انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے میرے بیٹے! نماز میں ادھر ادھر (گردن موڑ کر) دیکھنے سے بچو، نماز میں گردن موڑ کر ادھر ادھر دیکھنا ہلاکت ہے، اگر دیکھنا ضروری ہی ٹھہرے تو نفل نماز میں دیکھو، نہ کہ فرض میں ۔
Sayyidina Anas narrated that Allah’s Messenger said. “O my son! Refrain from looking here and there during salah, for, glancing sideways in prayer destroys. But, if you must then do it in the optional (salah), not during the prescribed.” --------------------------------------------------------------------------------
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نماز میں ادھر ادھر (گردن موڑ کر) دیکھنے کے بارے میں پوچھا تو آپ نے کہا: یہ تو اچک لینا ہے، شیطان آدمی کی نماز اچک لیتا ہے ۔
Sayyidah Aisha (RA) reported that she asked Allah’s Messenger ﷺ about looking sideways during prayer. He said, “That is pilferage. The devil steals from man’s salah.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الإرواء (370)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 590
علی اور معاذ بن جبل ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے آئے اور امام جس حالت میں ہو تو وہ وہی کرے جو امام کر رہا ہو ۔
Sayyidina Muadh ibn Jabal narrated that Allah’s Messenger ﷺ said: When one of you comes to the prayer and the imam is in a particular position then let him do as the imam does.” [Ahmed22650, Bukhari 637, Muslim 604, Abu Dawud 539, Nisai 683] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (522)، الصحيحة (1188)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 591
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم کسی کو نہیں جانتے جس نے اسے مسند کیا ہو سوائے اس کے جو اس طریق سے مروی ہے، ٢- اسی پر اہل علم کا عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں کہ جب آدمی آئے اور امام سجدے میں ہو تو وہ بھی سجدہ کرے، لیکن جب امام کے ساتھ اس کا رکوع چھوٹ گیا ہو تو اس کی رکعت کافی نہ ہوگی۔ عبداللہ بن مبارک نے بھی اسی کو پسند کیا ہے کہ امام کے ساتھ سجدہ کرے، اور بعض لوگوں سے نقل کیا کہ شاید وہ اس سجدے سے اپنا سر اٹھاتا نہیں کہ بخش دیا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٣٠٦، ١١٣٤٥) (صحیح) (سند میں حجاج بن ارطاة کثیر الخطأ راوی ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو تم اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک کہ مجھے نکل کر آتے نہ دیکھ لو ۔
Abdullah ibn Abu Qatadah reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the iqamah is called out, you should not stand up till you see me come out.” [Ahmed 22650, Bukhari 637, Muslim 604, Abu Dawud 539, Nisai 683]
صحيح، صحيح أبي داود (550)، الروض النضير (183)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 592
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوقتادہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے، لیکن ان کی حدیث غیر محفوظ ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے لوگوں کے کھڑے ہو کر امام کا انتظار کرنے کو مکروہ کہا ہے، ٤- بعض کہتے ہیں کہ جب امام مسجد میں ہو اور نماز کھڑی کردی جائے تو وہ لوگ اس وقت کھڑے ہوں جب مؤذن «قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة» کہے، ابن مبارک کا یہی قول ہے۔
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا، اور نبی اکرم ﷺ موجود تھے، ابوبکر اور عمر ؓ (بھی) آپ کے ساتھ تھے، جب میں (قعدہ اخیرہ میں) بیٹھا تو پہلے میں نے اللہ کی تعریف کی پھر نبی اکرم ﷺ پر درود بھیجا، پھر اپنے لیے دعا کی، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مانگو، تمہیں دیا جائے گا، مانگ تمہیں دیا جائے گا ۔
