مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 3 of 18

3645Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، أَخْبَرَنَا الْحَجَّاجُ هُوَ ابْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ فِي سَاقَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُمُوشَةٌ وَكَانَ لَا يَضْحَكُ إِلَّا تَبَسُّمًا، وَكُنْتُ إِذَا نَظَرْتُ إِلَيْهِ قُلْتُ أَكْحَلُ الْعَيْنَيْنِ وَلَيْسَ بِأَكْحَلَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ هَذَا الْوَجْهِ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی دونوں پنڈلیاں مناسب باریکی ١ ؎ لیے ہوئے تھیں اور آپ کا ہنسنا صرف مسکرانا تھا، اور جب میں آپ کو دیکھتا تو کہتا کہ آپ آنکھوں میں سرمہ لگائے ہوئے ہیں، حالانکہ آپ سرمہ نہیں لگائے ہوتے۔

Sayyidina Jabir ibn Samurah (RA) narrated : The legs of Allah’s Messenger ﷺ were slender. He did not laugh beyond a smile. When I looked at him I thought that there was collyrium in his eyes, but he had not applied collyrium. [Ahmed 20971] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف المصدر نفسه // مختصر الشمائل (193)، ضعيف الجامع الصغير (4474) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3645
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ کی پنڈلیاں اتنی بھی باریک نہیں تھیں کہ جسم کے دوسرے اعضاء سے بےجوڑ ہوگئی ہوں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢١٤٤) (ضعیف) (سند میں حجاج بن ارطاة کثیر الخطا والتدلیس راوی ہیں)
3646Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبُو قَطَنٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کا منہ مبارک کشادہ تھا، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ تھے اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔

Sayyidina Jabir ibn Samurth (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ had a large face, big eyes and skinny ankles. [Ahmed 20838, Muslim 2339]

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٢٧ (٢٣٣٩) (تحفة الأشراف: ٢١٨٣) (صحیح)
3647Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَلِيعَ الْفَمِ أَشْكَلَ الْعَيْنَيْنِ مَنْهُوشَ الْعَقِبِ . قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِسِمَاكٍ: مَا ضَلِيعُ الْفَمِ ؟ قَالَ: وَاسِعُ الْفَمِ، قُلْتُ: مَا أَشْكَلُ الْعَيْنَيْنِ ؟ قَالَ: طَوِيلُ شَقِّ الْعَيْنِ، قَالَ: قُلْتُ: مَا مَنْهُوشُ الْعَقِبِ ؟ قَالَ: قَلِيلُ اللَّحْمِ ؟. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کشادہ منہ والے تھے، آپ کی آنکھ کے ڈورے سرخ اور ایڑیاں کم گوشت والی تھیں۔ شعبہ کہتے ہیں: میں نے سماک سے پوچھا: «ضليع الفم» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی کشادہ منہ کے ہیں، میں نے پوچھا «أشكل العينين» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: اس کے معنی بڑی آنکھ والے کے ہیں، وہ کہتے ہیں: میں نے پوچھا: «منهوش العقب» کے کیا معنی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کم گوشت کے ہیں۔

Abu Musa reported from Muhammad ibn Muthanna, from Muhammad ibn Ja’far, from Shu’bah, from Simak ibn Harb, from Jabir ibn Samurah that he said, “Allah’s Messenger ﷺ had “(as the foregoing: 3666). Shu’bah reported that he asked Simak what the words meant. He said, “(Respectively) a large face, big eyes, little flesh.” [Ahmed 20966]

