مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 9 of 18

3765Sunan At-Tirmidhi

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ بْن عَازِبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجَعْفَرِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ: أَشْبَهْتَ خَلْقِي وَخُلُقِي وَفِي الْحَدِيثِ قِصَّةٌ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ. حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أُبَيٌّ، عَنْ إِسْرَائِيلَ نَحْوَهُ.

براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جعفر بن ابی طالب سے فرمایا: تم صورت اور سیرت دونوں میں میرے مشابہ ہو ، اور اس حدیث میں ایک قصہ ہے ١ ؎۔

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) reported that the Prophet ﷺ said to jafar, “You resemble me in appearance and habits.’ There is an account in the hadith. [Ahmed 2040, Bukhari 1781]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3765
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔ ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے والد نے اسرائیل کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
Notes · وضاحت
؎: قصہ یہ ہے کہ «عمرۃ القضاء» کے موقع سے حمزہ ؓ کی بچی کی کفالت کے لیے: جعفر، علی اور زید بن خارجہ ؓ کے درمیان اختلاف ہوا، سب نے اپنا اپنا حق جتایا، لیکن بچی کی خالہ کے جعفر ؓ کی زوجیت میں ہونے کی وجہ سے آپ ﷺ نے بچی کو جعفر کے حوالہ کردیا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٨٠٣) (صحیح)
3766Sunan At-Tirmidhi

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَبُو يَحْيَى التَّيْمِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ أَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ، عَنْسَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأَسْأَلُ الرَّجُلَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْآيَاتِ مِنَ الْقُرْآنِ أَنَا أَعْلَمُ بِهَا مِنْهُ، مَا أَسْأَلُهُ إِلَّا لِيُطْعِمَنِي شَيْئًا، فَكُنْتُ إِذَا سَأَلْتُ جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ لَمْ يُجِبْنِي حَتَّى يَذْهَبَ بِي إِلَى مَنْزِلِهِ، فَيَقُولُ لِامْرَأَتِهِ: يَا أَسْمَاءُ أَطْعِمِينَا شَيْئًا، فَإِذَا أَطْعَمَتْنَا أَجَابَنِي، وَكَانَ جَعْفَرٌ يُحِبُّ الْمَسَاكِينَ، وَيَجْلِسُ إِلَيْهِمْ، وَيُحَدِّثُهُمْ وَيُحَدِّثُونَهُ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكْنِيهِ بِأَبِي الْمَسَاكِينِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، وَأَبُو إِسْحَاق الْمَخْزُومِيُّ هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْفَضْلِ الْمَدَنِيُّ، وَقَدْ تَكَلَّمَ فِيهِ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ وَلَهُ غَرَائِبُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں قرآن کی آیتوں کے سلسلہ میں صحابہ سے پوچھا کرتا تھا، چاہے میں اس کے بارے ان سے زیادہ واقف ہوتا ایسا اس لیے کرتا تاکہ وہ مجھے کچھ کھلائیں، چناچہ جب میں جعفر بن ابی طالب سے پوچھتا تو وہ مجھے جواب اس وقت تک نہیں دیتے جب تک مجھے اپنے گھر نہ لے جاتے اور اپنی بیوی سے یہ نہ کہتے کہ اسماء ہمیں کچھ کھلاؤ، پھر جب وہ ہمیں کھلا دیتیں تب وہ مجھے جواب دیتے، جعفر ؓ مسکینوں سے بہت محبت کرتے تھے، ان میں جا کر بیٹھتے تھے ان سے باتیں کرتے تھے، اور ان کی باتیں سنتے تھے، اسی لیے رسول اللہ ﷺ انہیں ابوالمساکین کہا کرتے تھے۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: I would ask the sahabah of the Prophet ﷺ about the verses of the Qur’an. I knew that, but I would ask only that they night feed me something. When I asked Ja’far ibn Abu Talib, he would not answer me till he had taken me to his place. he would say to his wife, “O Asma, feed us.” After she had served us, he would give me an answer. Ja’far loved the poor. he would sit with them. He would converse with them and they with him. Allah’s Messenger ﷺ had given him the kunyah Abul Masakin.° [Ahmed 2040, Bukhari 178]

ضعيف جدا، المشکاة (6152 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3766
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ابواسحاق مخزومی کا نام ابراہیم بن فضل مدنی ہے اور بعض محدثین نے ان کے سلسلہ میں ان کے حفظ کے تعلق سے کلام کیا ہے اور ان سے غرائب حدیثیں مروی ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الزہد ٧ (٤١٢٥) (تحفة الأشراف: ١٢٩٤٢) (ضعیف جداً ) (سند میں ابراہیم بن الفضل ابواسحاق متروک ہے)
3767Sunan At-Tirmidhi

