مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 8 of 18

3746Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَوْصَى الزُّبَيْرُ إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ صَبِيحَةَ الْجَمَلِ، فَقَالَ: مَا مِنِّي عُضْوٌ إِلَّا وَقَدْ جُرِحَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى ذَاكَ إِلَى فَرْجِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.

ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ زبیر ؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ ؓ کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا: میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ١ ؎۔

Hisham ibn Urwah (RA) reported that during the Battle of Jamal, Zubayr instructed his son Abdullah and also said, “There is not any of my limb but has been wounded (in battles I fought) for Allah’s Messenger ﷺ so much so that my private parts were injured.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3746
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وصیت انہوں نے اس لیے کی کہ جو قربانیاں ہم نے غلبہ دین حق کے لیے دی تھیں اور اسلام ان قربانیوں کے عوض دنیا پر غالب آگیا ہے، آج اسی قوت، طاقت، صلاحیت اور قربانی کو ہم آپس میں ضائع کر رہے ہیں چناچہ زبیر ؓ جنگ جمل سے دست بردار ہو کر واپس مکہ ( یا مدینہ طیبہ ) کی طرف پلٹ آئے تھے اور آپ کو راستے میں کسی نے شہید کردیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٦٢٧) (صحیح الإسناد)
3747Sunan At-Tirmidhi

حضرت عبدالرحمن بن عوف زہری (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَلِيٌّ فِي الْجَنَّةِ، وَطَلْحَةُ فِي الْجَنَّةِ، وَالزُّبَيْرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعْدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَسَعِيدٌ فِي الْجَنَّةِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ فِي الْجَنَّةِ . أَخْبَرَنَا أَبُو مُصْعَبٍ قِرَاءَةً، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَالَ: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا وَهَذَا أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.

عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں، عثمان جنتی ہیں، علی جنتی ہیں، طلحہ جنتی ہیں، زبیر جنتی ہیں، عبدالرحمٰن بن عوف جنتی ہیں، سعد جنتی ہیں، سعید (سعید بن زید) جنتی ہیں اور ابوعبیدہ بن جراح جنتی ہیں ١ ؎ (رضی اللہ علیہم اجمعین) ابومصعب نے ہمیں خبر دی کہ انہوں نے عبدالعزیز بن محمد کے آگے پڑھا اور عبدالعزیز نے عبدالرحمٰن بن حمید سے اور عبدالرحمٰن نے اپنے والد حمید کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی لیکن اس میں عبدالرحمٰن بن عوف کے واسطہ کا ذکر نہیں ہے۔

Sayyidina Abdur Rahman ibn Awf narrated: Allah’s Messenger said, “ Abu Bakr (RA) is in paradise. Umar is in paradise. Uthman is in paradise. Ali is in paradise. Talhah is in paradise. Zubayr is in paradise. Abdur Rahman ibn Awf is in paradise. Sad ibn Abu Waqqas is in paradise. Sa’eed ibn Zayd is in paradise and Abu Ubaydah ibn Jarrah is in paradise.” [Ahmed 1675]

صحيح، المشکاة (6110 و 6111)، تخرج الطحاوية (728)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3747
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث عبدالرحمٰن بن حمید سے بطریق: «عن أبيه عن سعيد بن زيد عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» بھی آئی ہے، (اور اسی طرح آئی ہے) ، اور یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے (جو آگے آرہی ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہی وہ حدیث ہے جس میں دس جنتیوں کا نام ایک مجلس میں اکٹھے آیا ہے، اور اسی بنا پر ان دسوں کو عشرہ مبشرہ کہا جاتا ہے، ورنہ جنت کی خوشخبری آپ ﷺ نے ان دس کے علاوہ بھی دیگر صحابہ کو دی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٩٧١٨) (صحیح)
3748Sunan At-Tirmidhi

