عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم ان دونوں کی پیروی کرو جو میرے اصحاب میں سے میرے بعد ہوں گے یعنی ابوبکر و عمر کی، اور عمار کی روش پر چلو، اور ابن مسعود کے عہد (وصیت) کو مضبوطی سے تھامے رہو ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allahs Messenger ﷺ said, After me, follow those of my sahabah Abu Bakr (RA) and Umar, and follow the path of Ammar and stick to the advice of Ibn Masud.’
صحيح، ابن ماجة (97)، وانظر الحديث (4069)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3805
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابن مسعود کی یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف یحییٰ بن سلمہ بن کہیل کی روایت سے جانتے ہیں، اور یحییٰ بن سلمہ حدیث میں ضعیف ہیں، ٣- ابوالزعراء کا نام عبداللہ بن ہانی ٔ ہے، اور وہ ابوالزعراء جن سے شعبہ، ثوری اور ابن عیینہ نے روایت کی ہے ان کا نام عمرو بن عمرو ہے، اور وہ عبداللہ بن مسعود کے شاگرد ابوالاحوص کے بھتیجے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث کے اول و آخر ٹکڑے میں خلافت صدیقی و فاروقی کی طرف اشارہ ہے، ابوبکر و عمر ؓ کی اقتداء سے مراد نبی اکرم ﷺ کے بعد بالترتیب ان دونوں کی خلافت ہے، اور ابن مسعود ؓ کی وصیت سے مراد بھی یہی ہے کہ انہوں نے ابوبکر ؓ کی خلافت کی تائید کی تھی، یہی مراد ہے، ان کی وصیت مضبوطی سے تھامنے سے۔
اسود بن یزید سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ میں اور میرے بھائی دونوں یمن سے آئے تو ہم ایک عرصہ تک یہی سمجھتے رہے کہ عبداللہ بن مسعود ؓ اہل بیت ہی کے ایک فرد ہیں، کیونکہ ہم انہیں اور ان کی والدہ کو کثرت سے نبی اکرم ﷺ کے پاس (ان کے گھر میں) آتے جاتے دیکھتے تھے ١ ؎۔
Abu Aswad ibn Yazid reported that he heard Abu Musa say, When I and my brother came from Yaman, we heard only of Abdullah ibn Masud that he was a man of the household of the Prophet ﷺ from what we saw of his going with his mother to the Prophet ﷺ . [Bukhari 3763, Muslim 2460]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3806
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- اس سند سے یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- سفیان ثوری نے بھی اسے ابواسحاق سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث میں عبداللہ بن مسعود ؓ کے نبی ﷺ سے ازحد قربت اور برابر ساتھ رہنے کی دلیل ہے جو ان کے فضل و شرف کی بات ہے، لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ ابن مسعود کی ہر روایت اور فتوی ضرور ہی تمام صحابہ کی روایتوں اور فتاوی پر مقدم ہوگا، کیونکہ امہات المؤمنین تک کی بعض روایات یا تو منسوخ ہیں یا انہیں گھر سے باہر کے بعض احوال کا علم نہیں ہوسکا تھا، اس کی بہت سی مثالیں ہیں۔
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ ؓ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے قریب ابن مسعود ؓ ہیں، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔
Abdur Rahman ibn Yazid reported that they went to Hudhayfah (RA)and requested him to narrate to them about one who was most close of all people to Allah’s Messenger in style of living and habits that they might learn from him and listen to him.’ He said, “The closest of men to Allah’s Messenger ﷺ in way of life and habits is Ibn Mas’ud so much so that he would visit his house more regularly than us and knew his confidential affairs more than other sahabah. Indeed, Ibn Umm Abd (Abdullah ibn Mas’ud) was the closest to Allah than the others.’ [Ahmed 23468, Bukhari 3762]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3807
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی لوگ جو بیان کریں گے وہ بالکل حقیقت کے مطابق ہوگا، اور انہوں نے یہ بیان کیا کہ ابن مسعود ؓ اللہ کے رسول ﷺ کے طور طریقے سے زیادہ مشابہت رکھتے تھے، اور ان سے ازحد قریب تھے، یہ صحابہ کی زبان سے ابن مسعود کی فضیلت کا اعتراف ہے۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے ان میں سے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کو امیر بناتا ۔
Sayyidina Ali (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Were Ito appoint one of them as a commander (of an army) without consulting others then I would surely appoint the son of Umm Abd.” (He is Abdullah ibn Mas’ud). [Ahmed 566]
ضعيف، ابن ماجة (137) // ضعيف سنن ابن ماجة (24)، المشکاة (6222)، ضعيف الجامع الصغير (4844) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3808
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف حارث کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ علی ؓ سے روایت کرتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المدقمة ١١ (١٣٧) (تحفة الأشراف: ١٠٠٤٥) (ضعیف) (سند میں ” حارث اعور “ ضعیف اور ابواسحاق سبیعی مدلس اور مختلط راوی ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
علی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر میں بغیر مشورہ کے کسی کو امیر بناتا تو ام عبد کے بیٹے (عبداللہ بن مسعود) کو امیر بناتا ۔
Sufyan ibn Waki’ narrated on the authority of his father, from Sufyan Thawri, from Abu Ishaq, from Harith, from Sayyidina Ali (RA) that Allah’s Messenger ﷺ said, “Were I to appoint anyone a commander without consulting anyone then I would surely appoint the son of Umm Abd.”
