مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 5 of 18

3685Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، قَالَ: مَا أَظُنُّ رَجُلًا يَنْتَقِصُ أَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ يُحِبُّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

محمد بن سیرین کہتے ہیں کہ میں کسی کو نہیں سمجھتا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے محبت کرتا ہو اور وہ ابوبکر و عمر ؓ کی تنقیص کرے ١ ؎۔

Muhammad ibn Sirin said, ‘I do not suppose that a man who defames Abu Bakr (RA) and Umar loves the Prophet ﷺ ’

صحيح الإسناد مقطوعصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3685
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان دونوں کی محبت واقعی جزو ایمان ہے، ان کا دشمن دشمن اسلام اور خارج از اسلام ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٣٠٢) (صحیح الإسناد)
3686Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ، عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ، عَنْعُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كَانَ بَعْدِي نَبِيٌّ لَكَانَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مِشْرَحِ بْنِ هَاعَانَ.

عقبہ بن عامر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے ١ ؎۔

Sayyidina Uqbah ibn Aamir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If there were to be a Prophet ﷺ after me then he would be Umar ibn Al-Khattab.” [Ahmed 17410]

حسن، الصحيحة (327)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3686
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف مشرح بن ہاعان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے جہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمر ؓ نہایت فہم و فراست اور الٰہی الہام سے بہرہ ور ہیں وہاں یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نبی مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا، ورنہ کسی اور سے پہلے عمر ہی ہوتے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٩٦٦)، و مسند احمد (٤/١٥٤) (حسن)
3687Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ كَأَنِّي أُتِيتُ بِقَدَحٍ مِنْ لَبَنٍ، فَشَرِبْتُ مِنْهُ، فَأَعْطَيْتُ فَضْلِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالُوا: فَمَا أَوَّلْتَهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: الْعِلْمَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے خواب میں دیکھا گویا مجھے دودھ کا کوئی پیالہ دیا گیا جس میں سے میں نے کچھ پیا پھر میں نے اپنا بچا ہوا حصہ عمر بن خطاب کو دے دیا ، تو لوگ کہنے لگے اللہ کے رسول! آپ نے اس کی کیا تعبیر کی؟ آپ نے فرمایا: اس کی تعبیر علم ہے ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, I saw in my dream that I am given a bowl of milk I drank from it and gave the remainder to Umar ibn al-Khattab.” They asked, “How do you interpret it, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, ‘(It is) knowledge.”

صحيح ومضی (2400)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3687
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: میرے بعد دین کا علم عمر کو ہے ( ؓ ) اس میں ابوبکر ؓ کی من جملہ فضیلت کی نفی نہیں ہے صرف علم کے سلسلے میں ان کا علم بڑھا ہوا ثابت ہوتا ہے، بقیہ فضائل کے لحاظ سے سب سے افضل امتی ( بعد از نبی اکرم ﷺ ) ابوبکر ہی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٢٨٤ (صحیح)
3688Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: دَخَلْتُ الْجَنَّةَ فَإِذَا أَنَا بِقَصْرٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِشَابٍّ مِنْ قُرَيْشٍ فَظَنَنْتُ أَنِّي أَنَا هُوَ، فَقُلْتُ: وَمَنْ هُوَ ؟ فَقَالُوا: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں جنت کے اندر گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں ایک سونے کے محل میں ہوں، میں نے پوچھا: یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے کہا: قریش کے ایک نوجوان کا ہے، تو میں نے سوچا کہ وہ میں ہی ہوں گا، چناچہ میں نے پوچھا کہ وہ نوجوان کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: وہ عمر بن خطاب ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ said: I went into paradise and was by a castle of gold and I asked, ‘To whom does it belong?’ They said, ‘To a young man of the Quraysh.’ I supposed that I was the one and asked, ‘Who is he?’ They answered, ‘Umar ibn aI-Khattab.”

صحيح، الصحيحة (1405 - 1423)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3688
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ عمر ؓ کو دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری دیدی گئی اور کسی مرتد کو جنت کی خوشخبری نہیں دی جاسکتی، ( برا ہو آپ سے بغض و نفرت رکھنے والوں کا )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٩٠)، و مسند احمد (٣/١٠٧، ١٧٩) (صحیح)
3689Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ أَبُو عَمَّارٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي بُرَيْدَةَ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَدَعَا بِلَالًا، فَقَالَ: يَا بِلَالُ بِمَ سَبَقْتَنِي إِلَى الْجَنَّةِ ؟ مَا دَخَلْتُ الْجَنَّةَ قَطُّ إِلَّا سَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ فَسَمِعْتُ خَشْخَشَتَكَ أَمَامِي، فَأَتَيْتُ عَلَى قَصْرٍ مُرَبَّعٍ مُشْرِفٍ مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ فَقَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ الْعَرَبِ، فَقُلْتُ: أَنَا عَرَبِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، قُلْتُ: أَنَا قُرَشِيٌّ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِرَجُلٍ مِنْ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ، قُلْتُ: أَنَا مُحَمَّدٌ، لِمَنْ هَذَا الْقَصْرُ ؟ قَالُوا: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَقَالَ بِلَالٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا أَذَّنْتُ قَطُّ إِلَّا صَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، وَمَا أَصَابَنِي حَدَثٌ قَطُّ إِلَّا تَوَضَّأْتُ عِنْدَهَا وَرَأَيْتُ أَنَّ لِلَّهِ عَلَيَّ رَكْعَتَيْنِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: بِهِمَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ جَابِرٍ، وَمُعَاذٍ، وَأَنَسٍ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: رَأَيْتُ فِي الْجَنَّةِ قَصْرًا مِنْ ذَهَبٍ، فَقُلْتُ: لِمَنْ هَذَا ؟ فَقِيلَ: لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ أَنِّي دَخَلْتُ الْبَارِحَةَ الْجَنَّةَ يَعْنِي رَأَيْتُ فِي الْمَنَامِ كَأَنِّي دَخَلْتُ الْجَنَّةَ، هَكَذَا رُوِيَ فِي بَعْضِ الْحَدِيثِ، وَيُرْوَى عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ قَالَ: رُؤْيَا الْأَنْبِيَاءِ وَحْيٌ.

بریدہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے (ایک دن) صبح کی تو بلال ؓ کو بلایا اور پوچھا: بلال! کیا وجہ ہے کہ تم جنت میں میرے آگے آگے رہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ میں جنت میں داخل ہوا ہوں اور اپنے آگے تمہاری کھڑاؤں کی آواز نہ سنی ہو، آج رات میں جنت میں داخل ہوا تو (آج بھی) میں نے اپنے آگے تمہارے کھڑاؤں کی آواز سنی، پھر سونے کے ایک چوکور بلند محل پر سے گزرا تو میں نے پوچھا کہ یہ محل کس کا ہے؟ فرشتوں نے بیان کیا کہ یہ ایک عرب آدمی کا ہے، تو میں نے کہا: میں (بھی) عرب ہوں، بتاؤ یہ کس کا ہے؟ تو انہوں نے کہا: یہ قریش کے ایک شخص کا ہے، میں نے کہا: میں (بھی) قریشی ہوں، بتاؤ یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ محمد ﷺ کی امت کے ایک فرد کا ہے، میں نے کہا: میں محمد ہوں، یہ محل کس کا ہے؟ انہوں نے کہا: عمر بن خطاب کا ہے ، بلال ؓ نے کہا: اللہ کے رسول! ایسا کبھی نہیں ہوا کہ میں نے اذان دی ہو اور دو رکعتیں نہ پڑھی ہوں اور نہ کبھی ایسا ہوا ہے کہ مجھے حدث لاحق ہوا ہو اور میں نے اسی وقت وضو نہ کرلیا ہو اور یہ نہ سمجھا ہو کہ اللہ کے لیے میرے اوپر دو رکعتیں (واجب) ہیں، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انہیں دونوں رکعتوں (یا خصلتوں) کی سے (یہ مرتبہ حاصل ہوا ہے ١ ؎ ) ۔

Sayyidina Abu Buraydah (RA) narrated: One morning, Allah’s Messenger called Bilal (RA) and said, “O Bilal (RA) , with what did you overtake me to Paradise? Indeed, I did not enter paradise but heard the rusutle of your footsteps ahead of me. I entered paradise last night and heard your steps ahead of me till I came to a castle square and lofty made of gold. I asked, “To whom does this castle belong?” They said, ‘A man of the Arabs,’ and I said, “I am an Arab. for whom is this castle?’ They said, ‘For a man of the Quraysh,’ so I said, ‘I am a Quraysh, for whom is it?” They said, ‘For a man of Muhammad’s Ummah.’ I said, ‘lam Muhammad’s and for whom is the castle?’ They said, ‘For Umar ibn al-Khattab.” Bilal (RA) said, “O Messenger of Allah! ﷺ I never call the adhan but offer two raka’at prayer (before that) and whenever I relieve myself or break wind, I make a fresh ablution. I am convinced that to offer two raka’at is Allah’s right on me.” Allah’s Messenger said, “Because of both these things (you preceded me to paradise).” [Ahmed 23102] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، التعليق الرغيب (1 / 99)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3689
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں جابر، معاذ، انس اور ابوہریرہ ؓ سے بھی مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میں نے جنت میں سونے کا ایک محل دیکھا تو میں نے کہا: یہ کس کا ہے؟ کہا گیا: یہ عمر بن خطاب کا ہے ، ٣- حدیث کے الفاظ «أني دخلت البارحة الجنة» کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا میں جنت میں داخل ہوا ہوں، بعض روایتوں میں ایسا ہی ہے، ٤- ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: انبیاء کے خواب وحی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: وضو کے بعد دو رکعت نفل کی پابندی سے ادائیگی کی برکت سے بلال کو یہ مرتبہ حاصل ہوا، یا ایک خصلت وضو ٹوٹتے وضو کرلینا یعنی ہمیشہ باوضو رہنا، دوسری خصلت: ہر وضو کے بعد دو رکعت بطور تحیۃ الوضو کے پڑھنا، ان دونوں خصلتوں کی برکت سے ان کو یہ مرتبہ حاصل ہوا، اس حدیث سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ ہمیشہ باوضو رہنا بڑے اجر و ثواب کا کام ہے، وہیں اس سے بلال ؓ کی فضیلت اور دنیا ہی میں جنت کی خوشخبری کا پتا چلا اور عمر ؓ کے لیے سونے کے محل سے ان کی فضیلت ثابت ہوئی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٦٦)، و مسند احمد (٥/٣٥٤، ٣٦٠) (صحیح)
3690Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُبُرَيْدَةَ، يَقُولُ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ جَاءَتْ جَارِيَةٌ سَوْدَاءُ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي كُنْتُ نَذَرْتُ إِنْ رَدَّكَ اللَّهُ سَالِمًا أَنْ أَضْرِبَ بَيْنَ يَدَيْكَ بِالدُّفِّ وَأَتَغَنَّى، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنْ كُنْتِ نَذَرْتِ فَاضْرِبِي وَإِلَّا فَلَا ، فَجَعَلَتْ تَضْرِبُ، فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، فَأَلْقَتِ الدُّفَّ تَحْتَ اسْتِهَا، ثُمَّ قَعَدَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الشَّيْطَانَ لَيَخَافُ مِنْكَ يَا عُمَرُ، إِنِّي كُنْتُ جَالِسًا وَهِيَ تَضْرِبُ فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عَلِيٌّ وَهِيَ تَضْرِبُ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ وَهِيَ تَضْرِبُ، فَلَمَّا دَخَلْتَ أَنْتَ يَا عُمَرُ أَلْقَتِ الدُّفَّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ بُرَيْدَةَ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَعَائِشَةَ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ میں نکلے، پھر جب واپس آئے تو ایک سیاہ رنگ کی (حبشی) لونڈی نے آ کر کہا: اللہ کے رسول! میں نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے آپ کو بخیر و عافیت لوٹایا تو میں آپ کے سامنے دف بجاؤں گی اور گانا گاؤں گی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا: اگر تو نے نذر مانی تھی تو بجا لے ورنہ نہیں ١ ؎، چناچہ وہ بجانے لگی، اسی دوران ابوبکر ؓ اندر داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر علی ؓ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عثمان ؓ داخل ہوئے اور وہ بجاتی رہی، پھر عمر ؓ داخل ہوئے تو انہیں دیکھ کر اس نے دف اپنی سرین کے نیچے ڈال لی اور اسی پر بیٹھ گئی، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمر! تم سے شیطان بھی ڈرتا ہے ٢ ؎، میں بیٹھا ہوا تھا اور وہ بجا رہی تھی، اتنے میں ابوبکر اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر علی اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر عثمان اندر آئے تو بھی وہ بجاتی رہی، پھر جب تم داخل ہوئے اے عمر! تو اس نے دف پھینک ڈالی ٣ ؎۔