حضرت جعفر بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ حَاتِمُ بْنُ سِيَاهٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا نَدْعُو جَعْفَرَ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَبَا الْمَسَاكِينِ، فَكُنَّا إِذَا أَتَيْنَاهُ قَرَّبَنَا إِلَيْهِ مَا حَضَرَ فَأَتَيْنَاهُ يَوْمًا، فَلَمْ يَجِدْ عِنْدَهُ شَيْئًا فَأَخْرَجَ جَرَّةً مِنْ عَسَلٍ فَكَسَرَهَا فَجَعَلْنَا نَلْعَقُ مِنْهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم جعفر بن ابی طالب کو ابوالمساکین کہہ کر پکارتے تھے، چناچہ جب ہم ان کے پاس آتے تو وہ جو کچھ موجود ہوتا ہمارے سامنے لا کر رکھ دیتے، تو ایک دن ہم ان کے پاس آئے اور جب انہیں کوئی چیز نہیں ملی، (جو ہمیں پیش کرتے) تو انہوں نے شہد کا ایک گھڑا نکالا اور اسے توڑا تو ہم اسی کو چاٹنے لگے۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ابوسلمہ کی روایت سے جسے انہوں نے ابوہریرہ سے روایت کی ہے، حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (ضعیف) (حاتم بن سیاہ مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کی موجودگی میں، ورنہ لین الحدیث یعنی ضعیف، اور یزید بن قسیط یہ یزید بن عبداللہ بن قسیط لیثی ثقہ راوی ہیں)
3768Sunan At-Tirmidhi

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْحَسَنُ، وَالْحُسَيْنُ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ .حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، عَنْ يَزِيدَ نَحْوَهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَابْنُ أَبِي نُعْمٍ هُوَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي نُعْمٍ الْبَجَلِيُّ الْكُوفِيُّ وَيُكْنَى: أَبَا الْحَكَمِ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسن اور حسین اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Hasan and Husayn are the chief of the youth of paradise.” [Ahmed 10999]

صحيح، الصحيحة (796) صحيح، الصحيحة (796)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3768 ہم سے سفیان بن وکیع نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے جریر اور محمد بن فضیل نے یزید کے واسطہ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3768
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، ابن ابی نعم کا نام عبدالرحمٰن بن ابی نعم بجلی کوفی ہے اور ان کی کنیت ابوالحکم ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جنت میں جوانوں کے سردار اس کے محدثین نے کئی معانی بیان کئے ہیں، ( ١) جو لوگ جوانی کی حالت میں وفات پائے ( اور جنتی ہیں ) ان کے سردار یہ دونوں ہوں گے، اس بیان کے وقت وہ دونوں جوان تھے، شہادت جوانی کے بعد حالت کہولت میں ہوئی، لیکن جوانی کی حالت میں وفات پانے والوں کے سردار بنا دیئے گئے ہیں ( ٢) جنت میں سبھی لوگ جوانی کی عمر میں کردیئے جائیں گے، اس لیے مراد یہ ہے کہ انبیاء اور خلفائے راشدین کے سوا دیگر لوگوں کے سردار یہ دونوں ہوں گے ( ٣) اس زمانہ کے ( جب یہ دونوں جوان تھے ) ان جوانوں کے یہ سردار ہیں جو مرنے کے بعد جنت میں جائیں گے، واللہ اعلم۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤١٣٤)، و مسند احمد (٣/٣، ٢٢، ٦٤، ٨٠) (صحیح) (سند میں یزید بن أبی زیاد ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات و شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم ٧٩٦) انظر ماقبلہ (صحیح)
3769Sunan At-Tirmidhi

