مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 7 of 18

3725Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا الْأَحْوَصُ بْنُ جَوَّابٍ أَبُو الْجَوَّابِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشَيْنِ، وَأَمَّرَ عَلَى أَحَدِهِمَا عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، وَعَلَى الْآخَرِ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ، وَقَالَ: إِذَا كَانَ الْقِتَالُ فَعَلِيٌّ ، قَالَ: فَافْتَتَحَ عَلِيٌّ حِصْنًا فَأَخَذَ مِنْهُ جَارِيَةً، فَكَتَبَ مَعِي خَالِدٌ كِتَابًا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشِي بِهِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَرَأَ الْكِتَابَ فَتَغَيَّرَ لَوْنُهُ، ثُمَّ قَالَ: مَا تَرَى فِي رَجُلٍ يُحِبُّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ، وَيُحِبُّهُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ، قَالَ: قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْ غَضَبِ اللَّهِ وَغَضَبِ رَسُولِهِ، وَإِنَّمَا أَنَا رَسُولٌ فَسَكَتَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے دو لشکر بھیجے اور ان دونوں میں سے ایک کا امیر علی بن ابی طالب ؓ کو اور دوسرے کا خالد بن ولید ؓ کو بنایا اور فرمایا: جب لڑائی ہو تو علی امیر رہیں گے چناچہ علی ؓ نے ایک قلعہ فتح کیا اور اس سے (مال غنیمت میں سے) ایک لونڈی لے لی، تو میرے ساتھ خالد ؓ نے نبی اکرم ﷺ کو ایک خط لکھ کر بھیجا جس میں وہ آپ ﷺ سے علی ؓ کی شکایت کر رہے تھے، وہ کہتے ہیں: چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا آپ نے خط پڑھا تو آپ کا رنگ متغیر ہوگیا پھر آپ نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو ایک ایسے شخص کے سلسلے میں جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: میں اللہ اور اس کے رسول کے غضب سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں، میں تو صرف ایک قاصد ہوں، پھر آپ خاموش ہوگئے۔

Sayyidina Bara (RA) narrated: The Prophet ﷺ sent two armies. He appointed Ali ibn Abu Talib as commander over one and Khalid ibn Walid (RA) over the other, saying, “When fighting erupts Ali (RA) (will be the commander).” Ali conquered the fort and seized a female captive (for himself). So Khalid sent me with a Letter to the Prophet ﷺ with the Complaint. I went to the Prophet ﷺ who read the letter and the colour of his face changed. Then he said, “What do you say of a man who loves Allah and His Messenger and Allah and Hid Messenger love him.” I said, “I seek refuge in Allah from Allah’s anger and from the anger of His Messenger, for, I am only a carrier of message.” He did not say anything (after that). --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف الإسناد ومضی برقم (1756) // (286 / 1772) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3725
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر رقم: ١٧٠٤ (ضعیف الإسناد)
3726Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنِ الْأَجْلَحِ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلِيًّا يَوْمَ الطَّائِفِ فَانْتَجَاهُ، فَقَالَ النَّاسُ: لَقَدْ طَالَ نَجْوَاهُ مَعَ ابْنِ عَمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا انْتَجَيْتُهُ وَلَكِنَّ اللَّهَ انْتَجَاهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْأَجْلَحِ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ ابْنِ فُضَيْلٍ أَيْضًا، عَنِ الْأَجْلَحِ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: وَلَكِنَّ اللَّهَ انتجاه يَقُولُ: اللَّهُ أَمَرَنِي أَنْ أَنْتَجِيَ مَعَهُ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے غزوہ طائف کے دن علی ؓ کو بلایا اور ان سے سرگوشی کے انداز میں کچھ باتیں کیں، لوگ کہنے لگے: آپ نے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ بڑی دیر تک سرگوشی کی ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے ان سے سرگوشی نہیں کی ہے بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ called Sayyidina (RA) during the Battle of Ta’if and confided with him. The people said, “The confiding has lengthened with the son of his uncle.” Allah’s Messenger ﷺ said, “I have not had secret talk with him, but Allah has had secret talk with him.”

