مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 4 of 18

3664Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِأَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ هَذَانِ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ إِلَّا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر و عمر ؓ کے سلسلہ میں فرمایا: یہ دونوں جنت کے ادھیڑ عمر والوں کے سردار ہوں گے، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے انبیاء و مرسلین کے، (آپ نے فرمایا:) علی ان دونوں کو اس بات کی خبر مت دینا ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib narrated: We were with Allah’s Messenger ﷺ when Abu Bakr (RA) and Umar came, and he said, ‘These two are chiefs of the middle-aged inhabitants of paradise of the first and the last, except the Prophets and Messengers. “O Ali, do not inform them.” --------------------------------------------------------------------------------

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣١٣) (صحیح)
3666Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، قَالَ: ذَكَرَ دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْحَارِثِ، عَنْ عَلِيٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ سَيِّدَا كُهُولِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ مَا خَلَا النَّبِيِّينَ وَالْمُرْسَلِينَ، لَا تُخْبِرْهُمَا يَا عَلِيُّ .

علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابوبکر و عمر جنت کے ادھیڑ عمر کے لوگوں کے سردار ہیں، خواہ وہ اگلے ہوں یا پچھلے، سوائے نبیوں اور رسولوں کے، لیکن علی! تم انہیں نہ بتانا ۔

Sayyidina Ali (RA) narrated: The Prophet ﷺ said, “ Abu Bakr (RA) and Umar are chiefs of the middle-aged people of paradise whether the foremost or the last with the exception of the Prophets and the Messengers. Do not inform them, O Ali.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح انظر ما قبله (3665)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3666
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٥) (تحفة الأشراف: ١٠٠٣٥) (صحیح) (سند میں حارث اعور ضعیف راوی ہے، لیکن شواہد و متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
3667Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَلَسْتُ أَحَقَّ النَّاسِ بَهَا، أَلَسْتُ أَوَّلَ مَنْ أَسْلَمَ، أَلَسْتُ صَاحِبَ كَذَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ عَنْ شُعْبَةَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَهَذَا أَصَحُّ.حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَأَبُو بَكْرٍ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ بِمَعْنَاهُ وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَهَذَا أَصَحُّ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ابوبکر ؓ نے کہا: کیا میں وہ شخص نہیں ہوں جو سب سے پہلے اسلام لایا؟ کیا میں ایسی ایسی خوبیوں کا مالک نہیں ہوں؟۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri (RA) reported that Abu Bakr (RA) said, “Am I not the most deserving of all people. Am I not the first of those who embraced Islam. Am I not the companion of so-and-so? Am I not the com panion of so-and-so?” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الأحاديث المختارة (19 - 20) صحيح الأحاديث المختارة (19 - 20)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3667 ہم سے اسے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے عبدالرحمٰن بن مہدی نے بیان کیا اور عبدالرحمٰن بن مہدی نے شعبہ سے اور شعبہ نے جریری کے واسطہ سے ابونضرہ سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: ابوبکر ؓ نے کہا: پھر انہوں نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی جیسی روایت ذکر کی لیکن اس میں ابو سعید خدری کا واسطہ ذکر نہیں کیا اور یہ زیادہ صحیح ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3667
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- بعض نے یہ حدیث شعبہ سے، شعبہ نے جریری سے، جریری نے ابونضرہ سے روایت کی ہے، وہ کہتے ہیں: ابوبکر نے کہا، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٥٩٦) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3668Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْرُجُ عَلَى أَصْحَابِهِ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ وَالْأَنْصَارِ، وَهُمْ جُلُوسٌ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَلَا يَرْفَعُ إِلَيْهِ أَحَدٌ مِنْهُمْ بَصَرَهُ إِلَّا أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، فَإِنَّهُمَا كَانَا يَنْظُرَانِ إِلَيْهِ وَيَنْظُرُ إِلَيْهِمَا، وَيَتَبَسَّمَانِ إِلَيْهِ وَيَتَبَسَّمُ إِلَيْهِمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي الْحَكَمِ بْنِ عَطِيَّةَ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مہاجرین و انصار میں سے اپنے صحابہ کے پاس نکل کر آتے اور وہ بیٹھے ہوتے، ان میں ابوبکر و عمر ؓ بھی ہوتے، تو ان میں سے کوئی اپنی نگاہ آپ کی طرف نہیں اٹھاتا تھا، سوائے ابوبکر و عمر ؓ کے یہ دونوں آپ کو دیکھتے اور مسکراتے اور آپ ان دونوں کو دیکھتے اور مسکراتے۔