Sayyidina Buraydah (RA) reported that Allah’s Messenger set out for one of his battles. When he returned from it, a black female slave came and submitted, “O Messenger of Allah, I had made a vow that if Allah brought you back safely, I would beat the daff in your presence and sing.” So, Allah’s Messenger ﷺ said to her, “If you have made a vow then beat the daff, otherwise no.” So she began to beat it. Abu Bakr (RA) came in and she was beating it. Then Ali came in and she persisted in beating it. Then Uthman came in and she continued to beat the daff Then as Umar came in, she placed the daff down under her and at down on it. So, Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely, the devil is afraid of you, O Umar, I was sitting down and she played the daff. Abu Bakr (RA) came in and she played it. Then Ali came in and she played it and Uthman came in and she played it. When you came in, O Umar, she placed the daff down.” (Ahmed 23050, Abu Dawud 3312]

صحيح نقد الکتانی (47 - 48)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3690
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- بریدہ کی روایت سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں عمر، سعد بن ابی وقاص اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اگر منکر ( حرام ) کی نذر نہ مانی ہو تو نذر پوری کرنی واجب ہے، اس لیے نبی اکرم ﷺ نے اس کو اپنی نذر پوری کرنے کی اجازت دے دی کیونکہ اس کام میں کوئی ممنوع بات نہیں تھی۔ ٢ ؎: اس حدیث سے عمر فاروق ؓ کی بڑی فضیلت کے ساتھ ساتھ ان کے لیے عصمت ( شیطان اور گناہوں سے بچاؤ ) بھی ثابت ہو رہی ہے، حالانکہ عصمت انبیاء کی خصوصیت ہے، اس سلسلے میں بقول حافظ ابن حجر: عصمت انبیاء کے لیے واجب ہے، جبکہ کسی امتی کے لیے بطور امکان کے ہے جو عمر ؓ کو حاصل ہوئی۔ ٣ ؎: مطلب یہ ہے کہ ایک گانے والی لونڈی تو کیا، شیطان بھی عمر ؓ سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے، حتیٰ کہ اس راستے سے شیطان بھاگ کھڑا ہوتا، جس راستے سے عمر ؓ گزرے رہے ہوتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٦٧)، و مسند احمد (٥/٣٥٣) (صحیح)
3691Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تُزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ لِي: أَمَا شَبِعْتِ أَمَا شَبِعْتِ ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ: لَا، لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ، إِذْ طَلَعَ عُمَرُ قَالَتْ: فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ ، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے کہ اتنے میں ہم نے ایک شور سنا اور بچوں کی آواز سنی چناچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور بچے اسے گھیرے ہوئے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! آؤ، تم بھی دیکھ لو ، تو میں آئی اور رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر آپ کے سر اور کندھے کے بیچ سے اسے دیکھنے لگی، پھر آپ نے فرمایا: کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی؟ کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی؟ تو میں نے کہا کہ ابھی نہیں تاکہ میں دیکھوں کہ آپ کے دل میں میرا کتنا مقام ہے؟ اتنے میں عمر ؓ آ گئے تو سب لوگ اس عورت کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کو دیکھ کر بھاگ گئے، پھر میں بھی لوٹ آئی ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: While Allah’s Messenger ﷺ was sitting (with us), we heard a noise and voices of children. He got up and found an Ethiopian woman dancing and the children had gathered around her. He said, ‘O Ayshah, come here! And look at it.” So, I went and placed my chin on the shoulder of Allah’s Messenger ﷺ and observed the woman from between his shoulder and head. He said to me, “Are you not satisfied? Are you not satisfied?” I said, “No,” that I may know my station in his esteem, But Umar came upon us, and the people dispersed from her. Allah’s Messenger said, “I saw, indeed, that the devils both of jinn and mankind fled from Umar,” Then, I returned.