صحيح مختصر الشمائل (7)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3647
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3648Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ أَبِي يُونُسَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ شَيْئًا أَحْسَنَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّ الشَّمْسَ تَجْرِي فِي وَجْهِهِ، وَمَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَسْرَعَ فِي مِشْيَتِهِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَأَنَّمَا الْأَرْضُ تُطْوَى لَهُ، إِنَّا لَنُجْهِدُ أَنْفُسَنَا وَإِنَّهُ لَغَيْرُ مُكْتَرِثٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے زیادہ خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا، گویا آپ کے چہرہ پر سورج پھر رہا ہے، اور نہ میں نے کسی کو آپ سے زیادہ تیز رفتار دیکھا، گویا زمین آپ کے لیے لپیٹ دی جاتی تھی، ہمیں آپ کے ساتھ چلنے میں زحمت اٹھانی پڑتی تھی اور آپ کوئی دقت محسوس کئے بغیر چلے جاتے تھے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) said: I have not seen anything more beautiful than Allah’s Messenger ﷺ as though the sun sailed in his face. And, I have not seen anyone walk faster than Allah’s Messenger iii as though the land is rolled up for him; while we have to exert ourselves (walking with him), he (walks) effortlessly. [Ahmed 8952] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف المصدر نفسه // مختصر الشمائل //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3648
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٤٧١) (ضعیف) (سند میں ابن لھیعہ ضعیف راوی ہیں)
3649Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عُرِضَ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ فَإِذَا مُوسَى ضَرْبٌ مِنَ الرِّجَالِ كَأَنَّهُ مِنْ رِجَالِ شَنُوءَةَ، وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ فَإِذَا أَقْرَبُ النَّاسِ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا عُرْوَةُ بْنُ مَسْعُودٍ، وَرَأَيْتُ إِبْرَاهِيمَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا صَاحِبُكُمْ يَعْنِي نَفْسَهُ، وَرَأَيْتُ جِبْرِيلَ فَإِذَا أَقْرَبُ مَنْ رَأَيْتُ بِهِ شَبَهًا دِحْيَةُ هُوَ ابْنُ خَلِيفَةَ الْكَلْبِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انبیاء میرے سامنے پیش کئے گئے تو موسیٰ (علیہ السلام) ایک چھریرے جوان تھے، گویا وہ قبیلہ شنوءہ کے ایک فرد ہیں اور میں نے عیسیٰ بن مریم (علیہما السلام) کو دیکھا تو میں نے جن لوگوں کو دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے عروہ بن مسعود ؓ ہیں اور میں نے ابراہیم (علیہ السلام) کو دیکھا تو ان سے زیادہ مشابہت رکھنے والا تمہارا یہ ساتھی ہے ١ ؎، اور اس سے مراد آپ خود اپنی ذات کو لیتے تھے، اور میں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا تو جن لوگوں کو میں نے دیکھا ہے ان میں سب سے زیادہ ان سے مشابہت رکھنے والے دحیہ کلبی ہیں، یہ خلیفہ کلبی کے بیٹے ہیں ۔

Sayyidina Jahir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: (On the night of miraj) the Prophets were presented to me. Musa was a young man as though one of Shami’ah. And I saw Eesa ibn Maryam, to whom the nearest in appearance that I have seen is Urwah ibn Masud. And I saw Ibrahim the nearest to him in looks that I have seen is your companion (meaning, myself). And I saw Jabril, and the nearest in appearance to him that I have seen is Dihyah. (He was ibn Khalifah Kalbi). [Ahmed 14595, Muslim 167]

صحيح، الصحيحة (1100)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3649
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی خود نبی اکرم ﷺ ، اس میں آپ کے حلیہ کا بیان اس طرح ہے کہ آپ شکل و صورت سے ابراہیم (علیہ السلام) سے مشابہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٧٤ (١٦٧) (تحفة الأشراف: ٢٩٢٠) (صحیح)
3650Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ کے وقت عمر کے متعلق

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، قَالَا: أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، قَال: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ: تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ .

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ٦٥) سال کے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ died when he was sixty-five years old. [Muslim 2353, Ahmed 1945]

شاذ ومضی (3701) // (746 / 3883) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3650
Notes · وضاحت
١ ؎: دیکھئیے حاشیہ حدیث رقم: ٣٦٣١۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٢٣٥٣) (تحفة الأشراف: ٦٢٩٤) (شاذ) (سند صحیح ہے، لیکن ابن عباس ؓ کو اس بابت وہم ہوگیا تھا، وفات کے وقت صحیح عمر ٦٣ سال ہے، دیکھیے ابن عباس ہی کا بیان حدیث رقم ٣٦٥٢ میں)
3651Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ کے وقت عمر کے متعلق

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، حَدَّثَنَا عَمَّارٌ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَاابْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ خَمْسٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنُ الْإِسْنَادِ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عباس ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ پینسٹھ ( ٦٥) سال کے تھے۔

Nasr ibn Ali al-Jahdami reported from Bishr ibn Mufaddal from Khalid al-Hazza, from Ammar, the freedman of Banu Hashim that Ibn Abbas (RA) narrated that the Prophet ﷺ died when he was sixty-five years old.