ضعيف، المشکاة (6088)، الضعيفة (3084) // ضعيف الجامع الصغير (5022) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3726
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اجلح کی روایت سے جانتے ہیں، اور اسے ابن فضیل کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی اجلح سے روایت کیا ہے، ٢- آپ کے قول بلکہ اللہ نے ان سے سرگوشی کی ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے مجھے ان کے ساتھ سرگوشی کا حکم دیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٦٥٤) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر مدلس ہیں اور روایت عنعنہ سے کی ہے)
3727Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي حَفْصَةَ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ: يَا عَلِيُّ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ أَنْ يُجْنِبَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ غَيْرِي وَغَيْرِكَ . قَالَ عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ: قُلْتُ لِضِرَارِ بْنِ صُرَدٍ: مَا مَعْنَى هَذَا الْحَدِيثِ ؟ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَسْتَطْرِقُهُ جُنُبًا غَيْرِي وَغَيْرِكَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ وَقَدْ سَمِعَ مِنِّي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل هَذَا الْحَدِيثَ فَاسْتَغْرَبَهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا: علی! میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اس مسجد میں جنبی رہے ۔

Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said to Ali, “O Ali, it is not allowed to anyone to be in a state of seminal impurity in this mosque, except for me and you.” Alii ibn Mundhir said that he asked Dirar ibn Surad the meaning of this hadith. He said, “It is not allowed to anyone except me and you to make it a thoroughfare in a defiled state”

ضعيف، المشکاة (6089)، الضعيفة (4973) // ضعيف الجامع الصغير (6402) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3727
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- علی بن منذر کہتے ہیں: میں نے ضرار بن صرد سے پوچھا: اس حدیث کا مفہوم کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا: اس کا مطلب یہ ہے کہ میرے اور تمہارے علاوہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ حالت جنابت میں وہ اس مسجد میں سے گزرے، ٣- مجھ سے محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو سنا تو وہ اچنبھے میں پڑگئے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٢٠٣) (ضعیف) (سند میں عطیہ عوفی ضعیف ہیں، اور سالم بن ابی حفصہ غالی شیعہ ہے، اور روایت میں تشیع ہے)
3728Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَابِسٍ، عَنْ مُسْلِمٍ الْمُلَائِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: بُعِثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الِاثْنَيْنِ، وَصَلَّى عَلِيٌّ يَوْمَ الثُّلَاثَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ، وَهَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، وَمُسْلِمٌ الْأَعْوَرُ لَيْسَ عِنْدَهُمْ بِذَلِكَ الْقَوِيِّ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ حَبَّةَ، عَنْ عَلِيٍّ نَحْوَ هَذَا.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کو دوشنبہ کو مبعوث کیا گیا اور علی نے منگل کو نماز پڑھی۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that the Prophet ﷺ was commissioned on Monday and Ali (RA) ofered salah on Tuesday.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3728
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اور یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف مسلم اعور کی روایت سے جانتے ہیں اور مسلم اعور محدثین کے نزدیک قوی نہیں ہیں، ٢- اسی طرح یہ حدیث مسلم اعور سے بھی آئی ہے اور مسلم نے حبہ کے واسطہ سے اسی طرح علی سے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٨٩) (ضعیف الإسناد) (سند میں علی بن عابس اور مسلم بن کیسان اعور دونوں ضعیف راوی ہیں)
3731Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ السَّلَامِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، أن النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُسْتَغْرَبُ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا: تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون، موسیٰ کے لیے تھے، مگر اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

Sayyidina Sad ibn Abu Waqqas (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Ali “You are to me like Harun was to Musa.” (except that there is no Prophet ﷺ after me).” [Muslim 2404, Ahmed 1547]

صحيح، ابن ماجة (121)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3731
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے ٢- اور یہ سعد بن ابی وقاص کے واسطہ سے جسے وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کئی سندوں سے آئی ہے، ٣- اور یحییٰ بن سعید انصاری کی سند سے یہ حدیث غریب سمجھی جاتی ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٣٠ (صحیح)
3730Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِيٍّ: أَنْتَ مِنِّي بِمَنْزِلَةِ هَارُونَ مِنْ مُوسَى إِلَّا أَنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ سَعْدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأُمِّ سَلَمَةَ.

جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے علی ؓ سے فرمایا: تم میرے لیے ایسے ہی ہو جیسے ہارون موسیٰ کے لیے تھے، البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔ (اور ہارون (علیہ السلام) اللہ کے نبی تھے) ۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Ali (RA), “You are to me like Harun was to Musa, but that there is no Prophet ﷺ after me.”

صحيح بما قبله (3729)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3730
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں سعد، زید بن ارقم، ابوہریرہ اور ام سلمہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٣٧٠) (صحیح) (سند میں شریک القاضی ضعیف الحفظ ہیں، مگر سعد بن ابی وقاص ؓ کی حدیث (٣٧٢٤) سے تقویت پا کر یہ حدیث بھی صحیح ہے)
3732Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ إِلَّا بَابَ عَلِيٍّ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ عَنْ شُعْبَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے علی ؓ کے دروازے کے علاوہ (مسجد نبوی میں کھلنے والے تمام) دروازوں کو بند کرنے کا حکم دیا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ commanded that all doors should be closed (that opened in the mosque) except the door of Ali.

صحيح الضعيفة تحت الحديث (4932 و 4951)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3732
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے شعبہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مناقب ابی بکر ؓ میں یہ حدیث گزری کہ نبی اکرم ﷺ نے ابوبکر ؓ کے دروازے کے سوا مسجد نبوی میں کھلنے والے سارے دروازوں کو بند کردینے کا حکم دیا ان دونوں حدیثوں کے درمیان بظاہر نظر آنے والے تعارض کو اس طرح دور کیا گیا ہے، کہ شروع میں مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے سوائے علی ؓ کے بند کردینے کا حکم ہوا، تو لوگوں نے دروازے بند کر کے روشندان کھول لیے اور نبی اکرم ﷺ کے مرض کے ایام میں آپ نے ابوبکر ؓ کے روشندان کے سوا سارے لوگوں کے روشندان بند کردیئے، ( یہ روشندان اوپر بھی ہوتے تھے اور نیچے بھی، نیچے والے سے لوگ آمدورفت بھی کرتے تھے، مسجد کی طرف دروازوں کے بند ہوجانے کے بعد مسجد میں آنے جانے کے لیے لوگوں نے استعمال کرنا شروع کردیا تھا، «کما فی کتب مشکل الحدیث»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٣١٤) (صحیح)
3733Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَهْضَمِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنِي أَخِي مُوسَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ أَبِيهِ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِ حَسَنٍ، وَحُسَيْنٍ، فَقَالَ: مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ، وَأَبَاهُمَا، وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

علی بن ابی طالب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حسن اور حسین ؓ کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جو مجھ سے محبت کرے، اور ان دونوں سے، اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت کرے، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہوگا ۔

Sayyididina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: The Prophet ﷺ held the hands of Hasan and Husayn and said, ‘He who loves me, loves these two, their father and their mother will be with me at my place on the Day of Resurrection.

ضعيف، الضعيفة (3122)، تخريج المختارة (392 - 397) // ضعيف الجامع الصغير (5344) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3733
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے جعفر بن محمد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٠٧٣)، و مسند احمد (١/٧٧) (ضعیف) (سند میں علی بن جعفر مجہول ہیں، اور حدیث کا متن منکر ہے، ملاحظہ ہو الضعیفة رقم: ٣١٢٢)
3734Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَوَّلُ مَنْ صَلَّى عَلِيٌّ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ، وَأَبُو بَلْجٍ اسْمُهُ: يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، وَقَدِ اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا، فَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، وَقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ الرِّجَالِ أَبُو بَكْرٍ، وَأَسْلَمَ عَلِيٌّ وَهُوَ غُلَامٌ ابْنُ ثَمَانِ سِنِينَ، وَأَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ مِنَ النِّسَاءِ خَدِيجَةُ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ پہلے پہل جس نے نماز پڑھی وہ علی ؓ ہیں۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the one who was the first to offer salah was Ali.

