طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 1 · 141 hadiths · Page 7 of 8

129Sunan At-Tirmidhi

مستحاضہ ہر نماز کے لئے غسل کرے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ ابْنَةُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ: لَا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ. قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ اللَّيْثُ: لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ هِيَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَرَوَى الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا اور کہا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں۔ تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ تو محض ایک رگ ہے، لہٰذا تم غسل کرو پھر نماز پڑھو ، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابن شہاب زہری نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ ؓ کو ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، بلکہ یہ ایسا عمل تھا جسے وہ اپنے طور پر کیا کرتی تھیں ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated that Sayyidah Umm Habibah blnt Jahsh (RA) said to Allahs Messenger ﷺ , "O Messenger of Allah! ﷺ I get menstruation but never ‘ get purified. Shall I abandon Salah?" He said, "No! This is a vein. Have a bath and offer Salah." Then she had a bath for every Salah.

صحيح، ابن ماجة (626)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 129
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- نیز یہ حدیث زہری سے «عن عمرة عن عائشہ» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا، ٢- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے وقت غسل کرے گی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی بھی صحیح روایت میں نہیں آتا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ام حبیبہ ؓ کو ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا، جو روایتیں اس بارے میں ہیں سب ضعیف ہیں، صحیح بات یہی ہے کہ وہ بطور خود ( استحبابی طور سے ) ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٤ (٣٣٤)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٨ (٢٧٩)، و ١١١ (٢٨٨)، سنن النسائی/الطہارة ١٣٤ (٢٠٧)، والحیض ٣ (٣٥٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٦ (٦٢٦)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٨٣)، مسند احمد (٦/٨٣، ١٤١، ١٨٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٨٣ (٨٠٥) (صحیح)
130Sunan At-Tirmidhi

حائضہ عورت نمازوں کی قضا نہ کرے

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ مُعَاذَةَ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: أَتَقْضِي إِحْدَانَا صَلَاتَهَا أَيَّامَ مَحِيضِهَا ؟ فَقَالَتْ: أَحَرُورِيَّةٌ أَنْتِ، قَدْ كَانَتْ إِحْدَانَا تَحِيضُ فَلَا تُؤْمَرُ بِقَضَاءٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، أَنَّ الْحَائِضَ لَا تَقْضِي الصَّلَاةَ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ الْفُقَهَاءِ، لَا اخْتِلَافَ بَيْنَهُمْ فِي أَنَّ الْحَائِضَ تَقْضِي الصَّوْمَ وَلَا تَقْضِي الصَّلَاةَ.

معاذہ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے عائشہ ؓ سے پوچھا: کیا ہم حیض کے دنوں والی نماز کی قضاء کیا کریں؟ تو انہوں نے کہا: کیا تو حروریہ ١ ؎ ہے؟ ہم میں سے ایک کو حیض آتا تھا تو اسے قضاء کا حکم نہیں دیا جاتا تھا۔

Sayyidah Muadhah (RA) said that a woman asked Sayyidah Aisha (RA), “Shall any of us redeem the Salah of the days of menstruation?" She asked in return, Are you Haruriyah? When one of us had her menses, she was not commanded to redeem the Salah?"

صحيح، ابن ماجة (631)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 130
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور عائشہ سے اور کئی سندوں سے بھی مروی ہے کہ حائضہ نماز قضاء نہیں کرے گی، ٣- اکثر فقہاء کا یہی قول ہے۔ ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں کہ حائضہ روزہ قضاء کرے گی اور نماز قضاء نہیں کرے گی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حروریہ منسوب ہے حروراء کی طرف جو کوفہ سے دو میل کی دوری پر ایک بستی کا نام تھا، خوارج کو اسی گاؤں کی نسبت سے حروری کہا جاتا ہے، اس لیے کہ ان کا ظہور اسی بستی سے ہوا تھا، ان میں کا ایک گروہ حیض کے دنوں کی چھوٹی ہوئی نمازوں کی قضاء کو ضروری قرار دیتا ہے اسی لیے عائشہ ؓ نے اس عورت کو حروریہ کہا، مطلب یہ تھا کہ کیا تو خارجی عورت تو نہیں ہے جو ایسا کہہ رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٢٠ (٣٢١)، صحیح مسلم/الحیض ١٥ (٣٣٥)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٥ (٢٦٢)، سنن النسائی/الحیض ١٧ (٣٨٢)، والصوم ٣٦ (٢٣٢٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٩ (٦٣١)، ( تحفة الأشراف: ١٧٩٦٤)، مسند احمد (٦/٣٢، ٩٧، ١٢٠، ١٨٥، ٢٣١)، سنن الدارمی/الطہارة ١٠٢ (١٠٢٠) (صحیح)
131Sunan At-Tirmidhi

جنبی اور حائضہ قرآن نہ پڑھے

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، قَالَا: حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَقْرَأْ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَقْرَأْ الْجُنُبُ وَلَا الْحَائِضُ ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ، مِثْلِ: سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيِّ، وَأَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، قَالُوا: لَا تَقْرَأْ الْحَائِضُ وَلَا الْجُنُبُ مِنَ الْقُرْآنِ شَيْئًا، إِلَّا طَرَفَ الْآيَةِ وَالْحَرْفَ وَنَحْوَ ذَلِكَ، وَرَخَّصُوا لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ فِي التَّسْبِيحِ وَالتَّهْلِيلِ، قَالَ: وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يَقُولُ: إِنَّ إِسْمَاعِيل بْنَ عَيَّاشٍ يَرْوِي، عَنْ أَهْلِ الْحِجَازِ وَأَهْلِ الْعِرَاقِ أَحَادِيثَ مَنَاكِيرَ، كَأَنَّهُ ضَعَّفَ رِوَايَتَهُ عَنْهُمْ فِيمَا يَنْفَرِدُ بِهِ، وَقَالَ: إِنَّمَا حَدِيثُ إِسْمَاعِيل بْنَ عَيَّاشٍ، عَنْ أَهْلِ الشَّامِ، وقَالَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ: إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ أَصْلَحُ مِنْ بَقِيَّةَ، وَلِبَقِيَّةَ أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ عَنِ الثِّقَاتِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدَّثَنِي أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، قَال: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ ذَلِكَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: حائضہ اور جنبی قرآن سے کچھ نہ پڑھیں ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported the Prophet ﷺ as saying, "A menstruating woman and a sexually defiled person must not recite from the Quran anything."

