Taa-Haa 20:101

Taa-Haa · from ayah 101

20:101

خٰلِدِیْنَ فِیْهِ ؕ— وَسَآءَ لَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ حِمْلًا ۟ۙخٰلِدِيۡنَ فِيۡهِ‌ ؕ وَسَآءَ لَهُمۡ يَوۡمَ الۡقِيٰمَةِ حِمۡلًا

(ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں (مبتلا) رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[Abiding] eternally therein, and evil it is for them on the Day of Resurrection as a load -

— Saheeh International

Juz 16 · Ruku 5 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Taa-Haa

All translations of 20:101

اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے، اور قیامت کے دن اُن کے لیے (اِس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ) بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(ایسے لوگ) ہمیشہ اس (عذاب) میں (مبتلا) رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لئے برا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس میں ہمیشہ ہی رہے گا، اور ان کے لئے قیامت کے دن (بڑا) برا بوجھ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس (کے عذاب) میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اور قیامت کے دن ان کے لیے یہ بدترین بوجھ ہوگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ ہمیشہ اس میں رہیں گے اور وہ قیامت کے دن ان کے حق میں کیا ہی بڑا بوجھ ہوگا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ اس (عذاب) میں ہمیشہ (پڑے) رہیں گے، اور ان کے لئے قیامت کے دن بہت ہی بُرا بوجھ ہوگا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ہمیشہ اس میں رہنے والے ہوں گے اور وہ ان کے لیے قیامت کے دن برا بوجھ ہوگا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ ہمیشہ اسی حال میں رہیں گے اور قیامت کے دن ایسا بوجھ اٹھانا کیسا برا ہوگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اسی کے تلے ہمیشہ رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بہت بھاری بوجھ ہوگا ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ایسے لوگوں کو اس میں ہمیشہ رہنا ہوگا اور ان کے لیے قیامت کے دن وہ بڑا ہی برا بوجھ ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ قیامت کے دن ان کے لئے بڑا بوجھ ہوگا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ لوگ اس (کیفیت) میں ہمیشہ رہیں گے اور ان کے لیے بہت برا ہوگا قیامت کے دن کا وہ بوجھ

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایسے لوگ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے روز ان کے لیے برا ہوگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

and will abide under this burden for ever. Grievous shall be the burden on the Day of Resurrection,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

all such people living under it forever. And how evil for them will be that burden on the Doomsday!

— Muhammad Taqi Usmani

all such people living under it forever. And how evil for them will be that burden on the Doomsday!

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They will abide in that -- and evil indeed will it be that load for them on the Day of Resurrection.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Abiding under it - an evil burden for them on the Day of Resurrection,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[Abiding] eternally therein, and evil it is for them on the Day of Resurrection as a load -

— Saheeh International

with which he will live forever. On the Day of Judgment it will be a terrible load for him to carry.

— Muhammad Sarwar

Abiding in this (state), and evil will it be for them to bear on the day of resurrection;

— Muhammad Habib Shakir

As abiders therein. And vile will load! them on the Day of Judgment as a load!

— Abdul Majid Daryabadi

They will abide in this (state): and grievous will the burden be to them on that Day,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 20:101

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 99–101

سب سے اعلی کتاب فرمان ہے کے جیسے حضرت موسیٰ ؑ کا قصہ اصلی رنگ میں آپ کے سامنے بیان ہوا ایسے ہی اور بھی حالات گزشتہ آپ کے سامنے ہم ہو بہو بیان فرما رہے ہیں۔ ہم نے تو آپ کو قرآن عظیم دے رکھا ہے جس کے پاس باطل پھٹک نہیں سکتا کیونکہ آپ حکمت وحمد والے ہیں کسی نبی کو کوئی کتاب اس سے زیادہ کمال والی اور اس سے زیادہ جامع اور اس سے بابرکت نہیں ملی۔ ہر طرح سب سے اعلیٰ کتاب یہی کلام اللہ شریف ہے جس میں گذشتہ کی خبریں آئندہ کے امور اور ہر کام کے طریقے مذکور ہیں۔ اسے نہ ماننے والا، اس سے منہ پھیرنے والا، اس کے احکام سے بھاگنے والا، اس کے سوا کسی اور میں ہدایت کو تلاش کرنے والا گمراہ ہے اور جہنم کی طرف…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 100–101

