کرلو، پھر اپنے پڑوسی کے لیے پانی چھوڑ دو ، (یہ سن کر) انصاری غصہ ہوگیا اور کہا: اللہ کے رسول! (ایسا فیصلہ) اس وجہ سے کہ وہ آپ کی پھوپھی کا لڑکا ہے؟ (یہ سنتے ہی) رسول اللہ ﷺ کے چہرہ کا رنگ بدل گیا، آپ نے فرمایا: زبیر! تم اپنے کھیت سیراب کرلو، پھر پانی کو روکے رکھو یہاں تک کہ وہ منڈیر تک پہنچ جائے ١ ؎، زبیر کہتے ہیں: اللہ کی قسم، میرا گمان ہے کہ اسی سلسلے میں یہ آیت نازل ہوئی: «فلا وربک لا يؤمنون حتی يحكموک فيما شجر بينهم» آپ کے رب کی قسم، وہ لوگ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے جھگڑوں میں (اے نبی) وہ آپ کو حکم نہ مان لیں (النساء: ٦٥ ) ۔

Urwah reported that Sayyidina Abdullah ibn Zubayr (RA) told him that there was an altercation between an ansar and him concerning the streamlets with which they watered their date palms and the ansar complained to Allah’s Messenger ﷺ . The ansar said, “Let the water flow,” but Zubayr refused to do so. So, they came to Allah’s Messenger ﷺ who said to Zubayr, “Water your ground, O Zubayr, then let the water run to your neighbour.” The ansar was angered at that and said, “It is because he is the son of your aunt.” The colour of the face of Allah’ Messenger ﷺ changed and he said, “O Zubayr, Water your ground and hold the water, till it returns to the parapet.” Zubayr said (afterwards), “By Allah, I understand that this verse was revealed concerning this very issue: But no, by your Lord! they will not believe until they make you the judge of what is in dispute between them, then find no vexation in their hearts over what you decide, and submit with full submission). (4:65) [Bukhari 2359, Muslim 2357] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1363
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - شعیب بن ابی حمزہ نے زہری سے اور زہری نے عروہ بن زبیر سے اور عروہ نے زبیر سے روایت کی ہے اور شعیب نے اس میں عبداللہ بن زبیر کے واسطے کا ذکر نہیں کیا ہے۔ اور عبداللہ بن وہب نے اسے پہلی حدیث کی طرح ہی لیث اور یونس سے روایت کیا ہے اور ان دونوں نے زہری سے اور زہری نے عروہ سے اور عروہ نے عبداللہ بن زبیر سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان اور اگلے فرمان میں فرق یہ ہے کہ آپ نے زبیر سے اپنے پورے حق سے کم ہی پانی لے کر چھوڑ دینے کا حکم فرمایا، اور بعد میں غصہ میں زبیر کو پورا پورا حق لینے کے بعد ہی پانی چھوڑ نے کا حکم دیا۔ اور اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی اور مال نہ ہو تو کیا کیا جائے؟
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشرب والمساقاة ٦ (٢٣٦٠)، و ٨ (٢٣٦٢)، والعلم ١٢ (٢٧٠٨)، وتفسیر سورة النساء ١٢ (٥٣٨٥)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٦ (٢٣٥٧)، سنن ابی داود/ الأقضیة ٣١ (٣٦٣٧)، سنن النسائی/القضاة ١٩ (٥٣٢٢)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٥)، والرہون ٢٠ (٢٤٨٠)، (تحفة الأشراف: ٥٢٧٥)، و مسند احمد (١/١٦٥) (صحیح )
1364Sunan At-Tirmidhi

جو شخص موت کے وقت اپنے غلام اور لونڈیوں کو آزاد کردے اور ان کے علاوہ اس کے پاس کوئی مال نہ ہو۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَعْتَقَ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهُ عِنْدَ مَوْتِهِ، وَلَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ قَوْلًا شَدِيدًا، ثُمَّ دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ، ثُمَّ أَقْرَعَ بَيْنَهُمْ، فَأَعْتَقَ اثْنَيْنِ، وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: مَالِكٍ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، يَرَوْنَ اسْتِعْمَالَ الْقُرْعَةِ فِي هَذَا وَفِي غَيْرِهِ، وَأَمَّا بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ، فَلَمْ يَرَوْا الْقُرْعَةَ، وَقَالُوا: يُعْتَقُ مِنْ كُلِّ عَبْدٍ الثُّلُثُ، وَيُسْتَسْعَى فِي ثُلُثَيْ قِيمَتِهِ، وَأَبُو الْمُهَلَّبِ اسْمُهُ: عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَمْرٍو الْجَرْمِيُّ وَهُوَ غَيْرُ أَبِي قِلَابَةَ، وَيُقَالُ: مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَبُو قِلَابَةَ الْجَرْمِيُّ: اسْمُهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ ایک انصاری شخص نے مرتے وقت اپنے چھ غلاموں کو آزاد کردیا جبکہ اس کے پاس ان کے علاوہ کوئی اور مال نہ تھا، نبی اکرم ﷺ کو یہ خبر ملی تو آپ نے اس آدمی کو سخت بات کہی، پھر ان غلاموں کو بلایا اور دو دو کر کے ان کے تین حصے کئے، پھر ان کے درمیان قرعہ اندازی کی اور جن (دو غلاموں) کے نام قرعہ نکلا ان کو آزاد کردیا اور چار کو غلام ہی رہنے دیا۔

Sayyidina Imran lbn Husayn (RA) narrated : A man of the Ansar set free his six slaves when he was about to die and he had no other property besides them. This news was conveyed to the Prophet ﷺ and he spoke sternly about him. He summoned the slaves and divided them into groups. Thereafter, he cast lots among them, and emancipated two of them and retained four. [Muslim 1668] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2345)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1364
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - عمران بن حصین ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور یہ اور بھی سندوں سے عمران بن حصین سے مروی ہے، ٣ - اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ اور یہی مالک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔ یہ لوگ یہ اور اس طرح کے دوسرے مواقع پر قرعہ اندازی کو درست کہتے ہیں، ٥ - اور اہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم قرعہ اندازی کو جائز نہیں سمجھتے، اس موقع پر لوگ کہتے ہیں کہ ہر غلام سے ایک تہائی آزاد کیا جائے گا اور دو تہائی قیمت کی آزادی کے لیے کسب (کمائی) کرایا جائے گا۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الأیمان والنذور ١٧ (١٦٦٨)، سنن ابی داود/ الفتن ١٠ (٣٩٥٨)، سنن النسائی/الجنائز ٦٥ (١٩٥٧)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٠ (٢٣٤٥)، (تحفة الأشراف: ١٠٨٨٠)، و مسند احمد (٤/٤٢٦، ٤٣١، ٤٤٠) (صحیح )
1365Sunan At-Tirmidhi

اگر کسی کا کوئی رشتہ دار غلام میں آجائے

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ فَهُوَ حُرٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مُسْنَدًا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عُمَرَ شَيْئًا مِنْ هَذَا. (حديث مرفوع)

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی محرم رشتہ دار کا مالک ہوجائے تو وہ (رشتہ دار) آزاد ہوجائے گا ۔

Sayyidina Samurah reported that Allahs Messenger ﷺ said, “If anyone becomes owner of one of his dhu-mahram relatives then he is free.” [Abu Dawud 3949, Ibn e Majah 2524, Ahmed 20187] --------------------------------------------------------------------------------

