Sunan At-Tirmidhi 1357

فیصلوں کا بیان

1357Sunan At-Tirmidhi

والدین کی جدائی کے وقت بچے کو اختیار دیا جائے

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ الثَّعْلَبِيِّ، عَنْ أَبِي مَيْمُونَةَ، عَنْأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيَّرَ غُلَامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَجَدِّ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو مَيْمُونَةَ اسْمُهُ: سُلَيْمٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ، قَالُوا: يُخَيَّرُ الْغُلَامُ بَيْنَ أَبَوَيْهِ إِذَا وَقَعَتْ بَيْنَهُمَا الْمُنَازَعَةُ فِي الْوَلَدِ، وَهُوَ قَوْلُ: أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَالَا: مَا كَانَ الْوَلَدُ صَغِيرًا، فَالْأُمُّ أَحَقُّ، فَإِذَا بَلَغَ الْغُلَامُ سَبْعَ سِنِينَ، خُيِّرَ بَيْنَ أَبَوَيْهِ ، هِلَالُ بْنُ أَبِي مَيْمُونَةَ: هُوَ هِلَالُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ أُسَامَةَ وَهُوَ مَدَنِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَفُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک بچے کو اختیار دیا کہ چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے اپنی ماں کے ساتھ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ gave choice to a child between his father and his mother (to stay with one of them). [Abu Dawud 2277, Ibn e Majah 235]

صحيح، ابن ماجة (2351)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 1357
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١ - ابوہریرہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢ - اس باب میں عبداللہ بن عمرو اور عبدالحمید بن جعفر کے دادا ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣ - صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی حدیث پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب ماں باپ کے درمیان بچے کے سلسلے میں اختلاف ہوجائے تو بچے کو اختیار دیا جائے گا چاہے وہ اپنے باپ کے ساتھ رہے اور چاہے وہ اپنی ماں کے ساتھ رہے۔ یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا قول ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب بچہ کم سن ہو تو اس کی ماں زیادہ مستحق ہے۔ اور جب وہ سات سال کا ہوجائے تو اس کو اختیار دیا جائے، چاہے تو باپ کے ساتھ رہے یا چاہے تو ماں کے ساتھ رہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطلاق ٣٥ (٢٢٧٧)، سنن النسائی/الطلاق ٥٢ (٣٥٢٦)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٢ (٢٣٥١)، (تحفة الأشراف: ١٥٤٦٣)، و مسند احمد (٢/٤٤٧)، وسنن الدارمی/الطلاق ١٥ (٢٣٣٩) (صحیح )