ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے عثمان! شاید اللہ تمہیں کوئی کرتا ١ ؎ پہنائے، اگر لوگ اسے اتارنا چاہیں تو تم اسے ان کے لیے نہ اتارنا ، اس میں حدیث ایک طویل قصہ ہے۔
Sayyidah Ayshah (RA) reported that the Prophet ﷺ said (to Uthman), “ Uthman, perhaps Allah may clothe you with a shirt. So, if people try to take it away from you, do not remove it for them.” (There is a lengthy account in the hadith). [Ahmed 25216, Ibn e Majah 112]
صحيح، ابن ماجة (112)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3705
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس کرتے سے مراد خلعت خلافت ( خلافت کی چادر ) ہے، مفہوم یہ ہے کہ اگر منافقین تمہیں خلافت سے دستبردار ہونے کو کہیں اور اس سے معزول کرنا چاہیں تو ایسا مت ہونے دینا کیونکہ اس وقت تم حق پر قائم رہو گے اور دستبرداری کا مطالبہ کرنے والے باطل پر ہوں گے، اللہ کے رسول کے اسی فرمان کے پیش نظر عثمان ؓ نے شہادت کا جام پی لیا۔ لیکن دستبردار نہیں ہوئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١١) (تحفة الأشراف: ١٧٦٧٥) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں کہتے تھے: ابوبکر، عمر، اور عثمان ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: While Allah’s Messenger ﷺ was alive, we used to say Abu Bakr, Umar and Uthman (in this sequence). [Bukhari 3655, Abu Dawud 4628]
صحيح، المشکاة (6076)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3707
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان کا ذکر آتا تو ہم اسی ترتیب سے ان کا نام لیتے تھے پہلے نمبر پر ابوبکر کا نام رکھتے تھے، پھر عمر کا پھر عثمان کا ( ؓ )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٤ (٣٦٥٥)، و ٧ (٣٦٩٧)، سنن ابی داود/ السنة ٨ (٤٦٢٧) (تحفة الأشراف: ٧٨٢٠) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک فتنہ کا ذکر کیا تو فرمایا: اس فتنہ میں یہ عثمان بھی مظلوم قتل کیا جائے گا (یہ بات آپ نے عثمان ؓ کے متعلق کہی) ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ mentioned a fitnah (trial), He said, “This innocent one will be killed in that. “Referring to Uthman ibn Affan. [Ahmed 5960]
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3708
عثمان بن عبداللہ بن موہب سے روایت ہے کہ اہل مصر میں سے ایک شخص نے بیت اللہ کا حج کیا تو اس نے کچھ لوگوں کو بیٹھے دیکھا تو پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا یہ قبیلہ قریش کے لوگ ہیں، اس نے کہا: یہ کون شیخ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابن عمر ؓ ہیں تو وہ ان کے پاس آیا اور بولا: میں آپ سے ایک چیز پوچھ رہا ہوں آپ مجھے بتائیے، میں آپ سے اس گھر کی حرمت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ کو معلوم ہے کہ عثمان ؓ احد کے دن بھاگے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بیعت رضوان کے وقت موجود نہیں تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر اس نے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ وہ بدر میں موجود نہیں تھے، تمہارے انہوں نے کہا: ہاں، اس مصری نے ازراہ تعجب اللہ اکبر کہا ١ ؎، اس پر ابن عمر ؓ نے اس سے کہا: آؤ میں تیرے سوالوں کو تم پر واضح کر دوں: رہا ان (عثمان) کا احد کے دن بھاگنا ٢ ؎ تو تو گواہ رہ کہ اللہ نے اسے معاف کردیا اور بخش دیا ہے ٣ ؎ اور رہی بدر کے دن، ان کی غیر حاضری تو ان کے نکاح میں رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی تھیں اور رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا تھا: تمہیں اس آدمی کے برابر ثواب اور اس کے برابر مال غنیمت میں سے حصہ ملے گا، جو بدر میں حاضر ہوگا ، اور رہی ان کی بیعت رضوان سے غیر حاضری تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر عثمان سے بڑھ کر وادی مکہ میں کوئی باعزت ہوتا تو عثمان ؓ کی جگہ رسول اللہ ﷺ اسی کو بھیجتے، رسول اللہ ﷺ نے عثمان کو مکہ بھیجا اور بیعت رضوان عثمان کے مکہ جانے کے بعد ہوئی پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: یہ عثمان کا ہاتھ ہے ، اور اسے اپنے دوسرے ہاتھ پر مارا اور فرمایا: یہ عثمان کی طرف سے بیعت ہے ، تو ابن عمر ؓ نے اس سے کہا: اب یہ جواب تو اپنے ساتھ لیتا جا۔