منكر، ابن ماجة (595)، // ضعيف سنن ابن ماجة (130)، المشکاة (461)، الإرواء (192)، ضعيف الجامع الصغير وزيادته الفتح الکبير - بترتيبى - برقم (6364) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 131
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے، ٢- ابن عمر ؓ کی حدیث کو ہم صرف اسماعیل بن عیاش ہی کی روایت سے جانتے ہیں۔ جس میں ابن عمر سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنبی اور حائضہ (قرآن) نہ پڑھیں ، ٣- صحابہ کرام اور تابعین میں سے اکثر اہل علم اور ان کے بعد کے لوگ مثلاً سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے کہ حائضہ اور جنبی آیت کے کسی ٹکڑے یا ایک آدھ حرف کے سوا قرآن سے کچھ نہ پڑھیں، ہاں ان لوگوں نے جنبی اور حائضہ کو تسبیح و تہلیل کی اجازت دی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٥ (٥٩٥)، ( تحفة الأشراف: ٨٤٧٤) (منکر) (سند میں راوی اسماعیل بن عیاش کی روایت اہل حجاز سے ضعیف ہوتی ہے، اور موسیٰ بن عقبہ مدنی ہیں)۔
132Sunan At-Tirmidhi

حائضہ عورت سے مباشرت

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مِنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا حِضْتُ يَأْمُرُنِي أَنْ أَتَّزِرَ ثُمَّ يُبَاشِرُنِي . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَمَيْمُونَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھے جب حیض آتا تو رسول اللہ ﷺ مجھے تہ بند باندھنے کا حکم دیتے پھر مجھ سے چمٹتے اور بوس و کنار کرتے۔

Sayyidah Aisha (RA) said, "When I had menses, Allahs Messenger ﷺ would instruct me to wrap a lower garment and then he would kiss and embrace me."

صحيح، صحيح أبي داود (260)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 132
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے۔ صحابہ کرام و تابعین میں سے بہت سے اہل علم کا یہی قول ہے اور یہی شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں، ٢- اس باب میں ام سلمہ اور میمونہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحیض ٥ (٣٠٠)، صحیح مسلم/الحیض ١ (٢٩٣)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٧ (٢٦٧)، سنن النسائی/الطہارة ١٨٠ (٢٨٦)، والحیض ١٢ (٣٧٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٢١ (٦٣٦)، ( تحفة الأشراف: ١٥٩٨٢) (صحیح)
133Sunan At-Tirmidhi

جنبی اور حائضہ کے ساتھ کھانا اور ان کے جھوٹا

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: وَاكِلْهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بِمُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ بَأْسًا، وَاخْتَلَفُوا فِي فَضْلِ وَضُوئِهَا، فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ فَضْلَ طَهُورِهَا.

عبداللہ بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اس کے ساتھ کھاؤ ١ ؎۔

Haram ibn Muawiyah reported that his uncle Abdullah ibn Sad narrated that he asked the Prophet ﷺ about eating with a menstruating woman, He said, "Eat with her!

صحيح، ابن ماجة (651)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 133
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن سعد ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے: یہ لوگ حائضہ کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے۔ البتہ اس کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے سلسلہ میں ان میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اس کی طہارت سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث آیت کریمہ: «فاعتزلوا النساء في المحيض» (البقرة: 222 ) کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٨٣ (٢١١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣٠ (٦٥١)، ( تحفة الأشراف: ٥٣٢٦)، مسند احمد (٥/٢٩٣) (صحیح)
134Sunan At-Tirmidhi

حائضہ کوئی چیز مسجد سے لے سکتی ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ حُمَيْدٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ ثابِتِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: قَالَتْ لِيعَائِشَةُ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نَاوِلِينِي الْخُمْرَةَ مِنَ الْمَسْجِدِ قَالَتْ: قُلْتُ: إِنِّي حَائِضٌ، قَالَ: إِنَّ حَيْضَتَكِ لَيْسَتْ فِي يَدِكِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَائِشَةَ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، لَا نَعْلَمُ بَيْنَهُمُ اخْتِلَافًا فِي ذَلِكَ بِأَنْ لَا بَأْسَ أَنْ تَتَنَاوَلَ الْحَائِضُ شَيْئًا مِنَ الْمَسْجِدِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: مسجد سے مجھے بوریا اٹھا کر دو ، تو میں نے عرض کیا: میں حائضہ ہوں، آپ نے فرمایا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے ۔

Qasim ibn Muhammad ﷺ reported that Sayyidah Aisha (RA) said, "Allahs Messenger ﷺ commanded me to fetch mats from the mosque. I said that I had menses. He remarked, Your menses are not on your hands."

صحيح، ابن ماجة (632)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 134
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عائشہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عمر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے۔ ہم اس مسئلہ میں کہ حائضہ کے مسجد سے کوئی چیز اٹھانے میں کوئی حرج نہیں ان کے درمیان کوئی اختلاف نہیں جانتے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٢ (٢٩٨)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٤ (٢٦١)، سنن النسائی/الطہارة ١٧٣ (٢٧٢)، والحیض ١٨ (٣٨٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٢٠ (٦٣٢)، ( تحفة الأشراف: ١٧٤٤٦)، مسند احمد (٦/٤٥، ١٠١، ١١٢، ١٤١، ١٧٣، ٢١٤، ٢٢٩، ٢٤٥)، سنن الدارمی/الطہارة ٨١ (٧٩٨) (صحیح)
135Sunan At-Tirmidhi

حائضہ سے صحبت کی حرمت

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، وَبَهْزُ بْنُ أَسَدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا حَمَادُ بْنُ سَلَمَةِ، عَنْحَكِيمٍ الْأَثْرَمِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَتَى حَائِضًا أَوِ امْرَأَةً فِي دُبُرِهَا أَوْ كَاهِنًا، فَقَدْ كَفَرَ بِمَا أُنْزِلَ عَلَى مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: لَا نَعْرِفُ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حَكِيمٍ الْأَثْرَمِ، عَنْ أَبِي تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَإِنَّمَا مَعْنَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ عَلَى التَّغْلِيظِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَتَى حَائِضًا فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ ، فَلَوْ كَانَ إِتْيَانُ الْحَائِضِ كُفْرًا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ بِالْكَفَّارَةِ، وَضَعَّفَ مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ مِنْ قِبَلِ إِسْنَادِهِ، وَأَبُو تَمِيمَةَ الْهُجَيْمِيِّ اسْمُهُ: طَرِيفُ بْنُ مُجَالِدٍ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جو کسی حائضہ کے پاس آیا یعنی اس سے جماع کیا یا کسی عورت کے پاس پیچھے کے راستے سے آیا، یا کسی کاہن نجومی کے پاس (غیب کا حال جاننے کے لیے) آیا تو اس نے ان چیزوں کا انکار کیا جو محمد (ﷺ) پر نازل کی گئی ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, "If anyone has sexual intercourse with a menstruating woman, or goes into her anus, or visits a Kahin (soothsayer) then indeed he has disbelieved in what is revealed to Muhammad."