شاذ انظر ما قبله (3650)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3651
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (شاذ)
3652Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ إِسْحَاق، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً، يَعْنِي يُوحَى إِلَيْهِ، وَتُوُفِّيَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ سَنَةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَائِشَةَ، وَأَنَسٍ، وَدَغْفَلِ بْنِ حَنْظَلَةَ، وَلَا يَصِحُّ لِدَغْفَلٍ سَمَاعٌ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا رُؤْيَةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ مکہ میں تیرہ ( ١٣) سال رہے یعنی آپ پر تیرہ سال تک وحی کی جاتی رہی اور آپ کی وفات ترسٹھ ( ٦٣) سال کی عمر میں ہوئی۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ stayed in Makkah for thirteen years during which he received revelation and he died at the age of sixty-three. [Ahmed 2242, Bukhari 3851, Muslim 2351]

صحيح ومضی (3882)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3652
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن عباس ؓ کی یہ حدیث عمرو بن دینار کی روایت سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، انس اور دغفل بن حنظلہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- اور دغفل کا نبی اکرم ﷺ سے نہ تو سماع صحیح ہے اور نہ ہی رؤیت۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٠٣)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٣٣٥١) (تحفة الأشراف: ٦٣٠٠) (صحیح)
3653Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُهُ يَخْطُبُ يَقُولُ: مَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ وَأَنَا ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جریر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے معاویہ ؓ کو خطبہ دیتے ہوئے سنا وہ کہہ رہے تھے: رسول اللہ ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے اور ابوبکر اور عمر ؓ بھی ترسٹھ سال کے تھے اور میں بھی (اس وقت) ترسٹھ سال کا ہوں۔

Sayyidina Jarir ibn Abdullah reported that he heard Muawivah ibn Abu Sufvan deliver a sermon and say, “Allah’s Messenger ﷺ died when he was sixty-three years old, and Abu Bakr (RA) and Umar And, I am sixty three years old.’ [Muslim 2353]

صحيح مختصر الشمائل (318)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3653
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٢٣٥٣) (تحفة الأشراف: ١١٤٠٢) (صحیح)
3654Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أُخْبِرْتُ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، وَقَالَ الْحُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ فِي حَدِيثِهِ: ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاتَ وَهُوَ ابْنُ ثَلَاثٍ وَسِتِّينَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ ابْنُ أَخِي الزُّهْرِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَ هَذَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی تو آپ ترسٹھ سال کے تھے۔

Sayyidah Ayshah said: The Prophet ﷺ died at the age of sixty three. [Ahmed 24672, Bukhari 3536. Muslim 2349]

صحيح مختصر الشمائل (319)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3654
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور اسے زہری کے بھتیجے (محمد بن عبداللہ بن مسلم) نے بھی زہری سے اور زہری نے عروہ کے واسطہ سے عائشہ سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ١٩ (٣٥٣٦)، والمغازي ٨٥ (٤٤٦٦)، صحیح مسلم/الفضائل ٣٣ (٢٣٥٠) (تحفة الأشراف: ١٦٥٣٢) (صحیح)
3655Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے مناقب ان کا نام عبداللہ بن عثمان اور لقب عتیق ہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا الثَّوْرِيُّ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْرَأُ إِلَى كُلِّ خَلِيلٍ مِنْ خِلِّهِ وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں ہر خلیل کی «خلت» (دوستی) سے بری ہوں اور اگر میں کسی کو خلیل (دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو، یعنی ابوبکر ؓ کو خلیل بناتا، اور تمہارا یہ ساتھی اللہ کا خلیل ہے ۔