Uthman ibn Abdullah ibn Mawhab reported that a man from Egypt performed Hajj. He saw some men sitting and asked, “Who are they?” The people said, “They are the Quraysh.” He asked, “Who is this shaykh?” They said, “He is Ibn Umar (RA) .” So, he came to him and said, “I am going to ask you about something, so tell me, I adjure by Allah and by the sanctity of this House. Do you know that Uthman fled from the Battle of Uhud?” He said, “Yes.” The man asked, “Do you know that he absented himself from the Bay’ah Ridwan and did not witness it?” He said, “Yes.” The man asked, “Do you know that he kept away from the Battle of Badr and did not participate?” He said, “Yes.” The man exclaimed, “Allah Akbar (Allah is the Greatest).” Ibn Umar (RA) said to him. “Stay till I explain to you what you have asked about. As for fleeing from the Battle of Uhud, I bear witness that. Allah surely overlooked and forgave him. As for absenting himself from the Battle of Badr, he had the Prophet’s ﷺ daughter as his wife and he had said to him, ‘You will get a reward of one who participated in Badr and the booty too.’ He commanded him to give her company, she being sick. As for keeping away from Bay’ah Ridwan, if there was anyone more honourable in the Makkah valley than Uthman then Allah’s Messenger ﷺ would have sent him in place of Uthman. Allah’s Messenger L sent him to Makkah and the Bay’ah Ridwan was taken after Uthman had gone to Makkah. Allah’s Messenger ﷺ said about his right hand, ‘This is Uthman’s hand,’ and struck with it his left hand, saying, This is for Uthman.’ So, go now, this being with you.” [Bukhari 3698, Abu Dawud 2726, Ahmed 5776
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3706
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ شیعی آدمی تھا جو عثمان ؓ سے بغض رکھتا تھا، اسی لیے ان تینوں باتوں پر اللہ اکبر کہا، یعنی: جب ان میں یہ تینوں عیب ہیں تو لوگ ان کی فضیلت کے کیوں قائل ہیں۔ ٢ ؎: یہ اشارہ ہے غزوہ احد سے ان بھاگنے والوں کی طرف جو جنگ کا پانسہ پلٹ جانے کے بعد میدان جنگ سے بھاگ کھڑے ہوئے تھے، ان میں عثمان ؓ بھی تھے۔ ٣ ؎: اللہ تعالیٰ نے ان کی معافی اس آیت میں نازل کی تھی «ولقد عفا اللہ عنهم إن اللہ غفور حليم» (سورة آل عمران: 155 ) پوری آیت اس طرح ہے «إن الذين تولوا منکم يوم التقی الجمعان إنما استزلهم الشيطان ببعض ما کسبوا ولقد عفا اللہ عنهم إن اللہ غفور حليم» یعنی: تم میں سے جن لوگوں نے اس دن پیٹھ دکھائی جس دن دونوں جماعتوں کی مڈبھیڑ ہوئی تھی، یہ لوگ اپنے بعض گناہوں کے باعث شیطان کے بہکاوے میں آ گئے، لیکن یقین جانو کہ اللہ نے انہیں معاف کردیا، اللہ تعالیٰ ہے ہی بخشنے والا اور تحمل والا ( آل عمران: 155 )۔
جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ اس پر نماز جنازہ پڑھیں تو آپ نے اس پر نماز نہیں پڑھی، آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! اس سے پہلے ہم نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ نے کسی پر جنازہ کی نماز نہ پڑھی ہو؟ آپ نے فرمایا: یہ عثمان سے بغض رکھتا تھا، تو اللہ نے اسے مبغوض کردیا ۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that funeral of a man was brought before the Prophet ﷺ that he may lead the funeral salah. But, he did not pray over it. Someone said, “ O Messenger of Allah, we have never seen you neglect the salah over anyone before this.”He said,” He bore hatred for Uthman. so Allah is angry with him.”