صحيح الضعيفة تحت الحديث م (4932)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3734
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، شعبہ کی یہ حدیث جسے وہ ابوبلج سے روایت کرتے ہیں ہم اسے صرف محمد بن حمید کی روایت سے جانتے ہیں اور ابوبلج کا نام یحییٰ بن سلیم ہے، ٢- اہل علم نے اس سلسلہ میں اختلاف کیا ہے، بعض راویوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جس نے اسلام قبول کیا ہے وہ ابوبکر صدیق ؓ ہیں، اور بعضوں نے کہا ہے کہ پہلے پہل جو اسلام لائے ہیں وہ علی ؓ ہیں، اور بعض اہل علم نے کہا ہے: بڑے مردوں میں جو پہلے پہل اسلام لائے ہیں وہ ابوبکر ؓ ہیں اور علی ؓ جب اسلام لائے تو وہ آٹھ سال کی عمر کے لڑکے تھے، اور عورتوں میں جو سب سے پہلے اسلام لائی ہیں وہ خدیجہ ؓ ہیں ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہی قول سب سے بہتر ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (٦٣١٥) (صحیح)
3735Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي حَمْزَةَ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَال: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ أَرْقَمَ، يَقُولُ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ عَلِيٌّ، قَالَ عَمْرُو بْنُ مُرَّةَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِإِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ، فَأَنْكَرَهُ فَقَالَ: أَوَّلُ مَنْ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَأَبُو حَمْزَةَ اسْمُهُ: طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ جس نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا وہ علی ؓ ہیں۔ عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے اسے ابراہیم نخعی سے ذکر کیا تو انہوں نے اس کا انکار کیا اور کہا: سب سے پہلے جس نے اسلام قبول کیا وہ ابوبکر صدیق ؓ ہیں۔

Sayyidin Zayd ibn Arqam (RA) reported that the first to believe was Ali Amr ibn Murrah said that he mentioned that to Ibrahim Nakha’i and he denied that, saying, “The first person who believed was Ali bin Talib”

صحيح الإسناد عن زيد، متصل عن النخعیصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3735
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٣٦٦٤) (صحیح)
3736Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عُثْمَانَ ابْنِ أَخِي يَحْيَى بْنِ عِيسَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: لَقَدْ عَهِدَ إِلَيَّ النَّبِيُّ الْأُمِّيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ لَا يُحِبُّكَ إِلَّا مُؤْمِنٌ، وَلَا يَبْغَضُكَ إِلَّا مُنَافِقٌ . قَالَ عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ: أَنَا مِنَ الْقَرْنِ الَّذِينَ دَعَا لَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ نبی امی ﷺ نے مجھ سے فرمایا: تم سے صرف مومن ہی محبت کرتا ہے اور منافق ہی بغض رکھتا ہے ١ ؎۔ عدی بن ثابت کہتے ہیں: میں اس طبقے کے لوگوں میں سے ہوں، جن کے لیے نبی اکرم ﷺ نے دعا فرمائی ٢ ؎۔

Sayyidina Ali (RA) narrated: Indeed, the Prophet ﷺ the unlettered Prophet ﷺ asserted to me, “None will love you except a believer and none will despise you but a hypocrite.” Adi ibn Thabit said, “I belong to the generation for whom the Prophet ﷺ prayed.” [Muslim 78, Ibn e Majah 114, Nisai 5033, Ahmed 1062J