Sayyidna Anas narrated: When Allah’s Messenger ﷺ would come towards his sahabah (RA) both the Muhajir and the Ansar, while they were sitting, and Abu Bakr (RA) and Umar were among them, none would dare look at him in the eye. But, Abu Bakr (RA) and Umar would look at him and smile to him and he would smile to them. --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (6053)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3668
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس حدیث کو ہم صرف حکم بن عطیہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٣- بعض محدثین نے حکم بن عطیہ کے بارے میں کلام کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٨٦) (ضعیف) (سند میں ” حکم بن عطیہ “ پر کلام ہے)
3669Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ مُجَالِدٍ بْنِ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أُمَيَّةَ، عَنِ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِهِ، وَالْآخَرُ عَنْ شِمَالِهِ وَهُوَ آخِذٌ بِأَيْدِيهِمَا، وَقَالَ: هَكَذَا نُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَسَعِيدُ بْنُ مَسْلَمَةَ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِالْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک دن نکلے اور مسجد میں داخل ہوئے، ابوبکر و عمر ؓ میں سے ایک آپ کے دائیں جانب تھے اور دوسرے بائیں جانب، اور آپ ان دونوں کا ہاتھ پکڑے ہوئے تھے آپ نے فرمایا: اسی طرح ہم قیامت کے دن اٹھائے جائیں گے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: One day, Allah’s Messenger ﷺ came forth and entered the mosque with Abu Bakr (RA) and Umar one of them on his right and the other on his left and he held their hands. He said, “This is how we will be raised on the Day of Resurrection.” [Ibn e Majah 99]

ضعيف، ابن ماجة (99) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (18) وهنا أتم، المشکاة (6054)، ضعيف الجامع الصغير (6089) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3669
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- سعید بن مسلمہ محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ٣- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی نافع کے واسطہ سے ابن عمر ؓ سے آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (٩٩) (تحفة الأشراف: ٧٤٩٩) (ضعیف) (سند میں سعید بن مسلمہ ضعیف راوی ہیں)
3670Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيل، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ، حَدَّثَنِي كَثِيرٌ أَبُو إِسْمَاعِيل، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَبِي بَكْرٍ: أَنْتَ صَاحِبِي عَلَى الْحَوْضِ، وَصَاحِبِي فِي الْغَارِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ سے فرمایا: تم حوض کوثر پر میرے رفیق ہو گے جیسا کہ غار میں میرے رفیق تھے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said to Abu Bakr(RA) ‘“You are my companion at the pond, and my companion at the cave.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (6019) // ضعيف الجامع الصغير (1327) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3670
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن، صحیح، غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٦٧٦) (ضعیف) (سند میں کثیر بن اسماعیل ابو اسماعیل ضعیف راوی ہیں)
3671Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ الْمُطَّلِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَنْطَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ، فَقَالَ: هَذَانِ السَّمْعُ وَالْبَصَرُ . وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ حَنْطَبٍ لَمْ يُدْرِكِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

عبداللہ بن حنطب سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر و عمر ؓ کو دیکھا تو فرمایا: یہ دونوں (اسلام کے) کان اور آنکھ ہیں ۔

Sayyidina Abdullah ibn Hantab (RA) reported that on seeing Abu Bakr (RA) and Umar, the Prophet ﷺ said, “These two are the hearing and the sight.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (814)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3671
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث مرسل ہے عبداللہ بن حنطب نے نبی اکرم ﷺ کو نہیں پایا، ٢- اس باب میں عبداللہ بن عمرو ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٢٤٦) (صحیح) (الصحیحة ٨١٤)
3672Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ هُوَ ابْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، قَالَتْ: فَقَالَ: مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَقُلْتُ لِحَفْصَةَ: قُولِي لَهُ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ إِذَا قَامَ مَقَامَكَ لَمْ يُسْمِعِ النَّاسَ مِنَ الْبُكَاءِ، فَأْمُرْ عُمَرَ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ، فَفَعَلَتْ حَفْصَةُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكُنَّ لَأَنْتُنَّ صَوَاحِبَاتُ يُوسُفَ مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ ، فَقَالَتْ حَفْصَةُ لِعَائِشَةَ: مَا كُنْتُ لِأُصِيبَ مِنْكِ خَيْرًا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي مُوسَى، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَالِمِ بْنِ عُبَيْدٍ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم نے فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ، اس پر عائشہ ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ابوبکر جب آپ کی جگہ (نماز پڑھانے) کھڑے ہوں گے تو رونے کی وجہ سے لوگوں کو قرأت نہیں سنا سکیں گے ١ ؎، اس لیے آپ عمر کو حکم دیجئیے کہ وہ نماز پڑھائیں، پھر آپ نے فرمایا: ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں ۔ عائشہ ؓ کہتی ہیں: تو میں نے حفصہ سے کہا: تم ان سے کہو کہ ابوبکر جب آپ کی جگہ کھڑے ہوں گے تو لوگوں کو رونے کے سبب قرأت نہیں سنا سکیں گے، اس لیے آپ عمر کو حکم دیں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے (ایسا ہی) کیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم وہی تو ہو جنہوں نے یوسف (علیہ السلام) کو تنگ کیا، ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں، تو حفصہ نے عائشہ سے (بطور شکایت) کہا کہ مجھے تم سے کبھی کوئی بھلائی نہیں پہنچی۔