موضوع، الضعيفة (1967) // ضعيف الجامع الصغير (2073) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3709
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- میمون بن مہران کے شاگرد محمد بن زیادہ حدیث میں بہت ضعیف گردانے جاتے ہیں ١ ؎، اور محمد بن زیاد جو ابوہریرہ ؓ کے شاگرد ہیں یہ بصریٰ ہیں اور ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوحارث ہے اور محمد بن زیاد الہانی جو ابوامامہ کے شاگرد ہیں، ثقہ ہیں، ان کی کنیت ابوسفیان ہے، یہ شامی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اس سند میں یہی محمد بن زیاد ہیں، ان کی نسبت ہی میمونی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٩٤٣) (موضوع) (سند میں محمد بن زیاد الیشکری الطحان کذاب ہے)
ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ چلا، آپ انصار کے ایک باغ میں داخل ہوئے اور اپنی حاجت پوری کی، پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: ابوموسیٰ! تم دروازہ پر رہو کوئی بغیر اجازت کے اندر داخل نہ ہونے پائے ، پھر ایک شخص نے آ کر دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: ابوبکر ہوں، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ ابوبکر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: انہیں آنے دو، اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ، چناچہ وہ اندر آئے اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دی، پھر ایک دوسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، میں نے کہا: کون ہے؟ انہوں نے کہا: عمر ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عمر اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ان کے لیے دروازہ کھول دو اور انہیں جنت کی بشارت دے دو ، چناچہ میں نے دروازہ کھول دیا، وہ اندر آ گئے، اور میں نے انہیں جنت کی بشارت دے دی، پھر ایک تیسرے شخص آئے اور انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا، تو میں نے کہا: کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: عثمان ہوں، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ عثمان اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: ان کے لیے بھی دروازہ کھول دو اور انہیں بھی جنت کی بشارت دے دو، ساتھ ہی ایک آزمائش کی جو انہیں پہنچ کر رہے گی ١ ؎۔
Sayyidina Abu Musa al-Ash’ary (RA) narrated : I went with the Prophet ﷺ and enterred a garden of an ansar. He answered nature’s call there and said to me, afterwords, “O Abu Musa, stay at the gate for me that no one may come to me without permission.” A man came and knocked at the door. i asked, “Who is there?” He said, “Abu Bakr.” I said “O Messenger of Allah! ﷺ He is Abu Bakr (RA) seeking permission.” He said, “Give him permission and give him glad tidings of paradise.” So he enterred and I gave him glad tidings of Paradise. Another man came and knocked at the gate and I asked, “Who is there?” He said, “Umar.” I said, “O Messenger of Allah, here is Umar asking permission.” He said, “Open (the gate) for him and give him glad tidings of paradise.” So, I opened (the gate) and he came in and I conveyed to him the glad tidings of paradise. Another man came and knocked at the gate and I asked, “Who is there?” He said, “Uthman.” I said, “O Messenger of Allah. here is Uthman, seeking permission (to come in).” He said, “Open for him the door and give him glad tidings of paradise against a rebellion that he will encounter.” [Ahmed 19662, Bukhari 3674, Muslim 2403]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3710
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث دوسری سندوں سے بھی ابوعثمان نہدی سے آئی ہے، ٣- اس باب میں جابر اور ابن عمر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے آپ ﷺ کا اشارہ اس حادثہ کی طرف تھا جس سے عثمان ؓ اپنی خلافت کے آخری دور میں دوچار ہوئے پھر جام شہادت نوش کیا، نیز اس حدیث سے ان تینوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے، اور یہ کہ ان کے درمیان خلافت میں یہی ترتیب ہوگی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٤)، و ٦ (٣٦٩٣)، و ٧ (٣٦٩٥)، والأدب ١١٩ (٦٢١٦)، والفتن ١٧ (٧٠٩٧)، وخبر الواحد ٣ (٧٢٦٢)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣ (٢٤٠٣) (تحفة الأشراف: ٩٠١٨)، و مسند احمد (٤/٣٩٣، ٤٠٦، ٤٠٧) (صحیح)
ابوسہلہ کا بیان ہے کہ عثمان ؓ نے مجھ سے جس دن وہ گھر میں محصور تھے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے عہد لیا تھا اور میں اس عہد پر صابر یعنی قائم ہوں ١ ؎۔
Abu Sahlah reported: When Uthman was beseiged in his house, he said to me,”Surely Allah’s Messenger ﷺ had taken a promise from me. So, lam patient over it.