Sayyidina Abdullah (RA) said that he was engaged in salah while the Prophet ﷺ was sitting. Abu Bakr (RA) and Umar were with him. He said. “When I sat down, I began with chanting the glory of Allah followed by invocation of blessing on the Prophet ﷺ UI-”. Then I prayed for myself. The Prophet ﷺ UI-. said: Ask and you will be given. Ask and you will be given.” [Ahmed3662] --------------------------------------------------------------------------------
حسن صحيح صفة الصلاة، تخريج المختارة (255)، المشکاة (931)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 593
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں فضالہ بن عبید ؓ سے روایت ہے، ٣- یہ حدیث احمد بن حنبل نے یحییٰ بن آدم سے مختصراً روایت کی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے محلوں میں مسجد بنانے، انہیں صاف رکھنے اور خوشبو سے بسانے کا حکم دیا ہے۔
Sayyidah Aisha (RA) said that the Prophet ﷺ ordered that mosques should be built in neighbourhoods. They should be kept clean and perfumed. [Ahmed26446, Abu Dawud 455, Ibn e Majah 758] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (759)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 594
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٣ (٤٥٥)، سنن ابن ماجہ/المساجد ٩ (٧٥٨، ٧٥٩)، ( تحفة الأشراف: ١٦٩٦٢)، مسند احمد (٦/١٢، ٢٧١) (صحیح)
اس سند سے بھی ہشام بن عروہ نے اپنے باپ عروہ سے روایت کی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا، آگے اسی طرح کی حدیث انہوں نے ذکر کی۔ سفیان کہتے ہیں: دور یا محلوں میں مسجدیں بنانے سے مراد قبائل میں مسجدیں بنانا ہے۔
Ibn Abu Umar also reported a hadith like it from Sufyan ibn Uyaynah from Hisham ibn Urwah who from his father. Sufyan said that the Prophet ﷺ commanded that mosque be built in distant residences of the tribes.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رات اور دن کی نماز دو دو رکعت ہے ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated that the Prophet ﷺ said, ‘The (optional) prayer during day and night is in two’s.” [Ahmed4791, Abu Dawud 1295, Nisai 1665, Ibn e Majah 1322] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (1322)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 597
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عمر ؓ کی حدیث میں شعبہ کے تلامذہ میں اختلاف ہے، بعض نے اسے مرفوعاً بیان کیا ہے اور بعض نے موقوفاً، ٢- عبداللہ عمری بطریق: «نافع عن ابن عمر عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کی ہے۔ صحیح وہی ہے جو ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: رات کی نماز دو دو رکعت ہے ، ٣- ثقات نے عبداللہ بن عمر ؓ کے واسطے سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، اس میں ان لوگوں نے دن کی نماز کا ذکر نہیں کیا ہے ١ ؎، ٤- عبیداللہ سے مروی ہے، انہوں نے نافع سے، اور نافع نے ابن عمر ؓ سے روایت کی ہے کہ وہ رات کو دو دو رکعت پڑھتے تھے اور دن کو چار چار رکعت، ٥- اس مسئلہ میں اہل علم میں اختلاف ہے بعض کہتے ہیں رات اور دن دونوں کی نماز دو دو رکعت ہے، یہی شافعی اور احمد کا قول ہے، اور بعض کہتے ہیں: رات کی نماز دو دو رکعت ہے، ان کی رائے میں دن کی نفل نماز چار رکعت ہے مثلاً ظہر وغیرہ سے پہلے کی چار نفل رکعتیں، سفیان ثوری، ابن مبارک، اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: علامہ البانی نے ابن عمر ؓ کی اس حدیث کی تصحیح بڑے بڑے ائمہ سے نقل کی ہے ( دیکھئیے صحیح ابی داود رقم ١١٧٢) آپ کے عمل سے دونوں طرح ثابت ہے، کبھی دو دو کر کے پڑھتے اور کبھی چار ایک سلام سے، لیکن اس قولی صحیح حدیث کی بنا پر دن کی بھی نماز دو دو رکعت کر کے پڑھنا افضل ہے، ظاہر بات ہے کہ دو سلام میں اوراد و اذکار زیادہ ہیں، تو افضل کیوں نہیں ہوگا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٣٠٢ (١٢٩٥)، سنن النسائی/قیام اللیل ٢٦ (١٦٧٨)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٧٢ (١٣٢٢)، ( تحفة الأشراف: ٧٣٤٩)، مسند احمد (٢/٢٦، ٥١)، سنن الدارمی/الصلاة ١٥٥ (١٥٠٠) (صحیح)