سورة طٰهٰ 77 اس میں پہلی بات تو یہ بتائی گئی کہ جو شخص اس درس نصیحت، یعنی قرآن سے منہ موڑے گا اور اس کی ہدایت و رہنمائی قبول کرنے سے انکار کرے گا، وہ اپنا ہی نقصان کرے گا، محمد ﷺ اور ان کے بھیجنے والے خدا کا کچھ نہ بگاڑے گا۔ اس کی یہ حماقت دراصل اس کی خود اپنے ساتھ دشمنی ہوگی۔ دوسری بات یہ بتائی گئی کہ کوئی شخص، جس کو قرآن کی یہ نصیحت پہنچے اور پھر وہ اسے قبول کرنے سے پہلو تہی کرے، آخرت میں سزا پانے سے بچ نہیں سکتا۔ آیت کے الفاظ عام ہیں۔ کسی قوم، کسی ملک، کسی زمانے کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ جب تک یہ قرآن دنیا میں موجود ہے، جہاں جہاں، جس جس ملک اور قوم کے، جس شخص کو بھی یہ پہنچے گا، اس کے لیے دو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 100–101

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ فَاِنَّهٗ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ وِزْرًا، یعنی جو شخص قرآن سے اعراض (روگردانی) کرے گا قیامت کے روز اس کے اوپر گناہوں کا بڑا بوجھ لدا ہوگا۔ قرآن سے اعراض کی مختلف صورتیں ہیں اس کی تلاوت کی طرف کوئی دھیان ہی نہ کرے نہ کبھی قرآن پڑھنے اور سکیھنے کی فکر کرے یا قرآن کو پڑھے مگر غلط سلط پڑھے تصحیح حروف کی فکر نہ کرے یا صحیح بھی پڑھے مگر بےدلی اور بےپروائی سے پڑھے یا کسی دنیوی مال و عزت کی خواہش سے پڑھے۔ اسی طرح قرآن کے احکام کو سمجھنے کی طرف توجہ نہ دینا بھی قرآن سے اعراض ہے اور سمجھنے کے بعد ان پر عمل کرنے میں کوتاہی یا اس کے احکام کی خلاف ورزی یہ تو اعراض کا انتہائی درجہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 100–101

آیت 101-100 مخلافین کو دھمکی یہ دھمکی ہے ان لوگوں کو جو اس یاد دہانی سے اعراض کریں گے۔ فرمایا کہ جو اس سے اعراض کریں گے وہ قیامت کے روز ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ ان کے اوپر اپنی گمراہی کا بوجھ بھی ہوگا اور جو لوگ ان کے گمراہ کرنے سے گمراہ ہوں گے ان کے بوجھ میں سے بھی ان کو اٹھانپاڑے گا۔ خلدین فیہ میں ضیمر لفظ وزر کے لازم کے اعتبار سے آئی ہے چونکہ زر سے مراد اس کا لازمی نتیجہ یعنی عذاب ہے اس وجہ سے فرمایا کہ اس میں ہمیشہ رہیں گے اس بوجھ کی نسبت فرمایا کہ نہایت ہی برا بوجھ ہوگا اس لئے کہ نہ تو اس سے کبھی نجات حاصل ہو سکے گی اور نہ کوئی اس کے اٹھانے میں معین و مددگار ہوگا۔ ہر ایک کو یہ بوجھ خود…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 99–102

43: حضرت موسیٰ ؑ کا واقعہ تفصیل کے ساتھ بیان فرمانے کے بعد اس آیت میں بتایا جارہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک پر اس جیسے واقعات کا جاری ہونا جبکہ آپ امی ہیں، اور آپ کے پاس ان معلومات کے حصول کا کوئی ذریعہ نہیں ہے، اس بات کی واضح دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں، اور جو آیات آپ تلاوت کر رہے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی نازل فرمائی ہوئی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 99–102

درس نمبر 931 ایک نظر میں سورة کے آغاز میں موضوع بحث قرآن مجید تھا کہ یہ رسول اللہ ﷺ پر اس لئے نازل نہیں ہوا کہ اس کی وجہ سے ان کو مصیبت میں ڈالا جائے۔ اس کے بعد پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے قصے کو لے کر یہ ثابت کیا گیا کہ اللہ اپنے بندوں اور رسولوں کے ساتھ کس قدر رعایت کرتا ہے اور ان پر کس قدر مہربانیاں ہوتی ہیں جس طرح حضرت موسیٰ ان کے بھائی اور ان کی قوم پر ہوئی تھیں۔ اس طویل قصے پر اب یہاں تبصرہ کیا جاتا ہے اور موضوع سخن پھر قرآن مجید ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ قرآن کے نزول کا مقصد کیا ہے ؟ جو لوگ اس سے منہ پھیریں گے ، ان کا انجام کیا ہوگا ؟ یہ انجام قیام کے مناظر میں سے ایک منظر کو پیش کر کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 100–101

4 یعنی اعراض و تکذیب سے جو گناہوں کا بوجھ قیامت کے دن ان پر لادا جائے گا، کبھی ہلکا نہ ہوگا۔ ہمیشہ اس کے نیچے دبے رہیں گے پھر اس کا اٹھانا کوئی ہنسی کھیل نہیں جب اٹھائیں گے تو پتہ چلے گا کہ کیسے برے اور سخت بوجھ کے نیچے دبائے گئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 99–101

