مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 10 of 18

3785Sunan At-Tirmidhi(3786)

نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کے مناقب

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ هُوَ الْأَنْمَاطِيُّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ يَوْمَ عَرَفَةَ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْقَصْوَاءِ يَخْطُبُ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي قَدْ تَرَكْتُ فِيكُمْ مَا إِنْ أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا، كِتَابَ اللَّهِ وَعِتْرَتِي أَهْلَ بَيْتِي . قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَزَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، وَحُذَيْفَةَ بْنِ أَسِيدٍ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، قَالَ: وَزَيْدُ بْنُ الْحَسَنِ قَدْ رَوَى عَنْهُ سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو حجۃ الوداع میں عرفہ کے دن دیکھا، آپ اپنی اونٹنی قصواء پر سوار ہو کر خطبہ دے رہے تھے، میں نے آپ کو فرماتے ہوئے سنا: اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ایک اللہ کی کتاب ہے دوسرے میری «عترت» یعنی اہل بیت ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah narrated: I observed Allah’s Messenger ﷺ during his Hajj on the day of Arafah, delivering a sermon while he was seated on his she-camel Qaswa. I heard him say, “O people, I leave behind with you that to which if you stick, you will not go astray-the Book of Allah and my relatives of my household.”

صحيح، المشکاة (6143 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3786
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- زید بن حسن سے سعید بن سلیمان اور متعدد اہل علم نے روایت کی ہے، ٣- اس باب میں ابوذر، ابو سعید خدری، زید بن ارقم اور حذیفہ بن اسید ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: اہل بیت کا عقیدہ اور منہج جو صحیح سند سے ثابت ہو وہ ہدایت کا ضامن ہی ہے، کیونکہ یہ نفوس قدسیہ بزبان رسالت مآب ہدایت ہیں، اس سے شیعوں کا اپنی شیعیت پر استدلال بالکل درست نہیں کیونکہ صحیح روایات سے اہل بیت سے منقول عقیدہ و منہج موجودہ شیعیت کے بالکل مخالف ہے اہل بیت کیا، کیا شیعہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ پر قائم ہونے کے دعویدار نہیں؟ مگر کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ کی تشریح اور تفہیم شیعوں کے طریقے سے آئی ہے کیا وہ صد فی صد ان دونوں کے صحیح مفاہیم کے خلاف نہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ صحیح سند سے سلف کے فہم کے مطابق منقول عقیدہ و منہج ہی ہدایت کا ضامن ہے۔ اور وہ اہل السنہ و الجماعہ اہل حدیث کے پاس ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٦١٥) (صحیح) (تراجع الألبانی ٦٠١)
3786Sunan At-Tirmidhi(3787)

نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَصْبَهَانِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْعُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ رَبِيبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا سورة الأحزاب آية 33 فِي بَيْتِ أُمِّ سَلَمَةَ، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةَ، وَحَسَنًا، وَحُسَيْنًا فَجَلَّلَهُمْ بِكِسَاءٍ، وَعَلِيٌّ خَلْفَ ظَهْرِهِ فَجَلَّلَهُ بِكِسَاءٍ، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ، قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا نَبِيَّ اللَّهِ ؟ قَالَ: أَنْتِ عَلَى مَكَانِكِ وَأَنْتِ إِلَى خَيْرٍ . قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَأَنَسٍ، قَالَ: وَهَذَا غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ.

نبی اکرم ﷺ کے «ربيب» (پروردہ) عمر بن ابی سلمہ ؓ کہتے ہیں کہ جب آیت کریمہ «إنما يريد اللہ ليذهب عنکم الرجس أهل البيت ويطهركم تطهيرا» اے اہل بیت النبوۃ! اللہ چاہتا ہے کہ تم سے (کفر و شرک) کی گندگی دور کر دے، اور تمہاری خوب تطہیر کر دے (الاحزاب: ٣٣) ، نبی اکرم ﷺ پر ام سلمہ ؓ کے گھر میں اتریں تو آپ نے فاطمہ اور حسن و حسین ؓ کو بلایا اور آپ نے انہیں ایک چادر میں ڈھانپ لیا اور علی ؓ آپ کی پشت مبارک کے پیچھے تھے تو آپ نے انہیں بھی چادر میں چھپالیا، پھر فرمایا: «اللهم هؤلاء أهل بيتي فأذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا» اے اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں تو ان کی ناپاکی کو دور فرما دے اور انہیں اچھی طرح پاک کر دے ، ام سلمہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں، آپ نے فرمایا : تو اپنی جگہ پر رہ اور تو بھی نیکی پر ہے ۔