صحيح، المشکاة (6039)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3691
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ١٧٣٥٥)، و مسند احمد (٦/٥٧، ٢٣٣) (صحیح)
3692Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ الصَّائِغُ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ عُمَرَ الْعُمَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَوَّلُ مَنْ تَنْشَقُّ عَنْهُ الْأَرْضُ، ثُمَّ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ عُمَرُ، ثُمَّ آتِي أَهْلَ الْبَقِيعِ فَيُحْشَرُونَ مَعِي، ثُمَّ أَنْتَظِرُ أَهْلَ مَكَّةَ حَتَّى أُحْشَرَ بَيْنَ الْحَرَمَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَعَاصِمُ بْنُ عُمَرَ لَيْسَ بِالْحَافِظِ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں پہلا وہ شخص ہوں گا جس سے زمین شق ہوگی، پھر ابوبکر، پھر عمر ؓ، (سے زمین شق ہوگی) پھر میں بقیع والوں کے پاس آؤں گا تو وہ میرے ساتھ اٹھائے جائیں گے، پھر میں مکہ والوں کا انتظار کروں گا یہاں تک کہ میرا حشر حرمین کے درمیان ہوگا ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “I will be the first person for whom the earth will be split (over the grave), then for Abu Bakr, then for Umar, then I will come to the inhabitants of Baqi’ and they will assemble with me. Then I will wait for the Makkans till I am assembled between the two Harmayn-Makkah and Madinah.”

ضعيف، الضعيفة (2949) // ضعيف الجامع الصغير (1310) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3692
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اور عاصم بن عمر محدثین کے نزدیک حافظ نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٢٠٠) (ضعیف) (سند میں عاصم العمری ضعیف راوی ہیں)
3693Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ كَانَ يَكُونُ فِي الْأُمَمِ مُحَدَّثُونَ، فَإِنْ يَكُ فِي أُمَّتِي أَحَدٌ فَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي بَعْضُ أَصْحَابِ سُفْيَانَ، قَالَ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: مُحَدَّثُونَ يَعْنِي مُفَهَّمُونَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگلی امتوں میں کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے، جو «مُحدّث» ہوتے تھے ١ ؎ اگر میری امت میں کوئی ایسا ہوا تو وہ عمر بن خطاب ہوں گے ۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There had been muhaddithun in the previous Ummah. If there is to be one in my ummah then he is Umar ibn al-Khattab.” [Muslim 2398, Ahmed 24339]

حسن صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3693
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- مجھ سے سفیان کے کسی شاگرد نے بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا: «محدثون» وہ ہیں جنہیں دین کی فہم عطا کی گئی ہو۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «محدث» اس کو کہتے ہیں جس کی زبان پر اللہ کی طرف سے حق بات کا الہام ہوتا ہے، جبرائیل (علیہ السلام) وحی لے کر اس کے پاس نہیں آتے کیونکہ وہ آدمی نبی نہیں ہوتا، اللہ کی طرف سے حق بات اس کے دل و دماغ میں ڈال دی جاتی ہے، اور فی الحقیقت کئی معاملات میں عمر ؓ کی رائے کی تائید اللہ تعالیٰ نے وحی سے فرما دی ( نیز دیکھئیے حدیث رقم: ٣٦٩١)۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢ (٢٣٩٨) (تحفة الأشراف: ١٧٧١٧)، و مسند احمد (٦/٥٥) (حسن صحیح)
3694Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْقُدُّوسِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ، فَاطَّلَعَ أَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ قَالَ: يَطَّلِعُ عَلَيْكُمْ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَاطَّلَعَ عُمَرُ . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي مُوسَى، وَجَابِرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ.

عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے تو ابوبکر ؓ آئے، پھر آپ نے فرمایا: تمہارے پاس جنت والوں میں سے ایک شخص آ رہا ہے ، تو عمر ؓ آئے۔

Sayyidina Abdullah ibn Masud (RA)reported that the Prophet ﷺ said, “A man of paradise will come to you.” So Abu Bakr (RA) i came (to them). Then he said, “A man of paradise will come to you,” and Umar (RA) emerged.

ضعيف، المشکاة (6058)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3694
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود ؓ کی یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں ابوموسیٰ اشعری اور جابر ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٤٠٦) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن سلمہ ضعیف راوی ہیں)
3695Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: بَيْنَمَا رَجُلٌ يَرْعَى غَنَمًا لَهُ إِذْ جَاءَ ذِئْبٌ فَأَخَذَ شَاةً، فَجَاءَ صَاحِبُهَا فَانْتَزَعَهَا مِنْهُ، فَقَالَ الذِّئْبُ: كَيْفَ تَصْنَعُ بِهَا يَوْمَ السَّبُعِ يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَآمَنْتُ بِذَلِكَ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ ، قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَمَا هُمَا فِي الْقَوْمِ يَوْمَئِذٍ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اس دوران کہ ایک شخص اپنی بکریاں چرا رہا تھا، ایک بھیڑیا آیا اور ایک بکری پکڑ کرلے گیا تو اس کا مالک آیا اور اس نے اس سے بکری کو چھین لیا، تو بھیڑیا بولا: درندوں والے دن میں جس دن میرے علاوہ ان کا کوئی اور چرواہا نہیں ہوگا تو کیسے کرے گا؟ اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے اس پر یقین کیا اور ابوبکر نے اور عمر نے بھی ، ابوسلمہ کہتے ہیں: حالانکہ وہ دونوں اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said: While a man was grazing the sheep, a wolf came and grabbed a sheep. Its owner came and got it released. The wolf remarked, What will you do on the day of beasts of prey-they day when there will be no shepherd for it except me.” Allah’s Messenger ﷺ said: I have believed in that as also Abu Bakr (RA) and Umar. Abu Salamah i said, “And both of them were not among the people that day.” [Bukhari 3690, Muslim 2388, Ahmed 355]

صحيح وهو تمام الحديث (3944) صحيح وهو تمام الحديث (3944)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3695 ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن جعفر نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے شعبہ نے سعد بن ابراہیم کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3695
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٦٧٧ (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3696Sunan At-Tirmidhi(3697)

