Sunan At-Tirmidhi 129

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

129Sunan At-Tirmidhi

مستحاضہ ہر نماز کے لئے غسل کرے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّهَا قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ ابْنَةُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَتْ: إِنِّي أُسْتَحَاضُ فَلَا أَطْهُرُ، أَفَأَدَعُ الصَّلَاةَ ؟ فَقَالَ: لَا إِنَّمَا ذَلِكَ عِرْقٌ، فَاغْتَسِلِي ثُمَّ صَلِّي ، فَكَانَتْ تَغْتَسِلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ. قَالَ قُتَيْبَةُ: قَالَ اللَّيْثُ: لَمْ يَذْكُرْ ابْنُ شِهَابٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ أُمَّ حَبِيبَةَ أَنْ تَغْتَسِلَ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَلَكِنَّهُ شَيْءٌ فَعَلَتْهُ هِيَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَيُرْوَى هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: اسْتَفْتَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ بِنْتُ جَحْشٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ قَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: الْمُسْتَحَاضَةُ تَغْتَسِلُ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ، وَرَوَى الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، وَعَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ ام حبیبہ بنت حجش نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا اور کہا کہ مجھے استحاضہ کا خون آتا ہے اور میں پاک نہیں رہ پاتی ہوں۔ تو کیا میں نماز چھوڑ دوں؟ آپ نے فرمایا: نہیں، یہ تو محض ایک رگ ہے، لہٰذا تم غسل کرو پھر نماز پڑھو ، تو وہ ہر نماز کے لیے غسل کرتی تھیں۔ ابن شہاب زہری نے اس کا ذکر نہیں کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ام حبیبہ ؓ کو ہر نماز کے وقت غسل کرنے کا حکم دیا، بلکہ یہ ایسا عمل تھا جسے وہ اپنے طور پر کیا کرتی تھیں ١ ؎۔

Sayyidah Aisha (RA) narrated that Sayyidah Umm Habibah blnt Jahsh (RA) said to Allahs Messenger ﷺ , "O Messenger of Allah! ﷺ I get menstruation but never ‘ get purified. Shall I abandon Salah?" He said, "No! This is a vein. Have a bath and offer Salah." Then she had a bath for every Salah.

صحيح، ابن ماجة (626)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 129
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- نیز یہ حدیث زہری سے «عن عمرة عن عائشہ» کے طریق سے بھی روایت کی جاتی ہے کہ ام حبیبہ بنت جحش نے رسول اللہ ﷺ سے مسئلہ پوچھا، ٢- بعض اہل علم نے کہا ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے وقت غسل کرے گی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی بھی صحیح روایت میں نہیں آتا کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ام حبیبہ ؓ کو ہر نماز کے لیے غسل کا حکم دیا تھا، جو روایتیں اس بارے میں ہیں سب ضعیف ہیں، صحیح بات یہی ہے کہ وہ بطور خود ( استحبابی طور سے ) ہر نماز کے لیے غسل کیا کرتی تھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الحیض ١٤ (٣٣٤)، سنن ابی داود/ الطہارة ١٠٨ (٢٧٩)، و ١١١ (٢٨٨)، سنن النسائی/الطہارة ١٣٤ (٢٠٧)، والحیض ٣ (٣٥٣)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١١٦ (٦٢٦)، ( تحفة الأشراف: ١٦٥٨٣)، مسند احمد (٦/٨٣، ١٤١، ١٨٧)، سنن الدارمی/الطہارة ٨٣ (٨٠٥) (صحیح)