Sayyidina Umar ibn Abu Salamah (RA) stepson of the Prophet ﷺ -- reported about this verse: Allah only desires to take away from you all abomination, O people of the household, and to purify you with a thuorough purifying. It was revealed to the Prophet ﷺ in the house of Sayyidah Umm Salamah (RA). So, the Prophet ﷺ called Sayyidah Fatimah (RA) Hasan and Husayn and covered them with a sheet of cloth, while Ali was behind him. So, he put the sheet of cloth over them and said, “O Allah, they are the people of my house. Remove from them abomination and purify them a complete purifying.” Sayyidah Umm Salamah (RA) said, “And I am with them, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “You are in your place and you are on the goad.” [Tirmidhi 3216, Muslim 2424]

صحيح مضی برقم (3425)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3787
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ، معقل بن یسار، ابوحمراء اور انس ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
٢ ؎: اس آیت کے سیاق و سباق اور سبب نزول سے واضح طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ اہل البیت سے نبی اکرم ﷺ کی ازواج مطہرات مراد ہیں یا اس حدیث سے ازواج مطہرات کے علاوہ علی، فاطمہ، حسن اور حسین ؓ کے بھی اہل بیت میں ہونے کی بات ثابت ہوتی ہے، اور دونوں میں کوئی تعارض نہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٢٠٥ (صحیح)
3787Sunan At-Tirmidhi(3788)

نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کے مناقب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،وَالْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو ١ ؎۔

Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I am leaving behind with you that to which if you hold fast, you will not go astray after my death. One of them is mightier than the other the Book of Allah, a rope hanging down from the heaven to earth. And (the other), is my family-people of my household. Both of them will not separate till they come to me at the pond. So, watch out how you represent me in them.”

صحيح، المشکاة (6144)، الروض النضير (977 - 978)، الصحيحة (4 / 356 - 357)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3788
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں سے ثابت عقیدہ و منہج پر عمل کرنے میں تم کیا کرتے ہو، ان کے مطابق عمل کرتے ہو یا مخالف پہلے یہ بات گزری کہ اہل بیت سے صحیح سند سے ثابت عقیدہ و منہج ہدایت کا ضامن ہے، اور اس شیعیت کا کوئی تعلق نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٦٥٩) (صحیح)
3788Sunan At-Tirmidhi(3785)

نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کے مناقب

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ كَثِيرٍ النَّوَّاءِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ نَجَبَةَ، قَالَ: قَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ كُلَّ نَبِيٍّ أُعْطِيَ سَبْعَةَ نُجَبَاءَ، أَوْ نُقَبَاءَ، وَأُعْطِيتُ أَنَا أَرْبَعَةَ عَشَرَ ، قُلْنَا: مَنْ هُمْ ؟ قَالَ: أَنَا، وَابْنَايَ، وَجَعْفَرُ، وَحَمْزَةُ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَمُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَبِلَالٌ، وَسَلْمَانُ، وَالْمِقْدَادُ، وَحُذَيْفَةُ، وَعَمَّارٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ عَلِيٍّ مَوْقُوفًا.

علی بن ابی طالب ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ہر نبی کو اللہ نے سات نقیب عنایت فرمائے ہیں، اور مجھے چودہ ، ہم نے عرض کیا: وہ کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا: میں، میرے دونوں نواسے، جعفر، حمزہ، ابوبکر، عمر، مصعب بن عمیر، بلال، سلمان، مقداد، حذیفہ، عمار اور عبداللہ بن مسعود ؓ ۔

Sayyidina Ali ibn Abu Talib reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Every Prophet ﷺ is given seven eminent men who are his friends, but I am given fourteen.” They asked him, “Who are they?” He said, “I and my two sons and Ja’far, Hamzah, Abu Bakr, Umar, Mus’ab ibn Umayr, Bilal (RA) , Salman, Ammar, Miqdad, Hudhayfah and Abdullah ibn Masud.

ضعيف، المشکاة (6246 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (1912) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3785
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث علی ؓ سے موقوفاً بھی آئی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٢٨٠) (ضعیف) (سند میں مسیب بن نجبہ لین الحدیث اور کثیر النواء ضعیف اور ابو ادریس المرہبی شیعی ہیں، اور حدیث میں تشیع واضح ہے)
3789Sunan At-Tirmidhi

نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ سُلَيْمَانُ بْنُ الْأَشْعَثِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ النَّوْفَلِيِّ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ، وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے محبت کرو کیونکہ وہ تمہیں اپنی نعمتیں کھلا رہا ہے، اور محبت کرو مجھ سے اللہ کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے میری خاطر ۔

Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Love Allah, for, He gives you sustenance from His bounties. And love me, because of Allah’s love, and love the people of my house, because of my love.