صحيح، ابن ماجة (114)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3736
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے شرعی محبت اور عداوت مراد ہے، مثلاً ایک آدمی علی سے تو محبت رکھتا ہے مگر ابوبکر و عمر ؓ سے بغض رکھتا ہے تو اس کی محبت ایمان کی علامت نہیں ہوگی، اور جہاں تک بغض کا معاملہ ہے، تو صرف علی ؓ سے بھی بغض ایمان کی نفی کے لیے کافی ہے، خواہ وہ ابوبکر و عمر و عثمان ؓ سے محبت ہی کیوں نہ رکھتا ہو۔ ٢ ؎: یعنی: ارشاد نبوی اے اللہ تو اس سے محبت رکھ جو علی سے محبت رکھتا ہے، کہ مصداق میں اس دعائے نبوی کے افراد میں شامل ہوں کیونکہ میں علی ؓ سے محبت رکھتا ہوں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الإیمان ٣٣ (٧٨)، سنن النسائی/الإیمان ١٩ (٥٠٢١)، و ٢٠ (٥٠٢٥)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١١٤) (تحفة الأشراف: ١٠٠٩٢) و مسند احمد (١/٨٤، ٩٥) (صحیح)
3737Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: أَخْبَرَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْجَرَّاحِ، حَدَّثَنِي جَابِرُ بْنُ صُبَيْحٍ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرَاحِيلَ، قَالَتْ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَطِيَّةَ، قَالَتْ: بَعَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا فِيهِمْ عَلِيٌّ، قَالَتْ: فَسَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ رَافِعٌ يَدَيْهِ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَا تُمِتْنِي حَتَّى تُرِيَنِي عَلِيًّا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام عطیہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا جس میں علی ؓ بھی تھے، میں نے نبی اکرم ﷺ کو سنا آپ اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے یہ دعا فرما رہے تھے: «اللهم لا تمتني حتی تريني عليا» اے اللہ! تو مجھے مارنا نہیں جب تک کہ مجھے علی کو دکھا نہ دے ۔

Sayyidah Umm Atiyah reported that the Prophet ﷺ sent an army and Ali was among them. She said, “I heard Allah’s Messenger say with his hands raised in prayer, ‘O Allah do not cause me to die before I see Ali.’”

ضعيف، المشکاة (6090)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3737
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٨١٤٢) (ضعیف) (سند میں ام شراحیل مجہول راوی ہیں)
3738Sunan At-Tirmidhi

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاق، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: كَانَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ دِرْعَانِ، فَنَهَضَ إِلَى صَخْرَةٍ فَلَمْ يَسْتَطِعْ، فَأَقْعَدَ تَحْتَهُ طَلْحَةَ، فَصَعِدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى اسْتَوَى عَلَى الصَّخْرَةِ، فَقَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: أَوْجَبَ طَلْحَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

زبیر بن عوام ؓ کہتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ ﷺ دو زرہیں پہنے ہوئے تھے، آپ ایک چٹان پر چڑھنے لگے لیکن چڑھ نہ سکے تو اپنے نیچے طلحہ کو بٹھایا اور چڑھے یہاں تک کہ چٹان پر سیدھے کھڑے ہوگئے، تو میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: طلحہ نے اپنے لیے (جنت) واجب کرلی ١ ؎۔

Sayyidina Zubayr reported that during the Battle of Uhud, Allah’s Messenger ﷺ had two coats of mail on him. He began to climb over a rock, but could not. So, he made Talhah sit down and climbed over his back on to the rock. He (the narrator) reported that he heard the Prophet ﷺ say, “It is now the right of Tathah.” (meaning paradise). [Ahmed 1417]

حسن مضی برقم (1759)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3738
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اپنے اس فدائیانہ و فدویانہ عمل کے طفیل طلحہ ؓ جنت کے حقدار قرار دئیے گئے، یعنی دنیا ہی میں ان کو نبی اکرم ﷺ کی زبان مبارک سے جنت کی بشارت مل گئی۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ١٦٩٢ (صحیح)
3739Sunan At-Tirmidhi