Sayyidah Ayshah narrated, that the Prophet ﷺ commanded that Abu Bakr (RA) should lead the people in salah.” She pleaded, ‘O Messenger of Allah, if Abu Bakr (RA) stands in your place, people will not hear him because of his weeping. So, do instruct Umar that he may lead people in Salah.” But, he repeated, “Ask Abu Bakr (RA) that he may lead them in salah.’ She said to Hafsah (RA), “Do tell him that when Abu Bakr (RA) will stand in his place, people will be unable to hear him because of his weeping, so command Umar to lead them in salah.” So Sayyidah Hafsah said that to him and he said, “You are the women of Yusuf (who sent him to prison). Ask Abu Bakr (RA) to lead men in salah.” So, Sayyidah Hafsah (RA) said to Sayyidah Ayshah “I have never had good from you.” [Bukhari 664, Muslim 418, Ibn e Majah 1232, Ahmed 25819]

صحيح، ابن ماجة (1232)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3672
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عبداللہ بن مسعود، ابوموسیٰ اشعری، ابن عباس، سالم بن عبید اور عبداللہ بن زمعہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ ابوبکر پر رقت طاری ہوجائے گی اور وہ رونے لگیں گے پھر رونے کی وجہ سے اپنی قرأت لوگوں کو نہیں سنا سکیں گے، اور بعض روایات کے مطابق اس کا سبب عائشہ نے یہ بیان کیا، اور بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی موجودگی میں آپ کی جگہ پر کھڑے ہونے پر ابوبکر اپنے غم ضبط نہیں کر پائیں گے اس طرح لوگوں کو نماز نہیں پڑھا پائیں گے، «واللہ اعلم»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأذان ٣٩ (٦٦٤)، و ٤٦ (٦٧٩)، و ٦٧ (٧١٢)، و ٧٠ (٧١٦)، والاعتصام (٧٣٠٣)، صحیح مسلم/الصلاة ٢١ (٤١٨)، سنن النسائی/الإمامة ٤٠ (٨٣٤)، سنن ابن ماجہ/الإقامة ١٤٢ (١٢٣٢) (تحفة الأشراف: ١٧١٥٣)، و مسند احمد (٦/٣٤، ٩٦، ٩٧، ٢١٠، ٢٢٤)، وسنن الدارمی/المقدمة ١٤ (٨٣) (صحیح)
3673Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ مَيْمُونٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَنْبَغِي لِقَوْمٍ فِيهِمْ أَبُو بَكْرٍ أَنْ يَؤُمَّهُمْ غَيْرُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ابوبکر ؓ کی موجودگی میں ان کے سوا کوئی اور ان کی امامت کرے ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “It does not behove a people, among whom is Abu Bakr (RA) that anyone else should act as their imam.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف جدا، الضعيفة (4820) // ضعيف الجامع الصغير (6371) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3673
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٥٤٨) (ضعیف جداً ) (بعض نسخوں میں ” حسن غریب “ ہے، اور بعض نسخوں اور تحفة الأشراف میں صرف ” غریب “ ہے، اور یہی زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے، اس لیے کہ سند میں عیسیٰ بن میمون ضعیف راوی ہے، عبدالرحمن بن مہدی نے ان سے کہا: بسند قاسم تم عائشہ سے یہ کس طرح کی احادیث روایت کرتے ہو، تو کہا کہ دو بارہ نہیں بیان کروں گا اور امام بخاری نے فرمایا کہ وہ منکر الحدیث ہے، الضعیفة: ٤٨٢٠)
3674Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنْ أَنْفَقَ زَوْجَيْنِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ نُودِيَ فِي الْجَنَّةِ: يَا عَبْدَ اللَّهِ هَذَا خَيْرٌ، فَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّلَاةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّلَاةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الْجِهَادِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الْجِهَادِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصَّدَقَةِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الصَّدَقَةِ، وَمَنْ كَانَ مِنْ أَهْلِ الصِّيَامِ دُعِيَ مِنْ بَابِ الرَّيَّانِ ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي مَا عَلَى مَنْ دُعِيَ مِنْ هَذِهِ الْأَبْوَابِ مِنْ ضَرُورَةٍ، فَهَلْ يُدْعَى أَحَدٌ مِنْ تِلْكَ الْأَبْوَابِ كُلِّهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَأَرْجُو أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اللہ کی راہ میں جوڑا خرچ کرے گا اسے جنت میں پکارا جائے گا کہ اے اللہ کے بندے! یہ وہ خیر ہے (جسے تیرے لیے تیار کیا گیا ہے) تو جو اہل صلاۃ میں سے ہوگا اسے صلاۃ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل جہاد میں سے ہوگا اسے جہاد کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صدقہ میں سے ہوگا اسے صدقہ کے دروازے سے پکارا جائے گا، اور جو اہل صیام میں سے ہوگا، وہ باب ریان سے پکارا جائے گا، اس پر ابوبکر ؓ نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، اس کی کوئی ضرورت نہیں کہ کسی کو ان سارے دروازوں سے پکارا جائے (اس لیے کہ ایک دروازے سے داخل ہوجانا کافی ہے) مگر کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جو ان سبھی دروازوں سے پکارا جائے گا؟ آپ نے فرمایا: ہاں، اور مجھے امید ہے کہ تم انہیں میں سے ہو گے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger (RA) said, “If anyone spends a pair (of dirham, rupees, etc) in the path of Allh then he will be called, ‘O Allah’s slave, this is good.’ And one who had been an observer of salah will be called from the gate of salah; one who had participated in jihad will be called from the gate of jihad; one who had been charitable will be called from the gate of charity; one who had been observing fasts will be called from the gate of Rayyan.” O Abu Bakr (RA) submitted, “May my parents be ransomed to you! Though it is not necessary that anyone should be called from all the gates, will anyone be called from these doors, all of them?” He said, “Yes! I hope that you are one of them.” [Ahmed 8637, Bukhari 1897, Muslim 2027, Nisai 3132]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3674
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصوم ٤ (١٨٩٧)، والجھاد ٣٧ (٢٨٤١)، وبدء الخلق ٦ (٣٢١٦)، وفضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٦)، صحیح مسلم/الزکاة ٢٧ (١٠٢٧)، سنن النسائی/الصیام ٤٣ (٢٢٤٠)، والزکاة ١ (٢٤٤١)، والجھاد ٢٠ (٣١٣٧) (تحفة الأشراف: ١٢٢٧٩)، وط/الجھاد ١٩ (٤٩)، و مسند احمد (٢/٢٦٨، ٣٣٦) (صحیح)
3675Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَزَّازُ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِيهِ، قَال: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ: أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَتَصَدَّقَ فَوَافَقَ ذَلِكَ عِنْدِي مَالًا، فَقُلْتُ: الْيَوْمَ أَسْبِقُ أَبَا بَكْرٍ إِنْ سَبَقْتُهُ يَوْمًا، قَالَ: فَجِئْتُ بِنِصْفِ مَالِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟ ، قُلْتُ: مِثْلَهُ، وَأَتَى أَبُو بَكْرٍ بِكُلِّ مَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ مَا أَبْقَيْتَ لِأَهْلِكَ ؟ ، قَالَ: أَبْقَيْتُ لَهُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، قُلْتُ: وَاللَّهِ لَا أَسْبِقُهُ إِلَى شَيْءٍ أَبَدًا. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمر بن خطاب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا اور اتفاق سے ان دنوں میرے پاس مال بھی تھا، میں نے (دل میں) کہا: اگر میں ابوبکر ؓ سے کسی دن آگے بڑھ سکوں گا تو آج کے دن آگے بڑھ جاؤں گا، پھر میں اپنا آدھا مال آپ کے پاس لے آیا، تو رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ میں نے عرض کیا: اتنا ہی (ان کے لیے بھی چھوڑا ہوں) اور ابوبکر ؓ وہ سب مال لے آئے جو ان کے پاس تھا، تو آپ نے پوچھا: ابوبکر! اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑا ہے؟ تو انہوں نے عرض کیا: ان کے لیے تو اللہ اور اس کے رسول کو چھوڑ کر آیا ہوں، میں نے (اپنے جی میں) کہا: اللہ کی قسم! میں ان سے کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکوں گا۔