آیت 99 کَذٰلِکَ نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِ مَا قَدْ سَبَقَ ج ” اس طرح بذریعہ وحی پچھلی اقوام کے تفصیلی حالات حضور ﷺ کو فراہم کیے جا رہے ہیں۔ وَقَدْ اٰتَیْنٰکَ مِنْ لَّدُنَّا ذِکْرًا ” ہم نے اپنے فضل خاص سے آپ ﷺ کو یہ قرآن عطا کیا ہے۔ اس میں پچھلے زمانے کی خبریں بھی ہیں اور یاد دہانی اور تذکیر و نصیحت بھی۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 100–101

70 وزر بمعنی گناہ کا بوجھ یا پاپ کے گٹھری۔ اب جو شخص عمر بھر نہ قرآن کے نزدیک آئے، نہ اس کی کوئی ہدایت ماننے کو تیار ہو تو لامحالہ اس کی زندگی شتر بےمہار کی طرح ہوگی جو اللہ کی نافرمانیوں اور گناہوں پر مشتمل ہوگی۔ لہذا اسے اپنے اعمال کا ناقابل برداشت بوجھ اٹھانا پڑے گا۔ اس دنیا میں تو ایسے بوجھ کا تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ لیکن وہاں اس بوجھ کو مادی شکل دے دی جائے گی اور وہ اس بوجھ تلے پس رہا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 100–101

119۔ اور یہ بڑا بوجھ ظاہر ہے کہ عذاب الہی کا ہوگا۔ (آیت) ” فیہ “۔ یعنی اسی عذاب الہی کے بوجھ ظاہر ہے کہ عذاب الہی کا ہوگا۔ (آیت) ” فیہ یعنی اسی عذاب الہی کے بوجھ کے اند ر۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 90–104

آیت نمبر 90 تا 104 ترجمہ : اور ہارون (علیہ السلام) نے ان سے پہلے یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کے واپس آنے سے پہلے کہہ دیا تھا اے میری قوم تم اس گوسالہ کی وجہ سے آزمائش میں مبتلا کر دئے گئے ہو اور بلاشبہ تمہارا رب تو رحمٰن ہے لہٰذا تم اس کی عبادت کرنے میں میری اتباع کرو اور عبادت کے معاملہ میں میری بات مانو ان لوگوں نے جواب دیا ہم تو اسی پر جمے رہیں گے یعنی اسی کی عبادت پر قائم رہیں گے موسیٰ کے ہمارے پاس واپس آنے تک موسیٰ (علیہ السلام) نے واپسی کے بعد فرمایا اے ہارون جب تم نے ان کو دیکھا کہ یہ گمراہ ہوگئے بچھڑے کی عبادت کی وجہ سے تو میرے پاس چلے آنے سے کیا امر مانع ہوا ؟ اَلاَّ تَتَّبِعَنّ میں لا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خلدین فیہ وسآء لہم یوم القیمۃ حملا۔ اور وہ اس (عذاب) میں ہمیشہ رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بوجھ ان کے لئے (بہت) برا بوجھ ہوگا مَنْ اَعْرَضَ عَنْہُ یعنی جو شخص قرآن سے منہ موڑے گا ‘ اس کو نہیں مانے گا اور اس پر عمل نہیں کرے گا۔ یا عَنْہُ کی ضمیر ذکر کی طرف یا اللہ کی طرف راجع ہے یعنی جو تمہارے ذکر سے یا اللہ سے منہ موڑے گا۔ وِزْراً یعنی گناہوں کا بھاری بوجھ۔ سورة مریم کی آیت یَوْمَ نَحْشْر المُتِّقِیْنَ اِلَی الرَّحْمٰنُ وَفْدًاکی تشریح میں عمرو بن قیس ملائی کی روایت کردہ حدیث ہم نے ذکر کردی ہے اس حدیث میں یہ بھی مذکور ہے کہ کافر کے سامنے اس کا برا عمل بہت ہی مکروہ شکل اور سڑاند کے ساتھ آئے گا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 100–101

(100۔ 101) جو لوگ اس کے مضامین ماننے سے اعراض کریں گے تو وہ قیامت کے دن شرک کا عذاب کے بڑا بھاری بوجھ اٹھائیں گے اور وہ اس عذاب میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ ان کے گناہوں کی سزا ان کے لیے بہت ہی بڑا بوجھ ہوگی ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 100–101

مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ۔۔ : منہ پھیرنے سے مراد اس نصیحت پر ایمان نہ لانا اور عمل نہ کرنا ہے۔ ”وِزراً“ پر تنوین تعظیم و تہویل کے لیے ہے، بڑا بوجھ، بھاری بوجھ۔ ”حِمْلًا“ بمعنی ”مَحْمُوْلٌ“ ہے، جیسے ”ذِبْحٌ“ بمعنی ”مَذْبُوْحٌ“ ہے، اٹھایا ہوا (بوجھ)۔ ”سَاءَ“ فعل ذم ہے، جس کا فاعل ضمیر مبہم ”ھُوَ“ ہے اور جس کے ابہام کی توضیح ”حِمْلًا“ تمیز کے ساتھ کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 97–104