صحيح، ابن ماجة (639)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 135
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اہل علم کے نزدیک نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان کا مطلب تغلیظ ہے، نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: جس نے کسی حائضہ سے صحبت کی تو وہ ایک دینار صدقہ کرے، اگر حائضہ سے صحبت کا ارتکاب کفر ہوتا تو اس میں کفارے کا حکم نہ دیا جاتا ، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنداً ضعیف قرار دیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کا یہ فرمانا تغلیظاً ہے جیسا کہ خود امام ترمذی نے اس کی وضاحت کردی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطب ٢١ (٣٩٠٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٢٢ (٦٣٩)، ( تحفة الأشراف: ١٣٥٣٦)، مسند احمد (٢/٤٢٩) (صحیح) (سند میں حکیم الأثرم میں کچھ ضعف ہے، تعدد طرق کی وجہ سے یہ حدیث صحیح ہے، الإ رواء: ٢٠٠٦)
136Sunan At-Tirmidhi

حائضہ سے صحبت کا کفارہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا شَرِيكٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّجُلِ يَقَعُ عَلَى امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، قَالَ: يَتَصَدَّقُ بِنِصْفِ دِينَارٍ .

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اس آدمی کے بارے میں جو اپنی بیوی سے حیض کی حالت میں جماع کرتا ہے فرمایا: وہ آدھا دینار صدقہ کرے ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ , ﷺ said about the man who has sexual intercourse with his wife while she is menstruating that he should give sadaqah of half a dinar.

ضعيف بهذا اللفظ، والصحيح بلفظ: دينار أو نصف دينار، صحيح أبي داود (256)، ابن ماجة (640)، ضعيف أبي داود (42)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 136
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٦ (٢٦٤)، سنن النسائی/الطہارة ١٨٢ (٢٩٠)، والحیض ٩ (٣٧٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٢٣ (١٤٠)، و ١٢٩ (٢٥٠)، ( تحفة الأشراف: ٦٤٨٦)، مسند احمد (١/٢٣٧، ٢٧٢، ٢٨٦، ٣١٢، ٣٢٥، ٣٦٣، ٣٦٧)، سنن الدارمی/الطہارة ١١١ (١١٤٥) (ضعیف) (اس لفظ سے ضعیف ہے، سند میں شریک بن عبداللہ القاضی ضعیف ہیں اور خصیف بن عبدالرحمن الجزری بھی سیٔ الحفظ اور اختلاط کا شکار راوی ہیں، لیکن حدیث ... دينار أو نصف دينار کے لفظ سے صحیح ہے، تراجع الالبانی ٣٣٤، صحیح سنن ابی داود ٢٥٦، ضعیف أبی داود ٤٢)
137Sunan At-Tirmidhi

حائضہ سے صحبت کا کفارہ

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ السُّكَّرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: إِذَا كَانَ دَمًا أَحْمَرَ فَدِينَارٌ، وَإِذَا كَانَ دَمًا أَصْفَرَ فَنِصْفُ دِينَارٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ الْكَفَّارَةِ فِي إِتْيَانِ الْحَائِضِ قَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ مَوْقُوفًا وَمَرْفُوعًا، وَهُوَ قَوْلُ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَ ابْنُ الْمُبَارَكِ: يَسْتَغْفِرُ رَبَّهُ وَلَا كَفَّارَةَ عَلَيْهِ، وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ قَوْلِ ابْنِ الْمُبَارَكِ عَنْ بَعْضِ التَّابِعِينَ، مِنْهُمْ: سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ النَّخَعِيُّ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ عُلَمَاءِ الْأَمْصَارِ.

عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب خون سرخ ہو (اور جماع کرلے تو) ایک دینار اور جب زرد ہو تو آدھا دینار (صدقہ کرے) ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said, "If there is red blood, he must give one dinar and if it is yellow then half a dinar."

ضعيف، والصحيح عنه بهذا التفصيل موقوف، صحيح أبي داود (258)، // هو فی صحيح سنن أبى داود - باختصار السند برقم (238 - 265) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 137
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- حائضہ سے جماع کے کفارے کی حدیث ابن عباس سے موقوفاً اور مرفوعاً دونوں طرح سے مروی ہے، ٢- اور بعض اہل علم کا یہی قول ہے، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ ابن مبارک کہتے ہیں: یہ اپنے رب سے استغفار کرے گا، اس پر کوئی کفارہ نہیں، ابن مبارک کے قول کی طرح بعض تابعین سے بھی مروی ہے جن میں سعید بن جبیر، ابراہیم نخعی بھی شامل ہیں۔ اور اکثر علماء امصار کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٤٩١) (ضعیف) (سند میں عبدالکریم بن ابی المخارق ضعیف ہیں، یہ مفصل مرفوع روایت ضعیف ہے، لیکن موقوف یعنی ابن عباس کے قول سے صحیح ہے، دیکھئے صحیح ابی داود رقم: ٢٥٨)
138Sunan At-Tirmidhi

کپڑے سے حیض کا خون دھونے کے بارے میں

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ الْمُنْذِرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ، أَنَّ امْرَأَةً سَأَلَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الثَّوْبِ يُصِيبُهُ الدَّمُ مِنَ الْحَيْضَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُتِّيهِ ثُمَّ اقْرُصِيهِ بِالْمَاءِ ثُمَّ رُشِّيهِ وَصَلِّي فِيهِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ قَيْسِ بْنتِ مِحْصَنٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَسْمَاءَ فِي غَسْلِ الدَّمِ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي الدَّمِ يَكُونُ عَلَى الثَّوْبِ فَيُصَلِّي فِيهِ قَبْلَ أَنْ يَغْسِلَهُ، قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ: إِذَا كَانَ الدَّمُ مِقْدَارَ الدِّرْهَمِ فَلَمْ يَغْسِلْهُ وَصَلَّى فِيهِ أَعَادَ الصَّلَاةَ، وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا كَانَ الدَّمُ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ أَعَادَ الصَّلَاةَ، وَهُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، وَابْنِ الْمُبَارَكِ، وَلَمْ يُوجِبْ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ عَلَيْهِ الْإِعَادَةَ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ الشَّافِعِيُّ: يَجِبُ عَلَيْهِ الْغَسْلُ، وَإِنْ كَانَ أَقَلَّ مِنْ قَدْرِ الدِّرْهَمِ وَشَدَّدَ فِي ذَلِكَ.