Sayyidina Abdullah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I am absolved of the friendship of every friend. Were I to choose a friend, I would take lbn Abu Quhafah as a friend. And your companion (meaning myself) is the friend of Allah.” [Ibn e Majah 2383, Ahmed 3878]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3655
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، ابوہریرہ، ابن زبیر اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «خُلّت» دوستی کی ایک خاص حالت ہے جس کے معنی ہیں دوست کی دوستی کا دل میں رچ بس جانا، یہ محبت سے اعلی و ارفع حالت ہے، اسی لیے آپ ﷺ یا ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ مقام صرف اللہ تعالیٰ کو دیا ہے، رہی محبت کی بات تو آپ کو سارے صحابہ، صدیقین و صالحین سے محبت ہے، اور صحابہ میں ابوبکر صدیق ؓ کا مقام سب سے افضل ہے، حتیٰ کہ ممکن ہوتا تو آپ ابوبکر کو خلیل بنا لیتے، یہ بات ابوبکر ؓ کی ایک بہت بڑی فضیلت پر دلالت کر رہی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٣)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٣) (تحفة الأشراف: ٩٥١٣)، و مسند احمد (١/٣٧٧، ٣٨٩، ٣٩٥) (صحیح)
3656Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے مناقب ان کا نام عبداللہ بن عثمان اور لقب عتیق ہے

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: أَبُو بَكْرٍ سَيِّدُنَا وَخَيْرُنَا وَأَحَبُّنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ہمارے سردار ہیں اور ہم میں سب سے بہتر ہیں اور وہ ہم میں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھے۔

Sayyidina Umar said, ‘Our chief Abu Bakr (RA) is the best of us and was the dearest of all of us to Allah’s Messenger.” [Bukhari 3668]

حسن، المشکاة (6018)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3656
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بهذا الاختصار وهو في سياق طويل في حديث ثقيفة بني ساعدة وبيعة أبي بکر في البخاري (فضائل الصحابة ٥ برقم: 3667، 3668) ( تحفة الأشراف: ١٠٦٧٨) (صحیح)
3657Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے مناقب ان کا نام عبداللہ بن عثمان اور لقب عتیق ہے

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ: قُلْتُلِعَائِشَةَ: أَيُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ ؟ قَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ: عُمَرُ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَتْ: ثُمَّ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ ؟ قَالَ: فَسَكَتَتْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے پوچھا: صحابہ میں سے رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ انہوں نے کہا: عمر، میں نے پوچھا: پھر کون؟ کہا: پھر ابوعبیدہ بن جراح، میں نے پوچھا: پھر کون؟ تو وہ خاموش رہیں ١ ؎۔

Abdullah ibn Shaqiq reported that he asked Sayyidah Ayshah (RA) “Which of the sahabah i was dearest to the Prophets?” She said, “Abu Bakr.” He asked, “Who next?’ she said, “Umar.’ He asked, “Who next?” She said, “After him Abu Ubaydh ibn Jarrah.” He asked, “Who next?” She kept quiet. [Bukhari 3662, Ibn e Majah 102]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3657
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحابہ کے فضائل و مناقب کے مختلف اسباب ہیں، منجملہ سبب تو سب کا صحابی رسول ہونا ہے، اور الگ سبب یہ ہے کہ کسی کی فضیلت اسلام میں تقدم کی وجہ سے ہے، کسی کی اللہ و رسول سے ازحد فدائیت کی وجہ سے ہے، اور کسی سے کسی بات میں بڑھے ہونے کی وجہ سے ہے، اور کسی کی فضیلت دوسرے کی فضیلت کے منافی نہیں ہے، اور اس حدیث میں جو عثمان و علی ؓ کا تذکرہ نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ عمر ؓ کے بعد ان دونوں کا مقام نہیں بلکہ ابوعبیدہ ؓ کا ہے، مگر احادیث میں یہ ترتیب ثابت ہے، کہ ابوبکر کے بعد عمر ان کے بعد عثمان اور ان کے بعد علی، پھر ان کے بعد عشرہ مبشرہ، پھر عام صحابہ کا مقام ہے ؓ اجمعین۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٠٢) (تحفة الأشراف: ١٦٢١٢) (صحیح) (یہ حدیث مکرر ہے، دیکھئے حدیث نمبر (٣٧٥٨، نیز ٣٦٦٧)
3658Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے مناقب ان کا نام عبداللہ بن عثمان اور لقب عتیق ہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، وَالْأَعْمَشِ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَهْبَانَ، وَابْنِ أَبِي لَيْلَى،وَكَثِيرٍ النَّوَّاءِ كُلِّهِمْ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ أَهْلَ الدَّرَجَاتِ الْعُلَى لَيَرَاهُمْ مَنْ تَحْتَهُمْ كَمَا تَرَوْنَ النَّجْمَ الطَّالِعَ فِي أُفُقِ السَّمَاءِ، وَإِنَّ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ مِنْهُمْ وَأَنْعَمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلند درجات والوں کو (جنت میں) جو ان کے نیچے ہوں گے، ایسے ہی دیکھیں گے جیسے تم آسمان کے افق پر طلوع ہونے والے ستارے کو دیکھتے ہو اور ابوبکر و عمر ؓ دونوں انہیں میں سے ہوں گے اور کیا ہی خوب ہیں دونوں ۔