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس حدیث کو ہم صرف حماد بن سلمہ ہی کی روایت سے مسنداً (مرفوعاً ) جانتے ہیں، ٢ - اور بعض لوگوں نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو قتادہ سے اور قتادہ نے حسن سے اور حسن نے عمر ؓ سے (موقوفاً ) روایت کیا ہے۔
1366Sunan At-Tirmidhi

کسی کی زمین میں بغیر اجازت کھیتی باڑی کرنا

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّخَعِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ زَرَعَ فِي أَرْضِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ، فَلَيْسَ لَهُ مِنَ الزَّرْعِ شَيْءٌ وَلَهُ نَفَقَتُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَسَأَلْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل عَنْ هَذَا الْحَدِيثِ فَقَالَ: هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَقَالَ: لَا أَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْحَاق إِلَّا مِنْ رِوَايَةِ شَرِيكٍ، قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَامَعْقِلُ بْنُ مَالِكٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْأَصَمِّ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

رافع بن خدیج ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص دوسرے کی زمین میں ان کی اجازت کے بغیر فصل بوئے، اس کو فصل سے کچھ نہیں ملے گا وہ صرف خرچ لے سکتا ہے ۔

Sayyidina Rafi ibn Khadij (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone sows in another’s field without his permission then there is nothing in the field for him. Of course, he can claim his expenses (on sowing, but the field and cultivation belong to the owner of the land).” [Abu Dawud 3403, Ibn e Majah 2466, Ahmed 19270] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2466)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1366
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - ہم اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک بن عبداللہ ہی کے طریق سے جانتے ہیں، ٣ - بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے ١ ؎ ٤ - میں نے محمد بن اسماعیل بخاری سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: یہ حدیث حسن ہے، انہوں نے کہا: میں اسے بروایت ابواسحاق صرف شریک ہی کے طریق سے جانتا ہوں، ٥ - محمد بن اسماعیل بخاری کہتے ہیں کہ ہم سے معقل بن مالک بصریٰ نے بسند «عقبة بن الأصم عن عطاء عن رافع بن خديج عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» اسی طرح روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی قول راجح ہے اس کے برخلاف کچھ لوگوں کی رائے یہ ہے کہ فصل تو غاصب کی ہوگی اور زمین کا مالک اس سے زمین کا کرایہ وصول کرے گا، مگر اس قول پر کوئی دلیل ایسی نہیں جسے اس حدیث کے مقابلہ میں پیش کیا جاسکے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٣٣ (٣٤٠٣)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٣ (الأحکام ٧٤)، (٢٤٦٦)، (تحفة الأشراف: ٣٥٧٠)، و مسند احمد (٣/٤٦٥) (صحیح )
1367Sunan At-Tirmidhi

اولاد کو ہبہ کرتے وقت برابری قائم رکھنا

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ الْمَعْنَى وَاحِدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ يُحَدِّثَانِ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، أَنَّ أَبَاهُ نَحَلَ ابْنًا لَهُ غُلَامًا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْهِدُهُ، فَقَالَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ مَا نَحَلْتَ هَذَا ، قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْدُدْهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، يَسْتَحِبُّونَ التَّسْوِيَةَ بَيْنَ الْوَلَدِ، حَتَّى قَالَ بَعْضُهُمْ: يُسَوِّي بَيْنَ وَلَدِهِ حَتَّى فِي الْقُبْلَةِ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: يُسَوِّي بَيْنَ وَلَدِهِ فِي النُّحْلِ وَالْعَطِيَّةِ، يَعْنِي: الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى سَوَاءٌ، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: التَّسْوِيَةُ بَيْنَ الْوَلَدِ أَنْ يُعْطَى الذَّكَرُ مِثْلَ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ مِثْلَ قِسْمَةِ الْمِيرَاثِ وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق.

نعمان بن بشیر ؓ سے روایت ہے کہ ان کے باپ (بشیر) نے اپنے ایک بیٹے کو ایک غلام دیا، وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں آئے تاکہ آپ کو اس پر گواہ بنائیں، تو آپ نے ان سے پوچھا: کیا تم نے اپنے تمام لڑکوں کو ایسا ہی غلام عطیہ میں دیا ہے ١ ؎ جیسا اس کو دیا ہے؟ کہا: نہیں، آپ نے فرمایا: تو اسے واپس لے لو ۔

Sayyidina Nu’man ibn Bashir (RA) reported that his father made a gift of a slave to one of his sons. He came to the Prophet ﷺ to request him to witness the gift. The Prophet ﷺ asked him, ‘Have you made a like gift to all your children as you have given him?” He said, No’ Then he said, “In that case, take him back (from him).” [Bukhari 2586, Muslim 1623] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2375 - 2376)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1367
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ٢ - یہ اور بھی سندوں سے نعمان بن بشیر ؓ سے مروی ہے۔ ٣ - بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ اولاد کے درمیان (عطیہ دینے میں) برابری کو ملحوظ رکھنے کو مستحب سمجھتے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے تو کہا ہے کہ بوسہ لینے میں بھی اپنی اولاد کے درمیان برابری برقرار رکھے، ٤ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں: بخشش اور عطیہ میں اپنی اولاد یعنی بیٹا اور بیٹی کے درمیان بھی برابری برقرار رکھے۔ یہی سفیان ثوری کا قول ہے، ٥ - اور بعض اہل علم کہتے ہیں: اولاد کے درمیان برابری یہی ہے کہ میراث کی طرح لڑکے کو لڑکی کے دوگنا دیا جائے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اولاد کو ہبہ کرنے میں مساوات کا یہ حکم جمہور کے نزدیک استحباب کے لیے ہے، موطا میں صحیح سند سے مذکور ہے کہ ابوبکر صدیق ؓ نے اپنے مرض الموت میں عائشہ ؓ سے فرمایا تھا «إني كنت نحلت نحلا فلو کنت اخترتيه لکان لک وإنما هو اليوم للوارث» میں نے تم کو کچھ ہبہ کے طور پر دینا چاہا تھا اگر وہ تم لے لیتی تو وہ تمہارا ہوجاتا، اور اب تو وہ وارثوں ہی کا ہے، اسی طرح عمر ؓ کا واقعہ طحاوی وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے عاصم کو کچھ ہبہ کے طور پر دیا تھا، امام احمد بن حنبل وغیرہ کی رائے ہے کہ اولاد کے درمیان ہبہ میں عدل کرنا واجب ہے اور ایک کو دوسرے سے زیادہ دینا حرام ہے، یہ لوگ شیخین (ابوبکر و عمر ؓ) کے ان اقدامات کا جواب یہ دیتے ہیں کہ ان اقدامات پر ان کے دیگر بچے راضی تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الہبة ١٢ (٢٥٨٦)، والشہادات ٩ (٢٦٥٠)، صحیح مسلم/الہبات ٣ (١٦٢٣)، سنن ابی داود/ البیوع ٨٥ (٣٥٤٢)، سنن النسائی/النخل ١ (٣٧٠٢)، ٣٧٠٣)،، ٣٧٠٤، ٣٧٠٩-٣٧١٢) سنن ابن ماجہ/الہبات ١ (الأحکام) (٢٣٧٥-٢٣٧٦)، (تحفة الأشراف: ١١٦١٧ و ١١٦٣٨)، و موطا امام مالک/الأقضیة ٣٣ (٣٩)، و مسند احمد (٤/٢٦٨، ٢٦٩، ٢٧٠، ٢٧٦) (صحیح )
1368Sunan At-Tirmidhi

شفعہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ الشَّرِيدِ، وَأَبِي رَافِعٍ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ سَمُرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَرَوَى عِيسَى بْنُ يُونُسَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْأَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَرُوِيَ عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّحِيحُ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثُ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ، وَلَا نَعْرِفُ حَدِيثَ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِيسَى بْنِ يُونُسَ، وَحَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الطَّائِفِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي هَذَا الْبَابِ، هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَرَوَى إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَيْسَرَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الشَّرِيدِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: كِلَا الْحَدِيثَيْنِ عِنْدِي صَحِيحٌ.

سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گھر کا پڑوسی گھر (خریدنے) کا زیادہ حقدار ہے ٢ ؎۔

Sayyidina Samurah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “The neighbour of the house has a greater right over the house.” [Abu Dawud 3517] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (1539)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1368
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - سمرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اور عیسیٰ بن یونس نے سعید بن ابی عروبہ سے انہوں نے قتادہ سے اور قتادہ نے انس سے اور انس نے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ نیز سعید بن ابی عروبہ سے مروی ہے انہوں نے قتادہ سے انہوں نے حسن بصری سے اور حسن بصری نے سمرہ سے اور سمرہ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣ - اس باب میں شرید، ابورافع اور انس سے بھی احادیث آئی ہیں، ٤ - اور اہل علم کے نزدیک صحیح حسن کی حدیث ہے جسے انہوں نے سمرہ سے روایت کی ہے۔ اور ہم قتادہ کی حدیث کو جسے انہوں نے انس سے روایت کی ہے، صرف عیسیٰ بن یونس ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور عبداللہ بن عبدالرحمٰن الطائفی کی حدیث جسے انہوں نے عمرو بن شرید سے اور عمرو نے اپنے والد سے اور ان کے والد نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اس باب میں حسن حدیث ہے۔ اور ابراہیم بن میسرہ نے عمرو بن شرید سے اور عمرو نے ابورافع سے اور ابورافع نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ میرے نزدیک دونوں حدیثیں صحیح ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «شفعہ» اس استحقاق کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ شریک (ساجھے دار) سے شریک کا وہ حصہ جو دوسرے کی ملکیت میں جا چکا ہو قیمت ادا کر کے حاصل کرسکے۔ ٢ ؎: اس حدیث سے پڑوسی کے لیے حق شفعہ کے قائلین نے ثبوت شفعہ پر استدلال کیا ہے، اس کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ اس جگہ پڑوسی سے مراد ساجھے دار ہے پڑوسی نہیں، کیونکہ اس حدیث میں اور حدیث «إذا وقعت الحدود وصرفت الطريق فلا شفعة» یعنی جب حد بندی ہوجائے اور راستے الگ الگ ہوجائیں تو شفعہ نہیں، جو آگے آرہی ہے میں تطبیق کا یہی معنی لینا ضروری ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٧٥ (٣٥٧١)، (تحفة الأشراف: ٤٥٨٨)، و مسند احمد (٥/١٢، ١٣، ١٨) (صحیح )
1369Sunan At-Tirmidhi

غائب کے لئے شفعہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْوَاسِطِيُّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ يُنْتَظَرُ بِهِ وَإِنْ كَانَ غَائِبًا إِذَا كَانَ طَرِيقُهُمَا وَاحِدًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرَ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرٍ، وَقَدْ تَكَلَّمَ شُعْبَةُ فِي عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَعَبْدُ الْمَلِكِ: هُوَ ثِقَةٌ مَأْمُونٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا تَكَلَّمَ فِيهِ غَيْرَ شُعْبَةَ، مِنْ أَجْلِ هَذَا الْحَدِيثِ، وَقَدْ رَوَى وَكِيعٌ، عَنْشُعْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ، هَذَا الْحَدِيثَ، وَرُوِي عَنْ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، قَالَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ أَبِي سُلَيْمَانَ: مِيزَانٌ يَعْنِي: فِي الْعِلْمِ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ أَنَّ الرَّجُلَ أَحَقُّ بِشُفْعَتِهِ، وَإِنْ كَانَ غَائِبًا فَإِذَا قَدِمَ فَلَهُ الشُّفْعَةُ وَإِنْ تَطَاوَلَ ذَلِكَ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: پڑوسی اپنے پڑوسی (ساجھی) کے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے، جب دونوں کا راستہ ایک ہو تو اس کا انتظار کیا جائے گا ١ ؎ اگرچہ وہ موجود نہ ہو ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The neighbour has a greater right of shuf’ah. Wait for him if he is absent provided their path is the same.” [Abu Dawud 3518, Ibn e Majah 2494, Ahmed 14257] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2494)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1369
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث غریب ہے، ہم عبدالملک بن سلیمان کے علاوہ کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے اس حدیث کو عطاء سے اور عطاء نے جابر سے روایت کی ہو، ٢ - شعبہ نے عبدالملک بن سلیمان پر اسی حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے۔ محدثین کے نزدیک عبدالملک ثقہ اور مامون ہیں، شعبہ کے علاوہ ہم کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے عبدالملک پر کلام کیا ہو، شعبہ نے بھی صرف اسی حدیث کی وجہ سے کلام کیا ہے۔ اور وکیع نے بھی یہ حدیث شعبہ سے اور شعبہ نے عبدالملک بن ابی سلیمان سے روایت کی ہے۔ اور ابن مبارک نے سفیان ثوری سے روایت کی ہے کہ انہوں نے کہا: عبدالملک بن سفیان میزان ہیں یعنی علم میں، ٢ - اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے کہ آدمی اپنے شفعہ کا زیادہ حقدار ہے اگرچہ وہ غائب ہی کیوں نہ ہو، جب وہ (سفر وغیرہ) سے واپس آئے گا تو اس کو شفعہ ملے گا گرچہ اس پر لمبی مدت گزر چکی ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ غیر حاضر شخص کا شفعہ باطل نہیں ہوتا، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ شفعہ کے لیے مجرد ہمسائیگی ہی کافی نہیں بلکہ اس کے لیے راستے میں اشتراک بھی ضروری ہے، اس کی تائید ذیل کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ جب حد بندی ہوجائے اور راستے جدا جدا ہوجائیں تو پھر شفعہ کا استحقاق نہیں رہتا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ البیوع ٧٥ (٣٥١٨)، سنن ابن ماجہ/الشفعة ٢ (٢٤٩٤)، (تحفة الأشراف: ٢٢٣٤)، و مسند احمد (٣/٣٠٣) (صحیح )
1370Sunan At-Tirmidhi