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال فاذھب یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا : ہمارے درمیان سے چلا جا۔ فان لک فی الحیوۃ ان تقول لامساس زندگی بھر تو یہی کہتا رہے گا کہ مجھے کوئی نہ چھوئے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے اپنی قوم سے نکال دیا۔ اور بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ اس کے ساتھ نہ ملیں اور نہ اس کے قریب جائیں اور نہ اس سے کلام کریں۔ یہ اس کے یے بطور سزا تھا۔ شاعر نے کہا : تمیم کر ھط السامری وقولہ الا لا یرید السامری مساسا حسن نے کہا : اللہ تعالیٰ نے سامری کی سزا یہ بنائی کہ لوگوں کو وہ نہ چھوئے اور نہ لوگ اسے چھوئیں، یہ اس کے لیے اور جو اس میں سے قیامت تک ہوگا سب کے لیے سزا ہے۔ گویا اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 98–110

1:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ’‘’ وسع کل شیء علما “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کو بھرپور علم ہے۔ 2:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وقد اتینک من لدنا ذکرا “ سے مراد ہے قرآن۔ 3:۔ عبد بن حمید، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہدرحمۃ اللہ علیہ سے روایت کیا کہ (آیت) ” وحمل یوم القیمۃ وزرا “ سے مراد ہے گناہ۔ 4:۔ ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ برابوجھ ہے جو انہوں نے اٹھایا۔ 5:۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے (آیت) ” وسآء لہم یوم القیمۃ حملا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے اعمال…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[خٰلِدِيْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہوتے ہوئے ] [فِيْهِ : اس (بوجھ) میں ] [وَسَاۗءَ : اور برا ہے ] [لَهُمْ : ان کے لئے ] [يَوْمَ الْقِيٰمَةِ : قیامت کے دن ] [حِمْلًا : (وہ) بوجھ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 99–104

جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرے گا قیامت کے دن گناہوں کا بوجھ لاد کر آئے گا، مجرمین کا اس حالت میں حشر ہوگا کہ ان کی آنکھی نیلی ہونگی، آپس میں گفتگو کرتے ہوں گے کہ دنیا میں کتنے دن رہے ؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا جس طرح ہم نے موسیٰ اور فرعون کا واقعہ اور بنی اسرائیل کے بچھڑا پوجنے کا قصہ بیان کیا اسی طرح ہم آپ سے گزشتہ واقعات کی خبریں بیان کرتے ہیں (یہ خبریں آپ کی نبوت کی دلیلیں ہیں آپ انہیں نہیں جانتے تھے صرف وحی کے ذریعہ آپ کو معلوم ہوئیں) اور ہم نے آپ کو اپنے پاس سے ایک نصیحت نامہ دیا۔ اس سے قرآن مجید مراد ہے جو سارے عالم کے انسانوں کے لیے وعظ اور نصیحت ہے جو اس پر عمل کرے گا کامیاب ہوگا اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 99–104

اثبات رسالت محمدیہ و تہدید معاندین و ترہیب از عذاب آخرت قال اللہ تعالیٰ کذلک نقص علیک من انباء ما قد سبق .... الیٰ .... ان لبثتم الا یوما۔ (ربط) یہاں تک موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ اور ہارون کا ماجرا ختم ہوا جو از اول تا آخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کی دلیل اور برہان تھا۔ اب ان آیات میں رسالت محمدیہ کا اثبات فرماتے ہیں اور بتلاتے ہیں کہ اے نبی ہم آپ ﷺ کو اس قرآن میں گزشتہ زمانے کے حالات سے آگاہ کرتے ہیں تاکہ یہ آپ ﷺ کی نبوت رسالت کی اور اس قرآن کے من جانب اللہ ہونے کی دلیل ہو۔ اور آپ ﷺ کے لیے باعث تسلی ہو اور منکرین اور معاندین کے لیے موجب تہدید و عبرت ہو۔ اور لوگوں کو معلوم…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 99–104