Sayyidina Abu Saeed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “As for those having higher ranks (in paradise), those having a lower rank will look at them as you look at the stars shining in the horizon of the heaven. Abu Bakr (RA) and Umar are of them-and how excellent!’ [Ibn e Majah 9, Ahmed 11213]

صحيح، ابن ماجة (96)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3658
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے، یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی عطیہ کے واسطہ سے ابو سعید خدری سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٦) (تحفة الأشراف: ٤٢٠٢، و ٤٢٠٦، و ٤٢١٢، و ٤٢٣٣، ٤٢٣٧) (صحیح)
3659Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي الشَّوَارِبِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ ابْنِ أَبِي الْمُعَلَّى، عَنْ أَبِيهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا، فَقَالَ: إِنَّ رَجُلًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ أَنْ يَعِيشَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَعِيشَ، وَيَأْكُلَ فِي الدُّنْيَا مَا شَاءَ أَنْ يَأْكُلَ، وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ ، قَالَ: فَبَكَى أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَلَا تَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا الشَّيْخِ، إِذْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا صَالِحًا خَيَّرَهُ رَبُّهُ بَيْنَ الدُّنْيَا وَبَيْنَ لِقَاءِ رَبِّهِ، فَاخْتَارَ لِقَاءَ رَبِّهِ قَالَ: فَكَانَ أَبُو بَكْرٍ أَعْلَمَهُمْ بِمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بَلْ نَفْدِيكَ بِآبَائِنَا وَأَمْوَالِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنَ النَّاسِ أَحَدٌ أَمَنَّ إِلَيْنَا فِي صُحْبَتِهِ وَذَاتِ يَدِهِ مِنَ ابْنِ أَبِي قُحَافَةَ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ ابْنَ أَبِي قُحَافَةَ خَلِيلًا، وَلَكِنْ وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ، وُدٌّ وَإِخَاءُ إِيمَانٍ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ . وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ بِإِسْنَادٍ غَيْرِ هَذَا، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: أَمَنَّ إِلَيْنَا يَعْنِي أَمَنَّ عَلَيْنَا.

ابومعلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک دن خطبہ دیا تو فرمایا: ایک شخص کو اس کے رب نے اختیار دیا کہ وہ دینا میں جتنا رہنا چاہے رہے اور جتنا کھانا چاہے کھالے یا اپنے رب سے ملنے کو (ترجیح دے) تو اس نے اپنے رب سے ملنے کو پسند کیا، وہ کہتے ہیں: یہ سن کر ابوبکر ؓ رو پڑے، تو صحابہ نے کہا: کیا تمہیں اس بوڑھے کے رونے پر تعجب نہیں ہوتا جب رسول اللہ ﷺ نے ایک نیک بندے کا ذکر کیا کہ اس کے رب نے دو باتوں میں سے ایک کا اسے اختیار دیا کہ وہ دنیا میں رہے یا اپنے رب سے ملے، تو اس نے اپنے رب سے ملاقات کو پسند کیا۔ ابوبکر ؓ ان میں سب سے زیادہ ان باتوں کو جاننے والے تھے جو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (رسول اللہ ﷺ کی بات سن کر) ابوبکر ؓ نے کہا: بلکہ ہم اپنے باپ دادا، اپنے مال سب کو آپ پر قربان کردیں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی آدمی ایسا نہیں جو ابن ابی قحافہ سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والا ہو اور میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والا ہو، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا تو ابن ابی قحافہ کو دوست بناتا، لیکن (ہمارے اور ان کے درمیان) ایمان کی دوستی موجود ہے ۔ یہ کلمہ آپ نے دو یا تین بار فرمایا، پھر فرمایا: تمہارا یہ ساتھی (یعنی خود) اللہ کا خلیل (دوست) ہے ۔