صحيح، ابن ماجة (113)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3711
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسماعیل بن ابی خالد کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس عہد سے مراد یہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا اللہ تعالیٰ تم کو ایک کرتا پہنائے گا، لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں گے، تو مت اتارنا، ( اس سے خلافت کا کرتا مراد ہے ) اسی لیے عثمان شہید ؓ ہوگئے مگر خلافت سے دستبردار نہیں ہوئے کیونکہ آپ بفرمان رسالت مآب حق پر تھے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٣) (تحفة الأشراف: ٩٨٤٣) (صحیح)
عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک سریہ (لشکر) روانہ کیا اور اس لشکر کا امیر علی ؓ کو مقرر کیا، چناچہ وہ اس سریہ (لشکر) میں گئے، پھر ایک لونڈی سے انہوں نے جماع کرلیا ١ ؎ لوگوں نے ان پر نکیر کی اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے چار آدمیوں نے طے کیا اور کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے جب ہم ملیں گے تو علی نے جو کچھ کیا ہے اسے ہم آپ کو بتائیں گے، اور مسلمان جب سفر سے لوٹتے تو پہلے رسول اللہ ﷺ سے ملتے اور آپ کو سلام کرتے تھے، پھر اپنے گھروں کو جاتے، چناچہ جب یہ سریہ واپس لوٹ کر آیا اور لوگوں نے آپ کو سلام کیا تو ان چاروں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا آپ کو معلوم نہیں کہ علی نے ایسا ایسا کیا ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے منہ پھیرلیا، پھر دوسرا کھڑا ہوا تو دوسرے نے بھی وہی بات کہی جو پہلے نے کہی تھی تو آپ نے اس سے بھی منہ پھیرلیا، پھر تیسرا شخص کھڑا ہوا اس نے بھی وہی بات کہی، تو اس سے بھی آپ نے منہ پھیرلیا، پھر چوتھا شخص کھڑا ہوا تو اس نے بھی وہی بات کہی جو ان لوگوں نے کہی تھی تو رسول اللہ ﷺ اس کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ کے چہرے سے ناراضگی ظاہر تھی۔ آپ نے فرمایا: تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ تم لوگ علی کے سلسلہ میں کیا چاہتے ہو؟ علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں ١ ؎ اور وہ دوست ہیں ہر اس مومن کا جو میرے بعد آئے گا ۔
Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) narrated Allah’s Messenger ﷺ sent an army and appointed an amir, Ali ibn Abu Talib over them. They were a sariyah. He took a female captive from the booty. The people disliked that and four of the sahabah resolved to inform Allah’s Messenger ﷺ of what Ali ibn Abu Talib (RA) did, on meeting him. The Muslims used to meet Allah’s Messenger first thing on returning home from a journey, and then go to their homes. Thus, when this sariyah returned, they greeted the Prophet ﷺ One of the four stood and said, “O Messenger, of Allah, do you know that Ali ibn Abu Talib did this-and-that.” Allah’s Messenger turned his face away from him. Then the second stood up and spoke as the first had, and he turned away from him.Then the third stood and spoke similar words, and he turned his face away from him. Then, the fourth stood and spoke like they had spoken. Allah’s Messenger ﷺ turned to him and anger was obvious on his face. He said, ‘What do you expect from Ali? What do you expect from Ali. Ali is from me and I from him and he is the wali (friend or guardian), of all Muslims after me.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (2223)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3712
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جعفر بن سلیمان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ لونڈی مال غنیمت میں سے تھی، تو لوگوں نے اس لیے اعتراض کیا کہ ابھی مال غنیمت کی تقسیم تو عمل میں آئی نہیں، اس لیے یہ مال غنیمت میں خردبرد کے ضمن میں آتا ہے، یا اس لیے اعتراض کیا کہ مال غنیمت کی لونڈیوں میں ضروری ہے کہ پہلے ایک ماہواری سے ان کے رحم کی صفائی ہوجائے، اور علی ؓ نے ایسا نہیں کیا ہے، یہ بات تو علی ؓ سے بالکل بعید ہے کہ استبراء رحم ( رحم کی صفائی ) سے پہلے لونڈی سے ہمبستری کر بیٹھیں، ہوا یہ ہوگا کہ ایک دو دن کے بعد ہی وہ ماہواری سے فارغ ہوئی ہوگی، تو اب مزید ماہواری کی تو ضرورت تھی نہیں۔ ٢ ؎: اس جملہ سے اہل تشیع کا یہ استدلال کرنا کہ علی ؓ سارے صحابہ سے افضل ہیں درست نہیں ہے کیونکہ کچھ اور صحابہ بھی ہیں جن کے متعلق آپ نے یہی جملہ کہا ہے، مثلاً جلیبیب کے متعلق آپ نے فرمایا: «ہذا منی و أنا منہ» اسی طرح اشعریین کے بارے میں آپ نے فرمایا: «فہم منی و أنا منہم» یہ دونوں روایتیں صحیح مسلم کی ہیں، مسند احمد میں ہے: آپ ﷺ نے بنی ناجیہ کے متعلق فرمایا: «أنا منہم وہم منی»۔ نیز اس سے یہ استدلال کرنا بھی صحیح نہیں ہے کہ علی مجھ سے ہیں کا مطلب ہے: علی آپ کی ذات ہی میں سے ہیں، اس سے مراد ہے: نسب۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ١٠٨٦١)، و مسند احمد (٤/٤٣٧-٤٣٨) (صحیح)
ابوسریحہ یا زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جس کا میں دوست ہوں علی بھی اس کے دوست ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sarihah (RA) or Zayd ibn Arqam-Shubah is uncertain about it-reported that the Prophet ﷺ said, “He of whom I am a friend, Ali is his friend.”