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ النَّبَّالُ، أَخْبَرَنِي الْحَسَنُ بْنُ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي أَبِي أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، قَالَ: طَرَقْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي بَعْضِ الْحَاجَةِ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُشْتَمِلٌ عَلَى شَيْءٍ لَا أَدْرِي مَا هُوَ، فَلَمَّا فَرَغْتُ مِنْ حَاجَتِي، قُلْتُ: مَا هَذَا الَّذِي أَنْتَ مُشْتَمِلٌ عَلَيْهِ ؟ قَالَ: فَكَشَفَهُ فَإِذَا حَسَنٌ، وَحُسَيْنٌ عَلَى وَرِكَيْهِ، فَقَالَ: هَذَانِ ابْنَايَ وَابْنَا ابْنَتِيَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا، فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک رات کسی ضرورت سے نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا، آپ ﷺ نکلے تو آپ ایک ایسی چیز لپیٹے ہوئے تھے جسے میں نہیں جان پا رہا تھا کہ کیا ہے، پھر جب میں اپنی ضرورت سے فارغ ہوا تو میں نے عرض کیا: یہ کیا ہے جس کو آپ لپیٹے ہوئے ہیں؟ تو آپ نے اسے کھولا تو وہ حسن اور حسین ؓ تھے، آپ ﷺ کے کولہے سے چپکے ہوئے تھے، پھر آپ نے فرمایا: یہ دونوں میرے بیٹے اور میرے نواسے ہیں، اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت کر اور اس سے بھی محبت کر جو ان سے محبت کرے ۔

Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) narraterd: I went to the Prophet ﷺ one night in connection with a need. The Prophet ﷺ came out wrapped in something. I do not know what it wag. When I had finished what I had to, I asked, ‘What is this you are wrapped into?” He uncovered it and they were Hasan and Husayn (RA) on his back. He said, “They are my children-children of my daughter. O Allah, I love them, so do love them, and love whoso loves them,”

حسن، المشکاة (6156 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3769
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٦) (حسن)
3770Sunan At-Tirmidhi

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ رَوَاهُ شُعْبَةُ،وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے ابن عمر ؓ سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے؟ ١ ؎ تو ابن عمر ؓ نے کہا: اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کیا ہے، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: حسن اور حسین ؓ یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں ۔

Abdur Rahman ibn Abu Nu’m reported that a man of Iraq asked Ibn Umar (RA) about blood of a mosquito that stains a garment. Ibn Umar (RA) said, “Look at him. He asks about blood of a mosquito while they have killed the son° of Allah’s Messenger ﷺ had heard Allah’s Messenger ﷺ say. Surely, Hasan and Husayn are my two flowers in this world.” [Ahmed 5572, Bukhari 3753]

صحيح، المشکاة (6155)، الصحيحة (564)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3770
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے، ٣- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سائل نے حالت احرام میں مچھر مارنے کے فدیہ کے بارے میں سوال کیا تھا، ہوسکتا ہے کہ مؤلف کی روایت میں کسی راوی نے مبہم روایت کردی ہو، سیاق و سباق کے لحاظ سے صحیح صورت حال مسئلہ وہی ہے جو صحیح بخاری میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١٨ (٥٩٩٤) (تحفة الأشراف: ٧٣٠٠) (صحیح)
3771Sunan At-Tirmidhi

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، حَدَّثَنَا رَزِينٌ، قَالَ: حَدَّثَتْنِي سَلْمَى، قَالَتْ: دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ سَلَمَةَوَهِيَ تَبْكِي، فَقُلْتُ: مَا يُبْكِيكِ ؟ قَالَتْ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَعْنِي فِي الْمَنَامِ، وَعَلَى رَأْسِهِ وَلِحْيَتِهِ التُّرَابُ، فَقُلْتُ: مَا لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: شَهِدْتُ قَتْلَ الْحُسَيْنِ آنِفًا . قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ.

سلمیٰ کہتی ہیں کہ میں ام المؤمنین ام سلمہ ؓ کے پاس آئی، وہ رو رہی تھیں، میں نے پوچھا: آپ کیوں رو رہی ہیں؟ وہ بولیں، میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے (یعنی خواب میں) آپ کے سر اور داڑھی پر مٹی تھی، تو میں نے عرض کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ اللہ کے رسول! تو آپ نے فرمایا: میں حسین کا قتل ابھی ابھی دیکھا ہے ۔

Sayyidah Salmaa reported that she went to Sayyidah Umm Salamah (RA) and found her weeping. She asked her what made her weep. She said, “I saw Allah’s Messenger (RA) in my dream. There was dust on his head and beard. I asked him, ‘What is wrong with you, O Messenger of Allah? ﷺ ’ He said, ‘I have just witnessed Husayn’s murder.”

ضعيف، المشکاة (6157)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3771
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٨٢٧٩) (ضعیف) (سند میں سلمی البکریة ضعیف راوی ہیں)
3772Sunan At-Tirmidhi

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ، حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَيُّ أَهْلِ بَيْتِكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ ، وَكَانَ يَقُولُ لِفَاطِمَةَ: ادْعِي لِيَ ابْنَيَّ ، فَيَشُمُّهُمَا وَيَضُمُّهُمَا إِلَيْهِ. قَالَ: هَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ أَنَسٍ.

انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ آپ کے اہل بیت میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہیں؟ تو آپ نے فرمایا: حسن اور حسین ؓ ، آپ فاطمہ ؓ سے فرماتے: میرے دونوں بیٹوں کو بلاؤ، پھر آپ انہیں چومتے اور انہیں اپنے سینہ سے لگاتے ۔

Sayyidina Anas ibn Malik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ was asked, ‘Which one of the people of your house is dearest to you?” He said, “Hasan and Husayn.” He would say to Sayyidah Fatimah (RA), “Call for me my two sons.’ Then, he would sniff them and hug them.

ضعيف، المشکاة (6158)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3772
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
انس کی روایت سے یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٠٦) (ضعیف) (سند میں یوسف بن ابراہیم ضعیف راوی ہیں)
3773Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا الْأَشْعَثُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمِنْبَرَ فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ يُصْلِحُ اللَّهُ عَلَى يَدَيْهِ فِئَتَيْنِ عَظِيمَتَيْنِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: يَعْنِي الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ.

ابوبکرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے منبر پر چڑھ کر فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ دو بڑے گروہوں میں صلح کرائے گا ١ ؎۔

Sayyidina Abu Bakrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ ascended the pulpit and said, “This my son is Sayyid (leader). Allah will reconcile two (great) sects at his hands.” [Ahmed 20470, Bukhari 2704, Abu Dawud 4662, Nisai 1406]

صحيح، الروض النضير (923)، الإرواء (1597)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3773
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور «ابني هذا» سے مراد حسن بن علی ہیں ؓ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی میرا یہ نواسہ مسلمانوں کے دو گروہوں کے درمیان صلح کا سبب بنے گا، چناچہ خلافت کے مسئلہ کو لے کر جب مسلمانوں کے دو گروہ ہوگئے، ایک گروہ معاویہ ؓ کے ساتھ اور دوسرا حسن ؓ کے ساتھ تھا، تو حسن ؓ نے خلافت سے دستبرداری کا اعلان کر کے مسلمانوں کو قتل و خونریزی سے بچا کر اس امت پر بڑا احسان کیا اور یہ ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے «جزاہ اللہ عن المسلمین خیر الجزاء»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الصلح ٩ (٢٧٠٤)، والمناقب ٢٥ (٣٦٢٩)، وفضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٤٦)، والفتن ٢٠ (٧١٠٩)، سنن ابی داود/ السنة ١٣ (٤٦٦٢)، سنن النسائی/الجمعة ٢٧ (١٤١١) (تحفة الأشراف: ١١٦٥٨)، و مسند احمد (٥/٣٧، ٤٤، ٤٩، ٥١) (صحیح)
3774Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَال: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُنَا إِذْ جَاءَ الْحَسَنُ وَالْحُسَيْنُ عَلَيْهِمَا قَمِيصَانِ أَحْمَرَانِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَنَزَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْمِنْبَرِ فَحَمَلَهُمَا، وَوَضَعَهُمَا بَيْنَ يَدَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: صَدَقَ اللَّهُ إِنَّمَا أَمْوَالُكُمْ وَأَوْلادُكُمْ فِتْنَةٌ سورة التغابن آية 15 فَنَظَرْتُ إِلَى هَذَيْنِ الصَّبِيَّيْنِ يَمْشِيَانِ وَيَعْثُرَانِ، فَلَمْ أَصْبِرْ حَتَّى قَطَعْتُ حَدِيثِي وَرَفَعْتُهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ہمیں خطبہ دے رہے تھے کہ اچانک حسن اور حسین ؓ دونوں سرخ قمیص پہنے ہوئے گرتے پڑتے چلے آ رہے تھے، آپ نے منبر سے اتر کر ان دونوں کو اٹھا لیا، اور ان کو لا کر اپنے سامنے بٹھا لیا، پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سچ فرمایا ہے «إنما أموالکم وأولادکم فتنة» ١ ؎ تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہارے لیے آزمائش ہیں، میں نے ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے ہوئے دیکھا تو صبر نہیں کرسکا، یہاں تک کہ اپنی بات روک کر میں نے انہیں اٹھا لیا ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Buiydah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ was delivering a sermon to them when Hasan and Husayn came stumbling (towards him). They were wearing shirts of red colour. So, Allah’s Messenger got down from the pulpit carried them (in his arms) and made them sit in front of him. Then he said, “Allah has spoken the truth: Your riches and your children are only a trial. (64: 15) I saw these two children stumbling as they walked and could not be patient till I interrupted my sermon and carried them (here).” [Ahmed 23056, Abu Dawud 1109, Nisai 1409, Ibn e Majah 3600] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (3600)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3774
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسین بن واقد کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: التغابن: ١٥۔ ٢ ؎: جہاں یہ بچوں کے ساتھ آپ ﷺ کے کمال شفقت کی دلیل ہے، وہیں حسن اور حسین ؓ کے آپ کے نزدیک مقام و مرتبہ کی بھی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٣٣ (١١٠٩)، سنن النسائی/الجمعة ٣٠ (١٤١٤)، والعیدین ٢٧ (١٥٨٦)، سنن ابن ماجہ/اللباس ٢٠ (٣٦٠٠) (تحفة الأشراف: ١٩٥٨)، و مسند احمد (٥/٣٥٤) (صحیح)
3775Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ، وَإِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، وَقَدْ رَوَاهُ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ.

