Sunan At-Tirmidhi 133

طہارت جو مروی ہیں رسول اللہ ﷺ سے

133Sunan At-Tirmidhi

جنبی اور حائضہ کے ساتھ کھانا اور ان کے جھوٹا

حَدَّثَنَا عَبَّاسٌ الْعَنْبَرِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ حَرَامِ بْنِ مُعَاوِيَةَ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ مُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ، فَقَالَ: وَاكِلْهَا . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ، وَأَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَهُوَ قَوْلُ عَامَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ لَمْ يَرَوْا بِمُوَاكَلَةِ الْحَائِضِ بَأْسًا، وَاخْتَلَفُوا فِي فَضْلِ وَضُوئِهَا، فَرَخَّصَ فِي ذَلِكَ بَعْضُهُمْ، وَكَرِهَ بَعْضُهُمْ فَضْلَ طَهُورِهَا.

عبداللہ بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے حائضہ کے ساتھ کھانے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اس کے ساتھ کھاؤ ١ ؎۔

Haram ibn Muawiyah reported that his uncle Abdullah ibn Sad narrated that he asked the Prophet ﷺ about eating with a menstruating woman, He said, "Eat with her!

صحيح، ابن ماجة (651)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 133
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن سعد ؓ کی حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں عائشہ اور انس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اکثر اہل علم کا یہی قول ہے: یہ لوگ حائضہ کے ساتھ کھانے میں کوئی حرج نہیں جانتے۔ البتہ اس کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے سلسلہ میں ان میں اختلاف ہے۔ بعض لوگوں نے اس کی اجازت دی ہے اور بعض نے اس کی طہارت سے بچے ہوئے پانی کو مکروہ کہا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث آیت کریمہ: «فاعتزلوا النساء في المحيض» (البقرة: 222 ) کے معارض نہیں کیونکہ آیت میں جدا رہنے سے مراد وطی سے جدا رہنا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ٨٣ (٢١١)، سنن ابن ماجہ/الطہارة ١٣٠ (٦٥١)، ( تحفة الأشراف: ٥٣٢٦)، مسند احمد (٥/٢٩٣) (صحیح)