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مُوسَى الطُّلَحِيُّ مِنْ وَلَدِ طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، قَالَ: قَالَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ سَرَّهُ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى شَهِيدٍ يَمْشِي عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ فَلْيَنْظُرْ إِلَى طَلْحَةَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الصَّلْتِ، وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الصَّلْتِ بْنِ دِينَارٍ، وَفِي صَالِحِ بْنِ مُوسَى مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمَا.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس کو اس بات سے خوشی ہو کہ وہ کسی شہید کو (دنیا ہی میں) زمین پر چلتا ہوا دیکھے تو اسے چاہیئے کہ وہ طلحہ کو دیکھ لے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “He to whom it pleases to see a martyr walk on the surface of the earth should look at Talliah ibn Ubaydullah.” [Ibn e Majah 125]

صحيح، ابن ماجة (125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3739
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف صلت کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- بعض اہل علم نے صلت بن دینار اور صالح بن موسیٰ کے سلسلہ میں ان دونوں کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ معجزات رسول میں سے ایک معجزہ تھا، چناچہ طلحہ ؓ اس معجزہ نبوی کے مطابق واقعہ جمل میں شہید ہوئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٥) (تحفة الأشراف: ٣١٠٣) (صحیح)
3741Sunan At-Tirmidhi

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنُ مَنْصُورٍ الْعَنَزِيُّ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَلْقَمَةَ الْيَشْكُرِيِّ، قَال: سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: سَمِعَتْ أُذُنِي مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَقُولُ: طَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ جَارَايَ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عقبہ بن علقمہ یشکری کہتے ہیں کہ میں نے علی ؓ کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ میرے کانوں نے رسول اللہ ﷺ کے زبان مبارک سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے: طلحہ اور زبیر دونوں میرے جنت کے پڑوسی ہیں ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: My ears heard from the mouth of Allah’s Messenger ﷺ he said, “Tathah and Zubayr are my two neighbours in paradise.”

ضعيف، المشکاة (6114)، الضعيفة (2311) // ضعيف الجامع الصغير (3627) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3741
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٢٤٣) (ضعیف) (سند میں ابو عبد الرحمن نضر بن منصور اور عقبہ بن علقمة یشکری دونوں ضعیف راوی ہیں)
3740Sunan At-Tirmidhi

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ يَحْيَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ عَمِّهِ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى مُعَاوِيَةَ، فَقَالَ: أَلَا أُبَشِّرُكَ ؟ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: طَلْحَةُ مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں معاویہ ؓ کے پاس آیا تو انہوں نے کہا: کیا میں تمہیں یہ خوشخبری نہ سناؤں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: طلحہ ان لوگوں میں سے ہیں جن کے سلسلہ میں اللہ نے فرمایا ہے کہ وہ اپنا کام پورا کرچکے ہیں ١ ؎۔

Musa ibn Talhah narrated: I went to Mu’awiyah who said, “Shall I not give you glad tidings? I had heard Allah’s Messenger ﷺ say: Talhah is one who has fulfilled his vow.”

حسن وهو مکرر الحديث (3432)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3740
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے معاویہ ؓ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اللہ تعالیٰ کے قول «من المؤمنين رجال صدقوا ما عاهدوا اللہ عليه فمنهم من قضی نحبه ومنهم من ينتظر» (الأحزاب: 23 ) کی طرف اشارہ ہے، یعنی: مومنوں میں ایسے بھی لوگ ہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان ( صبر و ثبات ) کو سچ کر دکھایا، ان میں سے بعض نے تو اپنی نذر پوری کردی، اور بعض وقت کا انتظار کر رہے ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٢٠٢ (حسن)
3742Sunan At-Tirmidhi