یعلیٰ بن مرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حسین مجھ سے ہیں اور میں حسین سے ہوں ١ ؎ اللہ اس شخص سے محبت کرتا ہے جو حسین سے محبت کرتا ہے، حسین قبائل میں سے ایک قبیلہ ہیں ٢ ؎۔

Sayyidina Ya’la ibn Murrah reported that Allah’s Messenger said, “Husayn is of me and l am his. Allah loves those who love Husayn. Husayn is a grandson among grandsons.” [Ahmed 17572, Ibn e Majah 144]

حسن، ابن ماجة (144)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3775
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف عبداللہ بن عثمان بن خثیم کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اسے عبداللہ بن عثمان بن خثیم سے متعدد لوگوں نے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بقول قاضی عیاض: اللہ کے رسول ﷺ من جانب اللہ مطلع کردیئے گئے تھے کہ کچھ لوگ حسین سے بغض رکھیں گے اس لیے آپ نے پیشگی بیان کردیا کہ حسین سے محبت مجھ سے محبت ہے، اور حسین سے دشمنی مجھ سے دشمنی ہے کیونکہ ہم دونوں ایک ہی ہیں۔ ٢ ؎: یعنی: حسین ؓ کی بہت ہی زیادہ اولاد ہوگی، یعنی ان کی نسل خوب پھیلے گی کہ قبائل بن جائیں گے، سو ایسا ہی ہوا۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٤) (تحفة الأشراف: ١١٨٥٠)، و مسند احمد (٤/١٧٢) (حسن) (تراجع الالبانی ٣٧٥) الصحیحہ ١٢٢٧)
3776Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمْ يَكُنْ مِنْهُمْ أَحَدٌ أَشْبَهَ بِرَسُولِ اللَّهِ مِنَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں میں حسن بن علی ؓ سے زیادہ اللہ کے رسول کے مشابہ کوئی نہیں تھا۔

Sayyidina Anas ibn Maalik said that no one of the men resembled Allah’s Messenger more than Hasan ibn Ali (RA) [Ahmed 13052, Bukhari 3752]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3776
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٥٢) (تحفة الأشراف: ١٥٣٩) (صحیح)
3777Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي جُحَيْفَةَ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ يُشْبِهُهُ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ، وَابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ الزُّبَيْرِ.

ابوجحیفہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا اور حسن بن علی ؓ ان سے مشابہت رکھتے تھے۔

Sayyidina Juhayfah (RA) narrated I have seen Allah’s Messenger, Indeed, Hasan ibn Ali resembled him.” [Bukhari 3543, Muslim 2343]

صحيح وقد مضی (2828 و 2829) // هذا رقم الدع اس وهو عندنا برقم (2266 / 2995، 2996) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3777
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوبکر صدیق، ابن عباس اور عبداللہ بن زبیر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٨٢٦ (صحیح)
3778Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ أَسْلَمَ أَبُو بَكْرٍ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ، قَالَتْ: حَدَّثَنِي أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ زِيَادٍ فَجِيءَ بِرَأْسِ الْحُسَيْنِ، فَجَعَلَ يَقُولُ بِقَضِيبٍ لَهُ فِي أَنْفِهِ وَيَقُولُ: مَا رَأَيْتُ مِثْلَ هَذَا حُسْنًا، قَالَ: قُلْتُ: أَمَا إِنَّهُ كَانَ مِنْ أَشْبَهِهِمْ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ میں عبیداللہ بن زیاد کے پاس تھا کہ حسین ؓ کا سر لایا گیا تو وہ ان کی ناک میں اپنی چھڑی مار کر کہنے لگا میں نے اس جیسا خوبصورت کسی کو نہیں دیکھا کیوں ان کا ذکر حسن سے کیا جاتا ہے (جب کہ وہ حسین نہیں ہے) ١ ؎۔ تو میں نے کہا: سنو یہ اہل بیت میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے ٢ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: I was with Ibn Ziyad when the head of Husayn was brought to him. He tapped his nose with his wand, saying, “I have not seen such beauty. Then why mention him.” I said, “Indeed, he resembles Allah’s Messenger most closely.” [Ahmed 13750, Bukhari 3748]