ضعيف تخريج فقه السيرة (23) // ضعيف الجامع الصغير (176) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3789
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٢٩١) (ضعیف) (سند میں عبداللہ بن سلیمان نوفلی مقبول راوی ہیں، یعنی متابعت کی صورت میں اور یہاں متابعت نہیں ہے، اس لیے لین الحدیث یعنی ضعیف الحدیث ہیں)
3790Sunan At-Tirmidhi

حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ دَاوُدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيٌّ بْنُ كَعْبٍ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَالْمَشْهُورُ حَدِيثُ أَبِي قِلَابَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض (میراث) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The most merciful member of my ummah to my ummah is Abu Bakr, and the most strict of them concerning Allah’s commands is Umar, and the most sincere of them showing modesty is Uthman ibn Affan, and the most knowledgeable of them concerning the lawful and the unlawful is Mu’adh ibn Jabal, and (the most knowledgeable) about (laws of) inheritance is Zayd ibn Thabit, and the most (knowledgeable) about recital (of Qur’an) is Ubayy ibn Ka’b, and there is for every ummah an amin (trustworthy) and the trustworthy of this ummah is Abu Ubsydah ibn Jarrah.”

صحيح، ابن ماجة (154)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3790
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ٢- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امین یوں تو سارے صحابہ تھے، مگر ابوعبیدہ ؓ اس بات میں ممتاز تھے، اس لیے ان کو «امین الامۃ» (آج کل کی اصطلاح میں پوری امت کا جنرل سیکریٹری ) کا لقب دیا، اسی طرح بہت ساری اچھی صفات میں بہت سے صحابہ مشترک ہیں مگر کسی کسی کی خاص خصوصیت ہے کہ جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے ان کو اس صفت میں ممتاز قرار دیا، جیسے حیاء میں عثمان، قضاء میں علی، میراث میں زید بن ثابت اور قراءت میں ابی بن کعب، وغیرہم ؓ، ( دیکھئیے اگلی حدیث )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما بعدہ ( تحفة الأشراف: ١٣٤٤) (صحیح)
3791Sunan At-Tirmidhi

حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللَّهِ أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، أَلَا وَإِنَّ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينًا وَإِنَّ أَمِينَ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ . هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان ہیں اور اللہ کی کتاب کے سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں اور فرائض (میراث) کے سب سے بڑے جانکار زید بن ثابت ہیں اور حلال و حرام کے سب سے بڑے عالم معاذ بن جبل ہیں اور سنو ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥٤)، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف: ٩٥٢) (صحیح)
3792Sunan At-Tirmidhi

حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا قَالَ: وَسَمَّانِي، قَالَ: نَعَمْ ، فَبَكَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ لِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَذَكَرَ نَحْوَهُ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں «لم يكن الذين کفروا» ١ ؎ پڑھ کر سناؤں، انہوں نے عرض کیا: کیا اس نے میرا نام لیا ہے، آپ نے فرمایا: ہاں (یہ سن کر) وہ رو پڑے ٢ ؎۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3792
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی اکرم ﷺ نے مجھ سے فرمایا: پھر انہوں نے اسی طرح کی حدیث ذکر کی ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سورة البینۃ: ١۔ ٢ ؎: یہ بات اللہ کے نزدیک ابی بن کعب کے مقام و مرتبہ کی دلیل ہے، اور وہ بھی خاص قراءت قرآن میں «ذلک فضل اللہ يؤتيه من يشاء» (الجمعة: ٤)۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ١٦ (٣٨٠٩)، وتفسیر سورة البینة (٤٩٥٩-٤٩٦١)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٩ (٧٩٩)، وفضائل الصحابة ٢٣ (٧٩٩/١٢١) (تحفة الأشراف: ١٢٤٧) (صحیح)
3793Sunan At-Tirmidhi

حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمٍ، قَال: سَمِعْتُ زِرَّ بْنَ حُبَيْشٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ فَقَرَأَ عَلَيْهِ لَمْ يَكُنِ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ فَقَرَأَ فِيهَا: إِنَّ ذَاتَ الدِّينِ عِنْدَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ الْمُسْلِمَةُ لَا الْيَهُودِيَّةُ، وَلَا النَّصْرَانِيَّةُ، مَنْ يَعْمَلْ خَيْرًا فَلَنْ يُكْفَرَهُ، وَقَرَأَ عَلَيْهِ: وَلَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيًا مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَانِيًا، وَلَوْ كَانَ لَهُ ثَانِيًا لَابْتَغَى إِلَيْهِ ثَالِثًا، وَلَا يَمْلَأُ جَوْفَ ابْنِ آدَمَ إِلَّا التُّرَابُ، وَيَتُوبُ اللَّهُ عَلَى مَنْ تَابَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ . وَقَدْ رَوَى قَتَادَةُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُبَيٍّ: إِنَّ اللَّهَ أَمَرَنِي أَنْ أَقْرَأَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ .

ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں پڑھ کر سناؤں ، پھر آپ نے انہیں «لم يكن الذين کفروا من أهل الکتاب» پڑھ کر سنایا، اور اس میں یہ بھی پڑھا ١ ؎ «إن ذات الدين عند اللہ الحنيفية المسلمة لا اليهودية ولا النصرانية من يعمل خيرا فلن يكفره» بیشک دین والی ٢ ؎ اللہ کے نزدیک تمام ادیان و ملل سے رشتہ کاٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہوجانے والی مسلمان عورت ہے نہ کہ یہودی اور نصرانی عورت جو کوئی نیکی کا کام کرے تو وہ ہرگز اس کی ناقدری نہ کرے ، اور آپ نے ان کے سامنے یہ بھی پڑھا: ٣ ؎«ولو أن لابن آدم واديا من مال لابتغی إليه ثانيا ولو کان له ثانيا لابتغی إليه ثالثا ولا يملأ جوف ابن آدم إلا التراب ويتوب اللہ علی من تاب» اگر ابن آدم کے پاس مال کی ایک وادی ہو تو وہ دوسری وادی کی خواہش کرے گا اور اگر اسے دوسری بھی مل جائے تو وہ تیسری چاہے گا، اور آدم زادہ کا پیٹ صرف خاک ہی بھر سکے گی ٤ ؎، اور جو توبہ کرے تو اللہ اس کی توبہ قبول فرماتا ہے ۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث اس سند کے علاوہ دوسری سند سے بھی آئی ہے، ٣- اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد عبدالرحمٰن بن ابزی سے اور انہوں نے ابی بن کعب سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابی بن کعب سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ، ٤- قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابی بن کعب ؓ سے فرمایا کہ اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے سامنے قرآن پڑھوں ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ حدیث ارشاد فرمائی، نہ کہ مذکورہ آیت کی طرح تلاوت کی۔ ٢ ؎: یعنی: شادی کے لیے عورتوں کا انتخاب میں جو «فاظفر بذات الدین» کا حکم نبوی آیا ہے اس «ذات الدین» سے مراد ایسی ہی عورت ہے۔ ٣ ؎: یعنی: یہ حدیث ارشاد فرمائی، نہ کہ مذکورہ آیت کی طرح تلاوت کی۔ ٤ ؎: یعنی: موت کے بعد مٹی میں دفن ہوجانے پر ہی یہ خواہش ختم ہو پائے گی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢١) (صحیح)
3794Sunan At-Tirmidhi

حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: جَمَعَ الْقُرْآنَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَةٌ كُلُّهُمْ مِنَ الْأَنْصَارِ: أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، وَمُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَبُو زَيْدٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: مَنْ أَبُو زَيْدٍ ؟ قَالَ: أَحَدُ عُمُومَتِي. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں قرآن کو چار آدمیوں نے جمع کیا اور وہ سب کے سب انصار میں سے ہیں: ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that four men all of them ansars collected the Qur’an in the era of Allah’s Messenger ﷺ (They were) : Ubayy ibn Ka’b, Mu’adh ibn Jabal, Zayd ibn Thabit and Abu Zayd (RA).”. The subnarrator said that he asked Anas “Who was Abu Zayd?” He said, “One of my uncles.” [Ahmed 13944, Bukhari 3810, Muslim 2465]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3794
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں جہاں ان چاروں کی فضیلت ہے وہیں انصار مدینہ کی بھی منقبت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الأنصار ١٧ (٣٨١٠)، وفضائل القرآن ٨ (٥٠٠٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٣ (٢٤٦٥) (تحفة الأشراف: ١٢٤٨) (صحیح)
3795Sunan At-Tirmidhi

حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو بَكْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ عُمَرُ، نِعْمَ الرَّجُلُ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ، نِعْمَ الرَّجُلُ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ ثَابِتُ بْنُ قَيْسِ بْنِ شَمَّاسٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، نِعْمَ الرَّجُلُ مُعَاذُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْجَمُوحِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُهَيْلٍ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا ہی اچھے لوگ ہیں ابوبکر، عمر، ابوعبیدہ بن جراح، اسید بن حضیر، ثابت بن قیس بن شماس، معاذ بن جبل اور معاذ بن عمرو بن جموح ؓ ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “How excellent a man is Abu Bakr! Umar is an excdellent man! Abu Ubaydah ibn Jarrah is an excellent man! Usayd ibn Hudayr is an excellent man! Thabit ibn Qays ibn Shammas is an excellent man! Mu’adh ibn Jabal is an excellent man! Mu’adh ibn Amr ibn Jamuh is an excellent man!” [Ahmed 9431]

صحيح وقد تقدم أوله برقم (4028)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3795
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے ہم اسے صرف سہیل کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ١٢٧٠٨) (صحیح)
3796Sunan At-Tirmidhi

حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ، عَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ، قَالَ: جَاءَ الْعَاقِبُ، وَالسَّيِّدُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَا: ابْعَثْ مَعَنَا أَمِينًا، فَقَالَ: فَإِنِّي سَأَبْعَثُ مَعَكُمْ أَمِينًا حَقَّ أَمِينٍ ، فَأَشْرَفَ لَهَا النَّاسُ، فَبَعَثَ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ. قَالَ: وَكَانَ أَبُو إِسْحَاق إِذَا حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ عَنْ صِلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُهُ مُنْذُ سِتِّينَ سَنَةً. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ ابْنِ عُمَرَ، وَأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ .حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، أَخْبَرَنَا سَلْمُ بْنُ قُتَيْبَةَ، وَأَبُو دَاوُدَ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، قَالَ: قَالَ حُذَيْفَةُ: قَلْبُ صِلَةَ بْنِ زُفَرَ مِنْ ذَهَبٍ.