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ حَدَّثَهُمْ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَعِدَ أُحُدًا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اثْبُتْ أُحُدُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے اور ابوبکر، عمر اور عثمان ؓ بھی تو وہ ان کے ساتھ ہل اٹھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ٹھہرا رہ اے احد! تیرے اوپر ایک نبی ایک صدیق اور دو شہید ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik, narrated that Allah’s Messenger ﷺ climbed the (mountain) Uhud, Abu Bakr (RA) , Umar and Uthman (RA) were with him. The mountain shook while they were on top of it. So, the Prophet ﷺ said, “Steady, Uhud, For, on you are a Prophet, a Siddiq (truthful), and two shahids.” (shahids is marhjrs). (Ahmed 12107, Bukhari 3686, Abu Dawud 4651] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، الصحيحة (875)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3697
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دو شہید سے مراد: عمر و عثمان ؓ ہیں جن دونوں کی شہادت کی گواہی بزبان رسالت مآب ہو ان کی مقبول بارگاہ الٰہی ہونے کا منکر اپنے ایمان کی خیر منائے۔ وہ مومن کہاں مسلمان بھی نہ رہا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٥)، و ٦ (٣٦٨٦)، و ٧ (٣٦٩٩)، سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٦٥١) (تحفة الأشراف: ١١٧٢)، و مسند احمد (٣/١١٢) (صحیح)
3697Sunan At-Tirmidhi(3696)

حضرت عثمان (رض) کے مناقب انکی دو کنیتیں ہیں ابوعمرو اور ابوعبد اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ َرَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى حِرَاءَ هُوَ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعَلِيٌّ، وَعُثْمَانُ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، فَتَحَرَّكَتِ الصَّخْرَةُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اهْدَأْ إِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عُثْمَانَ، وَسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَبُرَيْدَةَ الأَسْلَمِيِّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، ابوبکر، عمر، علی، عثمان، طلحہ، اور زبیر ؓ حرا پہاڑ ١ ؎ پر تھے، تو وہ چٹان جس پر یہ لوگ تھے ہلنے لگی تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ٹھہری رہ، تجھ پر نبی، صدیق اور شہید ہیں ۔

Syyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger was atop (Mount) Hira, Abu Bakr (RA) Umar (RA) Uthman (RA) Ali , Talhah and Zubayr (RA), were with him. The rock vibrated and the Prophet ﷺ said, “Calm down, for, on you are none but a Prophet ﷺ or a Siddiq (truthful), or a Shahid (martyr).” [Muslim 2417, Ahmed 9430]

صحيح، الصحيحة (2 / 562)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3696
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اس باب میں عثمان، سعید بن زید، ابن عباس، سہل بن سعد، انس بن مالک، اور بریرہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ ( باب مناقب ابی بکر ) اور ( باب مناقب عثمان ) میں احد پہاڑ کا تذکرہ ہے، حافظ ابن حجر کے بقول: یہ دو الگ الگ واقعات ہیں، اس میں کوئی تضاد یا تعارض کی بات نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٧) (تحفة الأشراف: ١٢٧٠٠) (صحیح)
3698Sunan At-Tirmidhi

حضرت عثمان (رض) کے مناقب انکی دو کنیتیں ہیں ابوعمرو اور ابوعبد اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ الرِّفَاعِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ الْيَمَانِ، عَنْ شَيْخٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي ذُبَابٍ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لِكُلِّ نَبِيٍّ رَفِيقٌ، وَرَفِيقِي يَعْنِي فِي الْجَنَّةِ عُثْمَانُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ لَيْسَ إِسْنَادُهُ بِالْقَوِيِّ وَهُوَ مُنْقَطِعٌ.

طلحہ بن عبیداللہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کا ایک رفیق ہوتا ہے، اور میرے رفیق یعنی جنت میں عثمان ہوں گے ۔

Sayyidina Talhah ibn Ubaydullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is for every Prophet, a frinend. And, my friend meaning, in paradise is Uthman.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، ابن ماجة (109) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (21) عن أبي هريرة، بسند آخر، ضعيف الجامع الصغير (4738) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3698
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، اس کی سند قوی نہیں اور یہ منقطع ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٩٩٦) (ضعیف) (اس کی سند میں زہری شیخ مبہم ہے، اور سند میں انقطاع ہے، اس لیے کہ حارث بن عبدالرحمن الدوسی المدنی کی وفات (١٤٦ ھ) میں ہوئی اور طلحہ بن عبیداللہ کی شہادت (٣٦ ھ) میں ہوئی، اور وہ طلحہ بن عبیداللہ سے مرسلاً روایت کرتے ہیں، نیز یحییٰ بن الیمان صدوق راوی ہیں، لیکن بہت غلطیاں کرتے ہیں، اور حافظہ میں تغیر بھی آگیا تھا)
3699Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَيْدٍ هُوَ ابْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ فَوْقَ دَارِهِ، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ حِرَاءَ حِينَ انْتَفَضَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اثْبُتْ حِرَاءُ فَلَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي جَيْشِ الْعُسْرَةِ: مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً وَالنَّاسُ مُجْهَدُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ذَلِكَ الْجَيْشَ ، قَالُوا: نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا أَحَدٌ إِلَّا بِثَمَنٍ فَابْتَعْتُهَا، فَجَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ، وَالْفَقِيرِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، وَأَشْيَاءَ عَدَّدَهَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عُثْمَانَ.