جب حدود مقرر ہوجائیں اور راستے الگ الگ ہوجائیں تو حق شفعہ نہیں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا وَقَعَتِ الْحُدُودُ، وَصُرِّفَتِ الطُّرُقُ، فَلَا شُفْعَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ مُرْسَلًا، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْهُمْ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، وَبِهِ يَقُولُ بَعْضُ فُقَهَاءِ التَّابِعِينَ، مِثْلَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَغَيْرِهِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْمَدِينَةِ مِنْهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيُّ، وَرَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق: لَا يَرَوْنَ الشُّفْعَةَ إِلَّا لِلْخَلِيطِ، وَلَا يَرَوْنَ لِلْجَارِ شُفْعَةً إِذَا لَمْ يَكُنْ خَلِيطًا، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: الشُّفْعَةُ لِلْجَارِ، وَاحْتَجُّوا بِالْحَدِيثِ الْمَرْفُوعِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: جَارُ الدَّارِ أَحَقُّ بِالدَّارِ ، وَقَالَ: الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِهِ ، وَهُوَ قَوْلُ: الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَأَهْلِ الْكُوفَةِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حد بندی ہوجائے اور راستے الگ الگ کردیے جائیں تو شفعہ نہیں ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When limits are defined and roads are separated then there is no option (that is, shuf’ah is not applicable).” [Bukhari 2213, Abu Dawud 3514, Ibn e Majah 2499, Ahmed 14159] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3499)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1370
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اسے بعض لوگوں نے ابوسلمہ سے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، ٣ - صحابہ کرام میں سے بعض اہل علم کا جن میں عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان بھی شامل ہیں اسی پر عمل ہے اور بعض تابعین فقہاء جیسے عمر بن عبدالعزیز وغیرہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ اور یہی اہل مدینہ کا بھی قول ہے، جن میں یحییٰ بن سعید انصاری، ربیعہ بن ابوعبدالرحمٰن اور مالک بن انس شامل ہیں، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں، یہ لوگ صرف ساجھی دار کے لیے ہی حق شفعہ کے قائل ہیں۔ اور جب پڑوسی ساجھی دار نہ ہو تو اس کے لیے حق شفعہ کے قائل نہیں۔ صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ پڑوسی کے لیے بھی شفعہ ہے اور ان لوگوں نے مرفوع حدیث سے استدلال کیا ہے جس میں نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں: گھر کا پڑوسی گھر کا زیادہ حقدار ہے ٢ ؎، نیز فرماتے ہیں: پڑوسی اپنے سے لگی ہوئی زمین یا مکان کا زیادہ حقدار ہے اور یہی ثوری، ابن مبارک اور اہل کوفہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اس بات پر دلیل ہے کہ شفعہ صرف اس جائیداد میں ہے جو مشترک ملکیت میں ہو، محض پڑوسی ہونا حق شفعہ کے اثبات کے لیے کافی نہیں، یہی جمہور کا مسلک ہے اور یہی حجت و صواب سے قریب تر بھی ہے، حنفیہ نے اس کی مخالفت کی ہے ان کا کہنا ہے کہ شفعہ جس طرح مشترک جائیداد میں ہے اسی طرح پڑوس کی بنیاد پر بھی شفعہ جائز ہے، ان کی دلیل حدیث نبوی «جار الدار أحق بالدار» ہے۔ ٢ ؎: جمہور اس حدیث کا جواب یہ دیتے ہیں کہ اس حدیث میں مراد شریک (ساجھی) ہے، مطلق پڑوسی کا تو کبھی راستہ الگ بھی ہوتا ہے، جب کہ راستہ الگ ہوجانے پر حق شفعہ نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/البیوع ٩٦ (٢٢١٣)، و ٩٧ (٢٢١٤)، والشفعة ١ (٢٢٥٧)، والشرکة ٨ (٢٤٩٥)، والحیل ١٤ (٦٩٧٦)، سنن ابی داود/ البیوع ٧٥ (٣٥١٤)، سنن ابن ماجہ/الشفعة ٣ (٢٤٩٧)، (تحفة الأشراف: ٣١٥٣)، و مسند احمد (٣/٢٩٦) (صحیح )
1371Sunan At-Tirmidhi

ہرشریک شفعہ کا حق رکھتا ہے۔

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الشَّرِيكُ شَفِيعٌ، وَالشُّفْعَةُ فِي كُلِّ شَيْءٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ مِثْلَ هَذَا إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا وَهَذَا أَصَحُّ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ساجھی دار کو حق شفعہ حاصل ہے اور شفعہ ہر چیز میں ہے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Every partner is a shafi (meaning, he has a right and option) and shuf’ah covers everything.”

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ہم اس حدیث کو اس طرح (مرفوعاً ) صرف ابوحمزہ سکری ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ ٢ - اس حدیث کو کئی لوگوں نے عبدالعزیز بن رفیع سے اور عبدالعزیز نے ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلا روایت کیا ہے۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
1374Sunan At-Tirmidhi

گری پڑی چیز اور گم شدہ اونٹ یا بکری

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ، وَيَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ، وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ، فَوَجَدْتُ سَوْطًا، قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ فِي حَدِيثِهِ: فَالْتَقَطْتُ سَوْطًا، فَأَخَذْتُهُ قَالَا: دَعْهُ، فَقُلْتُ: لَا أَدَعُهُ تَأْكُلْهُ السِّبَاعُ، لَآخُذَنَّهُ فَلَأَسْتَمْتِعَنَّ بِهِ، فَقَدِمْتُ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ فَسَأَلْتُهُ عَنْ ذَلِكَ وَحَدَّثْتُهُ الْحَدِيثَ، فقال: أحسنت وجدت على عهد رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ لِي: عَرِّفْهَا حَوْلًا ، فَعَرَّفْتُهَا حَوْلًا، فَمَا أَجِدُ مَنْ يَعْرِفُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا آخَرَ ، فَعَرَّفْتُهَا، ثُمَّ أَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: عَرِّفْهَا حَوْلًا آخَرَ ، وَقَالَ: أَحْصِ عِدَّتَهَا، وَوِعَاءَهَا، وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ طَالِبُهَا فَأَخْبَرَكَ بِعِدَّتِهَا، وَوِعَائِهَا، وَوِكَائِهَا، فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا . قَالَ: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ میں زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کے ساتھ نکلا تو مجھے (راستے میں) ایک کوڑا پڑا ملا - ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ میں نے پڑا ہوا ایک کوڑا پایا - تو میں نے اسے اٹھا لیا تو ان دونوں نے کہا: اسے رہنے دو، (نہ اٹھاؤ) میں نے کہا: میں اسے نہیں چھوڑ سکتا کہ اسے درندے کھا جائیں، میں اسے ضرور اٹھاؤں گا، اور اس سے فائدہ اٹھاؤں گا۔ پھر میں ابی بن کعب کے پاس آیا، اور ان سے اس کے بارے میں پوچھا اور ان سے پوری بات بیان کی تو انہوں نے کہا: تم نے اچھا کیا، رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں، میں نے ایک تھیلی پائی جس میں سو دینار تھے، اسے لے کر میں آپ ﷺ کے پاس آیا، آپ نے مجھ سے فرمایا: ایک سال تک اس کی پہچان کراؤ، میں نے ایک سال تک اس کی پہچان کرائی لیکن مجھے کوئی نہیں ملا جو اسے پہچانتا، پھر میں اسے لے کر آپ کے پاس آیا۔ آپ نے فرمایا: ایک سال تک اور اس کی پہچان کراؤ، میں نے اس کی پہچان کرائی، پھر اسے لے کر آپ کے پاس آیا۔ تو آپ نے فرمایا: ایک سال تک اور اس کی پہچان کراؤ ١ ؎، اور فرمایا: اس کی گنتی کرلو، اس کی تھیلی اور اس کے سربند کو خوب اچھی طرح پہچان لو اگر اسے تلاش کرنے والا آئے اور اس کی تعداد، اس کی تھیلی اور اس کے سربند کے بارے میں بتائے تو اسے دے دو ورنہ تم اسے اپنے کام میں لاؤ۔