عاصم بن ضمرہ کہتے ہیں کہ ہم نے علی ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے دن کی نماز کے بارے میں پوچھا؟ تو انہوں نے کہا: تم اس کی طاقت نہیں رکھتے، اس پر ہم نے کہا: ہم میں سے کون اس کی طاقت رکھتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ جب سورج اس طرف (یعنی مشرق کی طرف) اس طرح ہوجاتا جیسے کہ عصر کے وقت اس طرف (یعنی مغرب کی طرف) ہوتا ہے تو دو رکعتیں پڑھتے، اور جب سورج اس طرف (مشرق میں) اس طرح ہوجاتا جیسے کہ اس طرف (مغرب میں) ظہر کے وقت ہوتا ہے تو چار رکعت پڑھتے، اور چار رکعت ظہر سے پہلے پڑھتے اور دو رکعت اس کے بعد اور عصر سے پہلے چار رکعت پڑھنے، ہر دو رکعت کے درمیان مقرب فرشتوں اور انبیاء و رسل پر اور مومنوں اور مسلمانوں میں سے جن لوگوں نے ان کی پیروی کی ہے ان پر سلام پھیر کر فصل کرتے۔
Aasim ibn Damrah said that he asked Sayyidina Ali about the Prophet’s ﷺ salah by day. He said, “You cannot endure that much.” They said, ‘Suppose, one among us will endure that much?” So, he said, “When the sun was from here (the east) so far as it is from here (the west), at the time of asr, he prayed two raka’at. And when it was from here (east) as it is from here (west) at the time of zuhr, he offered four raka’at. And he prayed four raka’at before zuhr and two after zuhr, and before asr, four raka’at, separating every two raka’at with salutation to the angels, the near ones, the Prophets, the Messengers and those of the Believers and Muslims who followed them.”
حسن، ابن ماجة (1161)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 598
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الإمامة ٦٥ (٨٧٤، ٨٧٥)، ( تحفة الأشراف: ١٠١٣٧)، مسند احمد (١/٨٥، ١٤٢، ١٦٠)، وانظر أیضا ما تقدم برقم ٤٢٤، و ٤٢٩) (حسن)
اس سند سے بھی علی ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح روایت کرتے ہیں۔
Muhammad ibn Mathna reported from Muhammad ibn Ja’far who from Shu’bah who from Abu lshaq who from Aasim ibn Damrah who from Sayyidina Ali a hadith like it from the Prophet ﷺ --------------------------------------------------------------------------------
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اسحاق بن ابراہیم بن راہویہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے دن کی نفل نماز کے سلسلے میں مروی چیزوں میں سب سے بہتر یہی روایت ہے، ٣- عبداللہ بن مبارک اس حدیث کو ضعیف قرار دیتے تھے۔ اور ہمارے خیال میں انہوں نے اسے صرف اس لیے ضعیف قرار دیا ہے کہ اس جیسی حدیث نبی اکرم ﷺ سے صرف اسی سند سے۔ (یعنی: عاصم بن ضمرہ کے واسطے سے علی ؓ سے) مروی ہے، ٤- سفیان ثوری کہتے ہیں: ہم عاصم بن ضمرہ کی حدیث کو حارث (اعور) کی حدیث سے افضل جانتے تھے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں: رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کی چادروں میں نماز نہیں پڑھتے تھے۔
Sayyidah Aisha (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ did not pray in the outer covering of his wives. [Ahmed25033, Abu Dawud 367, Nisai 5381] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، صحيح أبي داود (391)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 600
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- نبی اکرم ﷺ سے اس کی اجازت بھی مروی ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایسے کپڑوں میں نماز نہ پڑھنا صرف احتیاط کی وجہ سے تھا، عدم جواز کی وجہ سے نہیں، یہی وجہ ہے کہ جب نبی اکرم ﷺ کو جس کپڑے کے متعلق پختہ یقین ہوتا کہ وہ نجس نہیں ہے، اس میں نماز پڑھتے تھے جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں مروی ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں گھر آئی، رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا، تو آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھولا۔ پھر اپنی جگہ لوٹ گئے، اور انہوں نے بیان کیا کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) said : “I came while Allah’s Messenger ﷺ was offering salah at home with the door latched. So, he walked to it till he opened it and then returned to his place.” She described that the door was in the direction of the qiblah.” [Ahmed74082, Abu Dawud 922, Nisai 1205] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، صحيح أبي داود (855)، المشکاة (1005)، الإرواء (386)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 601