صحيح، المشکاة (6170 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3778
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ جملہ اس نے حسین ؓ کے حسن اور آپ کی خوبصورتی سے متعلق طعن و استہزاء کے طور پر کہا تھا، اسی لیے انس بن مالک نے اسے جواب دیا۔ ٢ ؎: اس سے پہلے حدیث رقم ٣٧٨٦ کے تحت زہری کی ایک روایت انس ؓ سے گزری ہے، اس میں ہے کہ حسن بن علی ؓ سے زیادہ اللہ کے رسول ﷺ سے مشابہ کوئی نہیں تھا اور اس روایت میں یہ ہے کہ حسین بن علی ؓ سب سے زیادہ مشابہ تھے، بظاہر دونوں روایتوں میں تعارض پایا جا رہا ہے، علماء نے دونوں روایتوں میں تطبیق کی جو صورت نکالی ہے وہ یہ ہے: ( ١) زہری کی روایت میں جو مذکور ہے یہ اس وقت کی بات ہے جب حسن ؓ باحیات تھے اور اس وقت وہ اپنے بھائی حسین بن علی کے بہ نسبت رسول اللہ ﷺ سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے اور انس ؓ کی اس روایت میں جو مذکور ہے یہ حسن ؓ کی وفات کے بعد کا واقعہ ہے۔ ( ٢) یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حسین بن علی ؓ کو جن لوگوں نے اللہ کے رسول سے مشابہ قرار دیا ہے تو ان لوگوں نے حسن کو مستثنیٰ کر کے یہ بات کہی ہے۔ ( ٣) یہ بھی ہے کہ دونوں میں سے ہر ایک کسی نہ کسی صورت میں اللہ کے رسول سے مشابہ تھے ( دیکھئیے اگلی روایت )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٢٩) (صحیح)
3779Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: الْحَسَنُ أَشْبَهُ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا بَيْنَ الصَّدْرِ إِلَى الرَّأْسِ، وَالْحُسَيْنُ أَشْبَهُ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا كَانَ أَسْفَلَ مِنْ ذَلِكَ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ حسن ؓ سینہ سے سر تک کے حصہ میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہ تھے، اور حسین ؓ اس حصہ میں جو اس سے نیچے کا ہے سب سے زیادہ نبی اکرم ﷺ سے مشابہ تھے۔

Sayyidina Ali (RA) said that Hasan (RA) most resembLed Allah’s Messenger from the chest to the head while Husayn most resembled him from chest down. [Ahmed 774]

ضعيف، المشکاة (6161)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3779
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٣٠٢) (ضعیف) (سند میں ہانی بن ہانی مجہول الحال راوی ہیں)
3780Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ، قَالَ: لَمَّا جِيءَ بِرَأْسِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، وَأَصْحَابِهِ نُضِّدَتْ فِي الْمَسْجِدِ فِي الرَّحَبَةِ، فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمْ وَهُمْ يَقُولُونَ: قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، فَإِذَا حَيَّةٌ قَدْ جَاءَتْ تَخَلَّلُ الرُّءُوسَ حَتَّى دَخَلَتْ فِي مَنْخَرَيْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَمَكَثَتْ هُنَيْهَةً، ثُمَّ خَرَجَتْ، فَذَهَبَتْ حَتَّى تَغَيَّبَتْ، ثُمَّ قَالُوا: قَدْ جَاءَتْ قَدْ جَاءَتْ، فَفَعَلَتْ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا. هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمارہ بن عمیر کہتے ہیں کہ جب عبیداللہ بن زیاد اور اس کے ساتھیوں کے سر لائے گئے ١ ؎ اور کوفہ کی ایک مسجد میں انہیں ترتیب سے رکھ دیا گیا اور میں وہاں پہنچا تو لوگ یہ کہہ رہے تھے: آیا آیا، تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک سانپ سروں کے بیچ سے ہو کر آیا اور عبیداللہ بن زیاد کے دونوں نتھنوں میں داخل ہوگیا اور تھوڑی دیر اس میں رہا پھر نکل کر چلا گیا، یہاں تک کہ غائب ہوگیا، پھر لوگ کہنے لگے: آیا آیا، اس طرح دو یا تین بار ہوا ١ ؎۔