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- شعبہ نے یہ حدیث میمون ابوعبداللہ سے اور میمون نے زید بن ارقم سے، انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے، اور ابوسریحہ نبی اکرم ﷺ کے صحابی حذیفہ بن اسید غفاری ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ ﷺ کے اس فرمان: «من کنت مولاہ فعلی مولاہ» کا ایک خاص سبب ہے، کہا جاتا ہے کہ اسامہ ؓ نے جب علی ؓ سے یہ کہا: « لست مولای إنما مولای رسول اللہ صلی اللہ عليه وسلم» یعنی میرے مولی تم نہیں ہو بلکہ رسول اللہ ﷺ ہیں تو اسی موقع پر آپ ﷺ نے «من کنت مولاہ فعليّ مولاہ» کہا، امام شافعی (رح) کہتے ہیں کہ یہاں ولی سے مراد «ولاء الإسلام» یعنی اسلامی دوستی اور بھائی چارگی ہے، اس لیے شیعہ حضرات کا اس جملہ سے استدلال کرتے ہوئے یہ کہنا کہ علی ؓ نبی اکرم ﷺ کے بعد اصل خلافت کے حقدار تھے، صحیح نہیں ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٣٢٩٩)، و ٣٦٦٧)، و مسند احمد (٤/٣٦٨، ٣٧٢) (صحیح)
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ ابوبکر پر رحم فرمائے، انہوں نے اپنی لڑکی سے میری شادی کردی اور مجھے دارلہجرۃ (مدینہ) لے کر آئے اور بلال کو اپنے مال سے (خرید کر) آزاد کیا، اللہ تعالیٰ عمر پر رحم فرمائے وہ حق بات کہتے ہیں، اگرچہ وہ کڑوی ہو، حق نے انہیں ایسے حال میں چھوڑا ہے کہ (اللہ اور اس کے رسول کے علاوہ) ان کا کوئی دوست نہیں، اللہ عثمان پر رحم کرے ان سے فرشتے بھی حیاء کرتے ہیں، اللہ علی پر رحم فرمائے، اے اللہ! حق کو ان کے ساتھ پھیر جہاں وہ پھریں ۔
Sayyidina Ali narrated: Allah’s Messenger ﷺ said, “May Allah have mercy on Abu Bakr. He married his daughter to me, brought me to the dar-ul-hijrah (Madinah) and emancipated Bilal (RA) with his wealth. May Allah have mercy on Umar. He speaks the truth even if it be bitter. Truthfulness has left him without friends. May Allah have mercy on Uthman! The angels show modesty to him. May Allah have mercy on Ali! O Allah, let truth be with him wherever he is.”
ضعيف جدا، الضعيفة (2094)، المشکاة (6125) // ضعيف الجامع الصغير (3095) بأتم من هنا //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3714
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- مختار بن نافع کثیر الغرائب اور بصریٰ شیخ ہیں، ٣- ابوحیان تیمی کا نام یحییٰ بن سعید بن حیان تیمی ہے اور یہ کوفی ہیں اور ثقہ ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠١٠٧) (ضعیف) (سند میں مختار بن نافع ضعیف اور ساقط راوی ہیں، الضعیفة ٢٠٩٤)
ربعی بن حراش کہتے ہیں کہ ہم سے علی بن ابوطالب ؓ نے «رحبیہ» (مخصوص بیٹھک) میں بیان کیا، حدیبیہ کے دن مشرکین میں سے کچھ لوگ ہماری طرف نکلے، ان میں سہیل بن عمرو اور مشرکین کے کچھ اور سردار بھی تھے یہ سب آ کر کہنے لگے: اللہ کے رسول! ہمارے بیٹوں، بھائیوں اور غلاموں میں سے کچھ آپ کی طرف نکل کر آ گئے ہیں، انہیں دین کی سمجھ نہیں وہ ہمارے مال اور سامانوں کے درمیان سے بھاگ آئے ہیں، آپ انہیں واپس کر دیجئیے اگر انہیں دین کی سمجھ نہیں تو ہم انہیں سمجھا دیں گے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے گروہ قریش! تم اپنی نفسیانیت سے باز آ جاؤ ورنہ اللہ تعالیٰ تمہارے اوپر ایسے شخص کو بھیجے گا جو تمہاری گردنیں اسی دین کی خاطر تلوار سے اڑائے گا، اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے جانچ لیا ہے، لوگوں نے عرض کیا: وہ کون شخص ہے؟ اللہ کے رسول! اور آپ سے ابوبکر ؓ نے بھی پوچھا: وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ اور عمر ؓ نے بھی کہ وہ کون ہے اللہ کے رسول؟ آپ نے فرمایا: وہ جوتی ٹانکنے والا ہے، اور آپ نے علی ؓ کو اپنا جوتا دے رکھا تھا، وہ اسے ٹانک رہے تھے، (راوی کہتے ہیں) پھر علی ؓ ہماری جانب متوجہ ہوئے اور کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: جو میرے اوپر جھوٹ باندھے اسے چاہیئے کہ اپنا ٹھکانہ جہنم کو بنا لے ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib said at Rahbah: During the peace of Hudaybiyah, a number of idolators came to us. Suhayl ibn Amr and other chiefs were among them. They said, “O Messenger of Allah, many people have come to you from our children, our brothers and our slaves. And they have no understanding of religion. They have only escaped from our wealth and our properties. So, return them to us. If they lack an understanding of religion, we shall make them understand.” So, the Prophet ﷺ said, “O company of Quraysh, desist! If not then Allah will impose on you such people as will strike your