73:۔ کاف بیان کمال کے لیے ہے یعنی ایسی صحیح تفصیلات بیان کرنا ہمارا ہی کام ہے اور کسی کا نہیں۔ اور یہ تیسری آیت تشجیع ہے یعنی گذشتہ انبیاء (علیہم السلام) کے واقعات ہم آپ پر اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ آپ کو معلوم ہوجائے کہ انہوں نے توحید کی خاطر کس قدر مصیبتیں اٹھائیں اس طرح آپ پر بھی مصائب آئیں گے لہذا آپ بھی ان پر صبر کریں اور یہ جملہ معترضہ ہے برائے بیان صداقت رسول ﷺ یعنی آپ ہماری وحی سے معلوم کر کے گذشتہ لوگوں کی اخبار بیان کر رہے ہیں۔ لہذا آپ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ 74:۔ ” ذِکْرًا “ سے قرآن کریم مراد ہے۔ و تفسیر الذکر بالقران ھو الذی ذھب الیہ الجمھور (روح ج 16 ص 259) ۔ ” مَنْ اَعْرَضَ عَنْهُ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 99–104

ربط آیات : اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے واقعہ کے سلسلے میں سامری کا ذکر کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے کتاب لے کر کوہ طور سے واپس آئے تو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ اللہ کی توحید کو ماننے والے بعض لوگ شرک میں مبتلا ہوچکے ہیں وہ لوگ سونے کے بنے ہوئے بچھڑے کی پوجا کرنے لگے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ڈانٹ ڈپٹ کی کہ تمہاری موجودگی میں قوم کیسے گمراہ ہوگئی ؟ جب انہوں نے اپنی صفائی پیش کردی تو موسیٰ (علیہ السلام) سامری کی طرف متوجہ ہوئے اس نے بچھڑا سازی کا سارا واقعہ بیان کیا ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اسے دھتکار دیا ، اور فرمایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خٰلِدِيْنَ فِيْہِ۝ 0ۭ وَسَاۗءَ لَہُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَۃِ حِمْلًا۝ 101ۙ خلد الخُلُود : هو تبرّي الشیء من اعتراض الفساد، وبقاؤه علی الحالة التي هو عليها، والخُلُودُ في الجنّة : بقاء الأشياء علی الحالة التي عليها من غير اعتراض الفساد عليها، قال تعالی: أُولئِكَ أَصْحابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيها خالِدُونَ [ البقرة/ 82] ، ( خ ل د ) الخلودُ ( ن ) کے معنی کسی چیز کے فساد کے عارضہ سے پاک ہونے اور اپنی اصلی حالت پر قائم رہنے کے ہیں ۔ اور جب کسی چیز میں دراز تک تغیر و فساد پیدا نہ ہو۔ قرآن میں ہے : ۔ لَعَلَّكُمْ تَخْلُدُونَ [ الشعراء/ 129] شاید تم ہمیشہ رہو گے ۔ جنت میں خلود کے معنی یہ ہیں کہ اس میں تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 99–110

اس قصہ کو تمام کر کے فرماتا ہے کہ اے محمد ! ﷺ گزشتہ لوگوں کے تذکرے ہم یوں سناتے ہیں ہم نے تجھے ذکر یعنی قرآن دیا ہے پھر جو قرآن سے منہ پھیرے گا قیامت میں اس کا یہ حال ہوگا کہ قیامت میں اپنے گناہوں کی گٹھڑی آپ اٹھا وے گا اور جس روز صور پھنکے گا دوبارہ زندہ ہونے کے لیے تو یہ لوگ ایسی دہشت میں ہوں گے کہ آنکھوں کی رنگت پلٹ جائے گی نور اور سیاہی جا کر نیلی ہوجائے گی اور دنیا میں جو سالہا سال عیش کی ہے وہاں کے مصائب کے آگے اس کو دس روز سمجھیں گے اور جو ان میں زیادہ دانا ہے وہ تو ایک دن سمجھے گا۔ قیامت کے ذکر میں کسی نے آنحضرت ﷺ سے پہاڑوں سے سوال کیا کہ یہ کیا ہوں گے ویسئلونک الخ فرمایا فقل ینسفہا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 100–104

مَنْ اَعْرَضَ عَنْہُ فَاِنَّـہٗ یَحْمِلُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ وِزْرًا۔ خٰلِدِیْنَ فِیْہِ ط وَسَآئَ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ حِمْلاً ۔ یَّوْمَ یُنْفَخُ فِی الصُّوْرِ وَنَحْشُرُالْمُجْرِمِیْنَ یَوْمَئِذٍ زُرْقًا۔ یَّـتَـخَافَـتُـوْنَ بَیْنَہُمْ اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ عَشْرًا۔ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ اِذْ یَقُوْلُ اَمْثَلُھُمْ طَرِیْقَۃً اِنْ لَّبِثْـتُمْ اِلاَّ یَوْمًا۔ (طٰـہٰ : 100 تا 104) (جو اس سے اعراض کریں گے، وہ قیامت کے دن ایک بھاری بوجھ اٹھائیں گے۔ اسی کے وبال میں ہمیشہ گرفتار رہیں گے اور قیامت کے دن یہ بہت بھاری بوجھ ہوگا۔ جس دن صور پھونکا جائے گا اور مجرموں کو اس دن ہم اس…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 98–101