Sayyidina Abu Mu’alla (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ delivered a sermon one day, saying, “Indeed, to a man, Allah has given choice between living in the world as long as he wills, eating in the world whatever he likes to eat and meeting his Lord, He has chosen to meet his Lord.” Abu Bakr (RA) wept. The companions of the Prophet ﷺ said, “Is not this shaykh surprising? Allah’s Messenger ﷺ mentions a man whom his Lord has given a choice between this world and meeting his Lord, and he has chosen the meeting with his Lord.” But, Abu Bakr (RA) . knew better than them what Allah’s Messenger r.L meant. So, he said, “May our forefathers and our properties be ransomed to you!” Allah’s Messenger ﷺ said, “There is none of the people who has favoured us with companionship and spending more than Ibn Abu Quhafah. Were Ito choose a friend, I would choose Ibn Abu Quhafah a friend. But, friendship and brotherood is faith.” He said that twice or thrice. “And, know that your companion (meaning himself) is Allah’s friend.” [Ahmed 15922]

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3659
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس باب میں ابو سعید خدری ؓ سے بھی روایت آئی ہے اور یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث ابو عوانہ کے واسطہ سے عبدالملک بن عمیر سے ایک دوسری سند سے بھی آئی ہے، اور «أمن إلينا» میں «إلى»، «علی» کے معنی میں ہے، یعنی مجھ پر سب سے زیادہ احسان کرنے والا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢١٧٦) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن ابی المعلی انصاری کے بارے میں حافظ ابن حجر کہتے ہیں: لا يعرف یعنی غیر معروف اور مجہول راوی ہے، اس لیے یہ سند ضعیف ہے، امام ترمذی نے اس کی تحسین ابو سعید خدری کی حدیث کی وجہ سے کی ہے)
3660Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ حُنَيْنٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَسَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ: إِنَّ عَبْدًا خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَهُ، فَاخْتَارَ مَا عِنْدَهُ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَدَيْنَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، قَالَ: فَعَجِبْنَا، فَقَالَ النَّاسُ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا الشَّيْخِ يُخْبِرُ رَسُولُ اللَّهِ عَنْ عَبْدٍ خَيَّرَهُ اللَّهُ بَيْنَ أَنْ يُؤْتِيَهُ مِنْ زَهْرَةِ الدُّنْيَا مَا شَاءَ وَبَيْنَ مَا عِنْدَ اللَّهِ، وَهُوَ يَقُولُ: فَدَيْنَاكَ بِآبَائِنَا وَأُمَّهَاتِنَا، قَالَ: فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ هُوَ الْمُخَيَّرُ وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ هُوَ أَعْلَمَنَا بِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ مِنْ أَمَنِّ النَّاسِ عَلَيَّ فِي صُحْبَتِهِ وَمَالِهِ أَبُو بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا، وَلَكِنْ أُخُوَّةُ الْإِسْلَامِ لَا تُبْقَيَنَّ فِي الْمَسْجِدِ خَوْخَةٌ إِلَّا خَوْخَةُ أَبِي بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر بیٹھ کر فرمایا: ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ وہ دنیا کی رنگینی کو پسند کرے یا ان چیزوں کو جو اللہ کے پاس ہیں ، تو اس نے ان چیزوں کو اختیار کیا جو اللہ کے پاس ہیں، اسے سنا تو ابوبکر ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ہم نے اپنے باپ دادا اور اپنی ماؤں کو آپ پر قربان کیا ١ ؎ ہمیں تعجب ہوا، لوگوں نے کہا: اس بوڑھے کو دیکھو! اللہ کے رسول ایک ایسے بندے کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جسے اللہ نے یہ اختیار دیا کہ وہ یا تو دنیا کی رنگینی کو اپنا لے یا اللہ کے پاس جو کچھ ہے اسے اپنا لے، اور یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم نے اپنے آباء و اجداد اور ماؤں کو آپ پر قربان کیا، جس بندے کو