اسماء بنت ابی بکر ؓ کہتی ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم ﷺ سے اس کپڑے کے بارے میں پوچھا جس میں حیض کا خون لگ جائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے کھرچ دو، پھر اسے پانی سے مل دو، پھر اس پر پانی بہا دو اور اس میں نماز پڑھو ۔

Sayyidah Asma bint Abu Bakr(RA) reported that a woman asked the Prophet ﷺ the garment on which are stains of blood of menses. He said, "Scratch it (with your finger and rub it with water. Then pour water over it and offer Salah wearing it.

صحيح، ابن ماجة (629)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 138
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- خون کے دھونے کے سلسلے میں اسماء ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ اور ام قیس بنت محصن ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- کپڑے میں جو خون لگ جائے اور اسے دھونے سے پہلے اس میں نماز پڑھ لے … اس کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے ؛ تابعین میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار میں ہو اور دھوے بغیر نماز پڑھ لے تو نماز دہرائے ١ ؎، اور بعض کہتے ہیں کہ جب خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو تو نماز دہرائے ورنہ نہیں، یہی سفیان ثوری اور ابن مبارک کا قول ہے ٢ ؎ اور تابعین وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے نماز کے دہرانے کو واجب نہیں کہا ہے گرچہ خون درہم کی مقدار سے زیادہ ہو، احمد اور اسحاق بن راہویہ یہی کہتے ہیں ٣ ؎، جب کہ شافعی کہتے ہیں کہ اس پر دھونا واجب ہے گو درہم کی مقدار سے کم ہو، اس سلسلے میں انہوں نے سختی برتی ہے ٤ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سنن دارقطنی میں اس سلسلہ میں ابوہریرہ ؓ سے ایک حدیث بھی آئی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں «إذا کان في الثوب قدر الدرهم من الدم غسل الثوب وأعيدت الصلاة» امام بخاری نے اس حدیث کو باطل کہا ہے کیونکہ اس میں ایک راوی روح بن غطیف منکر الحدیث ہے۔ ٢ ؎: اور یہی قول امام ابوحنیفہ کا بھی ہے، وہ کہتے ہیں کہ قلیل نجاست سے بچ پانا ممکن نہیں اس لیے ان لوگوں نے اسے معفوعنہ کے درجہ میں قرار دیا ہے اور اس کی تحدید درہم کی مقدار سے کی ہے اور یہ تحدید انہوں نے مقام استنجاء سے اخذ کی ہے۔ ٣ ؎: ان لوگوں کی دلیل جابر ؓ کی حدیث ہے جس کے الفاظ یہ ہیں «إن النبي صلی اللہ عليه وسلم کان في غزوة ذات الرقاع فرمی رجل بسهم فنزفه الدم فرکع وسجد ومضی في صلاته» لیکن جسم سے نکلنے والے عام خون، اور حیض کے خون میں فرق بالکل ظاہر ہے۔ ٤ ؎: کیونکہ امام شافعی نجاست میں تفریق کے قائل نہیں ہیں، نجاست کم ہو یا زیادہ دونوں صورتوں میں ان کے نزدیک دھونا ضروری ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس سلسلہ میں جو نص ہے ( وہ یہی حدیث ہے ) وہ مطلق ہے اس میں کم و زیادہ کی کوئی تفصیل نہیں اور یہی راجح قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوضوء ٦٣ (٢٢٧)، والحیض ٩ (٣٠٧)، صحیح مسلم/الطہارة ٣٣ (٢٩١)، و ١٣٢ (٢٩١)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٣٢ (٣٦٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٨٥ (٢٩٤)، والحیض ٢٦ (٣٩٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٨ (٦٢٩)، ( تحفة الأشراف: ١٥٧٤٤)، موطا امام مالک/الطہارة ٢٨ (١٠٣)، سنن الدارمی/الطہارة ٨٢ (٧٩٩) (صحیح)
139Sunan At-Tirmidhi

عورتوں کے نفاس کی مدت

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ أَبُو بَدْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ: كَانَتِ النُّفَسَاءُ تَجْلِسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، فَكُنَّا نَطْلِي وُجُوهَنَا بِالْوَرْسِ مِنَ الْكَلَفِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مُسَّةَ الْأَزْدِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَاسْمُ أَبِي سَهْلٍ: كَثِيرُ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل: عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ثِقَةٌ، وَأَبُو سَهْلٍ ثِقَةٌ، وَلَمْ يَعْرِفْ مُحَمَّدٌ هَذَا الْحَدِيثَ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي سَهْلٍ، وَقَدْ أَجْمَعَ أَهْلُ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ عَلَى أَنَّ النُّفَسَاءَ تَدَعُ الصَّلَاةَ أَرْبَعِينَ يَوْمًا، إِلَّا أَنْ تَرَى الطُّهْرَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّهَا تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، فَإِذَا رَأَتِ الدَّمَ بَعْدَ الْأَرْبَعِينَ، فَإِنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: لَا تَدَعُ الصَّلَاةَ بَعْدَ الْأَرْبَعِينَ، وَهُوَ قَوْلُ أَكْثَرِ الْفُقَهَاءِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وَيُرْوَى عَنْ الْحَسَنِ الْبَصْرِيِّ، أَنَّهُ قَالَ: إِنَّهَا تَدَعُ الصَّلَاةَ خَمْسِينَ يَوْمًا إِذَا لَمْ تَرَ الطُّهْرَ وَيُرْوَى عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، وَالشَّعْبِيِّ سِتِّينَ يَوْمًا.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نفاس والی عورتیں چالیس دن تک بیٹھی رہتی تھیں، اور جھائیوں کے سبب ہم اپنے چہروں پر ورس (نامی گھاس ہے) ملتی تھیں۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that woman confined to bed after childbirth stayed apart for forty days during the Prophets ﷺ times and they rubbed a sweet-smelling mixture on their faces because of signs of weariness on them.