فہم القرآن ربط کلام : معبود باطل کی حیثیت بتلانے اور اس کا انجام دکھلانے کے بعد سچے معبود کا تعارف کر وایا گیا ہے۔ یہ کتنی عظیم حقیقت ہے کہ قرآن مجید میں کوئی ایک واقعہ بھی داستاں گوئی کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا باقی تمام واقعات کو اجزاء کی شکل میں مختلف مقامات پر بیان کرتے ہوئے موقع اور مضمون کی مناسبت سے ایسی نصیحت کی جاتی ہے جو انسان کے دل پر اثر کیے بغیر نہیں رہ سکتی۔ اسی اصول کے پیش نظر یہاں پہلے معبود باطل یعنی بچھڑے کے بارے میں بتلایا کہ ناعاقبت اندیش لوگوں نے یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہ کی کہ بچھڑے کا مجسمہ نہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

101: خٰلِدِیْنَ (وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہونگے) یہ یَحْمِلُ کی ضمیر سے حال ہے۔ معنی کا لحاظ کر کے جمع لائے اور فَاِنَّہٗمیں لفظ منؔ کا لحاظ کر کے واحد لائے۔ فِیْہِ (اس میں بوجھ میں) بوجھ کی جزاء یعنی عذاب میں وَسَآ ئَ لَھُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ حِمْلًا (اور قیامت کے دن یہ بوجھ ان کے لئے بہت برا ہوگا) ساءؔ یہ بئس کے حکم میں ہے۔ اور اس میں ضمیر مبہم ہے جس کی تفسیر حملًا بطور تمیز کر رہا ہے۔ لھمؔ میں لام بیانیہ ہے جیسا کہ ہیت لک ] یوسف : 23[ میں ہے۔ ساءؔ کا مخصوس بالذّم محذوف ہے۔ کیونکہ پہلے آنے والا اَلْوِزْرؔ اس پر دلالت کر رہا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ساء الحمل حملًا وزرھم۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

101۔ خالدین فیہ، بھاری بوجھ لاد کر کھڑے رہیں گے۔ وساء لھم یوم القیامۃ حملا، قرآن سے انکار کے بسبب وہ برا بوجھ ہوگاجو وہ قیامت کے دن اٹھائے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 99–101

99۔ 101:۔ اوپر موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت کا موسیٰ (علیہ السلام) اور جادوگروں کے مقابلہ کا فرعون اور اس کی قوم کے ڈوب کر ہلاک ہونے کا بنی اسرائیل میں بچھڑے کی پوجا کا پھیلنا اس کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح اس سورت میں پہلے لوگوں کے چند قصے بیان کیے گئے ہیں اسی طرح قرآن میں جگہ جگہ پچھلے انبیاء اور پچھلی امتوں کا ذکر آیا ہے تاکہ اہل کتاب ان قصوں کو اپنی کتابوں کے موافق پاکر اور مشرکین مکہ یہ غیب کی باتیں ان پڑھ رسول ( علیہ السلام) سے سن کر قرآن کو اللہ کا کلام اور جن پر یہ کلام اترا ہے ان کو اللہ کا سچا رسول جان لیں پھر فرمایا ایسی سیدھی بات سمجھانے کے بعد بھی جو کوئی قرآن کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 100–103

آیات (100) اللہ تعالیٰ اپنے نبی محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنے احسان کا ذکر کرتا ہے کہ اس نے آپ کو گزرے ہوئے لوگوں کی خبروں سے آگاہ فرمایا :۔۔۔ مثلاً یہ عظیم واقعہ اور اس کے اندر اندر مذکور تمام احکام، جن کا اہل کتاب میں سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا۔ پس آپ نے گزری ہوئی قوموں کی تاریخ کا درس لیا ہے نہ کسی سے اس کا علم حاصل کیا ہے، لہٰذا آپ کا ان کے واقعات کے بارے میں حق الیقین کے ساتھ آگاہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں اور آپ جو کچھ لے کر آئے ہیں وہ سب صداقت پر مبنی ہے۔ بناء بریں فرما : (وقد اتینک من لدنا) ” اور دیا ہم نے آپ کو اپنی طرف سے “۔ یعنی اپنی طرف سے نفیس عطیہ اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 41–135

قول باری ہے (واصطنعتک لنفسی ۔ میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔ اصطناع لطف و کرم کے ذریعے کسی کو اپنے لئے خالص اور خاص کرلینے کو کہتے ہیں اور (لنفسی ) کا مفہوم ہے تاکہ تم میری محبت اور میرے ارادہ کے زیر سایہ اپنی سرگرمیاں جاری رکھو۔ “