Suwayd ibn Ghafalah narrated that he went out with Zayd ibn Suhan and Salman ibn Rahiab. He found a whip. Ibn Numayr said in his hadith that he found a whip lying down. So he picked it up. His companions said, “Leave it alone”, but he said, “No, I will not leave it that beasts eat it. I will take it and benefit from it.” Afterwards, he went to Ubayy ibn Kab and asked him about it, narrating what had happened. He said, “You did well. In the times of the Prophet ﷺ I had found a purse containing a hundred dinars. I took it to him and he said to me, Publicise it for a year.’ I announced about it through one year but did not find anyone knowing about it, so I went back to him, and he said, ‘Publicise it one more year.’ I did it for a year and went to him and he asked me to publicise another year, saying ‘Count them and remember the purse and the string with which it is tied.’ He said that I should hand it over to the claimant when he identifies it, otherwise I should retain it and use it.” [Bukhari 2426, Muslim 1723, Abu Dawud 1701, Ibn e Majah 2506, Ahmed 21225] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2506)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1374
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی تین سال تک پہچان کرانے کا حکم دیا، اس کی تاویل پچھلی حدیث کے حاشیہ میں دیکھئیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/اللقطة ١ (٢٤٢٦)، صحیح مسلم/اللقطة ١ (١٧٢٣)، سنن ابی داود/ اللقطة ١ (١٧٠١)، سنن ابن ماجہ/اللقطة ٢ (٢٥٠٦)، و مسند احمد (٥/١٢٦) (صحیح )
1372Sunan At-Tirmidhi

گری پڑی چیز اور گم شدہ اونٹ یا بکری

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ وِكَاءَهَا، وَوِعَاءَهَا، وَعِفَاصَهَا، ثُمَّ اسْتَنْفِقْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ رَبُّهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ ، فَقَالَ لَهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ ؟ فَقَالَ: خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْإِبِلِ ؟ قَالَ: فَغَضِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، أَوِ احْمَرَّ وَجْهُهُ، فَقَالَ: مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا حِذَاؤُهَا، وَسِقَاؤُهَا، حَتَّى تَلْقَى رَبَّهَا . حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَحَدِيثُ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْهُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَالْجَارُودِ بْنِ الْمُعَلَّى، وَعِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ، وَجَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ (گری پڑی چیز) کے بارے میں پوچھا، تو آپ نے فرمایا: سال بھر تک اس کی پہچان کراؤ، پھر اس کا سر بند، اس کا برتن اور اس کی تھیلی پہچان لو، پھر اسے خرچ کرلو اور اگر اس کا مالک آ جائے تو اسے ادا کر دو ، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گمشدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ نے فرمایا: اسے پکڑ کر باندھ لو، کیونکہ وہ تمہارے لیے ہے، یا تمہارے بھائی کے لیے، یا بھیڑیئے کے لیے ۔ اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! گمشدہ اونٹ کا کیا حکم ہے؟ اس پر نبی اکرم ﷺ ناراض ہوگئے یہاں تک کہ آپ کے گال لال پیلا ہوگئے۔ یا آپ کا چہرہ لال پیلا ہوگیا اور آپ نے فرمایا: تم کو اس سے کیا سروکار؟ اس کے ساتھ اس کا جوتا اور اس کی مشک ہے ١ ؎ (وہ پانی پر جاسکتا ہے اور درخت سے کھا سکتا ہے) یہاں تک کہ اپنے مالک سے جا ملے ۔

Sayyidina Zayd ibn Khalid Juhanni (RA) reported that a man asked Allah’s Messenger ﷺ about luqatah. He said, “Make announcement about it for a year. Thereafter, bear in mind the item, its string, etc. And then spend (use) it. If its owner comes later then give it to him.” He submitted, “O Messenger of Allah, what about a lost sheep?” He said, “Take it. It is yours, or your brother’s, or for the wolf.” He asked, “O Messenger of Allah, and a lost camel?” This angered the Prophet ﷺ till his cheeks turned red or his face turned red and he said, “What is it to you? It has its feet and its water till its owner finds it.” [Bukhari 2429, Muslim 1722]

صحيح، ابن ماجة (2504)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1372
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - زید بن خالد کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - ان سے اور بھی طرق سے یہ حدیث مروی ہے۔ منبعث کے مولیٰ یزید کی حدیث جسے انہوں نے زید بن خالد سے روایت کی ہے حسن صحیح ہے، ٣ - اور ان سے یہ اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جوتے سے مراد اونٹ کا پاؤں ہے اور مشکیزہ سے اس کا پیٹ جس میں وہ کئی دن کی ضرورت کا پانی ایک ساتھ بھر لیتا ہے اور باربار پانی پینے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا، اسے بکری کی طرح بھیڑیئے وغیرہ کا خوف نہیں وہ خود اپنا دفاع کرلیتا ہے اس لیے اسے پکڑ کر باندھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/العلم ٢٨ (٩١)، والشرب والمساقاة ١٢ (٢٣٧٢)، واللقطہ ٢ (٢٤٢٧)، صحیح مسلم/اللقطة ١ (١٧٢٢)، سنن ابی داود/ اللقطة ١ (١٧٠٤-١٧٠٨)، سنن ابن ماجہ/اللقطة ١ (٢٥٠٤)، (تحفة الأشراف: ٣٧٦٣)، وط/الأقضیة ٣٨ (٤٦)، و مسند احمد (٤/١١٥) (صحیح )
1373Sunan At-Tirmidhi

گری پڑی چیز اور گم شدہ اونٹ یا بکری

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ، أَخْبَرَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنِي سَالِمٌ أَبُو النَّضْرِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ، فَقَالَ: عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا، وَإِلَّا فَاعْرِفْ وِعَاءَهَا، وَعِفَاصَهَا، وَوِكَاءَهَا، وَعَدَدَهَا، ثُمَّ كُلْهَا، فَإِذَا جَاءَ صَاحِبُهَا فَأَدِّهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، أَصَحُّ شَيْءٍ فِي هَذَا الْبَابِ هَذَا الْحَدِيثُ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَرَخَّصُوا فِي اللُّقَطَةِ إِذَا عَرَّفَهَا سَنَةً، فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا، وَهُوَ قَوْلُ: الشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ: يُعَرِّفُهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا وَإِلَّا تَصَدَّقَ بِهَا، وَهُوَ قَوْلُ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَهْلِ الْكُوفَةِ، لَمْ يَرَوْا لِصَاحِبِ اللُّقَطَةِ أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا إِذَا كَانَ غَنِيًّا، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: يَنْتَفِعُ بِهَا وَإِنْ كَانَ غَنِيًّا، لِأَنَّ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَصَابَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعَرِّفَهَا، ثُمَّ يَنْتَفِعَ بِهَا، وَكَانَ أُبَيٌّ كَثِيرَ الْمَالِ، مِنْ مَيَاسِيرِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعَرِّفَهَا، فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَهَا، فَلَوْ كَانَتِ اللُّقَطَةُ لَمْ تَحِلَّ إِلَّا لِمَنْ تَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ، لَمْ تَحِلَّ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، لِأَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَصَابَ دِينَارًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَرَّفَهُ، فَلَمْ يَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهُ، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَكْلِهِ، وَكَانَ لَا يَحِلُّ لَهُ الصَّدَقَةُ، وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ إِذَا كَانَتِ اللُّقَطَةُ يَسِيرَةً أَنْ يَنْتَفِعَ بِهَا، وَلَا يُعَرِّفَهَا وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا كَانَ دُونَ دِينَارٍ يُعَرِّفُهَا قَدْرَ جُمْعَةٍ، وَهُوَ قَوْلُ: إِسْحَاق بْنِ إِبْرَاهِيمَ.