Sayyidina Umar ibn Khattab (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ commanded us to give sadaqah (charity). That coincided with my possession of some wealth at that time, so I thought, “Today I will outdo Abu Bakr, if I do.” So, I brought half of my wealth. Allah’s Messenger ﷺ asked me, “What have you retained for your family?” I said, “The like of it.” Abu Bakr (RA) came with all that he had. He asked him, “O Abu Bakr, what have you retained for your family?” He said, “I have kept a side for them Allah and His Messenger.” I said, “Never will I overtake him in anything.” [Abu Dawud 1678]

حسن، المشکاة (6021)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3675
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الزکاة ٤٠ (١٦٧٨) (تحفة الأشراف: ١٠٣٩٠)، وسنن الدارمی/الزکاة ٢٦ (١٧٠١) (حسن)
3676Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَخْبَرَهُ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَتْهُ امْرَأَةٌ، فَكَلَّمَتْهُ فِي شَيْءٍ، وَأَمَرَهَا بِأَمْرٍ، فَقَالَتْ: أَرَأَيْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنْ لَمْ أَجِدْكَ ؟ قَالَ: فَإِنْ لَمْ تَجِدِينِي فَائْتِي أَبَا بَكْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

جبیر بن مطعم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک عورت نے آ کر کسی مسئلہ میں آپ سے بات کی اور آپ نے اسے کسی بات کا حکم دیا تو وہ بولی: مجھے بتائیے اللہ کے رسول! اگر میں آپ کو نہ پاؤں؟ (تو کس کے پاس جاؤں) آپ نے فرمایا: اگر تم مجھے نہ پانا تو ابوبکر کے پاس جانا ١ ؎۔

Sayyidina Jubayr ibn Mut’im (RA) reported that a woman came to Allah’s Messenger ﷺ and spoke to him about something. He gave her some instructions, but she asked, ‘What do you say, O Messenger of Allah, if I do not find you?” He said, “If you do not find me, go to Abu Bakr.” [Ahmed 16755, Bukhari 3659, Muslim 2386]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3676
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں آپ ﷺ کے بعد آپ کے جانشین ابوبکر ؓ کے ہونے کی پیشین گوئی، اور ان کو اپنا جانشین بنانے کا لوگوں کو اشارہ ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٥٩)، والأحکام ٥١ (٧٢٢٠)، والاعتصام ٢٥ (٧٣٦٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٦) (تحفة الأشراف: ٣١٩٢) (صحیح)
3678Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ أَبِي بَكْرٍ . هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے کہ نبی اکرم ﷺ نے (مسجد کی طرف کھلنے والے) سارے دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا سوائے ابوبکر ؓ کے دروازہ کے۔

Sayyidah Ayshah reported that the Prophet ﷺ commanded that all the doors should be closed up except the door of Abu Bakr. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح انظر الحديث (3922)
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے ٢- اس باب میں ابو سعید خدری ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٤١٠) (صحیح)
3679Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا مَعْنٌ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ إِسْحَاق بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: أَنْتَ عَتِيقُ اللَّهِ مِنَ النَّارِ فَيَوْمَئِذٍ سُمِّيَ عَتِيقًا. هَذَا غَرِيبٌ، وَرَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ مَعْنٍ، وَقَالَ: عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ ابوبکر ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا: تم جہنم سے اللہ کے آزاد کردہ ہو تو اسی دن سے ان کا نام عتیق رکھ دیا گیا ۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Abu Bakr (RA) came to Allah’s Messenger ﷺ who said, ‘You are Atiq of Allah from the hell.” Since that day, he was named Atiq