necks with swrlds for religion. Allah has tried their hearts for faith.” They asked, “Who is he, O Messenger of Allah? ﷺ ”. Abu Bakr (RA) asked him, “Who is he, O Messenger of Allah? ﷺ ” And Umar (RA) asked, “Who is he, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “He is the one who mends sandals,” and he had given his sandals to Ali to mend them. Then Ali turned to them and said : Allah’s Messenger said, “If anyone forges a lie on me intentionally then let him find his place in Hell.” [Bukhari 106, Muslim 2, Ibn e Majah 31] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف الإسناد، لکن الجملة الأخيرة منه صحيحة متواترة انظر الحديث (2796) // صحيح سنن الترمذي - باختصار السند - (2141 / 2809)، وصحيح سنن النسائي - باختصار السند - 2141 - 2809) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3715
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف ربعی ہی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی ؓ سے روایت کرتے ہیں، ٢- میں نے جارود سے سنا وہ کہہ رہے تھے: میں نے وکیع کو کہتے ہوئے سنا کہ ربعی بن حراش نے اسلام میں کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا، ٣- اور مجھے محمد بن اسماعیل بخاری نے خبر دی اور وہ عبداللہ بن ابی اسود سے روایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: میں نے عبدالرحمٰن بن مہدی کو کہتے سنا: منصور بن معتمر اہل کوفہ میں سب سے ثقہ آدمی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الجھاد ١٣٦ (٢٧٠٠)، وانظر أیضا حدیث رقم ٢٦٦٠ (تحفة الأشراف: ١٠٠٨٨) (ضعیف الإسناد) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف ہیں، لیکن حدیث کا آخری لفظ ” من کذب … “ دیگر سندوں سے صحیح متواتر ہے، ملاحظہ ہو: حدیث نمبر (٢٦٦٠، اور ٢٦٥٩، اور ٢٦٦١)
ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ ہم گروہ انصار، منافقوں کو علی ؓ سے ان کے بغض رکھنے کی وجہ سے خوب پہچانتے تھے۔
Sayyidina Abu Sa’eed al-Khudri (RA) said, “We the company of Ansar recognise the hypocrites by their jealousy for Ali ibn Abu Talib (RA) This hadith is gharib. Shu’bah questioned Abu Harun Abdi’s veracity. This is reported from A’mash, from Abu Saith, from Abu Sa’eed (RA)
(حديث أبو سعيد) ضعيف الإسناد جدا، (حديث المساور الحميري عن أمه) ضعيف (حديث المساور الحميري عن أمه)، المشکاة (6091) // ضعيف الجامع الصغير (6330) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3717
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابوہارون کی روایت سے جانتے ہیں اور شعبہ نے ابوہارون کے سلسلہ میں کلام کیا ہے، ٢- یہ حدیث اعمش سے بھی روایت کی گئی ہے، جسے انہوں نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٢٦٤) (ضعیف جداً ) (سند میں ابو ہارون العبدی متروک راوی ہے)
بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ نے مجھے چار شخصوں سے محبت کا حکم دیا ہے، اور مجھے بتایا ہے کہ وہ بھی ان سے محبت کرتا ہے ، عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! ہمیں ان کا نام بتا دیجئیے، آپ نے فرمایا: علی انہیں میں سے ہیں ، آپ اس جملہ کو تین بار دہرا رہے تھے اور باقی تین: ابوذر، مقداد اور سلمان ہیں، مجھے اللہ نے ان لوگوں سے محبت کرنے کا حکم دیا ہے، اور مجھے اس نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں سے محبت رکھتا ہے ۔
Sayyidina Buraydah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely, Allah has commanded me to love four and has informed me that He also loves them.” He was requested, “O Messenger of Allah, name them to us.” He said, “Ali is one of them.” He said this three times. “And, Abu Dharr, Miqdad and Salman. And commanded me to love them and informed me that He also loves them.” [Ahmed 23029, Ibn e Majah 149] --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، ابن ماجة (149) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (28)، ضعيف الجامع الصغير (1566) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3718
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٩) (تحفة الأشراف: ٢٠٠٨)، و مسند احمد (٥/٣٥٦) (ضعیف) (سند میں ابو ربیعہ ایادی لین الحدیث، اور شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں)
حبشی بن جنادہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور میری جانب سے نقض عہد کی بات میرے یا علی کے علاوہ کوئی اور ادا نہیں کرے گا ١ ؎۔