زید بن خالد جہنی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے لقطہٰ (گری پڑی چیز) کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: سال بھر اس کی پہچان کراؤ ١ ؎، اگر کوئی پہچان بتادے تو اسے دے دو، ورنہ اس کے ڈاٹ اور سربند کو پہچان لو، پھر اسے کھا جاؤ۔ پھر جب اس کا مالک آئے تو اسے ادا کر دو ۔

Sayyidina Zayd ibn Khalid Juhanni reported that Allah’s Messenger ﷺ was asked about luqatah.He said, “Make an announcement for it for a year and if it is claimed then hand it over otherwise bear in mind the quantity, the kind and the string, etc. and put it to use. If the owner comes after that, give it to him.” [Bukhari 2427, Muslim 1722]

صحيح، ابن ماجة (2507)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1373
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - زید بن خالد کی حدیث اس طریق سے حسن غریب ہے، ٢ - احمد بن حنبل کہتے ہیں: اس باب میں سب سے زیادہ صحیح یہی حدیث ہے، ٣ - یہ ان سے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ٤ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ یہ لوگ لقطہٰ سے فائدہ اٹھانے کو جائز سمجھتے ہیں، جب ایک سال تک اس کا اعلان ہوجائے اور کوئی پہچاننے والا نہ ملے۔ شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ٥ - اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وہ ایک سال تک لقطہٰ کا اعلان کرے اگر اس کا مالک آ جائے تو ٹھیک ہے ورنہ وہ اسے صدقہ کر دے۔ سفیان ثوری اور عبداللہ بن مبارک کا یہی قول ہے۔ اور یہی اہل کوفہ کا بھی قول ہے، ٦ - لقطہٰ اٹھانے والا جب مالدار ہو تو یہ لوگ لقطہٰ سے فائدہ اٹھانے کو اس کے لیے جائز نہیں سمجھتے ہیں، ٧ - شافعی کہتے ہیں: وہ اس سے فائدہ اٹھائے اگرچہ وہ مالدار ہو، اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ابی بن کعب کو ایک تھیلی ملی جس میں سو دینار تھے تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ وہ اس کا اعلان کریں پھر اس سے فائدہ اٹھائیں، اور ابی بن کعب صحابہ میں خوشحال لوگوں میں تھے اور بہت مالدار تھے، پھر بھی نبی اکرم ﷺ نے انہیں پہچان کرانے کا حکم دیا اور جب کوئی پہچاننے والا نہیں ملا تو آپ ﷺ نے انہیں کھا جانے کا حکم دیا۔ (دوسری بات یہ کہ) اگر لقطہٰ صرف انہیں لوگوں کے لیے جائز ہوتا جن کے لیے صدقہ جائز ہے تو علی ؓ کے لیے جائز نہ ہوتا، اس لیے کہ علی ؓ کو نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ایک دینار ملا، انہوں نے (سال بھر تک) اس کی پہچان کروائی لیکن کوئی نہیں ملا جو اسے پہچانتا تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں کھا جانے کا حکم دیا حالانکہ ان کے لیے صدقہ جائز نہیں تھا، ٨ - بعض اہل علم نے رخصت دی ہے کہ جب لقطہٰ معمولی ہو تو لقطہٰ اٹھانے والا اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور اس کا پہچان کروانا ضروری نہیں ٢ ؎، ٩ - بعض اہل علم کہتے ہیں: جب وہ ایک دینار سے کم ہو تو وہ اس کی ایک ہفتہ تک پہچان کروائے۔ یہ اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کا قول ہے، ١٠ - اس باب میں ابی بن کعب، عبداللہ بن عمرو، جارود بن معلی، عیاض بن حمار اور جریر بن عبداللہ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: باب کی ان دونوں روایتوں میں ایک سال پہچان کرانے کا ذکر ہے اور باب کی آخری حدیث میں تین سال کا ذکر ہے، یہ سامان اور حالات پر منحصر ہے، یا ایک سال بطور وجوب اور تین سال بطور استحباب وورع ہے ان روایتوں کا اختلاف تضاد کا اختلاف نہیں کہ ایک کو ناسخ اور دوسرے کو منسوخ قرار دیا جائے، پہچان کرانے کی صورت یہ ہوگی کہ بازار اور اجتماعات میں جہاں لوگوں کا ہجوم ہو اعلان کیا جائے کہ گمشدہ چیز کی نشانی بتا کر حاصل کی جاسکتی ہے، اگر کوئی اس کی نشانی بتادے تو مزید شناخت اور گواہوں کی ضرورت نہیں بلا تأمل وہ چیز اس کے حوالے کردی جائے۔ ٢ ؎: اس کی دلیل ابوہریرہ ؓ کی حدیث ہے جس میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «إني لأنقلب إلى أهلي فأجد التمرة ساقطة علی فراشي فأرفعها لآكلها ثم أخشی أن تکون صدقة فألقيها» یعنی میں کبھی گھر میں جاتا ہوں تو کھجور کا کوئی دانہ ملتا ہے، اس کو کھا لینا چاہتا ہوں، پھر خیال آتا ہے کہ کہیں یہ صدقہ و زکاۃ کا نہ ہو، تو اسے پھینک دیتا ہوں، اس سے ثابت ہوا کہ آپ نے اس کو پہچان کروانے کا کام کیے بغیر کھا لینے کا ارادہ کیا۔
Takhrij · تخریج
انظر ما قبلہ (تحفة الأشراف: ٣٧٤٨) (صحیح )
1375Sunan At-Tirmidhi