حضرت عبدالرحمن بن عوف زہری (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ مِسْمَارٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ يَعْقُوبَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ حَدَّثَهُ فِي نَفَرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: عَشَرَةٌ فِي الْجَنَّةِ: أَبُو بَكْرٍ فِي الْجَنَّةِ، وَعُمَرُ فِي الْجَنَّةِ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَالزُّبَيْرُ، وَطَلْحَةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ، وَأَبُو عُبَيْدَةَ، وَسَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: فَعَدَّ هَؤُلَاءِ التِّسْعَةَ وَسَكَتَ عَنِ الْعَاشِرِ، فَقَالَ الْقَوْمُ: نَنْشُدُكَ اللَّهَ يَا أَبَا الْأَعْوَرِ مَنِ الْعَاشِرُ ؟ قَالَ: نَشَدْتُمُونِي بِاللَّهِ أَبُو الْأَعْوَرِ فِي الْجَنَّةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: أَبُو الْأَعْوَرِ هُوَ سَعِيدُ بْنُ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، وَسَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ: هُوَ أَصَحُّ مِنَ الْحَدِيثِ الْأَوَّلِ.

حمید سے روایت ہے کہ سعید بن زید ؓ نے ان سے کئی اشخاص کی موجودگی میں بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دس آدمی جنتی ہیں، ابوبکر جنتی ہیں، عمر جنتی ہیں عثمان، علی، زبیر، طلحہ، عبدالرحمٰن، ابوعبیدہ اور سعد بن ابی وقاص (جنتی ہیں) وہ کہتے ہیں: تو انہوں نے ان نو ( ٩) کو گن کر بتایا اور دسویں آدمی کے بارے میں خاموش رہے، تو لوگوں نے کہا: اے ابوالاعور ہم اللہ کا واسطہ دے کر آپ سے پوچھ رہے ہیں کہ دسواں کون ہے؟ تو انہوں نے کہا: تم لوگوں نے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا ہے (اس لیے میں بتارہا ہوں) ابوالاعور جنتی ہیں۔

Sa’eed ibn Zayd narrated to some people that Allah’s Messenger ﷺ said, “Ten people will go to paradise. Abu Bakr (RA) is in paradise. Umar is in paradise. Ali and Uthman and Zubayr and Talhah and Abdur Rahman and Abu Ubaydah and Sa’d ibn Abu Waqqas.” He counted these nine but said nothing about the tenth. The people said, “We adjure you by Allah, O Abu A’war, who is the tenth?” He said, “You have adjured me by Allah (so listen, Abu A’war is in paradise.)” [Ahmed 1629] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (133)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3748
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا ہے کہ یہ پہلی حدیث سے زیادہ صحیح ہے، ٢- ابوالاعور سے مراد خود سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٤٤٥٤) (صحیح)
3749Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: إِنَّ أَمْرَكُنَّ مِمَّا يُهِمُّنِي بَعْدِي، وَلَنْ يَصْبِرَ عَلَيْكُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ ، قَالَ: ثُمَّ تَقُولُ عَائِشَةُ: فَسَقَى اللَّهُ أَبَاكَ مِنْ سَلْسَبِيلِ الْجَنَّةِ تُرِيدُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، وَكَانَ قَدْ وَصَلَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَالٍ يُقَالُ: بِيعَتْ بِأَرْبَعِينَ أَلْفًا. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (اپنی بیویوں سے) فرماتے تھے: تم لوگوں کا معاملہ مجھے پریشان کئے رہتا ہے کہ میرے بعد تمہارا کیا ہوگا؟ تمہارے حقوق کی ادائیگی کے معاملہ میں صرف صبر کرنے والے ہی صبر کرسکیں گے۔ پھر عائشہ ؓ نے (ابوسلمہ سے) کہا: اللہ تمہارے والد یعنی عبدالرحمٰن بن عوف کو جنت کی نہر سلسبیل سے سیراب کرے، انہوں نے آپ ﷺ کی بیویوں کے ساتھ ایک ایسے مال کے ذریعہ جو چالیس ہزار (دینار) میں بکا، اچھے سلوک کا مظاہرہ کیا ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said (to his wives), “I am concerned about your welfare after I am dead. None will care for you except the persevering.” She said to Abu Salamah, “May Allah give your father drink from salsabil in paradise.” She refered to Abdur Rahman ibn Awf (RA) who had given gift to the wives of the Prophet ﷺ a property that was sold for forty thousand.

