Sunan At-Tirmidhi 1343

فیصلوں کا بیان

1343Sunan At-Tirmidhi

اگر ایک گواہ ہو تو مدعی قسم کھائے

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْسُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ . قَالَ رَبِيعَةُ: وَأَخْبَرَنِي ابْنٌ لِسَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، قَالَ: وَجْدنَا فِي كِتَاب سَعْدٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ. قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَلِيٍّ، وَجَابِرٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسُرَّقَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَضَى بِالْيَمِينِ مَعَ الشَّاهِدِ الْوَاحِدِ . حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک گواہ کے ساتھ مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا۔ ربیعہ کہتے ہیں: مجھے سعد بن عبادہ کے بیٹے نے خبر دی کہ ہم نے سعد ؓ کی کتاب میں لکھا پایا کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ دیا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah ﷺ rerported that Allah’s Messenger ﷺ passed judgernent on the testimony of one witness and the oath of the defendant. Rabi’ah said that a son of Sad ibn Ubadahh (RA) told him that they found in his book that the Prophet ﷺ had decided that an oath must be taken along with the presentation of a witness. [Abu Dawud 3610, Ibn e Majah 2369] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (2368 - 2671)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1343
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - اس باب میں علی، جابر، ابن عباس اور سرق ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٢ - ابوہریرہ ؓ کی حدیث کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے (مدعی کے حق میں) فیصلہ کیا حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس صورت میں ہے جب مدعی کے پاس صرف ایک گواہ ہو تو دوسرے گواہ کے بدلے مدعی سے قسم لے کر قاضی اس کے حق میں فیصلہ کر دے گا، جمہور کا یہی مذہب ہے کہ مالی معاملات میں ایک گواہ اور مدعی کی قسم سے فیصلہ درست ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأقضیة ٢١ (٣٦١٠)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٣١ (٢٣٦٨)، (تحفة الأشراف: ١٢٦٤٠) (صحیح )