Explained with ayahs 102–104
صور کیا ہے ؟
رسول اللہ ﷺ سے سوال ہوتا ہے کہ صور کیا چیز ہے ؟ آپ نے فرمایا وہ ایک قرن ہے جو پھونکا جائے گا۔ اور حدیث میں ہے کہ اس کا دائرہ بقدر آسمانوں اور زمینوں کے ہے حضرت اسرافیل ؑ اسے پھونکیں گے۔ اور روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا میں کیسے آرام حاصل کروں حالانکہ صور پھونکنے والے فرشتے نے صور کا لقمہ بنالیا ہے پیشانی جھکا دی ہے اور انتظار میں ہے کہ کب حکم دیا جائے۔ لوگوں نے کہا پھر حضور ﷺ ہم کیا پڑھیں ؟ فرمایا کہو (وَّقَالُوْا حَسْبُنَا اللّٰهُ وَنِعْمَ الْوَكِيْلُ01703) 3۔ آل عمران :173)۔ اس وقت تمام لوگوں کا حشر ہوگا کہ مارے ڈر اور گھبراہٹ کے گنہگاروں کی آنکھیں ٹیڑھی ہو رہی ہوں گی۔ ایک…
Read the full tafseer →سورة طٰهٰ 78
صَور، یعنی نر سنگھا، قرناء، یا بوق۔ آج کل اسی چیز کا قائم مقام بگل ہے جو فوج کو جمع یا منتشر کرنے اور ہدایات دینے کے لیے بجایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنی کائنات کے نظم کو سمجھانے کے لیے وہ الفاظ اور اصطلاحیں استعمال فرماتا ہے جو خود انسانی زندگی میں اسی سے ملتے جلتے نظم کے لیے استعمال ہوتی ہیں ان الفاظ اور اصطلاحوں کے استعمال سے مقصود ہمارے تصور کو اصل چیز کے قریب لے جانا ہے، نہ یہ کہ ہم سلطنت الہٰی کے نظم کی مختلف چیزوں کو بعینہ ان محدود معنوں میں لے لیں، اور ان محدود صورتوں کی چیزیں سمجھ لیں جیسی کہ وہ ہماری زندگی میں پائی جاتی ہیں۔ قدیم زمانے سے آج تک لوگوں کو جمع کرنے اور اہم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ ، حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ ایک گاؤں والے نے رسول اللہ ﷺ سے یہ سوال کیا کہ صور کیا چیز ہے تو آپ نے فرمایا کہ ایک سینگ ہے جس میں پھونک ماری جائے گی، مراد یہ ہے کہ سینگ کی طرح کی کوئی چیز ہے جس میں فرشتہ کی پھونک مارنے کا پوری دنیا پر یہ اثر ہوگا کہ سب مردے زندہ ہو کر کھڑے ہوجاویں گے حقیقت اس صور کی اللہ تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 102
رزق، ازرق کی جمع ہے۔ ازرق نیلگوں چشم کو کہتے ہیں لیکن عربی محاورہ میں یہ خوف زدہ اور دہشت گردی آدمی کے لئے بھی آتا ہے اس لئے کہ شدت خوف کی حالت میں آنکھیں نیلی پڑجایا کرتی ہیں اور ان کے سرخ ڈورے غائب ہوجاتے ہیں۔
اوپر والی آیت میں جس قیامت کا ذکر ہے یہ اس کی تصویر ہے کہ اس دن کو یاد کرو جس دن صور پھونکا جائے گا یہ مجہول کا صیغہ اس کی ہولناکی کی تعبیر کے لئے ہے کہ ایک ہولناک آواز ایک ہلچل تو برپا کر دے گی لیکن یہ کسی کو معلوم نہیں ہوگا کہ یہ آواز کہاں سے آرہی ہے۔ فرمایا کہ اس دن ہم ان تمام مجرموں کو جو ہماری اس یاد دہانی سے برگشتہ ہیں اور دوسروں کو بھی برگشتہ کر رہے ہیں اکٹھا کریں گے…
Read the full tafseer →12۔ 1 صور سے مراد وہ (نرسنگا) ہے، جس میں اسرافیل ؑ اللہ کے حکم سے پھونک ماریں گے تو قیامت برپا ہوجائے گی، حضرت اسرافیل ؑ کے پہلے پھونکنے سے سب پر موت طاری ہو جائیگی، اور دوسرے پھونکنے سے بحکم الٰہی سب زندہ اور میدان محشر میں جمع ہوجائیں گے۔ آیت میں یہی دوسرا پھونکنا مراد ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
43: حضرت موسیٰ ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں بتایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر اس جیسے واقعات کا جاری ہونا جبکہ آپ امی ہیں، اور آپ کے پاس ان معلومات کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اور جو آیات آپ تلاوت کر رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نازل فرمائی ہوئی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
درس نمبر 931 ایک نظر میں
سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔
اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے ، ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے…
Read the full tafseer →5 یعنی محشر میں لائے جانے کے وقت اندھے ہوں گے۔ یا شاید یوں ہی آنکھیں نیلی ہوں بدنمائی کے واسطے، بہرحال اگر پہلے معنی لیے جائیں تو یہ ایک خاص وقت کا ذکر ہے۔ پھر آنکھیں کھول دی جائیں گی تاکہ دوزخ وغیرہ کو دیکھ سکیں۔ (وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا وَلَمْ يَجِدُوْا عَنْهَا مَصْرِفًا) 18 ۔ الکہف :53) (اَسْمِعْ بِهِمْ وَاَبْصِرْ ۙيَوْمَ يَاْتُوْنَنَا لٰكِنِ الظّٰلِمُوْنَ الْيَوْمَ فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ ) 19 ۔ مریم :38)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
آیت 102 یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَءِذٍ زُرْقًا ”
انتہائی خوف کی کیفیت میں انسان کی آنکھوں میں نیلاہٹ پیدا ہوجاتی ہے۔ چناچہ اس دن خوف اور دہشت سے مجرموں کی آنکھیں نیلی پڑچکی ہوں گی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
71 صور کے معنی قرنامد، نرسنگھا اور بوق ہے اور یہ چیزیں دور نبوی ﷺ میں رائج تھیں۔ ضروری نہیں کہ صور کی بھی یہی شکل و صورت ہو بلکہ قرآن ایسے لفظ استعمال کرتا ہے۔ جس سے انسانی ذہن اس اصل چیز سے قریب تر کسی چیز سے متعارف ہو۔ بعد میں اس غرض کے لئے فوج میں بگل استعمال ہوتا ہے جس سے لشکر کو اکٹھا یا منشتشر کیا جاتا ہے۔ ہوائی حملہ کے خطرہ کے دوران سائرن بھی اسی سے ملتی جلتی چیز ہے۔ روزہ کو بند کرنے اور کھولنے کے وقت بھی سائرن کا استعمال ہوتا ہے۔ بس اسی سے ملتی جلتی یا اس سے بھی ترقی یافتہ شکل نفخہ صور کی ہوگی۔
ـ72 اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ جب دہشت کے مارے آنکھیں پتھرا جاتی ہیں تو ان پر نیلگوں سفیدی…
Read the full tafseer →120۔ (فرط دہشت وخوف سے) قرآن کے مخاطبین اول قوم عرب میں نیلی آنکھ خاص طور پر مبغوض ومکروہ سمجھی جاتی تھی اس لیے کہ ان کے دشمن بنی احمر یا اہل روم (یورپ والے) نیلی آنکھیں رکھتے تھے، اور اسی سے ” ازرق العین “ ان کے ہاں دشمن کا عام لقب ہی پڑگیا تھا (کشاف) زرق کے دوسرے معنی (عمیا) اندھے کے بھی کیے گئے ہیں (راغب، کشاف، ابن جریر) اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ حشر کی کسی منزل میں اہل کفر کی آنکھیں نہ ہوں گی، (آیت) ” المجرمین “۔ مجرمین سے مراد اہل کفر ہیں۔ المجرمین اے المشرکین (معالم) اھل الکفر باللہ (ابن جریر) الذین اتخذوا مع اللہ الھا اخر (کبیر عن ابن عباس ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
آیت نمبر 90 تا 104
ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…
Read the full tafseer →یوم ینفخ فی الصور ونحشر المجرمین یومئذ زرقا۔ جس روز صور میں پھونک ماری جائے گی
اور ہم اس روز مجرموں کو اس حالت سے جمع کریں گے کہ وہ کرنجے ہوں گے۔ حضرت ابن عمر ؓ کی روایت میں آیا ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے صور کے متعلق دریافت کیا حضور : ﷺ نے فرمایا ایک سینگ ہوگا جس کے اندر پھونکا جائے گا۔ رواہ ابو داؤد والترمذی والنسائی وابن حبان وابن الحاکم والبیہقی وابن المبارک۔ نسائی نے اس حدیث کو حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے مسدد نے حضرت ابن مسعود ؓ کی روایت سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ زَرْقًاسے مراد ہے نیلی آنکھوں والے ‘ آنکھ کی سیاہی میں سبزی کی آمیزش کو زرقت کہتے ہیں عرب کے نزدیک ایسے رنگ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