حسن، المشکاة (6121 و 6122)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3749
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: نبی اکرم ﷺ کی پیشین گوئی عبدالرحمٰن بن عوف ؓ پر صادق آتی ہے، یعنی یہ «الصابرون» میں داخل ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٧٢٦) (حسن)
3750Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْبَصْرِيُّ، وَإِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ بْنِ الشَّهِيدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ أَوْصَى بِحَدِيقَةٍ لِأُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ، بِيعَتْ بِأَرْبَعِ مِائَةِ أَلْفٍ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

ابوسلمہ سے روایت ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوف ؓ نے امہات المؤمنین ؓ کے لیے ایک باغ کی وصیت کی جسے چار لاکھ (درہم) میں بیچا گیا۔

Sayyidina Abu Salamah reported that Abdur Rahman ibn Awf (RA) left behind in his will a garden for the Prophet’s ﷺ wives, that was sold for four hundred thousand. --------------------------------------------------------------------------------

حسن الإسناد صحيح بما قبله (3749)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3750
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (صحیح) (یہ حدیث حسن ہے، لیکن اس سے پہلے کی حدیث سے تقویت پا کر یہ صحیح ہے)
3751Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابواسحاق سعد بن ابی وقاص (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا رَجَاءُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُذْرِيُّ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَعْدٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ إِذَا دَعَاكَ ، وَهَذَا أَصَحُّ.

سعد بن ابی وقاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما ١ ؎۔

Sayyidina Sad ibn Abu Waqqas (RA) reported that Allah’s Messenger prayed, “O Allah, grant an answer to Sad when he prays to you.”

صحيح، المشکاة (6116)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3751
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اسماعیل بن ابی خالد سے قیس بن حازم کے واسطہ سے روایت کی گئی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! سعد جب تجھ سے دعا کریں تو ان کی دعا قبول فرما اور یہ زیادہ صحیح ہے (یعنی: مرسل روایت زیادہ صحیح ہے) ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ سعد بن ابی وقاص ؓ رسول اللہ ﷺ کی دعا کے بموجب مستجاب الدعوات ہونے کی دلیل ہے، اور ایک بہت بڑی فضیلت ہے۔ آثار و روایات میں سعد ؓ کی بہت ساری دعاؤں کا ذکر ملتا ہے جو ان کی زندگی میں ہی پوری ہوگئیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٩١٣ الف) (صحیح)
3752Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، وَأَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: أَقْبَلَ سَعْدٌ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا خَالِي فَلْيُرِنِي امْرُؤٌ خَالَهُ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُجَالِدٍ، وَكَانَ سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، وَكَانَتْ أُمُّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَنِي زُهْرَةَ، فَلِذَلِكَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَذَا خَالِي .

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ سعد بن ابی وقاص ؓ آئے تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: یہ میرے ماموں ہیں، تو مجھے دکھائے کوئی اپنا ماموں ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) narrated: When Sa’d came, the Prophet ﷺ said loudly, “This is my maternal uncle. Let anyone (who has such a one) show me his maernal uncle.

صحيح، المشکاة (6118)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3752
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے مجالد ہی کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- سعد بن ابی وقاص قبیلہ بنی زہرہ کے ایک فرد تھے اور نبی اکرم ﷺ کی والدہ محترمہ قبیلہ بنی زہرہ ہی کی تھیں، اسی وجہ سے نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کہ یہ میرے ماموں ہیں ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میرے ماموں جیسے کسی کے ماموں نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٣٥٢) (صحیح)
3753Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، وَيَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، سمعا سعيد بن المسيب، يَقُولُ: قَالَ عَلِيٌّ: مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَاهُ وَأُمَّهُ لِأَحَدٍ إِلَّا لِسَعْدٍ، قَالَ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، وَقَالَ لَهُ: ارْمِ أَيُّهَا الْغُلَامُ الْحَزَوَّرُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ سَعْدٍ.