صحيح، المشکاة (6022 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3679
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- بعض راویوں نے یہ حدیث معن سے روایت کی ہے اور سند میں «عن موسیٰ بن طلحة عن عائشة» کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٩٢١) (صحیح) (الصحیحة ١٥٧٤)
3680Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا تَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا لَهُ وَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ وَوَزِيرَانِ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ، فَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ السَّمَاءِ: فَجِبْرِيلُ وَمِيكَائِيلُ، وَأَمَّا وَزِيرَايَ مِنْ أَهْلِ الْأَرْضِ: فَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ: دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا، وَتَلِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ يكنى: أبا إدريس وهو شيعي.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی نبی ایسا نہیں جس کے دو وزیر آسمان والوں میں سے نہ ہوں اور دو وزیر زمین والوں میں سے نہ ہوں، رہے میرے دو وزیر آسمان والوں میں سے تو وہ جبرائیل اور میکائیل (علیہما السلام) ہیں اور زمین والوں میں سے میرے دو وزیر ابوبکر اور عمر ؓ ہیں ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri narrated: Allah’s Messenger said, “There is no Prophet ﷺ without two ministers from the dwellers of the heavens and two ministers from the inhabitants of the earth. As for my heavenly ministers they are Jibril and Mika’il and my ministers from earth are Abu Bakr (RA) and Umar.

ضعيف، المشکاة (6056) // ضعيف الجامع الصغير (5223) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3680
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور ابوالجحاف کا نام داود بن ابوعوف ہے، سفیان ثوری سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے ابوالجحاف نے بیان کیا (اور وہ ایک پسندیدہ شخص تھے) ٣- اور تلید بن سلیمان کی کنیت ابوادریس ہے اور یہ اہل تشیع میں سے ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کے باوجود ابوبکر و عمر ؓ کی منقبت میں حدیث روایت کی، اس سے اس روایت کی اہمیت بڑھ جاتی ہے، «الفضل ما شہدت بہ أعداء»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤١٩٦) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں)
3677Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ بَقَرَةً إِذْ قَالَتْ: لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا إِنَّمَا خُلِقْتُ لِلْحَرْثِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: آمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ . قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ وَاللهُ أَعْلَمُ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اس دوران کہ ایک شخص ایک گائے پر سوار تھا اچانک وہ گائے بول پڑی کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا کی گئی ہوں، میں تو کھیت جوتنے کے لیے پیدا کی گئی ہوں (یہ کہہ کر) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرا اس پر ایمان ہے اور ابوبکر و عمر کا بھی، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس دن وہاں لوگوں میں موجود نہیں تھے ، واللہ اعلم ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “While a man mounted a cow to ride it, it remarked, “I was not created for this. I am created to plough the fields.’ I have believed in that and Abu Bakr (RA) and Umar.” Abu Salamah (RA) said that both of them were not among the people that day. [Ahmed 8972, Bukhari 2324, Muslim 2388] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الإرواء (247) صحيح، الإرواء (247)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3677 ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے شعبہ نے اسی سند سے اسی جیسی حدیث بیان کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3677
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اللہ کے رسول ﷺ کو ان دونوں کے سلسلہ میں اتنا مضبوط یقین تھا کہ جو میں کہوں گا وہ دونوں اس پر آمنا و صدقنا کہیں گے، اسی لیے ان کے غیر موجودگی میں بھی آپ نے ان کی طرف سے تصدیق کردی، یہ ان کی فضیلت کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الحرث والمزارعة ٤ (٢٣٢٤)، وأحادیث الأنبیاء ٥٢ (٣٤٧١)، وفضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٣)، و ٦ (٣٦٩٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٨) (تحفة الأشراف: ١٤٩٥١) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح)
3681Sunan At-Tirmidhi

مناقب حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَحَبِّ هَذَيْنِ الرَّجُلَيْنِ إِلَيْكَ: بِأَبِي جَهْلٍ، أَوْ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، قَالَ: وَكَانَ أَحَبَّهُمَا إِلَيْهِ عُمَرُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ عُمَرَ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! ان دونوں یعنی ابوجہل اور عمر بن خطاب میں سے جو تجھے محبوب ہو اس کے ذریعہ اسلام کو طاقت و قوت عطا فرما ، آپ ﷺ نے فرمایا: تو ان دونوں میں سے عمر اللہ کے محبوب نکلے ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ prayed, “O Allah, strengthen Islam with whichever of these two men is dearer to you. Abu JahI or Umar ibn al-Khattab.” And, Umar (RA) was the one of the two dear to Allah.” [Ahmed 57001]