Sayyidina Hubshi ibn Junadah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “All is from me and I from Ali and none shall represent me save myself or Ali.” [Ibn e Majah 119]
حسن، ابن ماجة (119)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3719
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اہل عرب کا یہ طریقہ تھا کہ نقض عہد یا صلح کی تنفیذ کا اعلان جب تک قوم کے سردار یا اس کے کسی خاص قریبی فرد کی طرف سے نہ ہوتا وہ اسے قبول نہ کرتے تھے، اسی لیے جب رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر ؓ کو امیر الحجاج بنا کر بھیجا اور پھر بعد میں اللہ کے اس فرمان «إنما المشرکون نجس فلا يقربوا المسجد الحرام بعد عامهم هذا» (سورة التوبة: 28 ) کے ذریعہ اعلان برأت کی خاطر علی ؓ کو بھیجا تو آپ نے علی کی تکریم میں اسی موقع پر یہ بات فرمائی: «علی منی و أنا من علی و لا یؤدی عنی الا أنا أو علی»۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٩) (تحفة الأشراف: ٣٢٩٠)، و مسند احمد (٤/١٦٤، ٩٥) (حسن) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ اور ابواسحاق سبیعی مدلس وصاحب اختلاط راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم ١٩٨٠، وتراجع الالبانی ٣٧٨)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے اصحاب کے درمیان باہمی بھائی چارا کرایا تو علی ؓ روتے ہوئے آئے اور کہا: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے اصحاب کے درمیان بھائی چارا کرایا ہے اور میری بھائی چارگی کسی سے نہیں کرائی؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تم میرے بھائی ہو دنیا اور آخرت دونوں میں ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ established ties of fraternity between his companions, Ali (RA) came to him with weeping eyes. He said, “O Messenger of Allah, you have joined ties of brotherhood between your sahabah but you have not joined me in brotherhood with anyone.” Allah’s Messenger ﷺ said to hun, “You are my brother in this world and the next.”
ضعيف، المشکاة (6084) // ضعيف الجامع الصغير (1325) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3720
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں زید بن ابی اوفی سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٦٧٧) (ضعیف) (سند میں حکیم بن جبیر ضعیف رافضی ہے)
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک پرندہ تھا، آپ نے دعا فرمائی کہ اے للہ! میرے پاس ایک ایسے شخص کو لے آ جو تیری مخلوق میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہوتا کہ وہ میرے ساتھ اس پرندہ کا گوشت کھائے، تو علی آئے اور انہوں نے آپ کے ساتھ کھانا کھایا ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that the Prophet ﷺ had bird meat once. He said, “O Allah, send to me from Your creatures one who is dearest to You that he may eat with me this bird. So, Ali came to him and ate with him.
ضعيف، المشکاة (6085)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3721
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے سدی کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، ٣- عیسیٰ بن عمر کوفی ہیں ٤- اور سدی کا نام اسماعیل بن عبدالرحمٰن ہے، اور ان کا سماع انس بن مالک سے ہے، اور حسین بن علی کی رؤیت بھی انہیں حاصل ہے، شعبہ، سفیان ثوری اور زائدہ نے ان کی توثیق کی ہے، نیز یحییٰ بن سعید القطان نے بھی انہیں ثقہ کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٢٨) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف اور ساقط الحدیث ہیں، اور اسماعیل بن عبد الرحمن السدی الکبیر روایت میں وہم کا شکار ہونے کے ساتھ ساتھ تشیع سے متہم، اور اس روایت میں تشیع ہے بھی)
علی ؓ کہتے ہیں کہ جب بھی میں رسول اللہ ﷺ سے مانگتا تو آپ مجھے دیتے تھے اور جب میں چپ رہتا تو خود ہی پہل کرتے (دینے میں یا بولنے میں) ۔
Abdullah ibn Amr ibn Hind al-Jamali reported that Ali said, “When I asked Allah’s Messenger ﷺ for anything, he gave me. When I said nothing, he began (to give) with me.
ضعيف، المشکاة (6086)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3722
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٢٠٠) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن عمرو بن ہند جملی کا علی ؓ سے سماع نہیں ہے، یعنی: سند میں انقطاع ہے)
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں حکمت کا گھر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہیں ۔
Sayyidina Ali reported that Allah’s Messenger said, “I am the house of wisdom and Ali is its gate.’