علی بن زید اور یحییٰ بن سعید سے روایت ہے کہ ان دونوں نے سعید بن مسیب کو کہتے ہوئے سنا کہ علی ؓ نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے سعد کے علاوہ کسی اور کے لیے اپنے باپ اور ماں کو جمع نہیں کیا ١ ؎، احد کے دن آپ نے سعد سے فرمایا: تم تیر مارو میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں، تم تیر مارو اے جوان پٹھے ۔

Sayyidina Ali (RA) reported that Allah’s Messenger never spoke of his father and his mother together for anyone except for Sa’d. He said to him on the day of Uhud, “Shoot (arrows), may my father and my mother be ransomed to you. Shoot O you strong young man!” [Ahmed 1147, Bukhari 2905, Muslim 2411 Ibn e Majah 129]

منکر - بذکر الغلام الحزور - وقد مضی برقم (2986) // (535 / 2998) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3753
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث متعدد لوگوں سے روایت کی گئی ہے ان سب نے اسے یحییٰ بن سعید سے، اور یحییٰ نے سعید بن مسیب کے واسطہ سے سعد ؓ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: زبیر بن عوام ؓ کے مناقب میں گزرا کہ ان کے لیے بھی اللہ کے رسول ﷺ نے «فدان ابی وامی»، کہا، دونوں میں یہ تطبیق دی جاتی ہے کہ علی ؓ کو زبیر کے بارے میں یہ معلوم نہیں تھا، یا یہ مطلب ہے کہ احد کے دن کسی اور کے لیے آپ ﷺ نے ایسا نہیں کہا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٢٨ (صحیح) (متن میں ” الغلام الحزور “ کا ذکر منکر ہے، سند میں حسن بن الصباح البزار راوی کے بارے میں ابن حجر کہتے ہیں: صدوق یہم یعنی ثقہ ہیں، اور حدیث بیان کرنے میں وہم کا شکار ہوجاتے ہیں، اور الغلام الحزور کی زیادتی اس کی دلیل ہے)
3754Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، قَالَ: جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سعد بن ابی وقاص ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن اپنے ماں اور باپ دونوں کو میرے لیے جمع کیا ١ ؎۔

Sa’d ibn Abu Waqqas (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ took the names of his parents together on the day of (the Batle of) Uhud. [Ahmed 1616, Bukhari 3725, Muslim 2412, Ibn e Majah 130]