(102۔ 103) جب دوسری مرتبہ صور میں پھونک ماری جائے گی اور ہم مشرکین کو میدان قیامت میں اس حالت میں جمع کریں گے کہ کرنجے ہوں گے چپکے چپکے آپس میں باتیں کرتے ہوں گے اور ایک دوسرے سے کہتے ہوں گے کہ تم لوگ قبروں میں صرف دس روز رہے ہو گے۔
Read the full tafseer →ۙيَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ۔۔ : یہ پچھلی آیات میں مذکور ”يَوْمَ الْقِيٰمَةِ“ سے بدل ہے جو قیامت کے دن کی وضاحت کر رہا ہے۔ ”الصُّوْرِ“ کی تشریح کے لیے دیکھیے سورة انعام (73) اور کہف (99)۔ ”زُرْقًا“ ”أَزْرَقُ“ کی جمع ہے، جس کا معنی نیلے رنگ والا ہے۔ یہاں اس کے دو معنی مراد ہوسکتے ہیں، ایک نیلے جسم اور نیلے چہروں والے، مراد سیاہ رنگ والے، کیونکہ جلی ہوئی جلد نیلگوں کالی ہوجاتی ہے۔ اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورة آل عمران (106)۔ دوسرا معنی ”اندھے“ ہے، کیونکہ بہت نیلی آنکھ اندھے آدمی کی ہوتی ہے، یعنی قیامت کے دن اندھے اٹھائے جائیں گے، اس کی ہم معنی آیت کے لیے دیکھیے سورة طٰہٰ (124، 125)۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–104
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فاذھب یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہمارے درمیان سے چلا جا۔ فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس زندگی بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنی قوم سے نکال دیا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ نہ ملیں اور نہ اس کے قریب جائیں اور نہ اس سے کلام کریں۔ یہ اس کے یے بطور سزا تھا۔ شاعر نے کہا :
تمیم کر ھط السامری وقولہ الا لا یرید السامری مساسا
حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سامری کی سزا یہ بنائی کہ لوگوں کو وہ نہ چھوئے اور نہ لوگ اسے چھوئیں، یہ اس کے لیے اور جو اس میں سے قیامت تک ہوگا سب کے لیے سزا ہے۔ گویا اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 98–110
1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔
2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔
3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔
4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔
5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…
Read the full tafseer →[يَّوْمَ : جس دن ] [يُنْفَخُ : پھونکا جائے گا ] [فِي الصُّوْرِ : صور میں ] [وَنَحْشُرُ : اور ہم اکٹھا کریں گے ] [الْمُجْرِمِيْنَ : جرم کرنے والوں کو ] [يَوْمَىِٕذٍ : اس دن ] [زُرْقًا : نیلی آنکھوں والا ہوتے ہوئے ]
[زَرَقًا : آنکھوں کا نیلا اور بےنور ہونا۔ اندھا ہونا۔ ) (اَزْرَقُ ، زُرْقٌ۔ افعل الوان عیوب کے وزن پر صفت ہے۔ نیلی آنکھوں والا۔ اندھا۔ زیر مطالعہ آیت۔ 102 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرے گا قیامت کے دن گناہوں کا بوجھ لاد کر آئے گا، مجرمین کا اس حالت میں حشر ہوگا کہ ان کی آنکھی نیلی ہونگی، آپس میں گفتگو کرتے ہوں گے کہ دنیا میں کتنے دن رہے ؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح ہم نے موسیٰ اور فرعون کا واقعہ اور بنی اسرائیل کے بچھڑا پوجنے کا قصہ بیان کیا اسی طرح ہم آپ سے گزشتہ واقعات کی خبریں بیان کرتے ہیں (یہ خبریں آپ کی نبوت کی دلیلیں ہیں آپ انہیں نہیں جانتے تھے صرف وحی کے ذریعہ آپ کو معلوم ہوئیں) اور ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ دیا۔ اس سے قرآن مجید مراد ہے جو سارے عالم کے انسانوں کے لیے وعظ اور نصیحت ہے جو اس پر عمل کرے گا کامیاب ہوگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
اثبات رسالت محمدیہ و تہدید معاندین و ترہیب از عذاب آخرت
قال اللہ تعالیٰ کذلک نقص علیک من انباء ما قد سبق .... الیٰ .... ان لبثتم الا یوما۔
(ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور ہارون کا ماجرا ختم ہوا جو از اول تا آخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کی دلیل اور برہان تھا۔ اب ان آیات میں رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ اے نبی ہم آپ ﷺ کو اس قرآن میں گزشتہ زمانے کے حالات سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ یہ آپ ﷺ کی نبوت رسالت کی اور اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ہو۔ اور آپ ﷺ کے لیے باعث تسلی ہو اور منکرین اور معاندین کے لیے موجب تہدید و عبرت ہو۔ اور لوگوں کو معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
73:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی ایسی صحیح تفصیلات بیان کرنا ہمارا ہی کام ہے اور کسی کا نہیں۔ اور یہ تیسری آیت تشجیع ہے یعنی گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات ہم آپ پر اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ انہوں نے توحید کی خاطر کس قدر مصیبتیں اٹھائیں اس طرح آپ پر بھی مصائب آئیں گے لہذا آپ بھی ان پر صبر کریں اور یہ جملہ معترضہ ہے برائے بیان صداقت رسول ﷺ یعنی آپ ہماری وحی سے معلوم کر کے گذشتہ لوگوں کی اخبار بیان کر رہے ہیں۔ لہذا آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔
74:۔ ” ذِکْرًا “ سے قرآن کریم مراد ہے۔ و تفسیر الذکر بالقران ھو الذی ذھب الیہ الجمھور (روح ج 16 ص 259) ۔ ” مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–104
ربط آیات :
اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کے سلسلے میں سامری کا ذکر کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اللہ کی توحید کو ماننے والے بعض لوگ شرک میں مبتلا ہوچکے ہیں وہ لوگ سونے کے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ڈانٹ ڈپٹ کی کہ تمہاری موجودگی میں قوم کیسے گمراہ ہوگئی ؟ جب انہوں نے اپنی صفائی پیش کردی تو موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اس نے بچھڑا سازی کا سارا واقعہ بیان کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دھتکار دیا ، اور فرمایا…
Read the full tafseer →يَّوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّوْرِ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِيْنَ يَوْمَىِٕذٍ زُرْقًا 102ۚۖ
نفخ
النَّفْخُ : نَفْخُ الرِّيحِ في الشیءِّ. قال تعالی: يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] ، ثُمَّ نُفِخَ فِيهِ أُخْرى[ الزمر/ 68] ، وذلک نحو قوله : فَإِذا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ [ المدثر/ 8] ومنه نَفْخُ الرُّوح في النَّشْأَة الأُولی، قال : وَنَفَخْتُ فِيهِ مِنْ رُوحِي
[ الحجر/ 29]
( نخ ) النفخ
کے معنی کسی چیز میں پھونکنے کے ہیں جیسے فرمایا : ۔ يَوْمَ يُنْفَخُ فِي الصُّورِ [ طه/ 102] ، اور جس دن صور پھونکا جائیگا ۔ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ [ الكهف/ 99] اور جس وقت ) صؤر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–110
اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
مَنْ اَعْرَضَ عَنْہُ فَاِنَّـہٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وِزْرًا۔ خٰلِدِیْنَ فِیْہِ ط وَسَآئَ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ حِمْلاً ۔ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَنَحْشُرُالْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًا۔ یَّـتَـخَافَـتُـوْنَ بَیْنَہُمْ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ عَشْرًا۔ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُھُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ یَوْمًا۔ (طٰـہٰ : 100 تا 104)