ضعيف انظر ما قبله (3808)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3809
عبداللہ بن عمرو ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: قرآن مجید چار لوگوں سے سیکھو: ابن مسعود، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، اور سالم مولی ابی حذیفہ سے ١ ؎۔
Sayyidina Abdullah ibn Amr reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Take the Qur’an from four (men) : Ibn Masud, Ubayy ibn Ka’b, Mu’adh ibn Jabal, and Saalim the freedman of Abu Hudhayfah.” [Bukhari 4999, Muslim 2464]
صحيح، الصحيحة (1827)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3810
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مطلب یہ ہے کہ یہ چار صحابہ خاص طور پر قرآن کے نبی اکرم ﷺ سے اخذ کرنے، یاد کرنے، بہتر طریقے سے ادا کرنے میں ممتاز تھے، اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ان کے سوا دیگر صحابہ کو قرآن یاد ہی نہیں تھا، اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ان سے مروی قراءت کی ضرور ہی پابندی کی جائے، کیونکہ عثمان ؓ نے اعلی ترین مقصد کے تحت ایک قراءت کے سوا تمام قراءتوں کو ختم کرا دیا تھا ( اس قراءتوں سے مراد معروف سبعہ کی قراءتیں نہیں مراد صحابہ کے مصاحف ہیں )۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٢٦ (٣٧٥٨)، و ٢٧ (٣٧٦٠)، وفضائل الأنصار ١٤ (٣٨٠٦)، و ١٦ (٣٨٠٨)، وفضائل القرآن ٨ (٤٩٩٩)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٢ (٢٤٦٤) (تحفة الأشراف: ٨٩٣٢) (صحیح)
خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی، چناچہ اللہ نے مجھے ابوہریرہ ؓ کی ہم نشینی کی توفیق بخشی ١ ؎، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا: میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی، چناچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے عرض کیا: میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں ٢ ؎ اور ابن مسعود جو رسول اللہ ﷺ کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے کفش بردار ہیں اور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں: کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں ٣ ؎۔
Khaythamah ibn Abu Sayrah narrated: I came to Madinah and prayed to Allah to get me a righteous companion. He made easy for me the company of Abu Hurayrah (RA). I sat down with him and said to him, “I prayed to Allah that He should make easy for me the company of a righteous men and he brought you and me toghether.” He asked me, “From where are you?” I said, “I am from Kufah. I have come seking good.” He asked, “Is not there among you Sa’d ibn Maalik whose prayers are answered, and Ibn Mas’ud who carried water for the Prophet’s ablution and his shoes, and Hudhayfah who was the Prophet’s confidant, and Ammar whom Allah kept away from the devil in answer to the Prophets I’ prayer, and Salman who is the man of two Books?” Qatadah explained, “The two Books are the Injil and the Qur’an.” [Bukhari 3758] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3811
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- خیثمہ یہ عبدالرحمٰن بن ابوسبرہ کے بیٹے ہیں ان کی نسبت ان کے دادا کی طرف کردی گئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ٹھیک یہی معاملہ علقمہ بن قیس کوفی کے ساتھ بھی پیش آیا تھا، وہ شام آئے تو یہی دعا کی، تو انہیں ابو الدرداء ؓ صحبت میسر ہوئی، انہوں بھی علقمہ سے بالکل یہی بات کہی جو اس حدیث میں ہے۔ ٢ ؎: جن کی دعائیں رب العزت کی بارگاہ میں قبول ہوتی ہیں۔ اور یہ سعد بن ابی وقاص ؓ ہیں۔ ٣ ؎: انہیں صاحب کتابیں اس لیے کہا گیا ہے کیونکہ وہ پہلے مجوسی تھے، تلاش حق میں پہلے دین عیسیٰ قبول کئے، پھر مشرف بہ اسلام ہوئے اور قرآن پر ایمان لائے۔