صحيح وتقدم برقم (2999)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3754
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث عبداللہ بن شداد بن ہاد سے بھی روایت کی گئی ہے اور انہوں نے علی بن ابی طالب کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یوں فرمایا: میرے باپ اور میری ماں تم پر فدا ہوں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٣٠ (صحیح)
3755Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا بِذَلِكَ مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سَعْدِ بْن إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ، عَنْعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: مَا سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُفَدِّي أَحَدًا بِأَبَوَيْهِ إِلَّا لِسَعْدٍ، فَإِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ سَعْدُ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي . قَالَ: هَذَا صَحِيحٌ.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے اپنے باپ اور ماں کو سعد کے علاوہ کسی اور پر فدا کرتے نہیں سنا، میں نے احد کے دن آپ کو فرماتے ہوئے سنا: سعد تم تیر مارو، میرے باپ اور ماں تم پر فدا ہوں ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib (RA) narrated: I have never heard ‘the Prophet ﷺ say that his parents be ransome’d for anyone except for Sa’d. I heard it on the Day of Uhud. He said, “Shoot Sad. May my parents be ransomed to you.” [Tirmidhi 3774] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح وتقدم برقم (2997)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3755
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٢٨ (صحیح)
3756Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً، قَالَ: لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِيَ اللَّيْلَةَ ، قَالَتْ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ السِّلَاحِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالَ: سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا جَاءَ بِكَ ؟ ، فَقَالَ سَعْدٌ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ، فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَامَ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا: کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا ، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد ؓ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ arrived in Madinah one night from a battle but could not sleep. So, he said, “Would that a pious man stand guard for me tonight!” While we were on tht,’we heard a rustle of weapons. He asked, ‘Who is that?” There was a reply, “Sa’d ibn Abu Waqqas.” Allah’s Messenger ﷺ asked, “What is with you?” Sad said, “I felt within myself fear for Allah’s Messenger ﷺ ?-‘ So, I came to guard him.” So, Allah’s Messenger ﷺ prayed for him. Then he went to sleep. [Ahmed 25147, Bukhari 2885, Muslim 2410] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3756
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے فرمان «رجل صالح» کے مصداق سعد ؓ قرار پائے، یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کسی کو «رجل صالح» قرار دیں ہیں، «ؓ وأرضاہ»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٧٠ (٢٨٨٥)، والتمنی ٤ (٧٢٣١)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥ (٢٤١٠) (تحفة الأشراف: ١٦٢٢٥) (صحیح)
3757Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابو اعور سعید بن زید بن عمرو بن نفیل (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا حُصَيْنٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ظَالِمٍ الْمَازِنِيِّ، عَنْسَعِيدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ نُفَيْلٍ، أَنَّهُ قَالَ: أَشْهَدُ عَلَى التِّسْعَةِ أَنَّهُمْ فِي الْجَنَّةِ، وَلَوْ شَهِدْتُ عَلَى الْعَاشِرِ لَمْ آثَمْ، قِيلَ: وَكَيْفَ ذَلِكَ ؟ قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِحِرَاءَ، فَقَالَ: اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِيٌّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ ، قِيلَ: وَمَنْ هُمْ ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ، وَعَلِيٌّ، وَطَلْحَةُ، وَالزُّبَيْرُ، وَسَعْدٌ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ، قِيلَ: فَمَنِ الْعَاشِرُ ؟ قَالَ: أَنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

سعید بن زید بن عمرو بن نفیل ؓ کہتے ہیں کہ میں نو اشخاص کے سلسلے میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ یہ لوگ جنتی ہیں اور اگر میں دسویں کے سلسلے میں گواہی دوں تو بھی گنہگار نہیں ہوں گا، آپ سے کہا گیا: یہ کیسے ہے؟ (ذرا اس کی وضاحت کیجئے) تو انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حرا پہاڑ پر تھے تو آپ نے فرمایا: ٹھہرا رہ اے حرا! تیرے اوپر ایک نبی، یا صدیق، یا شہید ١ ؎ کے علاوہ کوئی اور نہیں ، عرض کیا گیا: وہ کون لوگ ہیں جنہیں آپ نے صدیق یا شہید فرمایا ہے؟ (انہوں نے کہا) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: وہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی، طلحہ، زبیر، سعد اور عبدالرحمٰن بن عوف ہیں ؓ، پوچھا گیا: دسویں شخص کون ہیں؟ تو سعید نے کہا: وہ میں ہوں۔

Sayyidina Sa’eed ibn Zayd ibn Amr ibn Nufayl said, “I testify about nine people that they will enter paradise and if I were to testify for the tenth, I would not be sinning.” He was asked, “How is that?” He said, “We were with Allah’s Messenger on Hira when he said, ‘Be steady Hira, for, there are not on top of you but a Prophet, a Siddiq and a Shahid.” He was asked, “Who were they?” He said, “They were Allah’s Messenger ﷺ , Abu Bakr (RA) Umar, Uthman, Ali, Talhah, Zubayr, Sad and Abdur Rahman ibn Awf.” He was asked, “And who was the tenth?” He said, “I.” [Ahmed 1630, Abu Dawud 4048, Ibn e Majah 134] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح وتقدم قريبا (4014)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3757
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث کئی سندوں سے سعید بن زید ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہاں شہید کا لفظ ایک شہید کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ جنس شہید کے معنی میں ہے، اس لیے کہ آپ نے کئی شہیدوں کے نام گنائے ہیں، اسی طرح صدیق بھی جنس صدیق کے معنی میں ہے، کیونکہ سعد بن ابی وقاص شہید نہیں ہوئے تھے، وہ صدیق کے جنس سے ہیں، گرچہ یہ لقب ابوبکر ؓ کے لیے مشہور ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٦٤٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٣٤) (تحفة الأشراف: ٤٤٥٨)، وانظر ماتقدم برقم ٣٧٤٧ (صحیح)
3758Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوعبیدہ بن عامر بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: مَا أَغْضَبَكَ ؟ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي، فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: تم غصہ کیوں ہو؟ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا (دشمنی) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے ، پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ١ ؎ ہوتا ہے ۔