وقف کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: أَصَابَ عُمَرُ أَرْضًا بِخَيْبَرَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَبْتُ مَالًا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالًا قَطُّ، أَنْفَسَ عِنْدِي مِنْهُ، فَمَا تَأْمُرُنِي، قَالَ: إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَهَا، وَتَصَدَّقْتَ بِهَا ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عُمَرُ، أَنَّهَا لَا يُبَاعُ أَصْلُهَا، وَلَا يُوهَبُ، وَلَا يُورَثُ، تَصَدَّقَ بِهَا فِي الْفُقَرَاءِ، وَالْقُرْبَى، وَالرِّقَابِ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَالضَّيْفِ، لَا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا بِالْمَعْرُوفِ، أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ فِيهِ، قَالَ: فَذَكَرْتُهُ لِمُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، فَقَالَ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ ابْنُ عَوْنٍ: فَحَدَّثَنِي بِهِ رَجُلٌ آخَرُ، أَنَّهُ قَرَأَهَا فِي قِطْعَةِ أَدِيمٍ أَحْمَرَ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ إِسْمَاعِيلُ، وَأَنَا قَرَأْتُهَا عِنْدَ ابْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، فَكَانَ فِيهِ غَيْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالًا، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَ الْمُتَقَدِّمِينَ مِنْهُمْ فِي ذَلِكَ اخْتِلَافًا فِي إِجَازَةِ وَقْفِ الْأَرَضِينَ وَغَيْرِ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ عمر ؓ کو خیبر میں (مال غنیمت سے) کچھ زمین ملی، تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! خیبر میں مجھے مال ملا ہے اس سے زیادہ عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا۔ (اس کے بارے میں) آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: اگر چاہو تو اس کی اصل روک لو اور اسے (پیداوار کو) صدقہ کر دو، تو عمر ؓ نے اسے اس طرح سے صدقہ کیا کہ اصل زمین نہ بیچی جائے، نہ ہبہ کی جائے، اور نہ کسی کو وراثت میں دی جائے ١ ؎، اور اسے فقیروں میں، رشتہ داروں میں، غلام آزاد کرنے میں، اللہ کے راستے (جہاد) میں، مسافروں میں اور مہمانوں میں خرچ کیا جائے۔ اور جو اس کا والی (نگراں) ہو اس کے لیے اس میں سے معروف طریقے سے کھانے اور دوست کو کھلانے میں کوئی حرج نہیں ہے، جبکہ وہ اس میں سے ذخیرہ اندوزی کرنے والا نہ ہو۔ ابن عون کہتے ہیں: میں نے اسے محمد بن سیرین سے بیان کیا تو انہوں نے «غير متمول فيه» کے بجائے «غير متأثل مالا» کہا۔ ابن عون کہتے ہیں: مجھ سے اسے ایک اور آدمی نے بیان کیا ہے کہ اس نے اس وقف نامے کو پڑھا تھا جو ایک لال چمڑے پر تحریر تھا اور اس میں بھی «غير متأثل مالا» کے الفاظ تھے۔ اسماعیل کہتے ہیں: میں نے اس وقف نامے کو عبیداللہ بن عمر کے بیٹے کے پاس پڑھا، اس میں بھی «غير متأثل مالا» کے الفاظ تھے۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that Sayyidina Umar (RA) got a piece of land in Khaybar. He said, “O Messenger of Allah, I have acquired property in Khaybar more dear than I have never received, so what do you command me to do with it?” He said, “If you wish, retain the original with yourself and make sadaqah of its profit.” So Umar -‘ made a sadaqah of that. Thus, the land could never be sold, gifted or inherited. Its produce was a sadaqah for the poor, relatives, setting slaves free, the path of Allah, the travellers and the guests. There was no sin on its trustee if he ate something from it in a reasonale manner, or fed a friend, other than hoarding it. The narrator said that when he narrated the hadith to Muhammad ibn Sirin, he said, instead of meaning, “May not amass wealth for himself.” Ibn Awf said: Another man narrated the hadith to me and he had read the document of endowment inscribed on a red hide and it had the words (other than amassing wealth). [Muslim 1632]

صحيح، ابن ماجة (2396)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1375
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔ متقدمین میں سے ہم کسی کو نہیں جانتے ہیں جس نے زمین وغیرہ کو وقف کرنے میں اختلاف کیا ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز وقف کردی گئی ہو وہ نہ بیچی جاسکتی ہے اور نہ اسے ہبہ اور وراثت میں دیا جاسکتا ہے، امام ابوحنیفہ (رح) وقف کے فروخت کو جائز سمجھتے ہیں، ان کے شاگرد امام یوسف فرماتے ہیں کہ امام صاحب کو اگر یہ حدیث مل گئی ہوتی تو وہ اپنی رائے سے رجوع فرما لیتے (دیکھئیے: فتح الباری کتاب الوصایا، باب ٢٩ ( ٢٧٧٣ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشروط ١٩ (٢٧٣٧)، والوصایا ٢٢ (٢٧٦٤)، و ٢٨ (٢٧٧٢)، و ٢٩ (٢٧٧٣)، و ٣٢ (٢٧٧٧)، صحیح مسلم/الوصایا ٤ (١٦٣٢)، سنن ابی داود/ الوصایا ١٣ (٢٨٧٨)، سنن النسائی/الإحب اس ٢ (٣٦٢٧)، سنن ابن ماجہ/الصدقات ٤ (٢٣٩٦)، (تحفة الأشراف: ٧٧٤٢)، و مسند احمد (٢/٥٥، ١٢٥) (صحیح )
1376Sunan At-Tirmidhi

وقف کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا مَاتَ الْإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثٍ، صَدَقَةٌ جَارِيَةٌ، وَعِلْمٌ يُنْتَفَعُ بِهِ، وَوَلَدٌ صَالِحٌ يَدْعُو لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کا سلسلہ بند ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے: ایک صدقہ جاریہ ١ ؎ ہے، دوسرا ایسا علم ہے ٢ ؎ جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور تیسرا نیک و صالح اولاد ہے ٣ ؎ جو اس کے لیے دعا کرے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When a person dies, his deeds are cut off from him except three: perpetual sadaqah, knowledge from which benefit is derived and righteous children who pray for him.” [Muslim 1631, Abu Dawud 2880, Nisai 3651, Ahmed 8853] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1376
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صدقہ جاریہ یعنی ایسا صدقہ جس کو عوام کی بھلائی کے لیے وقف کردیا جائے، مثلاً سرائے کی تعمیر، کنواں کھدوانا، نل لگوانا، مساجد و مدارس اور یتیم خانوں کی تعمیر کروانا، اسپتال کی تعمیر، پل اور سڑک وغیرہ بنوانا، ان میں سے جو کام بھی وہ اپنی زندگی میں کر جائے یا اس کے کرنے کا ارادہ رکھتا ہو وہ سب صدقہ جاریہ میں شمار ہوں گے۔ ٢ ؎: علم میں لوگوں کو تعلیم دینا، طلباء کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنا، تصنیف و تالیف اور درس و تدریس دعوت و تبلیغ کا سلسلہ قائم کرنا، مدارس کی تعمیر کرنا، دینی کتب کی طباعت اور ان کی نشر و اشاعت کا بندوبست کرنا وغیرہ امور سبھی داخل ہیں۔ ٣ ؎: نیک اولاد میں بیٹا، بیٹی پوتا، پوتی، نواسا نواسی وغیرہ کے علاوہ روحانی اولاد بھی شامل ہے جنہیں علم دین سکھایا ہو۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الوصایا ٣ (١٦٣١)، سنن ابی داود/ الوصایا ١٤ (٢٨٨٠)، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨١)، (تحفة الأشراف: ١٣٩٧٥)، و مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٥٠، ٣٧٢)، وسنن الدارمی/المقدمة ٤٦ (٥٧٨) (صحیح )
1377Sunan At-Tirmidhi

اگر حیوان کسی کو زخمی کردے تو اس کا قصاص نہیں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَجْمَاءُ جَرْحُهَا جُبَارٌ، وَالْبِئْرُ جُبَارٌ، وَالْمَعْدِنُ جُبَارٌ، وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بےزبان (جانور) کا زخم رائیگاں ہے، کنویں اور کان میں گر کر کوئی مرجائے تو وہ بھی رائیگاں ہے ١ ؎، اور جاہلیت کے دفینے میں پانچواں حصہ ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is no retaliation for a wound caused by an animal, accident in a well or in a mine. Zakah is payable at one-fifth on buried treasure.” [Bukhari 6912, Muslim 1710] --------------------------------------------------------------------------------

1379Sunan At-Tirmidhi

بنجر زمین کو آباد کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ كَيْسَانَ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو شخص غیر آباد زمین (جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو) آباد کرے تو وہ اسی کی ہے ۔

Sayyidina Sa’eed ibn Zayd (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone cultivates barren land then it belongs to him and if anyone plants a tree wrongfully (on someone else’s land) then that does not give him a right.” [Abu Dawud 3073]