طلحہ بن عبیداللہ (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ مُوسَى، وَعِيسَى ابني طلحة، عَنْ أَبِيهِمَا طَلْحَةَ، أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالُوا لِأَعْرَابِيٍّ جَاهِلٍ: سَلْهُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ مَنْ هُوَ ؟ وَكَانُوا لَا يَجْتَرِئُونَ هُمْ عَلَى مَسْأَلَتِهِ يُوَقِّرُونَهُ وَيَهَابُونَهُ، فَسَأَلَهُ الْأَعْرَابِيُّ، فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ إِنِّي اطَّلَعْتُ مِنْ بَابِ الْمَسْجِدِ وَعَلَيَّ ثِيَابٌ خُضْرٌ، فَلَمَّا رَآنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيْنَ السَّائِلُ عَمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ ؟ ، قَالَ الْأَعْرَابِيُّ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: هَذَا مِمَّنْ قَضَى نَحْبَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي كُرَيْبٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ بُكَيْرٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ كِبَارِ أَهْلِ الْحَدِيثِ، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ بِهَذَا الْحَدِيثَ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل يُحَدِّثُ بِهَذَا، عَنْ أَبِي كُرَيْبٍ وَوَضَعَهُ فِي كِتَابِ الْفَوَائِدِ.

طلحہ ؓ سے روایت ہے کہ صحابہ نے ایک جاہل اعرابی سے کہا: تم نبی اکرم ﷺ سے «من قضی نحبه» کے متعلق پوچھو کہ اس سے کون مراد ہے، صحابہ کا یہ حال تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا اس قدر احترام کرتے تھے کہ آپ ﷺ کی ان پر اتنی ہیبت طاری رہتی تھی کہ وہ آپ سے سوال کی جرات نہیں کر پاتے تھے، چناچہ اس اعرابی نے آپ سے پوچھا تو آپ نے اپنا منہ پھیرلیا، اس نے پھر پوچھا: آپ نے پھر منہ پھیرلیا پھر میں مسجد کے دروازے سے نکلا، میں سبز کپڑے پہنے ہوئے تھا، تو جب رسول اللہ ﷺ نے مجھے دیکھا تو فرمایا: «من قضی نحبه» کے متعلق پوچھنے والا کہاں ہے؟ اعرابی بولا: میں موجود ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: یہ «عن قضی نحبہ» میں سے ہیں۔

Sayyidina Talhah reported that some of the sahabah instructed an ignorant villager to ask him (the Prophet ﷺ ) about (completed his vow), “Who is the one?’ They did not dare to ask directly because they respected him and held him in awe. The villager asked him, but he evaded him. He asked him again, but he evaded him. Again he asked him but he evaded him. Then I came in the gate of the mosque wearing green garments. When the Prophet ﷺ saw me, he asked, “Where is the one who asked about (the one who fulfilled his vow) ?“ The villager answered, “I, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “He is the one who fulfilled his vow.”

حسن صحيح وهو مکرر الحديث (3433)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3742
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوکریب کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ یونس بن بکیر سے روایت کرتے ہیں، ٢- کبار محدثین میں سے متعدد لوگوں نے ابوکریب سے روایت کی ہے، ٣- میں نے اسے محمد بن اسماعیل بخاری کو ابوکریب کے واسطہ سے بیان کرتے سنا ہے، اور انہوں نے اس حدیث کو اپنی کتاب کتاب الفوائد میں رکھا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم: ٣٢٠٢ (حسن صحیح)
3743Sunan At-Tirmidhi

حضرت زبیر بن عوام (رض) نے مناقب

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ الزُّبَيْرِ، قَالَ: جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، فَقَالَ: بِأَبِي وَأُمِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

زبیر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے قریظہ کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا اور فرمایا: میرے ماں باپ تم پر فدا ہوں ١ ؎۔