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سنت و نفل کے اندر اس طرح سے چلنا کہ قبلہ سے انحراف واقع نہ ہو جائز ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ١٦٩ (٩٢٢)، سنن النسائی/السہو ١٤ (١٢٠٧)، ( تحفة الأشراف: ١٦٤١٧)، مسند احمد (٦/١٨٣، ٢٣٤٠) (حسن)
ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں: ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود ؓ سے لفظ «غَيْرِ آسِنٍ» یا «يَاسِنٍ» کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا: کیا تم نے اس کے علاوہ پورا قرآن پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، انہوں نے کہا: ایک قوم اسے ایسے پڑھتی ہے جیسے کوئی خراب کھجور جھاڑ رہا ہو، یہ ان کے گلے سے آگے نہیں بڑھتا، میں ان متشابہ سورتوں کو جانتا ہوں جنہیں رسول اللہ ﷺ ملا کر پڑھتے تھے۔ ابو وائل کہتے ہیں: ہم نے علقمہ سے پوچھنے کے لیے کہا تو انہوں نے ابن مسعود ؓ سے پوچھا: انہوں نے بتایا کہ یہ مفصل کی بیس سورتیں ہیں ١ ؎ نبی اکرم ﷺ ہر رکعت میں دو دو سورتیں ملا کر پڑھتے تھے۔
A’mash said that he heard Abu Wail say that a man asked Abdullah about the word “Ghairi Aasin” or “Yasin”. He asked, “Have you read the whole Qur’an besides it.” He said, “Yes!” Abdullah ibn Mas’ud (RA) remarked, “Some people recite the Qur’an as though they scatter rotten dates. They do not get the Qur’an below their throats (meaning it has no effect on them). I know of such mutashbihaat surah (whose definite meanings are not known) which the Prophet ﷺ recited together.” [Ahmed3607,8 4995, Muslim 822, Nisai 1000] The subnarattor said that they asked Alqamah, so he asked lbn Mas’ud about these surah. So, he said, “They are twenty surah of Mufassal which the Prophet ﷺ recited two together in one raka’ah.”
صحيح، صحيح أبي داود (1262)، صفة الصلاةصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 602
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جب آدمی وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر نماز کے لیے نکلے، اور اسے صرف نماز ہی نے نکالا، یا کہا اٹھایا ہو، تو جو بھی قدم وہ چلے گا، اللہ اس کے بدلے اس کا درجہ بڑھائے گا، یا اس کے بدلے اس کا ایک گناہ کم کرے گا ۔
Sayyidina Abu Hurairah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, When a man makes ablution, and makes it well, and goes out to prayer, nothing besides prayer getting him out, or urging him on, then he will not take a step but Allah will raise against it a rank for him and erase from him a sin.” [Ahmed7434, Ibn e Majah 774] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (774)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 603
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المساجد ١٤ (٧٧٤) (تحفة الأشراف: ١٢٤٠٥) (صحیح)
کعب بن عجرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے بنی عبدالاشہل کی مسجد میں مغرب پڑھی، کچھ لوگ نفل پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: تم لوگ اس نماز کو گھروں میں پڑھنے کو لازم پکڑو ۔
Sa’eed ibn Ishaq ibn Kab ibn Ujrah reported on the authority of his father who from his grandfather that the Prophet ﷺ prayed in Masjid Banu Abdul Ashhal the salah of maghrib. Some people stood up to offer the supererogatory salah. So, he said, You should pray this salah at home.” [Ahmed23685, Abu Dawud 1300, Nisai 1596] --------------------------------------------------------------------------------