حذیفہ بن یمان ؓ کہتے ہیں کہ ایک قوم کا نائب اور سردار دونوں نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے اور دونوں نے عرض کیا: ہمارے ساتھ آپ اپنا کوئی امین روانہ فرمائیں، تو آپ نے فرمایا: میں تمہارے ساتھ ایک ایسا امین بھیجوں گا جو حق امانت بخوبی ادا کرے گا ، تو اس کے لیے لوگوں کی نظریں اٹھ گئیں اور پھر آپ نے ابوعبیدہ بن جراح ؓ کو روانہ فرمایا۔ راوی حدیث ابواسحاق سبیعی کہتے ہیں: جب وہ اس حدیث کو صلہ سے روایت کرتے تو کہتے ساٹھ سال ہوئے یہ حدیث میں نے ان سے سنی تھی۔

Sayyidina Hudhayfah ibn Yaman reported that the chief and his deputy (of a tribe) came to the Prophet ﷺ and requested him, “Send with us your trustworthy man.” He said, “I will send with you a trustworthy man who is really trustworthy.” So everyone hoped for that position and he sent Abu Ubaydah. (Whenever Abu Ishaq narrated this hadith from Silah, he would confirm, “I have heard it sixty years hence.”) [Tirmidhi 3779]

صحيح وانظر الصحيحة (1964) صحيح وانظر الصحيحة (1964)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3796 بیان کیا ہم سے محمد بن بشار نے، وہ کہتے ہیں: مجھے مسلم بن قتیبہ اور ابوداؤد نے خبر دی اور ان دونوں نے شعبہ کے واسطہ سے ابواسحاق سے روایت کی، وہ کہتے ہیں: حذیفہ نے کہا: صلہ بن زفر کا دل سونے کی طرح روشن اور چمکدار ہے۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3796
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث ابن عمر اور انس ؓ کے واسطے سے بھی نبی اکرم ﷺ سے آئی ہے، آپ نے فرمایا: ہر امت کا ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٢١ (٣٧٤٥)، والمغازي ٧٢ (٤٣٨٠، ٤٣٨١)، وأخبار الآحاد ١ (٧٢٥٤)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٧ (٢٤٢٠)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٣٥) (تحفة الأشراف: ٣٣٥٠) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح)
3797Sunan At-Tirmidhi

حضرت سلمان فارسی (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي رَبِيعَةَ الْإِيَادِيِّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْجَنَّةَ لَتَشْتَاقُ إِلَى ثَلَاثَةٍ: عَلِيٍّ، وَعَمَّارٍ، وَسَلْمَانَ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْحَسَنِ بْنِ صَالِحٍ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت تین آدمیوں کی مشتاق ہے: علی، عمار، اور سلمان ؓ کی ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Surely, paradise longs for three (men) : Ali, Ammar and Salman.”

ضعيف، الضعيفة (2329)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3797
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف حسن بن صالح کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٣٢) (ضعیف) (سند میں حسن بن سلم بن صالح الجعلی مجہول، اور ابوربیعہ الإیادی لین الحدیث راوی ہیں، نیز اس کے سارے طرق ضعیف ہیں، ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم ٢٣٢٨)
3798Sunan At-Tirmidhi

حضرت عمار بن یاسر (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْعَلِيٍّ، قَالَ: جَاءَ عَمَّارٌ يَسْتَأْذِنُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ائْذَنُوا لَهُ مَرْحَبًا بِالطَّيِّبِ الْمُطَيَّبِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

علی ؓ کہتے ہیں کہ عمار نے آ کر نبی اکرم ﷺ سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا: انہیں اجازت دے دو، مرحبا مرد پاک ذات و پاک صفات کو ۔

Sayyidina Ali (RA) reported that Ammar ibn Yasir (RA) sought permission to meet the Prophet ﷺ and he said, ‘Let him come. Welcome 0, pure one with pure habits!” [Ahmed 1033, Ibn e Majah 146]

صحيح، ابن ماجة (146)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3798
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٦) (تحفة الأشراف: ١٠٣٠٠) (صحیح)
3799Sunan At-Tirmidhi

حضرت عمار بن یاسر (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ كُوفِيٌّ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا خُيِّرَ عَمَّارٌ بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَرْشَدَهُمَا . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سِيَاهٍ وَهُوَ شَيْخٌ كُوفِيٌّ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ النَّاسُ لَهُ ابْنٌ يُقَالُ لَهُ: يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ثِقَةٌ، رَوَى عَنْهُ يَحْيَى بْنُ آدَمَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمار کو جب بھی دو باتوں کے درمیان اختیار دیا گیا تو انہوں نے اسی کو اختیار کیا جو ان دونوں میں سب سے بہتر اور حق سے زیادہ قریب ہوتی تھی ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Ammar was not given choice between two courses, but he chose the better one.” [Ahmed 24874, Ibn e Majah 148}