ضعيف، المشکاة (6087) // ضعيف الجامع الصغير (6087) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3723
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب، اور منکر ہے، ٢- بعض راویوں نے اس حدیث کو شریک سے روایت کیا ہے، اور انہوں نے اس میں صنابحی کے واسطہ کا ذکر نہیں کیا ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ یہ حدیث کسی ثقہ راوی کے واسطہ سے شریک سے آئی ہو، اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٢٠٩) (موضوع) (سند میں شریک القاضی حافظہ کے ضعیف ہیں اور شریک کے سوا کسی نے سند میں صنابحی کا ذکر نہیں کیا ہے، جس سے پتہ چلا کہ سند میں انقطاع بھی ہوا ہے، اس حدیث پر ابن الجوزی اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے موضوع کا حکم لگایا ہے، ابن تیمیہ کہتے ہیں: یہ حدیث ضعیف بلکہ عارفین حدیث کے یہاں موضوع ہے، لیکن ترمذی وغیرہ نے اس کی روایت کی ہے بایں ہمہ یہ جھوٹ ہے، اس حدیث کی مفصل تخریج ہم نے اپنی کتاب شیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ میں کی ہے حدیث نمبر ٣٧٦)
سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ معاویہ بن ابی سفیان ؓ نے ان کو امیر بنایا تو پوچھا کہ تم ابوتراب (علی) کو برا بھلا کیوں نہیں کہتے؟ انہوں نے کہا: جب تک مجھے وہ تین باتیں یاد رہیں گی جنہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے میں انہیں ہرگز برا نہیں کہہ سکتا، اور ان میں سے ایک کا بھی میرے لیے ہونا مجھے اس بات سے زیادہ محبوب ہے کہ میرے لیے سرخ اونٹ ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو علی ؓ سے فرماتے ہوئے سنا ہے (آپ نے انہیں اپنے کسی غزوہ میں مدینہ میں اپنا جانشیں مقرر کیا تھا تو آپ سے علی ؓ نے کہا تھا: اللہ کے رسول! آپ مجھے عورتوں اور بچوں کے ساتھ چھوڑے جا رہے ہیں) ، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تم میرے لیے اسی طرح ہو جس طرح ہارون موسیٰ کے لیے تھے، مگر فرق صرف اتنا ہے کہ میرے بعد نبوت نہیں ١ ؎، اور دوسری یہ کہ میں نے آپ کو خیبر کے دن فرماتے ہوئے سنا کہ آج میں پرچم ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دوں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اس سے اللہ اور اس کے رسول بھی محبت کرتے ہیں، سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں تو ہم سب نے اس کے لیے اپنی گردنیں بلند کیں، یعنی ہم سب کو اس کی خواہش ہوئی، آپ نے فرمایا: علی کو بلاؤ، چناچہ وہ آپ کے پاس آئے اور انہیں آشوب چشم کی شکایت تھی تو آپ نے اپنا لعاب مبارک ان کی آنکھ میں لگایا اور پرچم انہیں دے دیا چناچہ اللہ نے انہیں فتح دی، تیسری بات یہ ہے کہ جب آیت کریمہ «ندع أبناءنا وأبناء کم ونساءنا ونساء کم» اتری۔ تو رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ؓ کو بلایا اور فرمایا: اے اللہ! یہ میرے اہل ہیں ٢ ؎۔
Sayyidina Sad ibn Abu Waqas (RA) narrated: Mu’awiyah ibn Abu Sufyan (RA) ordered Sa’d and asked, “What prevents you from reviling Abu Turab.” He said, “As long as I remember three things that Allah’s Messenger had said I will not speak against him, for, even each of them is dearer to me than red camels. I heard Allah’s Messenger ﷺ say (this) to Ali while he had left him behind in one of his battles. All said to him, “O Messenger of Allah ﷺ do you leave me behind with women and children?” He said to him, ‘Does it not please you that you be to me of the rank of Harun to Musa except that there is no prophethood after me.” And I heard him say on the day of Khaybar, “I will give the banner to a man who loves Allah and His Messenger and Allah and His Messenger love him. We all hoped to receive that. But, he sent for Ali and he came. He had pain in his eyes. The Prophet ﷺ put his saliva in them and handed over the banner to him. Then Allah gave us victory at his hands and revealed this verse We will summon our sons and your sons, and our women and your women. (3:61) Allah’s Messenger ﷺ summoned Ali, Fatimah, Hasan and Husayn (RA) and said, “O Allah, these are my family.” [Muslim 2404] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3724
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ علی ؓ کے آپ ﷺ سے نہایت قریب ہونے کی دلیل ہے، نیز یہ ختم نبوت کی ایک واضح دلیل ہے۔ ٢ ؎: اس آیت مباہلہ میں جن لوگوں کو نبی اکرم ﷺ کا اہل مراد لیا گیا ان میں علی ؓ بھی شامل کئے گئے، «ذلک فضل اللہ يؤتيه من يشاء» (الجمعة: ٤)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٩ (٣٧٠٦)، والمغازي ٧٨ (٤٤١٦)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤ (٢٤٠٤/٣٢)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢١)، ( تحفة الأشراف: ٣٨٧٢)، و مسند احمد (١/١٧٠، ١٧٧) (صحیح)