Sayyidina Zubayr (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ put together for me his parents on the day of (the battle of) Qurayzah when he said, “May my father and mother be ransomed to you.” [Ahmed 1408 Bukhari 3720, Muslim 2416 Ibn e Majah 123]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3743
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور یہ زبیر سے اللہ کے رسول ﷺ کی نہایت قربت کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ١٣ (٣٧٢٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٣) (تحفة الأشراف: ٣٦٢٢) (صحیح)
3744Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا زَائِدَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَيُقَالُ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ، سَمِعْت ابْنَ أَبِي عُمَرَ يَقُولُ: قَالَ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ: الْحَوَارِيُّ هُوَ النَّاصِرُ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں ١ ؎ اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Indeed, there is a disciple for every Prophet. And my disciple is Zubayr ibn Awwam.” [Ahmed 6801]

حسن صحيح، ابن ماجة (122)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3744
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور حواری مددگار کو کہا جاتا ہے، میں نے ابن ابی عمر کو کہتے ہوئے سنا کہ سفیان بن عیینہ نے کہا ہے کہ حواری کے معنی مددگار کے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یوں تو سبھی صحابہ کرام آپ ﷺ کے مددگار تھے، مگر زبیر ؓ میں یہ خصوصیت بدرجہ اتم تھی، اس لیے خاص طور سے آپ نے اس کا تذکرہ کیا اور اس کا ایک خاص پس منظر ہے جس کا بیان اگلی حدیث میں آ رہا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٠٩٦) (صحیح) (یہ سند حسن ہے، اور یہ حدیث جابر ؓ سے متفق علیہ مروی ہے، ملاحظہ ہو: ابن ماجہ ١٢٢)
3745Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، وَأَبُو نُعَيْمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ . وَزَادَ أَبُو نُعَيْمٍ فِيهِ يَوْمَ الْأَحْزَابِ، قَالَ: مَنْ يَأْتِينَا بِخَبَرِ الْقَوْمِ ؟ قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا، قَالَهَا ثَلَاثًا، قَالَ الزُّبَيْرُ: أَنَا. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں ١ ؎، اور ابونعیم نے اس میں «یوم الأحزاب» (غزوہ احزاب) کا اضافہ کیا ہے، آپ نے فرمایا: کون میرے پاس کافروں کی خبر لائے گا؟ تو زبیر ؓ بولے: میں، آپ نے تین بار اسے پوچھا اور زبیر ؓ نے ہر بار کہا: میں۔

Sayyidina Jabir reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “There is for every Prophet ﷺ a disciple and my disciple is Zubayr.” Abu Nu’aym added to that: The day of al-Ahzab.” The Prophet ﷺ asked, “Who will bring us news of the enemy?” Zubayr volunteered, “I” He asked thrice and each time Zubayr said, “I”. [Ahmed 14382 Bukhari 2747, Muslim 2415, Ibn e Majah 122] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح انظر ما قبله (3744)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3745
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: غزوہ احزاب کے موقع پر نبی اکرم ﷺ نے جب کفار کی سرگرمیوں کا پتہ لگانے کے لیے یہ اعلان کیا کہ کون ہے جو مجھے کافروں کے حال سے باخبر کرے اور ایسا آپ نے تین بار کہا، تینوں مرتبہ زبیر ؓ کے سوا کسی نے بھی جواب نہیں دیا، اسی موقع پر آپ نے زبیر ؓ کے حق میں یہ فرمایا تھا: «ان لکل نبی حواریا و ان حواری الزبیر بن العوام» یہ بھی یاد رکھئیے کہ زبیر بن عوام نبی اکرم ﷺ کی سگی پھوپھی صفیہ ؓ کے بیٹے تھے، اور ان کی شادی ام المؤمنین عائشہ کی بڑی بہن اسماء بنت ابی بکر ؓ کے ساتھ ہوئی تھی۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٤٠ (٢٨٤٦)، و ٤١ (٢٨٤٧)، ١٣٥ (٢٩٩٧)، وفضائل الصحابة ١٣ (٣٧١٩)، والمغازي ٢٩ (٤١١٣)، والآحاد ٢ (٧٢٦١)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٦ (٢٤١٥)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٢٢) (تحفة الأشراف: ٣٠٢٠) (صحیح)