اللہ نے اختیار دیا وہ خود اللہ کے رسول تھے، اور ابوبکر ؓ اسے ہم میں سب سے زیادہ جاننے والے تھے، ابوبکر ؓ کی بات سن کر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: سب سے بڑھ کر میرا حق صحبت ادا کرنے والے اور سب سے زیادہ میرے اوپر اپنا مال خرچ کرنے والے ابوبکر ہیں، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بناتا، تو ابوبکر کو بناتا لیکن اسلام کی اخوت ہی کافی ہے اور مسجد میں (یعنی مسجد کی طرف) کوئی کھڑکی باقی نہ رہے سوائے ابوبکر کی کھڑکی کے ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed reported that Allah’s Messenger ﷺ sat down on the pulpit and said, “Allah has given choice to a slave between receiving the pleasures of the world whatever he wishes and what is with Allah.” Abu Bakr (RA) said, “May we ransom to you, O Messenger of Allah, our fathers and our mothers!” The narrator said, “We were surprised and people said: Look at this shaykh Allah’s Messenger r.L informs us of a man whom Allah has given choice between the pleasures of this world as much as he wishes and what is with Allah, and he says may our parents be ransomed to you.” But, AlIah,s Messenger ﷺ was the one given the choice and Abu Bakr (RA) knew better than the others, The Prophet ﷺ said, “Surely, the most favouring one to me with his companionship and his wealth is Abu Bakr. And, if I were to pick a friend, I would take Abd Bakr as a friend, but Islamic fraternity (is enough). Let not there remain any window in the mosque, but the window of Abu Bakr.” [Bukhari 3904, Muslim 2382] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3660
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ہمارے ماں باپ کی عمریں آپ کو مل جائیں تاکہ آپ کا سایہ ہم پر تادیر اور مزید قائم رہے۔ ٢ ؎: یہ ابوبکر ؓ کی تمام صحابہ پر فضیلت کی دلیل ہے۔ مسجد نبوی میں یہ دروازہ آج بھی موجود ہے، محراب کی دائیں جانب پہلا دروازہ باب السلام ہے اور اور دوسرا خوخۃ ابی بکر ؓ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلاة ٨٠ (٤٦٦)، وفضائل الصحابة ٣ (٣٦٥٤)، ومناقب الأنصار ٤٥ (٣٩٠٤)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٢) (تحفة الأشراف: ٤١٤٥) (صحیح)
3661Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مَحْبُوبُ بْنُ مُحْرِزٍ الْقَوَارِيرِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ يَزِيدَ الْأَوْدِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لِأَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ إِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا أَبَا بَكْرٍ، فَإِنَّ لَهُ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِيهِ اللَّهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَمَا نَفَعَنِي مَالُ أَحَدٍ قَطُّ مَا نَفَعَنِي مَالُ أَبِي بَكْرٍ، وَلَوْ كُنْتُ مُتَّخِذًا خَلِيلًا لَاتَّخَذْتُ أَبَا بَكْرٍ خَلِيلًا أَلَا وَإِنَّ صَاحِبَكُمْ خَلِيلُ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی کا ہمارے اوپر کوئی ایسا احسان نہیں جسے میں نے چکا نہ دیا ہو سوائے ابوبکر کے، کیونکہ ان کا ہمارے اوپر اتنا بڑا احسان ہے کہ جس کا پورا پورا بدلہ قیامت کے دن انہیں اللہ ہی دے گا، کسی کے مال سے کبھی بھی مجھے اتنا فائدہ نہیں پہنچا جتنا مجھے ابوبکر کے مال نے پہنچایا ہے، اگر میں کسی کو خلیل (گہرا دوست) بنانے والا ہوتا تو ابوبکر کو خلیل بناتا، سن لو تمہارا یہ ساتھی (یعنی خود) اللہ کا خلیل ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is none with us whom we have not repaid (his favours) except Abu Bakr. Indeed, he has helped us and Allah will make up to him on the Day of Resurrection. And no one’s property has benefitted me as the property of Abu Bakr. And, were I to take a friend, I would take Abu Bakr (RA) as a friend, but indeed, your companion is Allah’s friend.” [Ibn e Majah 94, Ahmed 7450]