ابوعبدالرحمٰن سلمی کہتے ہیں کہ جب عثمان ؓ کا محاصرہ کیا گیا تو انہوں نے اپنے مکان کے کوٹھے سے جھانک کر بلوائیوں کو دیکھا پھر کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تم جانتے ہو کہ حرا پہاڑ سے جس وقت وہ ہلا تھا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تھا کہ حرا ٹھہرے رہو! کیونکہ تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید کے علاوہ کوئی اور نہیں؟ ، ان لوگوں نے کہا: ہاں، پھر عثمان ؓ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا حوالہ دے کر یاد لاتا ہوں، کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سلسلے میں فرمایا تھا: کون (اس غزوہ کا) خرچ دے گا جو اللہ کے نزدیک مقبول ہوگا (اور لوگ اس وقت پریشانی اور تنگی میں تھے) تو میں نے (خرچ دے کر) اس لشکر کو تیار کیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، پھر عثمان ؓ نے کہا: میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر یاد دلاتا ہوں: کیا تمہیں معلوم نہیں کہ بئررومہ کا پانی بغیر قیمت کے کوئی پی نہیں سکتا تھا تو میں نے اسے خرید کر غنی، محتاج اور مسافر سب کے لیے وقف کردیا؟، لوگوں نے کہا: ہاں، ہمیں معلوم ہے اور اسی طرح اور بھی بہت سی چیزیں انہوں نے گنوائیں ١ ؎۔

Abu Abdur Rahman as-Sulami reported that when Uthman (RA) was besieged, he appeared before them on the roof of his house and said, “I remind you by Allah do you recall that when Hira shook, Allah’s Messenger ﷺ said, “Steady, Hira!, There is none on you but a Prophet, or a Siddiq (truthful), or a Shahid (martyr)?” They affirmed “Yes.” He said, “I remind you by Allah do you remember that Allah’s Messenger said at the time of (the Battle of Tabuk for the illequipped army, ‘Who will spend a spending that is approved?’ The people were striving in dificulty and I equipped that army?” They confirmed, “Yes!” Then he said, “I remind you, by Allah do you recall thait was not possible to get a drink from the well Rumah except against a price, so I bought it and made it availal?le to the rich and the poor and the traveller?” They affirmed, “O Allah, yes!” And other things that he conted out. [Bukhari 2775, Nisai 3608]

صحيح، ابن ماجة (109)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3699
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی ابوعبدالرحمٰن کی روایت سے جسے وہ عثمان سے روایت کرتے ہیں حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں مذکور تینوں باتیں اسلام کی عظیم ترین خدمت ہیں جن کو عثمان ؓ نے انجام دیئے، یہ آپ کی اسلام میں عظیم مقام و مرتبے کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الوصایا ٣٣ (تعلیقاً )، سنن النسائی/الاحب اس ٤ (٣٦٣٩) (تحفة الأشراف: ٩٨١٤)، و مسند احمد (١/٥٩) (صحیح)
3700Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا السَّكَنُ بْنُ الْمُغِيرَةِ وَيُكْنَى أَبَا مُحَمَّدٍ مَوْلًى لِآلِ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَاالْوَلِيدُ بْنُ أَبِي هِشَامٍ، عَنْ فَرْقَدٍ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ خَبَّابٍ، قَالَ: شَهِدْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحُثُّ عَلَى جَيْشِ الْعُسْرَةِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَةُ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ مِائَتَا بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا، وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، ثُمَّ حَضَّ عَلَى الْجَيْشِ، فَقَامَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلَيَّ ثَلَاثُ مِائَةِ بَعِيرٍ بِأَحْلَاسِهَا، وَأَقْتَابِهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَأَنَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عَنِ الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَقُولُ: مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ مَا عَلَى عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ هَذِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ السَّكَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ.

عبدالرحمن بن خباب ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ جیش عسرہ (غزوہ تبوک) کے سامان کی لوگوں کو ترغیب دے رہے تھے، تو عثمان بن عفان ؓ کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اس کی ترغیب دلائی، تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے: اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں دو سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، آپ نے پھر اسی کی ترغیب دی تو عثمان پھر کھڑے ہوئے اور بولے اللہ کے رسول! میرے ذمہ اللہ کی راہ میں تین سو اونٹ ہیں مع ساز و سامان کے، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ منبر سے یہ کہتے ہوئے اتر رہے تھے کہ اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں، اب عثمان پر کوئی مواخذہ نہیں جو بھی کریں ۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Khabbab (RA) narrated: I observed the Prophet ﷺ while he was encouraging (people) for the army illequipped (for the Battle of Tabuk). Uthman (RA) ibn Affan stood up and said, “O Messenger of Allah! ﷺ On me are a hundred camels loaded with their cloths and saddles in the path of Allah.” He continued to urge the people forward and Uthman (RA) got up and said, “O Messenger of Allah, I am bound to provide two hundred camels with their cloths and saddles in Allah’s path.” As the Prophet ﷺ carried on his appeal, Uthman ibn Affan (RA) got up again and said, “O Messenger of Allah’ On me are three hundred camels with their cloth, and saddles in Allah’s path.” I observed Allah’s Messenger ﷺ get down from the pulpit, saying the while, “Nothing against Uthman whatever he does after this. Nothing against Uthman whatever he does after this.” [Ahmed 16696]

ضعيف، المشکاة (6063)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3700
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ہم اسے صرف سکن بن مغیرہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اس باب میں عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٦٩٤) (ضعیف) (سند میں فرقد ابو طلحہ مجہول راوی ہیں)
3701Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَوْذَبٍ، عَنْعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْقَاسِمِ، عَنْ كَثِيرٍ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: جَاءَ عُثْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَلْفِ دِينَارٍ، قَالَ الْحَسَنُ بْنُ وَاقِعٍ: وَكَانَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ كِتَابِي فِي كُمِّهِ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَيَنْثُرُهَا فِي حِجْرِهِ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَرَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُقَلِّبُهَا فِي حِجْرِهِ وَيَقُولُ: مَا ضَرَّ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ الْيَوْمِ مَرَّتَيْنِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