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 100–101

103 قرآن حکیم سے اعراض و روگردانی کے ہولناک انجام کا بیان : سو اس ارشاد سے قرآن حکیم سے منہ موڑنے اور اعراض برتنے والوں کا ہولناک انجام بیان فرمایا گیا ہے کہ سب کو اٹھانا پڑے گا اپنے کفر و شرک، الحادو بےدینی اور معاصی وذنوب کا وہ بوجھ جو بڑا ہی سخت اور ہولناک بوجھ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قرآن حکیم سے منہ موڑنے اور اعراض کرنے والوں کا انجام بڑا ہی برا اور نہایت ہی ہولناک ہوگا۔ اور ایسوں کیلئے دارین کی محرومی اور شقاوت و بدبختی مقدر ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو قیامت کے روز ان کو ضلال واضلال یعنی گمراہ ہونے اور گمراہ کرنے کا بوجھ اٹھانا ہوگا۔ سو ان کو اپنی گمراہی کا بوجھ بھی اٹھانا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 99–113

قصص بیان کرنے کا مقصد، قیامت کے دن کا منظر تشریح : سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا واقعہ یہاں ختم ہوتا ہے اور اب اس سورت کے آغاز کی طرف اشارہ کرنے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ کیوں بیان کیا گیا۔ شروع سورت میں اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا کہ تم مشقت میں پڑجاؤ۔ (سورۃ طہٰ آیت :2) بلکہ یہ تو نصیحت کی ایک کتاب آپ کو دی گئی ہے اس کو پھیلانا سمجھانا آپ کا کام ہے جو کہ مشکل ہے کیونکہ آپ سے پہلے جتنے نبی آئے انہوں نے یہی سبق دیا اور اسی طرح نیکی کی ہدایت کی اور ان کو بھی اس کام میں بڑی ہمت، استقلال اور جرأت سے کام لینا پڑا تھا جیسا کہ یہاں سیدنا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 90–104

(رکوع نمبر 5) اسرارومعارف ہارون (علیہ السلام) نے فورا ان لوگوں کو اس کام سے باز رہنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا تم ایک بڑی آزمائش میں پھنس گئے ہو اور گمراہ ہو رہے ہو ، لوگو تمہارا معبود تو بہت بڑا رحم کرنے والا ہے جو اس نافرمانی پر بھی تمہیں کسی فوری عذاب میں مبتلا نہیں کر رہا ، لہذا توبہ کرو اور میری پیروی کرو اور میری یہ بات ضرور مان لو مگر وہ نہ مانے بلکہ کہنے لگے کہ جب تک موسیٰ (علیہ السلام) واپس نہ آجائیں ہم تو اسی کی پوجا کرتے رہیں گے ، مفسرین کے مطابق بنی اسرائیل تین گروہوں میں بٹ گئے تھے ، ایک گروہ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی پیروی پہ قائم رہا مگر ان کی تعداد کم تھی دوسرا گروہ بچھڑے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 98–101

ف 1 اس سے بھاگنا چاہیں گے مگر وہ ان پر لدار رہے گا۔ یہ وعید ہے۔2 یہ اس دہشت اور سراسیمگی کی کیفیت کا ذکر ہے جس میں یہ مشرک اور کافر قیاتم کے روز مبتلا ہوں گے۔ قیامت کے دن مختلف احوال اور مقامات ہوں گے جن کا متعدد آیات میں ذکر پایا جاتا ہے اور ان ماقمات میں کفار کی مختلف حالتیں ہوں گی۔ لہٰذا ان آیات میں تعارض نہیں ہے۔ (کذا فی الشور کافی)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(20:101) خلدین فیہ۔ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع وزر ہے۔ ای فی الوزر المراد منہ العقوبۃ۔ یعنی وہ اس عقوبت میں ہمیشہ کے لئے مبتلا رہیں گے۔ حملا۔ بوجھ ۔ اس کی جمع احمال ہے بروزن فعل و افعال۔ منصوب بوجہ ساء کی تمیز کے ہے۔ اور قیامت کے دن ان کے لئے یہ بہت برا بوجھ ہوگا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 99–112

لغات القرآن آیت نمبر 99 تا 112 نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ انباء خبریں۔ سبق جو گزر گیا۔ لدنا ہمارے پاس۔ اعرض جس نے منہ پھیرا۔ حمل بوجھ۔ زرق (ازرق) نیلی آنکھیں۔ یتخافتون چپکے چپکے کہیں گے۔ لبثتم تم ٹھہرے رہے ، رکے رہے۔ امثل زیادہ سے زیادہ۔ ینسف وہ اکھاڑدے گا۔ قاع ہموار میدان۔ صفصف چٹیل میدان۔ امت ٹیلہ، ابھری ہوئی زمین۔ خشعت نیچے، پست ہوگی۔ ھمس دھیمی اور ہلکی آواز۔ عنت چھپ جائے گی۔ الوجوہ (وجہ) چہرے۔ ظلم زیادتی۔ ھضم نقصان پہنچنا، حق تلفی کرنا۔ ٹکڑے ہونا۔ تشریح : آیت نمبر 99 تا 112 نبی کریم ﷺ سے فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ! قرآن کریم کے ذریعہ ہم آپ کے سامنے قوموں کے جن واقعات اور انبیاء کرام (علیہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 100–102