صحيح، المشکاة (6036 / التحقيق الثانی)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3681
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
ابن عمر ؓ کی یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٦٥٥)، و مسند احمد (٢/٦٥) (صحیح)
3682Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ، وَقَالَ: فِيهِ عُمَرُ، أَوْ قَالَ: ابْنُ الْخَطَّابِ فِيهِ شَكَّ خَارِجَةُ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوِ مَا قَالَ عُمَرُ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَخَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب ؓ نے (راوی خارجہ کو شک ہوگیا ہے) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر ؓ کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Surely, Allah brought the truth on the tongue of Umar and his heart.” He also reported that when a situation arose and other people said something and Umar (RA) said something-or he said that Ibn ul-Khattab said something (the narrator being unsure which way), the Qur’an was revealed upholding Umar’s view. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3682
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں، ٣- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی لیے آپ کو «ملہم» یا «محدث» کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٦٥٦)، و مسند احمد (٢/٥٣، ٩٥) (صحیح)
3683Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ أَعِزَّ الْإِسْلَامَ بِأَبِي جَهْلِ ابْنِ هِشَامٍ، أَوْ بِعُمَرَ ، قَالَ: فَأَصْبَحَ فَغَدَا عُمَرُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُهُمْ فِي النَّضْرِ أَبِي عُمَرَ وَهُوَ يَرْوِي مَنَاكِيرَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! اسلام کو ابوجہل بن ہشام یا عمر کے ذریعہ قوت عطا فرما ، پھر صبح ہوئی تو عمر رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے اور اسلام لے آئے۔

Sayyidina lbn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ prayed: O Allah give strength to Islam through (the Islam of) Abu Jahi ibn Hisham or-Umar ibn al-Khatab. So, the next morning Umar (RA) came to Allah’s Messenger ﷺ and embraced Islam.

ضعيف جدا، المشکاة (6036)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3683
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- بعض محدثین نے نضر ابوعمر کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور یہ منکر حدیثیں روایت کرتے ہیں۔ (لیکن حدیث رقم: (٣٦٩٠) سے اس کے مضمون کی تائید ہوتی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٢٢٣) (ضعیف جداً ) (سند میں نضر بن عبدالرحمن ابو عمر الخزاز متروک راوی ہے، امام ترمذی نے بھی اسی سبب ضعف کا ذکر کردیا ہے)
3684Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ الْوَاسِطِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أَخِي مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ لِأَبِي بَكْرٍ: يَا خَيْرَ النَّاسِ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: أَمَا إِنَّكَ إِنْ قُلْتَ ذَاكَ فَلَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا طَلَعَتِ الشَّمْسُ عَلَى رَجُلٍ خَيْرٍ مِنْ عُمَرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِذَاكَ، وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ عمر نے ابوبکر ؓ سے کہا: اے رسول اللہ ﷺ کے بعد سب سے بہتر انسان! اس پر ابوبکر ؓ نے کہا: سنو! اگر تم ایسا کہہ رہے ہو تو میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: عمر سے بہتر کسی آدمی پر سورج طلوع نہیں ہوا۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Sayyidina Umar (RA) said to Sayyidina Abu Bakr (RA) , “O the best of men after Allah’s Messenger But, Abu Bakr (RA) said (to him), Though you say that, I had, indeed, heard Allah’s Messenger ﷺ say, ‘The sun has not risen on a man better than Umar.’”

موضوع، الضعيفة (1357) // ضعيف الجامع الصغير (5097) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3684
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور اس کی سند قوی نہیں ہے، ٢- اس باب میں ابو الدرداء ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٥٨٩) (موضوع) (سند میں عبد الرحمن ابن اخی محمد بن منکدر اور عبد اللہ بن داود ابو محمد التمار دونوں ضعیف راوی ہیں، اور دونوں کی متابعت نہیں کی جائے گی، حدیث کو ابن الجوزی اور ذہبی اور البانی نے موضوع کہا ہے، اور اس کے باطل ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ یہ قطعی طور پر صحیح اور ثابت حدیث کے مخالف ہے کہ سب سے بہتر جن پر سورج طلوع ہوا وہ نبی اکرم صلی+اللہ+علیہ+وسلم اور دیگر انبیاء ورسل ہیں، اس کے بعد ابوبکر ہیں، جیسا کہ حدیث میں آیا: انبیاء ورسل کے بعد کسی پر سورج کا وغروب نہیں ہوا جو ابوبکر سے افضل ہو، الضعیفة: ١٣٥٧)