Sayyidina Hudhayfah ibn Yaman (RA) reported that the chief and his deputy (of a tribe) came to the Prophet ﷺ and requested, “Send with us your trustworthy man.” He said, “I will send with you a trustworthy man who really is trustworthy,” So people hoped for that position and he sent Abu Ubaydah. (Whenever Abu Ishaq narrated this hadith from Silah, he would confirm, “I have heard it sixty years ago.” [Bukhari 4381) Muslim 242, Ibn e Majah 135] --------------------------------------------------------------------------------Huzayfah ‘ said, “The heart of Silah ibn Zufar is of gold.” (He meant that he was a great man).

ضعيف إلا قوله: عم الرجل ... فصحيح، المشکاة (6147)، الصحيحة (806)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3758
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں «صنو» کا لفظ آیا ہے، «صنو» کی حقیقت یہ ہے کہ کسی درخت کے ایک ہی تنے سے اوپر دو یا تین یا چار شاخیں نکلتی ہیں، ان شاخوں کو آپس میں ایک دوسرے کا «صنو» کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماتقدم عندہ برقم ٣٦٠٧ (تحفة الأشراف: ١١٢٨٩) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ہاشمی کوفی ضعیف شیعی راوی ہے، کبر سنی کی وجہ سے حافظہ میں تغیر آگیا تھا، اور دوسروں کی تلقین قبول کرنے لگے تھے، لیکن حدیث کا آخری ٹکڑا ” عم الرجل صنو أبيه “ ثابت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے ٣٧٦٠، ٣٧٦١)
3758Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوفضل عباس بن عبدالمطلب کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الْمُطَّلِبِ بْنُ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ الْعَبَّاسَ بْنَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ دَخَلَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُغْضَبًا وَأَنَا عِنْدَهُ، فَقَالَ: مَا أَغْضَبَكَ ؟ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا وَلِقُرَيْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَيْنَهُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوهٍ مُبْشَرَةٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَيْرِ ذَلِكَ، قَالَ: فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى احْمَرَّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا يَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِيمَانُ حَتَّى يُحِبَّكُمْ لِلَّهِ وَلِرَسُولِهِ، ثُمَّ قَالَ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ مَنْ آذَى عَمِّي فَقَدْ آذَانِي، فَإِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب نے بیان کیا کہ عباس بن عبدالمطلب رسول اللہ ﷺ کے پاس غصہ کی حالت میں آئے، میں آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، آپ نے پوچھا: تم غصہ کیوں ہو؟ وہ بولے: اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا (دشمنی) ہے کہ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو خوش روئی سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو اور طرح سے ملتے ہیں، (یہ سن کر) رسول اللہ ﷺ غصہ میں آ گئے، یہاں تک کہ آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا، پھر آپ نے فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی شخص کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی خاطر تم سے محبت نہ کرے ، پھر آپ نے فرمایا: اے لوگو! جس نے میرے چچا کو اذیت پہنچائی تو اس نے مجھے اذیت پہنچائی کیونکہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ١ ؎ ہوتا ہے ۔

Sayyidina Abdul Muttalib ibn Rabi’ah ibn Harith ibn Abdul Muttalib reported that Sayyidina Abbas ibn Abdul Muttalib (RA) came to Allah’s Messenger ﷺ in a rage, while he was there. He asked, ‘What has made you angry?” He said, “O Messenger of Allah, what is between us and the Quraysh? When they meet amongst themselves, they meet with happy faces, but, when they meet us, they meet without that.” This angered Allah’s Messenger ﷺ so much that his face turned red and he said, “By Him in Whose Hand is my soul, faith will not enter the heart of a man till he loves you for the sake of Allah and His Messenger.” Then he said, “O people! If anyone hurts my uncle then he hurts me, for, indeed, the uncle of a man is the brother of and equal to his father.” [Ahmed 1772]