(جو اس سے اعراض کریں گے، وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ اسی کے وبال میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بہت بھاری بوجھ ہوگا۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو اس دن ہم اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
فہم القرآن
ربط کلام : جس دن مجرموں نے اپنے اعمال کا بوجھ اٹھانا ہے اس دن کے برپا ہونے کی کیفیت اور مجرموں کا حال۔
مجرموں کے لیے قیامت کا دن اس قدر سخت اور بھاری ہوگا کہ اس دن ان کی آنکھوں کی سفیدی نیلی ہوجائے گی۔ اور ان کے ڈیلیپتھرا جائیں گے وہ سرگوشی اور گنگناہٹ کے انداز میں ایک دوسرے سے کہیں گے کہ دنیا میں ہم دس دن سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ جو ان میں سب سے زیادہ اعتماد کے ساتھ بات کرے گا وہ دوسروں کو کہے گا کہ ہم صرف ایک ہی دن دنیا میں ٹھہرے تھے۔ جو کچھ وہ کہیں گے اللہ تعالیٰ ان کی ہر بات کو اچھی طرح جانتا ہے۔
قیامت کا آغاز صور میں پھونک مارنے سے ہوگا جونہی اسرافیل (علیہ السلام) فرشتہ صور میں…
Read the full tafseer →قیامت کا ایک منظر :
102: یَّوْ مَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ (جس روز صور میں پھونک مار دی جائے گی)
نحو : یوم ینفخ یہ یوم القیامۃ سے بدل ہے۔
قراءت : ابوعمرو نے ننفخ پڑھا ہے۔
الصورؔ نمبر 1۔ قرن سینگ کو کہتے ہیں۔ نمبر 2۔ جمع صورۃ ہے۔ صورتوں میں ارواح پھونک دیں گے۔ اس کی دلیل قتادہ کی قراءت ہے۔ فی الصور میں واو کا فتحہ جمع صورۃ ہے۔ وَنَحْشُرُ الْمُجْرِمِیْنَ یَوْ مَئِذٍ زُرْقًا (اور ہم مجرمین کو اس دن اٹھائیں گے اس حال میں کہ ان کی آنکھیں نیلی ہونگی) زُرقًا یہ حال ہے یعنی اندھی آنکھوں والا جیسا کہ دوسری آیت میں فرمایا و نحشرھم یوم القیامۃ علی وجوھھم عمیا ] الاسراء : 97[ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جس کی…
Read the full tafseer →102۔ یوم ینفخ فی الصور ، ابوعمرو نے ننفخ ، پڑھا ہے فاء کے ضمہ کے ساتھ ، ونحشر ، دوسرے قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے فاء کے فتحہ کے ساتھ ، المجرمین ، اس سے مشرکین مراد ہیں۔ یومئذ زرقا، اس سے مراد ہے نیلی آنکھوں والے آنکھ کی سیاہی میں سبزی کی آمیزش کو زرقت کہتے ہیں اور بعض نے کہا کہ زرقا سے مراد اندھا ہونا ہے اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد پیاسا ہونا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–104
102۔ 104:۔ اگرچہ بعضے سلف کا قول ہے کہ صور کئی دفعہ پھونکا جائے گا لیکن صحیح مسلم میں عبداللہ بن عمر سے جو روایت ہے اس میں ہے کہ صور دو دفعہ پھونکا جائے گا پہلے صور کی آواز سے تمام دنیا ویران ہوجائے گی اور دوسرے صور کی آواز سے سب زندہ ہوجائیں گے 1 ؎۔ اکثر صحابہ کا قول ہے کہ دونوں صور کے مابن چالیس برس کا فاصلہ ہوگا 2 ؎۔ معتبر سند سے طبرانی میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ اسرافیل (علیہ السلام) صور پھونکیں گے 3 ؎۔ ان آیتوں میں صور کے بعد حشر کا ذکر ہے اس واسطے یہاں صور سے مطلب دوسرا صور ہے دوزخ میں جانے کے قابل لوگوں کی آنکھوں کی پتلیاں حشر کے دن نیلی ہوں گی کہ ان کی آنکھیں بےرونق اور ان کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–103
آیات (100)
اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا :۔۔۔ مثلاً یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرما : (وقد اتینک من لدنا) ” اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے “۔ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–135
قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