حسن صحيح، ابن ماجة (648)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 139
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، اسے ہم صرف ابوسہل ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- صحابہ کرام، تابعین اور ان کے بعد کے لوگوں میں سے تمام اہل علم کا اس امر پر اجماع ہے کہ نفاس والی عورتیں چالیس دن تک نماز نہیں پڑھیں گی۔ البتہ اگر وہ اس سے پہلے پاک ہو لیں تو غسل کر کے نماز پڑھنے لگ جائیں، اگر چالیس دن کے بعد بھی وہ خون دیکھیں تو اکثر اہل علم کا کہنا ہے کہ چالیس دن کے بعد وہ نماز نہ چھوڑیں، یہی اکثر فقہاء کا قول ہے۔ سفیان ثوری، ابن مبارک، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ پچاس دن تک نماز چھوڑے رہے جب وہ پاکی نہ دیکھے، عطاء بن ابی رباح اور شعبی سے ساٹھ دن تک مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ١٢١ (٣١١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٢٨ (٦٤٨)، ( تحفة الأشراف: ١٨٢٨٧)، مسند احمد (٦/٣٠٠، ٣٠٣، ٣٠٤، ٣١٠) (حسن صحیح) (سند میں مُسّہ ازدیہ لین الحدیث یعنی ضعیف ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن صحیح ہے)
140Sunan At-Tirmidhi

کئی بیویوں سے صحبت کے بعد آخر میں ایک ہی غسل کرنا

حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي رَافِعٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَنَسٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَطُوفُ عَلَى نِسَائِهِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، مِنْهُمْ الْحَسَنُ الْبَصْرِيُّ، أَنْ لَا بَأْسَ أَنْ يَعُودَ قَبْلَ أَنْ يَتَوَضَّأَ، وَقَدْ رَوَى مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ هَذَا، عَنْ سُفْيَانَ، فَقَالَ: عَنْ أَبِي عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، عَنْ أَنَسٍ، وَأَبُو عُرْوَةَ هُوَ: مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، وَأَبُو الْخَطَّابِ: قَتَادَةُ بْنُ دِعَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَاهُ بَعْضُهُمْ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ ابْنِ أَبِي عُرْوَةَ، عَنْ أَبِي الْخَطَّابِ، وَهُوَ خَطَأٌ وَالصَّحِيحُ عَنْ أَبِي عُرْوَةَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک ہی غسل میں سبھی بیویوں کا چکر لگا لیتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ used to have intercourse with all his wives and then have a single bath in the end.

صحيح، ابن ماجة (588)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 140
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- انس ؓ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابورافع ؓ سے بھی روایت ہے۔ ٣- بہت سے اہل علم کا جن میں حسن بصری بھی شامل ہیں یہی قول ہے کہ وضو کرنے سے پہلے دوبارہ جماع کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی سب سے صحبت کر کے اخیر میں ایک غسل کرتے تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٩)، سنن النسائی/الطہارة ١٧٠ (٢٦٤)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠١ (٥٨٨)، ( تحفة الأشراف: ١٣٣٦)، مسند احمد (٣/٢٢٥)، وراجع أیضا: صحیح البخاری/الغسل ١٢ (٢٦٨)، و ٢٤ (٢٨٤)، والنکاح ٤ (٥٠٦٨)، و ١٠٢ (٥٢١٥)، سنن ابی داود/ الطہارة ٨٥ (٢١٨) (صحیح)
141Sunan At-Tirmidhi

اگر دوبارہ صحبت کا ارادہ کرے تو وضو کر لے

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَنْ أَبِي الْمُتَوَكِّلِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ أَهْلَهُ ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ بَيْنَهُمَا وُضُوءًا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عُمَرَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ قَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، وقَالَ بِهِ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا جَامَعَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَنْ يَعُودَ فَلْيَتَوَضَّأْ قَبْلَ أَنْ يَعُودَ، وَأَبُو الْمُتَوَكِّلِ اسْمُهُ: عَلِيُّ بْنُ دَاوُدَ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ اسْمُهُ: سَعْدُ بْنُ مَالِكِ بْنِ سِنَانٍ.

ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنی بیوی سے صحبت کرے پھر وہ دوبارہ صحبت کرنا چاہے تو ان دونوں کے درمیان وضو کرلے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Saeed al-Khudri (RA) reported that the Prophet ﷺ said, of you, who has had a sexual intercourse with his wife, intends to repeat it then he must perform ablution between the two acts."

صحيح، ابن ماجة (587)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 141
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عمر ؓ سے بھی روایت آئی ہے، ٢- ابوسعید کی حدیث حسن صحیح ہے، ٣- عمر بن خطاب ؓ کا قول ہے، اہل علم میں سے بہت سے لوگوں نے یہی کہا ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی سے جماع کرے پھر دوبارہ جماع کرنا چاہے تو جماع سے پہلے دوبارہ وضو کرے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض اہل علم نے اسے وضو لغوی پر محمول کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے مراد شرمگاہ دھونا ہے، لیکن ابن خزیمہ کی روایت سے جس میں «فليتوضأ وضوئه للصلاة» آیا ہے اس کی نفی ہوتی ہے، صحیح یہی ہے کہ اس سے وضو لغوی نہیں بلکہ وضو شرعی مراد ہے، جمہور نے «فليتوضأ» میں امر کے صیغے کے استحباب کے لیے مانا ہے، لیکن ظاہر یہ کے نزدیک وجوب کا صیغہ ہے، جمہور کی دلیل عائشہ ؓ کی وہ حدیث ہے جس میں ہے «كان للنبي صلی اللہ عليه وسلم يجامع ثم يعودو لايتوضأ» نیز صحیح ابن خزیمہ میں اس حدیث میں «فإنه أنشط للعود» کا ٹکڑا وارد ہے اس سے بھی اس بات پر دلالت ہوتی ہے کہ امر کا صیغہ یہاں استحباب کے لیے ہے نہ کہ وجوب کے لیے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ٦ (٣٠٨)، سنن ابی داود/ الطہارة ٨٦ (٢٢٠)، سنن النسائی/الطہارة ١٦٩ (٢٦٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٠ (٥٨٧)، ( تحفة الأشراف: ٤٢٥٠)، مسند احمد (٣/٧، ٢١، ٢٨) (صحیح)
142Sunan At-Tirmidhi

اگر نماز کی اقامت ہوجائے اور کسی کو تقاضہ حاجت ہو تو پہلے بیت الخلاء جائے

حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، قَالَ: أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَأَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَدَّمَهُ وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِهِ، وَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمُ الْخَلَاءَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَثَوْبَانَ، وَأَبِي أُمَامَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا رَوَى مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنَ الْحُفَّاظِ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، وَرَوَى وُهَيْبٌ وَغَيْرُهُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَرْقَمِ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، قَالَا: لَا يَقُومُ إِلَى الصَّلَاةِ وَهُوَ يَجِدُ شَيْئًا مِنَ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ، وَقَالَا: إِنْ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفْ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: لَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ وَبِهِ غَائِطٌ أَوْ بَوْلٌ مَا لَمْ يَشْغَلْهُ ذَلِكَ عَنِ الصَّلَاةِ.

عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ارقم ؓ اپنی قوم کے امام تھے، نماز کھڑی ہوئی تو انہوں نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے: جب نماز کے لیے اقامت ہوچکی ہو اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی ضرورت محسوس کرے تو وہ پہلے قضائے حاجت کے لیے جائے ۔

Hisham ibn Urwah reported from his father who reported from Sayyidina Abdullah ibn Arqam (RA).He (Urwah) said, "The iqamah for the Salah was called when he (Abdullah ibn Arqam) held a man between his hand and pulled him forward while he himself was the imam. He said he heard the Allahs Messenger ﷺ say that if the iqamah is called and one has the urge to relieve oneself then one must go to the latrine first."

صحيح، ابن ماجة (616)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 142
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن ارقم ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابوہریرہ، ثوبان اور ابوامامہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور یہی قول نبی اکرم ﷺ کے صحابہ اور تابعین میں کئی لوگوں کا ہے۔ احمد، اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ جب آدمی کو پیشاب پاخانہ کی حاجت محسوس ہو تو وہ نماز کے لیے نہ کھڑا ہو۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وہ نماز میں شامل ہوگیا، پھر نماز کے دوران اس کو اس میں سے کچھ محسوس ہو تو وہ اس وقت تک نماز نہ توڑے جب تک یہ حاجت (نماز سے) اس کی توجہ نہ ہٹا دے۔ بعض اہل علم نے کہا ہے کہ پاخانے یا پیشاب کی حاجت کے ساتھ نماز پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ یہ چیزیں نماز سے اس کی توجہ نہ ہٹا دیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٤٣ (٨٨)، سنن النسائی/الإمامة ٥١ (٨٥٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٤ (٦١٦)، ( تحفة الأشراف: ٥١٤١)، موطا امام مالک/ صلاة السفر ١٧ (٤٩)، مسند احمد (٤/٣٥)، سنن الدارمی/الصلاة ١٣٧ (١٤٦٧) (صحیح)
143Sunan At-Tirmidhi

گرد راہ دھونے کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَتْ: قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ: إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُطَهِّرُهُ مَا بَعْدَهُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَتَوَضَّأُ مِنَ الْمَوْطَإِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، قَالُوا: إِذَا وَطِيءَ الرَّجُلُ عَلَى الْمَكَانِ الْقَذِرِ، أَنَّهُ لَا يَجِبُ عَلَيْهِ غَسْلُ الْقَدَمِ، إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَطْبًا فَيَغْسِلَ مَا أَصَابَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَرَوَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِهُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهُوَ وَهَمٌ، وَلَيْسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ابْنٌ يُقَالَ لَهُ: هُودٌ، وَإِنَّمَا هُوَ: عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَهَذَا الصَّحِيحُ.

عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے کہا: میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پر بھی چلنا ہوتا ہے، (تو میں کیا کروں؟ ) انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اس کے بعد کی (پاک) زمین اسے پاک کردیتی ہے ۔

The slave-girl of Sayyidina Abdur Rahman ibn Awf (RA) narrated that she said to Umm Salamah ﷺ , "I am a woman who has a long dragging shirt and walky places." Sayyidah Umm Salamah ﷺ told her that Allahs Messenger ﷺ had said "That which follows it cleanses it."

صحيح، ابن ماجة (531)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 143
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے بھی روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گندی جگہوں پر سے گزرنے کے بعد پاؤں نہیں دھوتے تھے، ٢- اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ جب آدمی کسی گندے راستے سے ہو کر آئے تو اسے پاؤں دھونے ضروری نہیں سوائے اس کے کہ گندگی گیلی ہو تو ایسی صورت میں جو کچھ لگا ہے اسے دھو لے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٤٠ (٣٨٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٩ (٥٣١)، ( تحفة الأشراف: ١٨٢٩٦)، موطا امام مالک/الطہارة ٤ (١٦)، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٦)، سنن الدارمی/الطہارة ٦٣ (٧٦٩) (صحیح) (سند میں ام ولد عبدالرحمن یا ام ولد ابراہیم بن عبدالرحمن مبہم ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
144Sunan At-Tirmidhi

تیمم کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو حَفْصٍ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ الْفَلَّاسُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِالتَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَابْنِ عَبَّاسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَمَّارٍ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَهُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ عَلِيٌّ، وَعَمَّارٌ، وَابْنُ عَبَّاسٍ وَغَيْرِ وَاحِدٍ مِنَ التَّابِعِينَ، مِنْهُمْ الشَّعْبِيُّ، وَعَطَاءٌ، وَمَكْحُولٌ، قَالُوا: التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، وَبِهِ يَقُولُ أَحْمَدُ، وَإِسْحَاق، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْهُمْ: ابْنُ عُمَرَ، وَجَابِرٌ، وَإِبْرَاهِيمُ، وَالْحَسَنُ، قَالُوا: التَّيَمُّمُ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَضَرْبَةٌ لِلْيَدَيْنِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكٌ، وَابْنُ الْمُبَارَكِ، وَالشَّافِعِيُّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ عَمَّارٍ فِي التَّيَمُّمِ، أَنَّهُ قَالَ: لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَمَّارٍ، أَنَّهُ قَالَ: تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ، فَضَعَّفَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ حَدِيثَ عَمَّارٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، لَمَّا رُوِيَ عَنْهُ حَدِيثُ الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ، قَالَ إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مَخْلَدٍ الْحَنْظَلِيُّ: حَدِيثُ عَمَّارٍ فِي التَّيَمُّمِ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ هُوَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَحَدِيثُ عَمَّارٍ تَيَمَّمْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَالْآبَاطِ لَيْسَ هُوَ بِمُخَالِفٍ لِحَدِيثِ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، لِأَنَّ عَمَّارًا لَمْ يَذْكُرْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُمْ بِذَلِكَ، وَإِنَّمَا قَالَ: فَعَلْنَا كَذَا وَكَذَا فَلَمَّا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ بِالْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، فَانْتَهَى إِلَى مَا عَلَّمَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى ذَلِكَ مَا أَفْتَى بِهِ عَمَّارٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّيَمُّمِ، أَنَّهُ قَالَ: الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، فَفِي هَذَا دَلَالَةٌ أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى مَا عَلَّمَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَّمَهُ إِلَى الْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ، قَالَ: وسَمِعْت أَبَا زُرْعَةَ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الْكَرِيمِ، يَقُولُ: لَمْ أَرَ بِالْبَصْرَةِ أَحْفَظَ مِنْ هَؤُلَاءِ الثَّلَاثَةِ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَابْنِ الشَّاذَكُونِيِّ، وَعَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ الْفَلَّاسِ، قَالَ أَبُو زُرْعَةَ: وَرَوَى عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَلِيٍّ حَدِيثًا.