صحيح، ابن ماجة (94)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3661
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٨٤٩) (ضعیف) (سند میں ” داود الأودی “ اور ” محبوب “ ضعیف ہیں، اس لیے پہلا فقرہ يوم القيامة تک ضعیف ہے، مگر حدیث کا دوسرا اور تیسرا فقرہ شواہد و متابعات کی بنا پر صحیح ہے)
3662Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ رِبْعِيٍّ وَهُوَ ابْنُ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ . وَفِي الْبَابِ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ.حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ نَحْوَهُ، وَكَانَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ يُدَلِّسُ فِي هَذَا الْحَدِيثِ، فَرُبَّمَا ذَكَرَهُ عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَرُبَّمَا لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ زَائِدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ابْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مَوْلًى لِرِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ هِلَالٍ مَوْلَى رِبْعِيٍّ، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ أَيْضًا، عَنْ رِبْعِيٍّ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ سَالِمٌ الْأَنْعُمِيُّ كُوفِيٌّ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اقتداء کرو ان دونوں کی جو میرے بعد ہوں گے، یعنی ابوبکر و عمر کی ١ ؎۔

Sayyidina Hudhayfah r reported that Allah’s Messenger said, “Follow those who succeed me- Abu Bakr (RA) and Umar.” [Ibn e Majah 97, Ahmed 23305]

صحيح، ابن ماجة (97) صحيح، ابن ماجة (97)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3662 ہم سے احمد بن منیع اور کئی دوسرے راویوں نے بیان کیا ہے، وہ سب کہتے ہیں: ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ہے اور سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے اسی کے مثل روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3662
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابن مسعود سے بھی روایت ہے، ٣- سفیان ثوری نے یہ حدیث عبدالملک بن عمیر سے اور عبدالملک بن عمیر نے ربعی کے آزاد کردہ غلام کے واسطہ سے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔ ١- سفیان بن عیینہ اس حدیث میں تدلیس کرتے تھے، کبھی تو انہوں نے اسے «عن زائدة عن عبد الملک بن عمير» ذکر کیا اور کبھی انہوں نے اس میں «عن زائدة» ذکر نہیں کیا، ٢- ابراہیم بن سعد نے یہ حدیث سفیان ثوری سے، سفیان نے عبدالملک بن عمیر سے، عبدالملک نے ربعی کے آزاد کردہ غلام ہلال سے، ہلال نے ربعی سے اور ربعی نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٣- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی ربعی سے آئی ہے، جسے انہوں نے حذیفہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے، ٤- سالم انعمی کوفی نے یہ حدیث ربعی بن حراش کے واسطہ سے حذیفہ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے یکے بعد دیگرے ابوبکر اور عمر ؓ دونوں کی خلافت کی طرف اشارہ ہے اور یہ دونوں کے لیے فضیلت کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٧) (تحفة الأشراف: ٣٣١٧) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3663Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي الْعَلَاءِ الْمُرَادِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، عَنْرِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي لَا أَدْرِي مَا بَقَائِي فِيكُمْ فَاقْتَدُوا بِاللَّذَيْنِ مِنْ بَعْدِي ، وَأَشَارَ إِلَى أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم لوگ نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے تو آپ نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میں تمہارے درمیان کب تک رہوں گا، لہٰذا تم لوگ ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے بعد ہوں گے اور آپ نے ابوبکر و عمر ؓ کی جانب اشارہ کیا ۔

Sayyidina Hudhayfah i narrated: We were sitting with the Prophet ﷺ He said, “I cannot say how long more I will be, among you. So, follow those who are after me, and he pointed out to Abu Bakr (RA) and Umar.” [Ahmed 23336, Ibn e Majah 97]

صحيح انظر ما قبله (3662)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3663
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3665Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذْ طَلَعَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، يَا عَلِيُّ لَا تُخْبِرْهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَالْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَلَمْ يَسْمَعْ عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ مِنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَنَسٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا اچانک ابوبکر و عمر ؓ نمودار ہوئے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا ۔

Sayyidina reported that Allah’s Messenger ﷺ said about Abu Bakr (RA) and Umar(RA), “These two are chiefs of the middle-aged dwellers of paradise of the earliest and the last, except the Prophets and Messengers. Do not inform them, Ali.’

صحيح، ابن ماجة (95)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3665
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- ولید بن محمد موقری حدیث بیان کرنے میں ضعیف ہیں اور علی بن حسین نے علی سے نہیں سنا ہے، ٣- علی ؓ سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٤- اس باب میں انس اور ابن عباس ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٢٤٦) (صحیح) (سند میں ” علی بن الحسین زین العابدین “ کی اپنے دادا ” علی “ ؓ سے ملاقات و سماع نہیں ہے، مگر شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)