صحيح، ابن ماجة (148)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3799
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے عبدالعزیز بن سیاہ کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، اور یہ ایک کوفی شیخ ہیں اور ان سے لوگوں نے روایت کی ہے، ان کا ایک لڑکا تھا جسے یزید بن عبدالعزیز کہا جاتا تھا، ان سے یحییٰ بن آدم نے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بات عمار ؓ کے فطرتاً حق پسند ہونے، اور اللہ کی طرف سے ان کے لیے حسن توفیق پر دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٨) (تحفة الأشراف: ١٧٣٩٦) (صحیح)
3800Sunan At-Tirmidhi

حضرت عمار بن یاسر (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ الْمَدَنِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَبْشِرْ عَمَّارُ تَقْتُلُكَ الْفِئَةُ الْبَاغِيَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، وَأَبِي الْيَسَرِ، وَحُذَيْفَةَ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمار! تمہیں ایک باغی جماعت قتل کرے گی ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayra (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Good news to you, O Ammar. A rebel section will kill you.” [Ahmed 24874, Ibn e Majah 148]

صحيح، الصحيحة (710)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3800
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث علاء بن عبدالرحمٰن کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ام سلمہ، عبدالرحمٰن بن عمرو، ابویسر اور حذیفہ ؓ احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں اس بات کی گواہی اللہ کے رسول ﷺ کی زبان سے ہے کہ قتل ہونے کے وقت عمار حق والی جماعت کے ساتھ ہوں گے اور ان کے قاتل اس بابت حق پر نہیں ہوں گے، اور اس حق و ناحق سے مراد اعتقادی ( توحید و شرک کا ) حق و ناحق نہیں مراد ہے بلکہ اس وقت سیاسی طور پر حق و ناحق پر ہونے کی گواہی ہے، عمار اس وقت علی ؓ کے ساتھ جو اس وقت خلیقہ برحق تھے، اور فریق مخالف معاویہ ؓ تھے جو علی ؓ سے خلافت کے سیاسی مسئلہ پر جنگ کر رہے تھے، اس میں عمار ؓ کی شہادت ہوئی تھی، یہ جنگ صفین کا واقعہ ہے اس واقعہ میں معاویہ ؓ جو علی ؓ سے برسرپیکار ہوگئے تھے، یہ ان کی اجتہادی غلطی تھی جو معاف ہے، ( ؓ اجمعین )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وھو جماعة من الصحابة غیرہ ( تحفة الأشراف: ١٤٠٨١) (صحیح)
3801Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوذر غفاری (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عُمَيْرٍ وَهُوَ أَبُو الْيَقْظَانِ، عَنْ أَبِي حَرْبِ بْنِ أَبِي الْأَسْوَدِ الدِّيلِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ أَصْدَقَ مِنْ أَبِي ذَرٍّ . قَالَ: وَفِي الْبَابِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَأَبِي ذَرٍّ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ.

عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے اپنے اوپر کسی کو پناہ دی جو ابوذر ؓ سے زیادہ سچا ہو ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Amar (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “Neither has the heaven given shade to, nor the earth carried anyone more truthful than, Abu Dharr (RA) [Ibn e Majah 156, Ahmed 6641]

صحيح، ابن ماجة (156)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3801
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں ابو الدرداء اور ابوذر سے حدیثیں آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے ابوذر ؓ کی سچائی سے متعلق مبالغہ اور تاکید مقصود ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥٦) (تحفة الأشراف: ٨٩٥٧)، و مسند احمد (٢/١٦٣، ١٧٥) (صحیح)
3802Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوذر غفاری (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنِي أَبُو زُمَيْلٍ هُوَ سِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيُّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَاءُ، وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَاءُ مِنْ ذِي لَهْجَةٍ أَصْدَقَ، وَلَا أَوْفَى مِنْ أَبِي ذَرٍّ شِبْهِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: كَالْحَاسِدِ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفَتَعْرِفُ ذَلِكَ لَهُ ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَاعْرِفُوهُ لَهُ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ، فَقَالَ: أَبُو ذَرٍّ يَمْشِي فِي الْأَرْضِ بِزُهْدِ عِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَام.