ان آیتوں میں ارشاد ہے کہ ایسے لوگوں کو یہ بوجھ اس دن اٹھانا پڑے گا جس دن صور کی آواز سن کر یہ دوبارہ زندہ ہوجائیں گے، اور ایسی حالت سے میدان محشر میں کھڑے ہوں گے کہ ان کی آنکھوں کی پتلیاں حشر کے دن نیلی ہوں گی، اور منہ کالا ہوگا۔ دنیا میں جو سالہا سال عیاشیاں کی ہیں، ان سب کو وہاں کی مصیبتوں کے آگے بھول جائیں گے، اور آپس میں چپکے چپکے باتیں کرنے کے طور پر کوئی اس مدت کو دس دن کی مدت بتلائے گا، کوئی ایک دن کی ، کوئی پہر دو پہر کی، اور کوئی گھڑی بھر کی۔ یہ مصیبت ہمارے کیسے پیچھے پڑی کہ جس کی انتہا ہی نہیں ہوتی۔ فرمایا کہ ہم ان کی باتوں سے خوب واقف ہیں، ان میں جو بڑا ہوگا وہ یوں کہے گا کہ تم…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 99–103

دنیا کی جامع ترین کتاب : (ف 1) قرآن حکیم میں کمال یہ ہے کہ اس میں رشد واصلاح کا کوئی پہلو نہیں چھوڑا گیا ، ہر نوع اور ہر قسم کے دلائل بیان کئے گئے ہیں آپ دیکھیں گے کہ کہیں فلسفیانہ براہین کا انبار ہے ، کہیں فطرت کے عجائبات سے استشہاد ہے ، کہیں یہ کہا گیا ہے کہ خود اپنے نفسیات کا مطالعہ کرو ، اور دل کی گہرائیوں کو دیکھو اور کہیں دنیا کے اہم اور مفید البیان واقعات گنائے ہیں ، اخلاق ومعاشرت کی تفصیلات جدا ہیں اور حکم ونصائح کا ذکر ، علیحدہ عقائد کے مسائل بھی ہیں ، اور اقوام وامم کے حالات بھی یہی وجہ ہے کہ جامعیت کے اعتبار سے قرآن کا پایہ کائنات کے تمام صحیفوں سے کہیں بلند ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

- 10 1 یہ لوگ ہمیشہ اس بوجھ کے تلے دبے رہیں گے اور یہ بوجھ ان کے لئے قیامت میں بہت ہی برا ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وہ ان بوجھوں کے نیچے دبے ہوئے دکھائیں دیں گے اور وہ کبھی ان سے جدا نہیں ہوں گے : 101۔ مزید تاکید کے لئے دوبارہ ارشاد فرما دیا کہ اس طرح کے بوجھ ان سے کبھی الگ نہیں ہوں گے گویا وہ دوزخ کے عذاب میں بھی ان کے ساتھ ہی رہیں گے گویا وہ اس طرح کے دوہرے عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ قارئین غور کریں ابھی وقت ہے کہ ہم ان بوجھوں کو اپنے سے الگ کرسکتے ہیں اگر کرنا چاہیں تاکہ قیامت کے روز ان سے بچ سکیں ، اب یہ بھی غور کیجئے کہ آج ہمارا ایمان اس قرآن کریم پر ہے جس کو ہم نے سجا کر طاقوں پر رکھا ہے اور جس کو ان سارے بوجھوں کے اٹھانے والا روزانہ ہاتھ میں لے کر ایک بار ضرور چومتا اور منہ اور ناک پر لگا کر برکت حاصل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 100–101

مَّنْ أَعْرَ‌ضَ عَنْهُ فَإِنَّهُ يَحْمِلُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وِزْرً‌ا (Whoever turns away from it shall certainly bear a heavy burden on the Doomsday - 20:100) Turning aside from the Qur'an can take different forms: not paying proper attention and respect when it is being recited; showing scant desire to learn to read it or to comprehend its meaning, or reading it incorrectly without regard to correct pronunciation etc.; reading it without full concentration; reading it not to win God's goodwill but to attain worldly rewards such as wealth and fame. Likewise not striving to comprehend the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 100–101

77. Here the people have been warned that whoso will turn away front the Quran and will reject its guidance, he shall do harm to himself only and not to Allah and His Messenger, and that the one, who rejects His Message, shall inevitably be punished in the Hereafter. And this warning holds good for every people, every country and every age. This is because there are only two alternatives for an individual or a community, whom the message of the Quran reaches. They can either accept it or reject it, there is no third way.

Read the full tafseer →