105 یوم حشر کی تذکیر و یاددہانی : سو قیامت کے یوم عظیم کی تذکیر و یاددہانی کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ " جس دن صور پھونک دیا جائے گا "۔ دوسری مرتبہ ان کو زندہ کر کے اٹھانے کے لئے۔ تاکہ ہر کوئی اپنے زندگی بھر کے کئے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ پا سکے۔ اور اس طرح عدل و انصاف کے تقاضوں کی بتمام و کمال تکمیل ہوسکے اور حکمتوں بھری اس کائنات کے مقصد وجود کی تکمیل ہوسکے۔ سو یہ نفخ صور حشر اور حساب کے قیام کیلئے اعلان ہوگا۔ (المراغی وغیرہ) ۔ بہرکیف غافل دنیا کو ان کی غفلت سے جھنجوڑنے کے لیے اس ہولناک دن کی تذکیر و یاددہانی فرمائی گئی ہے۔
106 کفار و منکرین کا حشر نہایت ہولناک شکل میں ۔ والعیاذ باللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–113
قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر
تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2)
بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 90–104
(رکوع نمبر 5)
اسرارومعارف
ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–103
ف 3 یعنی دہشت کے مارے وہ اپنی دنیا کی زندگی اور قبر (برزخ) کی زندگی دونوں کو بہت مختصر خیال کریں گے۔ دوسری آیت میں ہے : بشنا یوماً او بعض یوم کہ ہم ایک دن بلکہ دن کا بھی ایک حصہ رہے ہوں گے۔ ( مومنون 113) اور سورة روم میں ہے، یقیم المجرمون مالبثوا غیر ساعت مجرم قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہم (موت کی حالت میں) ایک گھڑی سے زیادہ نہیں رہے۔ (آیت :55) اسی مضمون کی توضیح اگلی آیت بھی کر رہی ہے بعض نے ” عسراً “ سے دس گھڑیاں بھی مراد لی ہیں۔ (شوکانی ۔ رازی) اور ان تمام اقوال سے ان کا مقصد یہ ہوگا کہ کسی طرح ہم عذاب سے بچ جائیں اور ہم پر گرفت نہ ہو۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(20:102) زرقا۔ ازرق (مذکر) زرقاء (مؤنث) کی جمع ہے۔ صفت مشبہ کا صیغہ ہے جس کی آنکھ کی سیاہی نیلاہٹ یا سبزی یا زردی کی طرف مائل ہو۔ زرق کے متعلق دو قول ہیں۔
(1) ایک یہ کہ رومی جو اہل عرب کے سخت دشمن تھے وہ گریہ چشم تھے۔ اس لئے انہوں نے دشمن کی یہ صفت بیان کی ہے اسود الکبد (سیاہ جگر) اصھب السیال (بھوری مونچھوں والا ازرق العین (کبود چشم) ۔
(2) دوسرے یہ کہ جیسا کہ الفراء کا قول ہے زرقا بمعنی عمیا ہے یعنی اندھے۔ کیونکہ جس کی آنکھ کی روشنی جاتی رہتی ہے اس کی پتلی نیلی ہوجاتی ہے۔ یہاں مجرموں کو نفرت کے اظہار کے طور پر کبود چشم کھڑا کیا جانا بیان ہے۔ زرقابوجہ حال ہونے کے منصوب ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–112
لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112
نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔
تشریح : آیت نمبر 99 تا 112
نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ایسے لوگوں کو یہ بوجھ اس دن اٹھانا پڑے گا جس دن صور کی آواز سن کر یہ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے، اور ایسی حالت سے میدان محشر میں کھڑے ہوں گے کہ ان کی آنکھوں کی پتلیاں حشر کے دن نیلی ہوں گی، اور منہ کالا ہوگا۔ دنیا میں جو سالہا سال عیاشیاں کی ہیں، ان سب کو وہاں کی مصیبتوں کے آگے بھول جائیں گے، اور آپس میں چپکے چپکے باتیں کرنے کے طور پر کوئی اس مدت کو دس دن کی مدت بتلائے گا، کوئی ایک دن کی ، کوئی پہر دو پہر کی، اور کوئی گھڑی بھر کی۔ یہ مصیبت ہمارے کیسے پیچھے پڑی کہ جس کی انتہا ہی نہیں ہوتی۔ فرمایا کہ ہم ان کی باتوں سے خوب واقف ہیں، ان میں جو بڑا ہوگا وہ یوں کہے گا کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–107