ابوذر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: آسمان نے کسی پر سایہ نہیں کیا اور نہ زمین نے کسی کو پناہ دی جو ابوذر سے - جو عیسیٰ بن مریم کے مشابہ ہیں - زیادہ زبان کا سچا اور اس کا پاس و لحاظ رکھنے والا ہو ، یہ سن کر عمر بن خطاب ؓ رشک کے انداز میں بولے: اللہ کے رسول! کیا ہم یہ بات انہیں بتادیں؟ آپ نے فرمایا: ہاں، بتادو ۔

Sayyidina Abu Dharr (RA) narrated: Allah’s Messenger said about me, “Neither has the heaven given shade to, nor the earth carried anyone more truthful and more honourable to his promise than Abu Dharr. He resembles Eesa ibn Maryam.” Umar ibn Khattab asked-as though in envy, “Shall we tell him, O Messenger of Allah? ﷺ ” He said, “Yes, inform him.”

ضعيف، المشکاة (6230 / التحقيق الثاني)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3802
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اور بعضوں نے اس حدیث کو روایت کیا ہے اس میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ابوذر زمین پر عیسیٰ بن مریم کی زاہدانہ چال چلتے ہیں ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١١٩٧٦) (ضعیف) (سند میں مرثد الزمانی لین الحدیث راوی ہیں)
3803Sunan At-Tirmidhi

حضرت عبداللہ بن سلام کے مناقب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُحَيَّاةَ يَحْيَى بْنُ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنِ ابْنِ أَخِي عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، قَالَ: لَمَّا أُرِيدَ قَتْلُ عُثْمَانَ جَاءَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ فَقَالَ لَهُ عُثْمَانُ: مَا جَاءَ بِكَ ؟ قَالَ: جِئْتُ فِي نَصْرِكَ، قَالَ: اخْرُجْ إِلَى النَّاسِ فَاطْرُدْهُمْ عَنِّي، فَإِنَّكَ خَارِجًا خَيْرٌ لِي مِنْكَ دَاخِلًا، فَخَرَجَ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى النَّاسِ، فَقَالَ: أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ كَانَ اسْمِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فُلَانٌ فَسَمَّانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَبْدَ اللَّهِ، وَنَزَلَتْ فِيَّ آيَاتٌ مِنْ كِتَابِ اللَّهِ، فَنَزَلَتْ فِيَّ: وَشَهِدَ شَاهِدٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ عَلَى مِثْلِهِ فَآمَنَ وَاسْتَكْبَرْتُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ سورة الأحقاف آية 10 وَنَزَلَتْ فِيَّ: قُلْ كَفَى بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ وَمَنْ عِنْدَهُ عِلْمُ الْكِتَابِ سورة الرعد آية 43 إِنَّ لِلَّهِ سَيْفًا مَغْمُودًا عَنْكُمْ، وَإِنَّ الْمَلَائِكَةَ قَدْ جَاوَرَتْكُمْ فِي بَلَدِكُمْ هَذَا الَّذِي نَزَلَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاللَّهَ اللَّهَ فِي هَذَا الرَّجُلِ أَنْ تَقْتُلُوهُ، فَوَاللَّهِ لَئِنْ قَتَلْتُمُوهُ لَتَطْرُدُنَّ جِيرَانَكُمُ الْمَلَائِكَةَ، وَلَتَسُلُّنَّ سَيْفَ اللَّهِ الْمَغْمُودَ عَنْكُمْ، فَلَا يُغْمَدُ عَنْكُمْ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ، قَالُوا: اقْتُلُوا الْيَهُودِيَّ، وَاقْتُلُوا عُثْمَانَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، وَقَدْ رَوَى شُعَيْبُ بْنُ صَفْوَانَ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، فَقَالَ: عَنِ ابْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ.

عبداللہ بن سلام ؓ کے بھتیجے کہتے ہیں کہ جب لوگوں نے عثمان ؓ کے قتل کا ارادہ کیا تو عبداللہ بن سلام عثمان ؓ کے پاس آئے، عثمان ؓ نے ان سے کہا: تم کیوں آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا: میں آپ کی مدد کے لیے آیا ہوں تو آپ نے کہا: تم لوگوں کے پاس جاؤ اور انہیں میرے پاس آنے سے بھگاؤ کیونکہ تمہارا باہر رہنا میرے حق میں تمہارے اندر رہنے سے زیادہ بہتر ہے، چناچہ عبداللہ بن سلام نکل کر لوگوں کے پاس آئے اور ان سے کہا: لوگو! میرا نام جاہلیت میں فلاں تھا تو رسول اللہ ﷺ نے میرا نام عبداللہ رکھا، اور میری شان میں اللہ کی کتاب کی کئی آیتیں نازل ہوئیں، چناچہ «وشهد شاهد من بني إسرائيل علی مثله فآمن واستکبرتم إن اللہ لا يهدي القوم الظالمين» ١ ؎ «قل کفی بالله شهيدا بيني وبينكم ومن عنده علم الکتاب» ٢ ؎ میرے ہی سلسلہ میں اتری، اللہ کی تلوار میان میں ہے اور فرشتے تمہارے اس شہر مدینہ میں جس میں رسول اللہ ﷺ اترے تمہارے ہمسایہ ہیں، لہٰذا تم اس شخص کے قتل میں اللہ سے ڈرو، قسم اللہ کی! اگر تم نے اسے قتل کردیا، تم اپنے ہمسایہ فرشتوں کو اپنے پاس سے بھگا دو گے، اور اللہ کی تلوار کو جو میان میں ہے باہر کھینچ لو گے، پھر وہ قیامت تک میان میں نہیں آسکے گی تو لوگ ان کی یہ نصیحت سن کر بولے: اس یہودی کو قتل کرو اور عثمان کو بھی۔