ضعيف إلا قوله: عم الرجل ... فصحيح، المشکاة (6147)، الصحيحة (806 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3758
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حدیث میں «صنو» کا لفظ آیا ہے، «صنو» کی حقیقت یہ ہے کہ کسی درخت کے ایک ہی تنے سے اوپر دو یا تین یا چار شاخیں نکلتی ہیں، ان شاخوں کو آپس میں ایک دوسرے کا «صنو» کہتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماتقدم عندہ برقم ٣٦٠٧ (تحفة الأشراف: ١١٢٨٩) (ضعیف) (سند میں یزید بن ابی زیاد ہاشمی کوفی ضعیف شیعی راوی ہے، کبر سنی کی وجہ سے حافظہ میں تغیر آگیا تھا، اور دوسروں کی تلقین قبول کرنے لگے تھے، لیکن حدیث کا آخری ٹکڑا ” عم الرجل صنو أبيه “ ثابت ہے، جیسا کہ آگے آ رہا ہے ٣٧٦٠، ٣٧٦١ )
3759Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوفضل عباس بن عبدالمطلب کے مناقب

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْعَبَّاسُ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں ۔

ضعيف، المشکاة (6148)، الضعيفة (2315) // ضعيف الجامع الصغير (3842) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3759
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٥٥٤٤) (ضعیف) (سند میں عبدا لأعلی بن عامر ضعیف راوی ہیں، الضعیفة ٢٣١٥)
3761Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوفضل عباس بن عبدالمطلب کے مناقب

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا شَبَابَةُ، حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: الْعَبَّاسُ عَمُّ رَسُولِ اللَّهِ، وَإِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ، أَوْ مِنْ صِنْوِ أَبِيهِ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ أَبِي الزِّنَادِ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عباس اللہ کے رسول کے چچا ہیں اور آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that the Prophet ﷺ said, “Abbas is the uncle of Allah’s Messenger. And, indeed, a man’s uncle is the brother of and equal to his father.”

صحيح، الصحيحة (806)، صحيح أبي داود (1435)، الإرواء (3 / 348 - 350)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3761
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے ابوالزناد کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الزکاة ٣ (٩٨٣)، سنن ابی داود/ الزکاة ٢١ (١٦٢٢)، سنن النسائی/الزکاة ١٥ (٢٤٦٦) (تحفة الأشراف: ١٣٩٢٢) (وأخرجہ البخاري في الزکاة (٤٩/ح ١٤٦٨)، بدون قولہ: ” عم الرجل صنو أبیہ “ ) ، و مسند احمد (٢/٣٢٢) (صحیح)
3760Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، قَال: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ فِي الْعَبَّاسِ: إِنَّ عَمَّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِيهِ . وَكَانَ عُمَرُ كَلَّمَهُ فِي صَدَقَتِهِ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے عمر ؓ سے عباس ؓ کے سلسلہ میں فرمایا: بلاشبہہ آدمی کا چچا اس کے باپ کے مثل ہوتا ہے عمر ؓ نے آپ ﷺ سے ان کے صدقہ کے سلسلہ میں کوئی بات کی تھی ١ ؎۔