Umarah ibn Umayr narrated: When the heads of Ubaydullah ibn Ziyad and his henchmen were placed in the mosque at Rahabah, I also went there. They were exclaiming, “It’s here. It is here!” There it was! A snake came and through the heads went into the nostrils of Ubaydullah ibn Ziyad. It stayed there awhile, came out and disappeared. Again, people exclaimed, “It is here! It is here!” So it did that two or three times.

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3780
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حسن اور حسین ؓ کے مناقب میں اس حدیث کو لا کر امام ترمذی نواسہ رسول کے اس دشمن کا حشر بتانا چاہتے ہیں جس نے حسین ؓ کے ساتھ گستاخی کرتے ہوئے اپنی چھڑی سے آپ کی ناک، آنکھ اور منہ پر مارا تھا کہ اللہ نے نواسہ رسول کے اس دشمن کے ساتھ کیسا سلوک کیا اسے اہل دنیا اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں۔ ( عبداللہ بن زیاد کو مختار ثقفی کے فرستادہ ابراہیم بن اشتر نے سن چھیاسٹھ میں مقام جازر میں جو موصل سے پانچ فرسخ پر ہے قتل کیا تھا )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩١٤٠) (صحیح الإسناد)
3781Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَإِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، قَالَا: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: سَأَلَتْنِي أُمِّي مَتَى عَهْدُكَ ؟ تَعْنِي بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: مَا لِي بِهِ عَهْدٌ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا، فَنَالَتْ مِنِّي، فَقُلْتُ لَهَا: دَعِينِي آتِي النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأُصَلِّيَ مَعَهُ الْمَغْرِبَ وَأَسْأَلُهُ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لِي وَلَكِ، فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّيْتُ مَعَهُ الْمَغْرِبَ فَصَلَّى حَتَّى صَلَّى الْعِشَاءَ، ثُمَّ انْفَتَلَ فَتَبِعْتُهُ، فَسَمِعَ صَوْتِي، فَقَالَ: مَنْ هَذَا حُذَيْفَةُ ، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: مَا حَاجَتُكَ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ وَلِأُمِّكَ ؟ قَالَ: إِنَّ هَذَا مَلَكٌ لَمْ يَنْزِلِ الْأَرْضَ قَطُّ قَبْلَ هَذِهِ اللَّيْلَةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ أَنْ يُسَلِّمَ عَلَيَّ، وَيُبَشِّرَنِي بِأَنَّ فَاطِمَةَ سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ، وَأَنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ سَيِّدَا شَبَابِ أَهْلِ الْجَنَّةِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ إِسْرَائِيلَ.

حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے میری والدہ نے پوچھا: تو نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حال ہی میں کب گئے تھے؟ میں نے کہا: اتنے اتنے دنوں سے میں ان کے پاس نہیں جاسکا ہوں، تو وہ مجھ پر خفا ہوئیں، میں نے ان سے کہا: اب مجھے نبی اکرم ﷺ کے پاس جانے دیجئیے میں آپ کے ساتھ نماز مغرب پڑھوں گا اور آپ سے میں اپنے اور آپ کے لیے دعا مغفرت کی درخواست کروں گا، چناچہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور آپ کے ساتھ مغرب پڑھی پھر آپ (نوافل) پڑھتے رہے یہاں تک کہ آپ نے عشاء پڑھی، پھر آپ لوٹے تو میں بھی آپ کے ساتھ پیچھے پیچھے چلا، آپ نے میری آواز سنی تو فرمایا: کون ہو؟ حذیفہ؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، حذیفہ ہوں، آپ نے فرمایا: «ما حاجتک غفر اللہ لک ولأمك» کیا بات ہے؟ بخشے اللہ تمہیں اور تمہاری ماں کو (پھر) آپ نے فرمایا: یہ ایک فرشتہ تھا جو اس رات سے پہلے زمین پر کبھی نہیں اترا تھا، اس نے اپنے رب سے مجھے سلام کرنے اور یہ بشارت دینے کی اجازت مانگی کہ فاطمہ جنتی عورتوں کی سردار ہیں اور حسن و حسین ؓ اہل جنت کے جوانوں (یعنی جو دنیا میں جوان تھے ان) کے سردار ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Hudhayfah (RA) narrated: My mother asked me, “When do you go to the Prophet ﷺ . I said that I had not gone to him since so many days. She became angry at me, so I said to her, “Exscuse me now, but I will go to the Prophet ﷺ and pray the maghrib salah with him and request him to seek forgiveness for me and for you.” So, I went to the Prophet ﷺ and prayed the maghrib with him. He was occupied in salah till he prayed the isha. Then he moved out and I followed him. He heard me and asked,”Who is he, Hudhayfah?” I said, “Yes.” He asked, “What do you need? May Allah forgive you and your mother! This, here, is an angel. He has never come down to earth before this night. He has asked permission of his Lord to convey greetings to me and give me good tidings that Fatimah is the chief of women of paradise and that Hasan and Husayn are the chiefs of the youth of paradise.” [Ah23390]