Abdul Malik ibn Umar reported on the authority of the nephew of Sayyidina Abdullah ibn Salaam (RA) that when people resolved to kill Sayyidina Uthman Abdullah ibn Salaam went to him. He asked, What is with you?” He said, “I have come to help you.” He said, “Go to the people and put them away from me, for, you are better for me outside than you are inside.” So, he went out to the people and said, “O people, my name during the Jahiliyah was so-and-so, hut Allah’s Messenger named me Abdullah and verses of Allah’s Book were revealed about me. And, this vere was revealed about me: And a witness from among the children of lsra’il has already testified to its similarity (with earlier scripture) and has believed, while you are arrogant. Surely Allah guides not the evildoing people. (41 : 10) And, also: Say, Allah suffices as awitness between me and you, and whoso ever has with him knowledge of the book. (13 : 43) Allah’s sword is sheatled from you and the angels are your neighbours in this your city where Allah’s Messenger ﷺ had come. Allah! Fear Allah for this man whom you wish to kill. By Allah, if you kill him, your neighbouring angels will move away from you and Allah’s sword will be unsheathed against you never to be sheathed till the Day of Resurrection.” They said, “Kill the jew and kill Uthman.” [Tirmidhi 3267]

ضعيف الإسناد ومضی برقم (3309) // (642 / 3486) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3803
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف عبدالملک بن عمیر کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- شعیب بن صفوان نے بھی حدیث عبدالملک بن عمیر سے روایت کی ہے، انہوں نے سند میں «عن ابن محمد بن عبد اللہ بن سلام عن جده عبد اللہ بن سلام» کہا ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٢٥٦ (ضعیف الإسناد)
3804Sunan At-Tirmidhi

حضرت عبداللہ بن سلام کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عُمَيْرَةَ، قَالَ: لَمَّا حَضَرَ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ الْمَوْتُ قِيلَ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَوْصِنَا، قَالَ: أَجْلِسُونِي، فَقَالَ: إِنَّ الْعِلْمَ وَالْإِيمَانَ مَكَانَهُمَا مَنَ ابْتَغَاهُمَا وَجَدَهُمَا، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، وَالْتَمِسُوا الْعِلْمَ عِنْدَ أَرْبَعَةِ رَهْطٍ: عِنْدَ عُوَيْمِرٍ أَبِي الدَّرْدَاءِ، وَعِنْدَ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، وَعِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ الَّذِي كَانَ يَهُودِيًّا فَأَسْلَمَ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّهُ عَاشِرُ عَشَرَةٍ فِي الْجَنَّةِ . وَفِي الْبَابِ، عَنْ سَعْدٍ، قَالَ: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

یزید بن عمیرہ کہتے ہیں کہ جب معاذ بن جبل ؓ کے مرنے کا وقت آیا تو ان سے کہا گیا: اے ابوعبدالرحمٰن! ہمیں کچھ وصیت کیجئے، تو انہوں نے کہا: مجھے بٹھاؤ، پھر بولے: علم اور ایمان دونوں اپنی جگہ پر قائم ہیں جو انہیں ڈھونڈے گا ضرور پائے گا، انہوں نے اسے تین بار کہا، پھر بولے: علم کو چار آدمیوں کے پاس ڈھونڈو: عویمر ابو الدرداء کے پاس، سلمان فارسی کے پاس، عبداللہ بن مسعود کے پاس اور عبداللہ بن سلام کے پاس، (جو یہودی تھے پھر اسلام لائے) کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ وہ ان دس لوگوں میں سے ہیں جو جنتی ہیں ١ ؎۔

Yazid ibn Umayrah reported that when death approached Mu’adh ibn Jahal he was requested, “O Abu Abdur Rahman, give us advice and instructioon.” He said, “Make me sit.” Then, he said, “Knowledge and faith are in their place. He who seeks them will find them.” He said that three times, and then, “And seek knowledge from four people frm Abu Darda, from Salman Farisi, from Abdullah ibn Mas’ud and from Abdullah ibn Salaam who had been a Jew and then embraced Islam. I had heard Allah’s Messenger ﷺ say, “He is the tenth of the ten in paradise.” [Ahmed 2265] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، المشکاة (6231)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3804
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں عبداللہ بن سلام کی فضیلت شہادت ایک تو صحابی رسول کی زبان سے ہے، دوسرے رسول اللہ ﷺ کی زبان سے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) ( تحفة الأشراف: ١١٣٦٨) (صحیح)