عبدالرحمٰن بن سمرہ ؓ کہتے ہیں کہ عثمان ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک ہزار دینار لے کر آئے، (حسن بن واقع جو راوی حدیث ہیں کہتے ہیں: دوسری جگہ میری کتاب میں یوں ہے کہ وہ اپنی آستین میں لے کر آئے) ، جس وقت انہوں نے جیش عسرہ کو تیار کیا، اور اسے آپ کی گود میں ڈال دیا، میں نبی اکرم ﷺ کو اسے اپنی گود میں الٹتے پلٹتے دیکھا اور یہ کہتے سنا کہ آج کے بعد سے عثمان کو کوئی بھی برا عمل نقصان نہیں پہنچائے گا ، ایسا آپ نے دو بار فرمایا۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Samurah (RA) narrated: Uthman (RA) came to the Prophet ﷺ with a thousand dinar. Hasan ibn Waqi said that elsewhere in his book (it was written) that he brought the one thousand dinar during the Battle of Tabuk rolled up in his sleeves and put them in the Prophet’s lap. Abdur Rahman went on to say, “I saw the Prophet ﷺ turn the money upside down in his lap and say, ‘Nothing will harm Uthman after today whatever he does.’ (twice).” [Ahmed 20655]

حسن، المشکاة (6064)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3701
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٦٩٩) (حسن)
3702Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو زُرْعَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا أُمِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعَةِ الرِّضْوَانِ كَانَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَسُولَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَهْلِ مَكَّةَ، قَالَ: فَبَايَعَ النَّاسَ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عُثْمَانَ فِي حَاجَةِ اللَّهِ وَحَاجَةِ رَسُولِهِ ، فَضَرَبَ بِإِحْدَى يَدَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى، فَكَانَتْ يَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعُثْمَانَ خَيْرًا مِنْ أَيْدِيهِمْ لِأَنْفُسِهِمْ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کو بیعت رضوان ١ ؎ کا حکم دیا گیا تو عثمان بن عفان ؓ رسول اللہ ﷺ کے قاصد بن کر اہل مکہ کے پاس گئے ہوئے تھے، جب آپ نے لوگوں سے بیعت لی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عثمان اللہ اور اس کے رسول کے کام سے گئے ہوئے ہیں، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سے ایک کو دوسرے پر مارا تو رسول اللہ ﷺ کا ہاتھ جسے آپ نے عثمان کے لیے استعمال کیا لوگوں کے ہاتھوں سے بہتر تھا ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that when Allah’s Messenger (RA) gave the command (to swear allegiance) for bay’ah Ridwan, Uthman ibn Affan was the envoy of Allah’s Messenger ﷺ to the people of Makkah. So the people gave the pledge. Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed Uthman is in the task of Allah and the task of His Messenger.” He struck one of his hands on his other hand. O Indeed, the hand of Allah’s Messenger ﷺ for Uthman was better than their (people’s) hands for themselves. [Abu Dawud 2726]

ضعيف، المشکاة (6065)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3702
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بیعت رضوان وہ بیعت ہے جو صلح حدیبیہ کے سال ایک درخت کے نیچے لی گئی تھی، یہ بیعت اس بات پر لی گئی تھی کہ خبر اڑ گئی کہ کفار مکہ نے عثمان کو قتل کردیا ہے، اس پر نبی اکرم ﷺ نے لوگوں سے بیعت لی کہ عثمان کے خون کا بدلہ لینا ہے، اس پر سب لوگوں سے بیعت لی گئی کہ کفار مکہ سے اس پر جنگ کی جائے گی، سب لوگ اس عہد پر جمے رہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١١٥٥) (ضعیف) (سند میں حکم بن عبد الملک ضعیف راوی ہیں)
3703Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ، وغير واحد المعنى واحد، قَالُوا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمَنْقَرِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ، قَالَ: شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ فَقَالَ: ائْتُونِي بِصَاحِبَيْكُمُ اللَّذَيْنِ أَلَّبَاكُمْ عَلَيَّ، قَالَ: فَجِيءَ بِهِمَا فَكَأَنَّهُمَا جَمَلَانِ، أَوْ كَأَنَّهُمَا حِمَارَانِ، قَالَ: فَأَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ، فَقَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ، فَقَالَ: مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلَ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ ؟ ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلَانٍ فَيَزِيدَهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي، فَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهَا رَكْعَتَيْنِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ مَالِي ؟ قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، ثُمَّ قَالَ: أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَنَا فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى تَسَاقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ، قَالَ: فَرَكَضَهُ بِرِجْلِهِ وَقَالَ: اسْكُنْ ثَبِيرُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيٌّ، وَصِدِّيقٌ، وَشَهِيدَانِ، قَالُوا: اللَّهُمَّ نَعَمْ، قَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عُثْمَانَ.

ثمامہ بن حزن قشیری کہتے ہیں کہ میں اس وقت گھر میں موجود تھا جب عثمان ؓ نے کوٹھے سے جھانک کر انہیں دیکھا اور کہا تھا: تم میرے سامنے اپنے ان دونوں ساتھیوں کو لاؤ، جنہوں نے میرے خلاف تمہیں جمع کیا ہے، چناچہ ان دونوں کو لایا گیا گویا وہ دونوں دو اونٹ تھے یا دو گدھے یعنی بڑے موٹے اور طاقتور، تو عثمان ؓ نے انہیں جھانک کر دیکھا اور کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو یہاں بئررومہ کے علاوہ کوئی اور میٹھا پانی نہیں تھا جسے لوگ پیتے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون بئررومہ کو جنت میں اپنے لیے اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اپنے ڈول کو دوسرے مسلمانوں کے ڈول کے برابر کر دے گا؟ ، یعنی اپنے ساتھ دوسرے مسلمانوں کو بھی پینے کا برابر کا حق دے گا، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس کے پینے سے روک رہے ہو، یہاں تک کہ میں سمندر کا (کھارا) پانی پی رہا ہوں؟ لوگوں نے کہا: ہاں، یہی بات ہے، انہوں نے کہا: میں تم سے اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسجد لوگوں کے لیے تنگ ہوگئی تھی اور رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کون آل فلاں کی زمین کے ٹکڑے کو اپنے لیے جنت میں اس سے بہتر چیز کے عوض خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا؟ ، تو میں نے اسے اپنے اصل مال سے خریدا اور آج تم مجھ ہی کو اس میں دو رکعت نماز پڑھنے نہیں دے رہے ہو، لوگوں نے کہا: ہاں، بات یہی ہے، پھر انہوں نے کہا: میں اللہ اور اسلام کا واسطہ دے کر تم سے پوچھتا ہوں: کیا تمہیں معلوم ہے کہ رسول اللہ ﷺ مکہ کے پہاڑ ثبیر پر تھے اور آپ کے ساتھ ابوبکر، عمر ؓ تھے اور میں تھا، تو پہاڑ لرزنے لگا، یہاں تک کہ اس کے کچھ پتھر نیچے کھائی میں گرے تو رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے پیر سے مار کر فرمایا: ٹھہر اے ثبیر! تیرے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہیدوں کے سوا کوئی اور نہیں ، لوگوں نے کہا: ہاں بات یہی ہے۔ تو انہوں نے کہا: اللہ اکبر! قسم ہے رب کعبہ کی! ان لوگوں نے میرے شہید ہونے کی گواہی دے دی، یہ جملہ انہوں نے تین بار کہا۔

