نفل نماز میں چلنا جائز ہے
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، عَنْ بُرْدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: جِئْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي الْبَيْتِ، وَالْبَاب عَلَيْهِ مُغْلَقٌ، فَمَشَى حَتَّى فَتَحَ لِي ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ . وَوَصَفَتِ الْبَاب فِي الْقِبْلَةِ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں گھر آئی، رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ بند تھا، تو آپ چل کر آئے اور میرے لیے دروازہ کھولا۔ پھر اپنی جگہ لوٹ گئے، اور انہوں نے بیان کیا کہ دروازہ قبلے کی طرف تھا ١ ؎۔
Sayyidah Aisha (RA) said : “I came while Allah’s Messenger ﷺ was offering salah at home with the door latched. So, he walked to it till he opened it and then returned to his place.” She described that the door was in the direction of the qiblah.” [Ahmed74082, Abu Dawud 922, Nisai 1205] --------------------------------------------------------------------------------