صحيح، الإرواء (1550)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1379
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف وأخرجہ النسائي في الکبریٰ (تحفة الأشراف: ٣١٢٩)، و مسند احمد (٣/٣٣٨، ٣٨١) (صحیح )
1378Sunan At-Tirmidhi

بنجر زمین کو آباد کرنا

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، أَخْبَرَنَا أَيُّوبُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَحْيَى أَرْضًا مَيِّتَةً فَهِيَ لَهُ، وَلَيْسَ لِعِرْقٍ ظَالِمٍ حَقٌّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا لَهُ: أَنْ يُحْيِيَ الْأَرْضَ الْمَوَاتَ بِغَيْرِ إِذْنِ السُّلْطَانِ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُهُمْ: لَيْسَ لَهُ أَنْ يُحْيِيَهَا إِلَّا بِإِذْنِ السُّلْطَانِ، وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ، قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ جَابِرٍ، وَعَمْرِو بْنِ عَوْفٍ الْمُزَنِيِّ جَدِّ كَثِيرٍ، وَسَمُرَةَ،

سعید بن زید ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس نے کوئی بنجر زمین (جو کسی کی ملکیت میں نہ ہو) آباد کی تو وہ اسی کی ہے کسی ظالم شخص کی رگ کا حق نہیں ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “He who makes barren land fertile owns it.” [Ahmed 14270] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (1520)، الضعيفة تحت الحديث (88)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1378
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢ - بعض لوگوں نے اسے ہشام بن عروہ سے انہوں نے اپنے والد عروہ سے اور عروہ نے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کی ہے، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے اور احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز ہے، ٤ - بعض علماء کہتے ہیں: حاکم کی اجازت کے بغیر غیر آباد زمین کو آباد کرنا جائز نہیں ہے، لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے، ٥ - اس باب میں جابر، کثیر کے دادا عمرو بن عوف مزنی اور سمرہ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٦ - ہم سے ابوموسیٰ محمد بن مثنی نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو ولید طیالسی سے نبی اکرم ﷺ کے قول «وليس لعرق ظالم حق» کا مطلب پوچھا، انہوں نے کہا: «العرق الظالم» سے مراد وہ غاصب ہے جو دوسروں کی چیز زبردستی لے۔ میں نے کہا: اس سے مراد وہ شخص ہے جو دوسرے کی زمین میں درخت لگائے؟ انہوں نے کہا: وہی شخص مراد ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الإمارة ٣٧ (٣٠٧٣)، (تحفة الأشراف: ٤٤٦٣)، وط/الأقضیة ٢٤ (٢٦) (صحیح )
1380Sunan At-Tirmidhi

جاگیر دینے کے بارے میں

قَالَ: قُلْتُ لِقُتَيْبَةَ بْنِ سَعِيدٍ: حَدَّثَكُمْ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ قَيْسٍ الْمَأْرِبِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ شَرَاحِيلَ، عَنْسُمَيِّ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ سُمَيْرٍ، عَنْ أَبْيَضَ بْنِ حَمَّالٍ، أَنَّهُ وَفَدَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاسْتَقْطَعَهُ الْمِلْحَ، فَقَطَعَ لَهُ، فَلَمَّا أَنْ وَلَّى قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمَجْلِسِ: أَتَدْرِي مَا قَطَعْتَ لَهُ، إِنَّمَا قَطَعْتَ لَهُ الْمَاءَ الْعِدَّ، قَالَ: فَانْتَزَعَهُ مِنْهُ، قَالَ: وَسَأَلَهُ عَمَّا يُحْمَى مِنَ الْأَرَاكِ، قَالَ: مَا لَمْ تَنَلْهُ خِفَافُ الْإِبِلِ ، فَأَقَرَّ بِهِ قُتَيْبَةُ، وَقَالَ: نَعَمْ. حَدَّثَنَا ابْنِ أَبِي عُمَرَ.

ابیض بن حمال ؓ کہتے ہیں کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے جاگیر میں نمک کی کان مانگی تو آپ نے انہیں دے دی، لیکن جب وہ پیٹھ پھیر کر واپس جانے لگے تو مجلس میں موجود ایک آدمی نے عرض کیا: جانتے ہیں کہ آپ نے جاگیر میں اسے کیا دیا ہے؟ آپ نے اسے جاگیر میں ایسا پانی دیا ہے جو کبھی بند نہیں ہوتا ہے۔ (اس سے برابر نمک نکلتا رہے گا) تو آپ نے اس سے اسے واپس لے لیا، اس نے آپ سے پوچھا: پیلو کے درختوں کی کون سی جگہ (بطور رمنہ) گھیری جائے؟ آپ نے فرمایا: جس زمین تک اونٹوں کے پاؤں نہ پہنچے (جو آبادی اور چراگاہ سے کافی دور ہوں) ۔

Sayyidina Abyad ibn Hammal reported that he went to Allah’s Messenger ﷺ and requested that a salt mine be assigned to him. So, he gave him the mine. When he turned to go, someone in the assembly asked, “Do you know what you have given him. It is a perpetual source of ready water,” (meaning that it would produce plenty of salt). The narrator said that the Prophet ﷺ took it back from him. He then asked about the land of thorny trees that could be surrounded. The Prophet ﷺ said, “The land where the camels cannot go”, (meaning that place which is away from grazing ground). [Abu Dawud 3064, Ibn e Majah 2475]

حسن، ابن ماجة (2475)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1380
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابیض کی حدیث غریب ہے، ٢ - میں نے قتیبہ سے پوچھا کیا آپ سے محمد بن یحییٰ بن قیس ماربی نے یہ حدیث بیان کی تو انہوں نے اقرار کیا اور کہا: ہاں -
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخراج ٣٦ (٣٠٦٤)، سنن ابن ماجہ/الرہون ١٧ (٢٤٨٥)، (تحفة الأشراف: ١) (حسن) (یہ سند مسلسل بالضعفاء ہے: ” ثمامہ “ لین الحدیث، اور ” سمیر “ مجہول ہیں، لیکن ابوداود کی دوسری روایت (رقم ٣٠٦٥) سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، اس کی تصحیح ابن حبان اور تحسین البانی نے کی ہے (مالم تنلہ خفاف کے استثناء کے ساتھ) دیکھئے: صحیح ابی داود رقم ٢٦٩٤ )
1381Sunan At-Tirmidhi

جاگیر دینے کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكٍ، قَال: سَمِعْتُ عَلْقَمَةَ بْنَ وَائِلٍ يُحَدِّثُ، عَنْأَبِيهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا بِحَضْرَمَوْتَ . قَالَ مَحْمُودٌ: أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، عَنْ شُعْبَةَ، وَزَادَ فِيهِ: وَبَعَثَ لَهُ مُعَاوِيَةَ لِيُقْطِعَهَا إِيَّاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

وائل بن حجر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں حضر موت میں ایک زمین بطور جاگیر دی۔ آپ ﷺ نے معاویہ ؓ کو بھیجا تاکہ وہ زمین انہیں بطور جاگیر دے دیں۔

Sayyidina Wail ibn Hujr ‘ reported that the Prophet ﷺ assigned to him a piece of land in Hadramawt. [Abu Dawud 3058, Ahmed 27308]

صحيح التعليق علی الروضة الندية (2 / 137)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1381
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الخراج ٣٦ (٣٠٥٨، ٣٠٥٩)، (تحفة الأشراف: ١١٧٧٣)، و مسند احمد (٣٩٩٦)، و سنن الدارمی/البیوع ٦٦ (٢٦٥١) (صحیح )