Thumamah ibn Hazn al-Qusjiayri narrated: I was present at the house when Uthman (RA) appeared before the people. He said, “Bring your two friends who have put you against me.” So, they were brought as if they were two camels or two donkeys. Uthman turned to them and said, “I adjure you by Allah and Islam, do you know that when Allah’s Messenger ﷺ came to Madinah and there was no fresh water except at Bi’r (well) Ruma and he said, ‘Who will buy the well Ruma and let Muslims put down it their backets for a better one than that for him in paradise?’ So, I bought it from my capital. But, today, you are preventing me that I may drink from it so that I have to drink salty water.” They affirmed, “O Allah, Yes!” Then he said, “I adjure you by Allah and Islam, do you recall that the Mosque had grown crowded for its worshippers? So Allah’s Messenger ﷺ said, ‘Who will buy the plot of such-and-such family and add it to the Mosque for a better one than that for him in paradise.” So, I bought it with my capital while you people deny me access to it today that I may pray two raka’at there.” They acknowledged, “O Allah, Yes!” He said, “I adjure you by Allah and Islam, do you recall that I equipped the ill equipped army (for Tabuk) with my capital?” They acknowledged, “O Allah, yes!” He said, “I adjure you by Allah and Islam, do you recall that Allah’s Messenger ﷺ was on the top of the muantain Thabir at Makkah and with him were Abu Bakr, Umar and myself? The mountain shook till its stones fell down with rapidity, He kicked it with his foot and said, ‘Stop, Thabir! On you is a Prophet, a Saddiq, two Shahids.” They affirmed, “O Allah, yes.’ He said “Allah Akbar (Allah is the Greatest)! They have testified for me, by the Lord of the Ka’bah, I am a Shahid (martyr)!” (He said that) three times. [Nisai 3686]

حسن، الإرواء (1594)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3703
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے اور عثمان سے یہ حدیث اس سند کے علاوہ سے بھی آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن النسائی/الاحب اس ٤ (٣٦٣٨) (تحفة الأشراف: ٩٧٨٥) (حسن) (الإرواء ١٥٩٤، وتراجع الألبانی ٥٩٤)
3704Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، أَنَّ خُطَبَاءَ قَامَتْ بِالشَّامِ وَفِيهِمْ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ آخِرُهُمْ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ: مُرَّةُ بْنُ كَعْبٍ، فَقَالَ: لَوْلَا حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُمْتُ، وَذَكَرَ الْفِتَنَ فَقَرَّبَهَا، فَمَرَّ رَجُلٌ مُقَنَّعٌ فِي ثَوْبٍ فَقَالَ: هَذَا يَوْمَئِذٍ عَلَى الْهُدَى ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، قَالَ: فَأَقْبَلْتُ عَلَيْهِ بِوَجْهِهِ، فَقُلْتُ: هَذَا، قَالَ: نَعَمْ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَوَالَةَ، وَكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ.

ابواشعث صنعانی سے روایت ہے کہ مقررین ملک شام میں تقریر کے لیے کھڑے ہوئے، ان میں رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے بھی کچھ لوگ تھے، پھر سب سے آخر میں ایک شخص کھڑا ہوا جسے مرہ بن کعب ؓ کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اگر میں نے ایک حدیث رسول اللہ ﷺ سے نہ سنی ہوتی تو میں کھڑا نہ ہوتا، پھر انہوں نے فتنوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ اس کا ظہور قریب ہے، پھر ایک شخص منہ پر کپڑا ڈالے ہوئے گزرا تو مرہ نے کہا: یعنی نبی اکرم ﷺ کا قول نقل کیا: یہ اس دن ہدایت پر ہوگا ، تو میں اسے دیکھنے کے لیے اس کی طرف اٹھا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہ عثمان بن عفان ؓ ہیں، پھر میں نے ان کا منہ مرہ کی طرف کر کے کہا: وہ یہی ہیں، انہوں نے کہا: ہاں وہ یہی ہیں۔

Abu Ash’ath San’ani narrated: The sermonisers stood up in Syria and among them were some of the sahabah . Finally, a man named Murrah ibn Ka’b (RA) stood up and said, “If I had not heard a hadith from the Prophet ﷺ would not have stood up.” And he mentioned the fitan (trial or civilstrife), saying that it was nearing. A man passed by with a piece of cloth wrapped on his face. So he said, “He will be on guidance on that day.” So, I went to him and indeed he was Uthman ibn Affan . Then I turned to Murrah (RA) and asked, “Is he the one?” He said, “Yes.” [Ahmed 20374] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (111)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3704
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- اس باب میں ابن عمر، عبداللہ بن حوالہ اور کعب بن عجرۃ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١١٢٤٨) (صحیح)