[45] یعنی نرسنگھا۔ لوگوں کو اکٹھا کرنے کا پرانا دستور یہ چلا آتا ہے کہ نرسنگھا پھونکا کرتے ہیں۔ ایسی ایک چیز قیامت کے دن پھونکی جائے گی۔ پہلی دفعہ پھونکنے پر سب پر موت طاری ہوجائے گی۔ دوسری دفعہ پھونکنے پر سب جی اٹھیں گے اور زمین کے ہر گوشے سے نکل نکل کر میدان حشر کی طرف دوڑنے لگیں گے یہاں ذکردوسری دفعہ صور پھونکے جانے کا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–103
دنیا کی جامع ترین کتاب :
(ف 1) قرآن حکیم میں کمال یہ ہے کہ اس میں رشد واصلاح کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا گیا ، ہر نوع اور ہر قسم کے دلائل بیان کئے گئے ہیں آپ دیکھیں گے کہ کہیں فلسفیانہ براہین کا انبار ہے ، کہیں فطرت کے عجائبات سے استشہاد ہے ، کہیں یہ کہا گیا ہے کہ خود اپنے نفسیات کا مطالعہ کرو ، اور دل کی گہرائیوں کو دیکھو اور کہیں دنیا کے اہم اور مفید البیان واقعات گنائے ہیں ، اخلاق ومعاشرت کی تفصیلات جدا ہیں اور حکم ونصائح کا ذکر ، علیحدہ عقائد کے مسائل بھی ہیں ، اور اقوام وامم کے حالات بھی یہی وجہ ہے کہ جامعیت کے اعتبار سے قرآن کا پایہ کائنات کے تمام صحیفوں سے کہیں بلند ہے ۔
Read the full tafseer →- 102 قیامت کا دن وہ ہے جس دن صور میں پھونکا جائے گا اور ہم اس دن مجرموں کو اس حال میں جمع اور اکٹھا کریں گے کہ ان کی آنکھیں نیلی اور کرنجی ہوں گی۔ یہ منکرین قرآن کریم کی سزا کا ذکر ہے جو قرآن کریم سے منہ پھیرتے ہیں اور قرآن کریم کی تعلیم پر ایمان نہیں لاتے وہ قیامت کے دن عذاب الٰہی کے بوجھ میں دبے ہوئے ہوں گے اور وہ اس بوجھ میں ہمیشہ دبے رہیں گے اور قیامت کے دن ان کا حشر اس حال میں ہوگا کہ ان کی آنکھیں نیلی اور کرنجی ہوں گی یعنی بدصورت اور بدنما بعض نے کہا ہے کہ اندھے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–102
ف 9۔ تاکہ نام و نشان اس کا نہ رہے۔
Read the full tafseer →صور پھونکے کے روز ان لوگوں کا کیا حال ہوگا ‘ اس کا بیان :
102۔ فرمایا قیامت کے روز ان کی آنکھیں نہ سفید ہوں گی اور نہ سیاہ بلکہ اس کے درمیان ان کا رنگ نیلا ہوگا ” زرقت عینہ “ کہا جاتا ہے کہ اس کی آنکھیں نیلی ہیں ۔ اور بعض روایات میں اس سے اندھے بھی مراد لئے گئے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ نزول قرآن کریم کے وقت عربوں میں نیلی آنکھ خاص طور پر مبغوض متصور ہوتی تھی اور یہ بھی کہ اس وقت ان کے دشمن بنی احمر اور اہل روم کی آنکھیں نیلی تھیں اس لئے عربوں کی زبان میں ” ازرق العین “ دشمنوں کا لقب ہوتا تھا (المجرمین) سے مراد عام مجرم ہوں گے یا وہی مجرم جن کا ذکر گزشتہ آیتوں میں ہوچکا اور جن کے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–113
يُنفَخُ فِي الصُّورِ (رضی The Day when the Horn الصُّورِ [ Sur ] will be blown - 20:102) According to Sayyidna Ibn ` Umar اللہ تعالیٰ عنہما ، a Bedouin الصُّورِ asked the Holy Prophet ﷺ about صُور (the Horn) to which he replied that it is something like a horn which will be blown, meaning thereby that when the angel will blow into it all those who had lain dead for centuries will return to life. Only Allah knows the true nature of the Sur (the Horn).
Read the full tafseer →78. As regards to the nature of the blowing of the Trumpet on the Day of Resurrection, it may be likened to the blowing of the bugle in the army to muster or disperse the soldiers. It is obvious that these words and terms have been used because these are known to the people. Therefore it will be wrong to consider the Trumpet to be exactly like the bugles and trumpets of this world.
79. According to some commentators, it means this: The bodies of the criminals will turn white as if no drop of blood had been left in them.
Read the full tafseer →