Sunan At-Tirmidhi 3691

مناقب کا بیان

3691Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ رُومَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا، فَسَمِعْنَا لَغَطًا وَصَوْتَ صِبْيَانٍ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا حَبَشِيَّةٌ تُزْفِنُ وَالصِّبْيَانُ حَوْلَهَا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ تَعَالَيْ فَانْظُرِي ، فَجِئْتُ فَوَضَعْتُ لَحْيَيَّ عَلَى مَنْكِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلْتُ أَنْظُرُ إِلَيْهَا مَا بَيْنَ الْمَنْكِبِ إِلَى رَأْسِهِ، فَقَالَ لِي: أَمَا شَبِعْتِ أَمَا شَبِعْتِ ، قَالَتْ: فَجَعَلْتُ أَقُولُ: لَا، لِأَنْظُرَ مَنْزِلَتِي عِنْدَهُ، إِذْ طَلَعَ عُمَرُ قَالَتْ: فَارْفَضَّ النَّاسُ عَنْهَا، قَالَتْ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي لَأَنْظُرُ إِلَى شَيَاطِينِ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ قَدْ فَرُّوا مِنْ عُمَرَ ، قَالَتْ: فَرَجَعْتُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے تھے کہ اتنے میں ہم نے ایک شور سنا اور بچوں کی آواز سنی چناچہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوگئے تو دیکھا کہ ایک حبشی عورت ناچ رہی ہے اور بچے اسے گھیرے ہوئے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! آؤ، تم بھی دیکھ لو ، تو میں آئی اور رسول اللہ ﷺ کے کندھے پر اپنی ٹھوڑی رکھ کر آپ کے سر اور کندھے کے بیچ سے اسے دیکھنے لگی، پھر آپ نے فرمایا: کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی؟ کیا تو ابھی آسودہ نہیں ہوئی؟ تو میں نے کہا کہ ابھی نہیں تاکہ میں دیکھوں کہ آپ کے دل میں میرا کتنا مقام ہے؟ اتنے میں عمر ؓ آ گئے تو سب لوگ اس عورت کے پاس سے بھاگ کھڑے ہوئے، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر کو دیکھ کر بھاگ گئے، پھر میں بھی لوٹ آئی ۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: While Allah’s Messenger ﷺ was sitting (with us), we heard a noise and voices of children. He got up and found an Ethiopian woman dancing and the children had gathered around her. He said, ‘O Ayshah, come here! And look at it.” So, I went and placed my chin on the shoulder of Allah’s Messenger ﷺ and observed the woman from between his shoulder and head. He said to me, “Are you not satisfied? Are you not satisfied?” I said, “No,” that I may know my station in his esteem, But Umar came upon us, and the people dispersed from her. Allah’s Messenger said, “I saw, indeed, that the devils both of jinn and mankind fled from Umar,” Then, I returned.

صحيح، المشکاة (6039)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3691
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ١٧٣٥٥)، و مسند احمد (٦/٥٧، ٢٣٣) (صحیح)