Sunan At-Tirmidhi 3787

مناقب کا بیان

3787Sunan At-Tirmidhi(3788)

نبی اکرم ﷺ کے اہل بیت کے مناقب

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ،وَالْأَعْمَشُ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ، كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ، فَانْظُرُوا كَيْفَ تَخْلُفُونِي فِيهِمَا . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ.

زید بن ارقم ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میں تم میں ایسی چیز چھوڑنے والا ہوں کہ اگر تم اسے پکڑے رہو گے تو ہرگز گمراہ نہ ہو گے: ان میں سے ایک دوسرے سے بڑی ہے اور وہ اللہ کی کتاب ہے گویا وہ ایک رسی ہے جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی ہے، اور دوسری میری «عترت» یعنی میرے اہل بیت ہیں یہ دونوں ہرگز جدا نہ ہوں گے، یہاں تک کہ یہ دونوں حوض کوثر پر میرے پاس آئیں گے، تو تم دیکھ لو کہ ان دونوں کے سلسلہ میں تم میری کیسی جانشینی کر رہے ہو ١ ؎۔

Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “I am leaving behind with you that to which if you hold fast, you will not go astray after my death. One of them is mightier than the other the Book of Allah, a rope hanging down from the heaven to earth. And (the other), is my family-people of my household. Both of them will not separate till they come to me at the pond. So, watch out how you represent me in them.”

صحيح، المشکاة (6144)، الروض النضير (977 - 978)، الصحيحة (4 / 356 - 357)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3788
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ان دونوں سے ثابت عقیدہ و منہج پر عمل کرنے میں تم کیا کرتے ہو، ان کے مطابق عمل کرتے ہو یا مخالف پہلے یہ بات گزری کہ اہل بیت سے صحیح سند سے ثابت عقیدہ و منہج ہدایت کا ضامن ہے، اور اس شیعیت کا کوئی تعلق نہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٦٥٩) (صحیح)