صحيح، التعليق الرغيب (205 - 206)، المشکاة (6162)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3781
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسرائیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خصوصی فرشتہ کے ذریعہ مذکورہ خوشخبری ان تینوں ماں بیٹوں کی خصوصی فضیلت پر دلالت کرتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ٣٣٢٣) (صحیح)
3782Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَسَامَةَ، عَنِ فُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبْصَرَ حَسَنًا وَحُسَيْنًا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

براء ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حسن اور حسین ؓ کو دیکھا تو فرمایا: «اللهم إني أحبهما فأحبهما» اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان دونوں سے محبت فرما ۔

Sayyidina Bara reported that Allah’s Messenger observed Hasan and Husayn and said, “O Allah, I love them. So, do love them Yourself.” [Ahmed 18527, Bukhari 3749, Muslim 2422]

صحيح، الصحيحة (2789)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3782
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٢٢ (٣٧٤٩)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٨ (٢٤٢٢) (تحفة الأشراف: ١٧٩٣) (صحیح)
3783Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ، قَال: سَمِعْتُ الْبَرَاءَ بْنَ عَازِبٍيَقُولُ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا الْحَسَنَ بْنَ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُ فَأَحِبَّهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَصَحُّ مِنْ حَدِيثِ الْفُضَيْلِ بْنِ مَرْزُوقٍ.

براء بن عازب ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو دیکھا، آپ اپنے کندھے پر حسن بن علی ؓ کو بٹھائے ہوئے تھے اور فرما رہے تھے: «اللهم إني أحبه فأحبه» اے اللہ! میں اس سے محبت کرتا ہوں تو بھی اس سے محبت فرما ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Allah Messenger ﷺ had carried Hasan ibn Ali on his shoulder. A man commented, “What an excellent conveyance, you are riding. O young boy!” The Prophet ﷺ said, “And an excellent rider, he!”

صحيح، الصحيحة (2789)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3783
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، اور یہ فضیل بن مرزوق کی (مذکورہ) روایت سے زیادہ صحیح ہے ١ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جس روایت میں صرف حسن کو کندھے پر اٹھائے ہونے کا تذکرہ ہے وہ اس روایت سے زیادہ صحیح ہے جس میں ہے کہ حسن و حسین ؓ دونوں کو اٹھائے ہوئے تھے، حالانکہ یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ یہ دو الگ الگ واقعے ہیں، اور دونوں کے لیے یہ بات کہے جانے میں کوئی تضاد بھی نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ (صحیح)
3784Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَامِلَ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ عَلَى عَاتِقِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ: نِعْمَ الْمَرْكَبُ رَكِبْتَ يَا غُلَامُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَنِعْمَ الرَّاكِبُ هُوَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَزَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ قَدْ ضَعَّفَهُ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حسین بن علی ؓ کو اپنے کندھے پر اٹھائے ہوئے تھے تو ایک شخص نے کہا: بیٹے! کیا ہی اچھی سواری ہے جس پر تو سوار ہے، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اور سوار بھی کیا ہی اچھا ہے ۔

Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) narrated. I saw the Prophet ﷺ place Hasan on his shoulder and make this supplication, “O Allah, I love him, so do love him Yourself.

ضعيف، المشکاة (6163)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3784
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- زمعہ بن صالح کی بعض محدثین نے ان کے حفظ کے تعلق سے تضعیف کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٠٩٦) (ضعیف) (سند میں زمعہ بن صالح ضعیف راوی ہیں)