Sayyidina Ali (RA) reported that the Prophet ﷺ said to Umar (RA) about Abbas (RA), “Surely, the uncle of a man is like his father.” And Umar (RA) had spoken to him about sadaqah. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح بما قبله (3759)، الإرواء (3 / 348 - 349)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3760
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عمر ؓ کو زکاۃ کا مال جمع کرنے کے لیے بھیجا تو کچھ لوگوں نے دینے سے انکار کردیا، ان میں سے آپ ﷺ کے چچا عباس ؓ بھی تھے، انہی کے سلسلہ میں آپ نے عمر سے فرمایا: «و أما العباس فھی علي ومثلھا معھا» یعنی جہاں تک میرے چچا عباس کا مسئلہ ہے تو ان کا حق میرے اوپر ہے اور اسی کے مثل مزید اور، ساتھ ہی آپ نے وہ بات بھی کہی جو حدیث میں مذکور ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠١١٢) (صحیح) (شواہد کی بنا پر حدیث صحیح ہے، دیکھئے: حدیث نمبر (٣٧٦١) والصحیحة ٨٠٦)
3762Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ مَكْحُولٍ، عَنْ كُرَيْبٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْعَبَّاسِ: إِذَا كَانَ غَدَاةَ الِاثْنَيْنِ فَأْتِنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ حَتَّى أَدْعُوَ لَهُمْ بِدَعْوَةٍ يَنْفَعُكَ اللَّهُ بِهَا وَوَلَدَكَ ، فَغَدَا وَغَدَوْنَا مَعَهُ وَأَلْبَسَنَا كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِلْعَبَّاسِ وَوَلَدِهِ مَغْفِرَةً ظَاهِرَةً، وَبَاطِنَةً لَا تُغَادِرُ ذَنْبًا، اللَّهُمَّ احْفَظْهُ فِي وَلَدِهِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے عباس ؓ سے فرمایا: دوشنبہ کی صبح کو آپ اپنے لڑکے کے ساتھ میرے پاس آئیے تاکہ میں آپ کے حق میں ایک ایسی دعا کر دوں جس سے اللہ آپ کو اور آپ کے لڑکے کو فائدہ پہنچائے ، پھر وہ صبح کو گئے اور ہم بھی ان کے ساتھ گئے تو آپ نے ہمیں ایک چادر اڑھا دی، پھر دعا کی: اے اللہ! عباس کی اور ان کے لڑکے کی بخشش فرما، ایسی بخشش جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے ایسی ہو کہ کوئی گناہ نہ چھوڑے، اے اللہ! ان کی حفاظت فرما، ان کے لڑکے کے سلسلہ میں یعنی اس کے حقوق کی ادائیگی کی انہیں خوب توفیق مرحمت فرما ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ said to Sayyidina Abbas, “When it is Monday come to me with your sons that I may pray for them a supplication by which Allah will benefit you and your sons.” So he went and we went with him. He covered us with a piece of cloth and said, “O Allah, forgive Abbas and his sons-a pardon of the known and the unkown, leaving no sin unforgiven. O Allah, protect him (his honour) among his children.” --------------------------------------------------------------------------------

حسن، المشکاة (6149 )صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3762
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٣٦٤) (حسن)
3763Sunan At-Tirmidhi

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِكَةِ . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، وَقَدْ ضَعَّفَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ هُوَ وَالِدُ عَلِيِّ بْنِ الْمَدِينِيِّ، وَفِي الْبَابِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “I saw Jafar flying in paradise with the angels.”

صحيح، الصحيحة (1226)، المشکاة (6153)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3763
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن جعفر کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن معین وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے، اور عبداللہ بن جعفر: علی بن مدینی کے والد ہیں، ٢- اس باب میں ابن عباس ؓ سے بھی روایت آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٠٣٥) (صحیح)
3764Sunan At-Tirmidhi

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: مَا احْتَذَى النِّعَالَ وَلَا انْتَعَلَ، وَلَا رَكِبَ الْمَطَايَا، وَلَا رَكِبَ الْكُورَ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَفْضَلُ مِنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَالْكُورُ: الرَّحْلُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نہ کسی نے جوتا پہنایا اور نہ پہنا اور نہ سوار ہوا سواریوں پر اور نہ چڑھا اونٹ کی کاٹھی پر جو رسول اللہ ﷺ کے بعد جعفر بن ابی طالب سے افضل و بہتر ہو۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: None, after Allah’s Messenger was better than Ja’far in wearing sandals, riding an animal and mounting a camel.

صحيح الإسناد موقوفاصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3764
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- «کور» کے معنیٰ کجاوہ کے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ١٤٢٤٦) (صحیح الإسناد)