عمار بن یاسر ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے انہیں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے تیمم کا حکم دیا۔

Sayyidina Ammar ibnYasir "(Ra) reported that the Prophet ﷺ commanded them to make tayammum on their faces and palms.

صحيح، صحيح أبي داود (350 - 353)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 144
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عمار ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- یہی صحابہ کرام میں سے کئی اہل علم کا قول ہے جن میں علی، عمار، ابن عباس ؓ شامل ہیں اور تابعین میں سے بھی کئی لوگوں کا ہے جن میں شعبی، عطاء اور مکحول بھی ہیں، ان سب کا کہنا ہے کہ تیمم چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ہی بار مارنا ہے، اسی کے قائل احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی ہیں، ٤- بعض اہل علم جن میں ابن عمر، جابر ؓ، ابراہیم نخعی اور حسن بصری شامل ہیں کہتے ہیں کہ تیمم چہرہ کے لیے ایک ضربہ اور دونوں ہاتھوں کے لیے کہنیوں تک ایک ضربہ ہے، اس کے قائل سفیان ثوری، مالک، ابن مبارک اور شافعی ہیں، ٥- تیمم کے سلسلہ میں عمار سے یہ حدیث جس میں چہرے اور دونوں ہتھیلیوں کے لیے ایک ضربہ کا ذکر ہے اور بھی کئی سندوں سے مروی ہے، ٦- عمار ؓ سے تیمم کی حدیث میں نقل کیا گیا ہے کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا۔ ٧- بعض اہل علم نے تیمم کے سلسلہ میں عمار کے چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کی تضعیف کی ہے کیونکہ ان سے شانوں اور بغلوں والی حدیث بھی مروی ہے، ٨- اسحاق بن ابراہم مخلد حنظلی (ابن راہویہ) کہتے ہیں کہ چہرہ اور دونوں کہنیوں کے لیے ایک ہی ضربہ والی تیمم کے سلسلہ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٩- عمار ؓ کی حدیث جس میں ہے کہ ہم نے نبی اکرم ﷺ کے ساتھ شانوں اور بغلوں تک تیمم کیا چہرے اور دونوں ہتھیلیوں والی حدیث کے مخالف نہیں کیونکہ عمار ؓ نے یہ ذکر نہیں کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ہمیں اس کا حکم دیا تھا بلکہ انہوں نے صرف اتنا کہا ہے کہ ہم نے ایسا ایسا کیا، پھر جب انہوں نے اس بارے میں نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تو آپ نے انہیں صرف چہرے اور دونوں کا حکم دیا، تو وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی پر رک گئے۔ جس کی نبی اکرم ﷺ نے انہیں تعلیم دی، اس کی دلیل تیمم کے سلسلہ کا عمار ؓ کا وہ فتویٰ ہے جسے انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے بعد دیا ہے کہ تیمم صرف چہرے اور دونوں ہتھیلیوں ہی کا ہے، اس میں اس بات پر دلالت ہے کہ وہ اسی جگہ رک گئے جس کی نبی اکرم ﷺ نے انہیں تعلیم دی ١ ؎ اور آپ نے انہیں جو تعلیم دی تھی وہ چہرے اور دونوں ہتھیلیوں تک ہی محدود تھی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بعض نسخوں میں یہاں سے اخیر تک کا ٹکڑا نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/التیمم ٤ (٣٣٨)، و ٦ (٣٣٩، ٣٤٠، ٣٤١، ٣٤٢)، صحیح مسلم/الحیض ٢٨ (١١٢/٣٦٨)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٢٣ (٣٢٢)، سنن النسائی/الطہارة ١٩٦ (٣١٣)، و ٢٠٠ (٣١٨)، و ٢٠٢ (٣٢٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٩ (٥٦٩)، ( تحفة الأشراف: ١٠٣٦٢)، مسند احمد (٤/٢٦٣، ٢٦٥، ٣١٩، ٣٢٠) (صحیح)
145Sunan At-Tirmidhi

تیمم کے بارے میں

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خَالِدٍ الْقُرَشِيِّ، عَنْ دَاودَ بْنِ حُصَيْنٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ التَّيَمُّمِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ قَالَ فِي كِتَابِهِ حِينَ ذَكَرَ الْوُضُوءَ: فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ سورة المائدة آية 6، وَقَالَ فِي التَّيَمُّمِ: فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ سورة المائدة آية 6، وَقَالَ: وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا سورة المائدة آية 38، فَكَانَتِ السُّنَّةُ فِي الْقَطْعِ الْكَفَّيْنِ، إِنَّمَا هُوَ الْوَجْهُ وَالْكَفَّانِ يَعْنِي التَّيَمُّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عکرمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن عباس ؓ سے تیمم کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا: اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جس وقت وضو کا ذکر کیا تو فرمایا اپنے چہرے کو اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں تک دھوؤ، اور تیمم کے بارے میں فرمایا: اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرو ، اور فرمایا: چوری کرنے والے مرد و عورت کی سزا یہ ہے کہ ان کے ہاتھ کاٹ دو تو ہاتھ کاٹنے کے سلسلے میں سنت یہ تھی کہ (پہنچے تک) ہتھیلی کاٹی جاتی، لہٰذا تیمم صرف چہرے اور ہتھیلیوں ہی تک ہوگا۔

We learn from Yahya ibn Musa who learnt from Saeed ibn Sulayman who from Muhammad ibn Khalid Qarshi who from Dawud ibn Husayn who from lkrimah and he from Ibn Abbas (RA) that the latter was asked about tayammum. He said, "Allah, the Exalted has given the command for ablution in His Book saying: “Wash your faces and your hands up to the elbows” (5: 6) Wipe your faces and hands with it. And Allah said: “And the thief, man or woman, cut off the hands of both” (5:38) It is known from Sunnah that the hand is amputated up to the ankle joint. Hence, tayammum too is of the face and hands (up to joints).

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 145
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٠٧٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن خالد قرشی مجہول ہیں، لیکن یہ مسئلہ دیگر احادیث سے ثابت ہے)۔
146Sunan At-Tirmidhi

اگر کوئی شخص جنبی نہ ہو تو ہر حالت میں قرآن پڑھ سکتا ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ،وَابْنُ أَبِي لَيْلَى، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلِمَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقْرِئُنَا الْقُرْآنَ عَلَى كُلِّ حَالٍ مَا لَمْ يَكُنْ جُنُبًا . قال أبو عيسى: حَدِيثُ عَلِيٍّ هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَبِهِ قَالَ: غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالتَّابِعِينَ، قَالُوا: يَقْرَأُ الرَّجُلُ الْقُرْآنَ عَلَى غَيْرِ وُضُوءٍ وَلَا يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ إِلَّا وَهُوَ طَاهِرٌ، وَبِهِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَالشَّافِعِيُّ، وَأَحْمَدُ، وَإِسْحَاقُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں قرآن پڑھاتے تھے۔ خواہ کوئی بھی حالت ہو جب تک کہ آپ جنبی نہ ہوتے۔

Sayyidina Ali (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ made us recite the Quran in every condition provided one was not sexually defiled.”

