Sunan At-Tirmidhi 592

سفرکا بیان

592Sunan At-Tirmidhi

نماز کے وقت لوگوں کا کھڑے ہو کر امام کا اتنظار کرنا مکروہ ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا أُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَلَا تَقُومُوا حَتَّى تَرَوْنِي خَرَجْتُ . قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَحَدِيثُ أَنَسٍ غَيْرُ مَحْفُوظٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ أَبِي قَتَادَةَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ كَرِهَ قَوْمٌ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ أَنْ يَنْتَظِرَ النَّاسُ الْإِمَامَ وَهُمْ قِيَامٌ. وقَالَ بَعْضُهُمْ: إِذَا كَانَ الْإِمَامُ فِي الْمَسْجِدِ فَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَإِنَّمَا يَقُومُونَ إِذَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ: قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ. قَدْ قَامَتِ الصَّلَاةُ، وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ.

ابوقتادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب نماز کی اقامت کہہ دی جائے تو تم اس وقت تک نہ کھڑے ہو جب تک کہ مجھے نکل کر آتے نہ دیکھ لو ۔

Abdullah ibn Abu Qatadah reported on the authority of his father that Allah’s Messenger ﷺ said, “When the iqamah is called out, you should not stand up till you see me come out.” [Ahmed 22650, Bukhari 637, Muslim 604, Abu Dawud 539, Nisai 683]

صحيح، صحيح أبي داود (550)، الروض النضير (183)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 592
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوقتادہ ؓ کی حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ؓ سے بھی روایت ہے، لیکن ان کی حدیث غیر محفوظ ہے، ٣- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اہل علم کی ایک جماعت نے لوگوں کے کھڑے ہو کر امام کا انتظار کرنے کو مکروہ کہا ہے، ٤- بعض کہتے ہیں کہ جب امام مسجد میں ہو اور نماز کھڑی کردی جائے تو وہ لوگ اس وقت کھڑے ہوں جب مؤذن «قد قامت الصلاة قد قامت الصلاة» کہے، ابن مبارک کا یہی قول ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٢٢ (٦٣٧)، و ٢٣ (٦٣٨)، والجمعة ١٨ (٩٠٩)، صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٤)، سنن ابی داود/ الصلاة ٤٦ (٥٣٩)، سنن النسائی/الأذان ٤٢ (٦٨٨)، والإمامة ١٢ (٧٩١)، ( تحفة الأشراف: ١٢١٠٦)، مسند احمد (٥/٣٠٤، ٣٠٧، ٣٠٨)، سنن الدارمی/الصلاة ٤٧ (١٢٩٦) (صحیح)