حسن، ابن ماجة (1165)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 604
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث کعب بن عجرہ کی روایت سے غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اور صحیح وہ ہے جو ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ مغرب کے بعد دو رکعتیں اپنے گھر میں پڑھتے تھے، ٣- حذیفہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب پڑھی تو آپ برابر مسجد میں نماز ہی پڑھتے رہے جب تک کہ آپ نے عشاء نہیں پڑھ لی۔ اس حدیث میں اس بات کی دلالت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے مغرب کے بعد دو رکعت مسجد میں پڑھی ہے ١ ؎۔
قیس بن عاصم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے اسلام قبول کیا، تو نبی اکرم ﷺ نے انہیں پانی اور بیری سے غسل کرنے کا حکم دیا۔
Sayyidina Qays ibn Aasim said that when he embraced Islam, the Prophet ﷺ commanded him to have bath with water and leaves of lot-tree. [Ahmed20635, Abu Dawud 355, Nisai 188j
صحيح تخريج المشکاة (543)، صحيح أبي داود (381)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 605
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے۔ ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اور اسی پر اہل علم کا عمل ہے، وہ کہتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ آدمی جب اسلام قبول کرے تو غسل کرے اور اپنے کپڑے دھوئے، ٣- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الطہارة ٩ (٢٩٧)، ( تحفة الأشراف: ١٠٣١٢) (صحیح)
علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنوں کی آنکھوں اور انسان کی شرمگاہوں کے درمیان کا پردہ یہ ہے کہ جب ان میں سے کوئی پاخانہ جائے تو وہ بسم اللہ کہے ۔
Sayyidina Ali bin Abu Talib narrated that Allah’s Messenger ﷺ said. “The screen between the eyes of Jinns and the private parts of the children of Adam is that when one of them enters the latrine, he should say Bismillah.’ [Ibn e Majah 697]
صحيح، ابن ماجة (297)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 606
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ٢- اس سلسلہ کی بہت سی چیزیں انس ؓ کے واسطے سے بھی نبی اکرم ﷺ سے مروی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الطہارة ١٣١ (٣٥٥)، سنن النسائی/الطہارة ١٢٦ (١٨٨)، سنن ابن ماجہ/الطھارة ٩ (٢٩٧)، ( تحفة الأشراف: ١١١٠٠)، مسند احمد (٥/٦١) (صحیح) (شواہد کی بناء پر یہ حدیث صحیح لغیرہ ہے، ورنہ اس کے تین راوی: ابواسحاق، حکم بن عبداللہ، اور محمد بن حمید رازی میں کلام ہے، دیکھیے الإروائ: ٥٠)
عبداللہ بن بسر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: قیامت کے دن میری امت کی پیشانی سجدے سے اور ہاتھ پاؤں وضو سے چمک رہے ہوں گے ۔
Sayyidinah Abdullah ibn narrated that Allah’s Messenger ﷺ said: “On the Day of Resurrection, the faces of my ummah’wiJl shine because of sajdah and their hands and feet because of ablution.” [Ahmed17709] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح الضعيفة تحت الحديث (1030)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 607
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
عبداللہ بن بسر ؓ کی روایت سے یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب وضو کرتے تو اپنی وضو میں اور جب کنگھی کرتے تو کنگھی کرنے میں اور جب جوتا پہنتے تو جوتا پہنے میں داہنے (سے شروع کرنے) کو پسند فرماتے تھے۔
Sayyidah Aisha (RA) said that Allah’s Messenger ﷺ liked to begin with his right side in purification, combing his hair and putting on his shoes. [Ahmed24681, Bukhari 168, Muslim 268, Abu Dawud 4140, Nisai 112, Ibn e Majah 40]
صحيح، ابن ماجة (401)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 608