ضعيف، ابن ماجة (594)، // ضعيف سنن ابن ماجة (129)، ضعيف أبي داود (39/229) نحوه، المشکاة (460)، الإرواء (192 و 485)، ضعيف سنن النسائي برقم (9/265) وهو في ضعيف ابن ماجة بلفظين هما لا يحجبه - أو يحجزه - عن القرآن شيء إلا الجنابة، ولفظ لا يقرأ القرآن الجنب ولا الحائض //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 146
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- علی ؓ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے ١ ؎، ٢- صحابہ کرام اور تابعین میں سے کئی اہل علم کا یہی قول ہے کہ آدمی وضو کے بغیر قرآن پڑھ سکتا ہے، لیکن مصحف میں دیکھ کر اسی وقت پڑھے جب وہ باوضو ہو۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بلکہ ضعیف ہے جیسا کہ تخریج میں گزرا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٩١ (٢٢٩)، سنن النسائی/الطہارة ١٧١ (٢٦٦، ٢٦٧)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٠٥ (٥٩٤)، ( تحفة الأشراف: ١٠١٨٦) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن سلمہ کا حافظہ آخری دور میں کمزور ہوگیا تھا، اور یہ روایت اسی دور کی ہے)
147Sunan At-Tirmidhi

وہ زمین جس میں پیشاب کیا گیا ہو

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، وَسَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ أَعْرَابِيٌّ الْمَسْجِدَ وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فَصَلَّى، فَلَمَّا فَرَغَ، قَالَ: اللَّهُمَّ ارْحَمْنِي وَمُحَمَّدًا وَلَا تَرْحَمْ مَعَنَا أَحَدًا، فَالْتَفَتَ إِلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: لَقَدْ تَحَجَّرْتَ وَاسِعًا ، فَلَمْ يَلْبَثْ أَنْ بَالَ فِي الْمَسْجِدِ فَأَسْرَعَ إِلَيْهِ النَّاسُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَهْرِيقُوا عَلَيْهِ سَجْلًا مِنْ مَاءٍ أَوْ دَلْوًا مِنْ مَاءٍ ثُمَّ قَالَ: إِنَّمَا بُعِثْتُمْ مُيَسِّرِينَ وَلَمْ تُبْعَثُوا مُعَسِّرِينَ .قَالَ سَعِيدٌ: قَالَ سُفْيَانُ: وَحَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ نَحْوَ هَذَا. قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَوَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَهُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ، وَإِسْحَاق، وَقَدْ رَوَى يُونُسُ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک اعرابی مسجد میں داخل ہوا، نبی اکرم ﷺ بیٹھے ہوئے تھے، اس نے نماز پڑھی، جب نماز پڑھ چکا تو کہا: اے اللہ تو مجھ پر اور محمد پر رحم فرما اور ہمارے ساتھ کسی اور پر رحم مت فرما۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: تم نے ایک کشادہ چیز (یعنی رحمت الٰہی) کو تنگ کردیا ، پھر ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ وہ مسجد میں جا کر پیشاب کرنے لگا، لوگ تیزی سے اس کی طرف بڑھے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس پر ایک ڈول پانی بہا دو، پھر آپ نے فرمایا: تم تو آسانی کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہونا کہ سختی کرنے والے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurairah (RA) narrated that a villager came to the mosque; the Allahs Messenger ﷺ was also sitting there. He offered Salah and prayed: "O Allah have mercy on me and on Muhammad and do not have mercy on anyone else besides us." The Prophet ﷺ turned towards him and said, "You have limited the application of a very large thing (Mercy).” There had not passed enough time when this man passed urine in the mosque. The people towards him, but the Prophet ﷺ said. "Pour a bucket of water over it.” He also said, "Indeed, you are sent only as those who make things easy and not as those who create difficulties."Saeed said that Sufyan and Yahya ibn Saeed also reported a hadith like this (#147) from Malik (RA).

صحيح، ابن ماجة (529) صحيح، صحيح أبي داود تحت الحديث (405)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 147 اس سند سے انس بن مالک سے بھی اسی طرح کی حدیث مروی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 148
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابن عباس اور واثلہ بن اسقع ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- بعض اہل علم کا اسی پر عمل ہے، یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ کا بھی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ نے یہ بات صحابہ سے ان کے اس اعرابی کو پھٹکارنے پر فرمائی، یعنی نرمی سے اس کے ساتھ معاملہ کرو، سختی نہ برتو۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ١٣٨ (٣٨٠)، سنن النسائی/السہو ٢٠ (١٣١٧)، ( تحفة الأشراف: ١٣١٣٩)، مسند احمد (٢/٢٣٩) (صحیح) وراجع أیضا: صحیح البخاری/الوضوء ٥٨ (٢٢٠)، والأدب ٢٧ (٦٠١٠)، و ٨٠ (٦١٢٨)، سنن النسائی/الطہارة ٤٤ (٥٦)، والمیاہ ٢ (٣٣١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٨ (٥٢٩)، مسند احمد (٢/٢٨٣، ٥٠٣)، ( تحفة الأشراف: ١٤١١١، ١٥٠٧٣) صحیح البخاری/الوضوء ٥٦ (٢١٩)، و ٥٧ (٢٢١)، والأدب ٣٥ (٦٠٢٥)، صحیح مسلم/الطہارة ٣٠ (٢٨٤)، سنن النسائی/الطہارة ٤٥ (٥٣، ٥٤، ٥٥)، والمیاہ ٣ (٣٣٠)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ٧٨ (٥٢٨)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٧، ولم یذکر الترمذيَّ )، مسند احمد (٣/١١٠، ١١٤، ١٦٧)، سنن الدارمی/الطھارة ٦٢ (٧٦٧) (صحیح)
26Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ الْمُرِّيِّ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حُوَيْطِبٍ، عَنْ جَدَّتِهِ بِنْتِ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَبِيهَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.

سعید بن زید رضی الله عنہ سے اوپر والی حدیث کے مثل مروی ہے۔

Rabah Bin Abdur-Rahman bin Abu Sufyan bin Huwaitib narrated : the same from his grandmother the daughter of Sa'eed bin Zaid, from her father, from the Prophet.