حذیفہ ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش! آپ اپنا جانشین مقرر فرما دیتے، آپ نے فرمایا: اگر میں نے اپنا جانشین مقرر کردیا اور تم نے اس کی نافرمانی کی تو تم عذاب دیئے جاؤ گے، البتہ حذیفہ جو کچھ تم سے کہیں تم ان کی تصدیق کرو ، اور جو عبداللہ (عبداللہ بن مسعود) ١ ؎ تمہیں پڑھائیں انہیں پڑھ لو ۔
Sayyidma Hudhayfah reported that the sahabah said, “O Messenger of Allah, would that you appoint a Khalifah!” He said, “If I were to make someone your Khalifah and you disobeyed him then you would be punished. But, confirm what Hudhayfah tells you and recite what Abdullah (ibn Mas’ud) recites to you.” Abdullah reported that he said to Ishaq ibn Eesa that people ascribe it to Abu Wail, but he said, “No. It is from Zazan, Insaha Allah.”
ضعيف، المشکاة (6232)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3812
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے اور یہ شریک کی روایت سے ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث شریک اور ابوالیقظان کی وجہ سے سنداً ضعیف ہے، مگر خلافت کے بارے میں ابن مسعود کی وصیت کی بابت ایک صحیح حدیث ( رقم: ( ٣٨١٨) گزر چکی ہے، اس حدیث کا ماحصل یہ ہے کہ آپ نے واضح طور پر اپنے جانشین کا نام تو نہیں بتایا، مگر حذیفہ ؓ کی احالہ کر کے اشارہ کردیا کہ جو حذیفہ بتائیں، وہی میری بات ہے، ابوحذیفہ نے ابوبکر ؓ کے بارے میں بعد میں بتادیا، ( نیز دیکھئیے حدیث رقم: ٢/٣٨)۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٣٢٢) (ضعیف) (سند میں ابوالیقظان اور شریک القاضی دونوں ضعیف راوی ہیں، ابوالیقظان شیعی بھی ہے)
اسلم عدوی مولیٰ عمر سے روایت ہے کہ عمر ؓ نے اسامہ بن زید ؓ کے لیے بیت المال سے ساڑھے تین ہزار کا، وظیفہ مقرر کیا، اور عبداللہ بن عمر ؓ کے لیے تین ہزار کا تو عبداللہ بن عمر ؓ نے اپنے باپ سے عرض کیا: آپ نے اسامہ کو مجھ پر ترجیح دی؟ اللہ کی قسم! وہ مجھ سے کسی غزوہ میں آگے نہیں رہے، تو انہوں نے کہا: اس لیے کہ زید رسول اللہ ﷺ کو تمہارے باپ سے اور اسامہ تم سے زیادہ محبوب تھے، اس لیے میں نے رسول اللہ ﷺ کے محبوب کو اپنے محبوب پر ترجیح دی۔
Zayd ibn Aslam reported that Sayyidina Umar (RA) Usamah from the Baytul-Maal State Treasury three thousand and five hundred and to Abdullah ibn Umar he gave three thousand. So, Abdullah ibn Umar said to his father, “Why did you give preference to Usamah over me? By Allah, he never excelled over me in any battle.” He said, “This is because Zayd was dearer to Allah’s Messenger ﷺ than his father and Usamah was dearer to Allah’s Messenger ﷺ than you. Hence, I preferred the beloved of Allah’s Messenger ﷺ to my beloved.”
ضعيف، المشکاة (6164)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3813
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٤٠١) (ضعیف) (سند میں سفیان بن وکیع ضعیف راوی ہیں)
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ ہم زید بن حارثہ کو زید بن محمد ہی کہہ کر پکارتے تھے یہاں تک کہ آیت کریمہ «ادعوهم لآبائهم هو أقسط عند الله» تم متبنی (لے پالک) لوگوں کو ان کے اپنے باپوں کے نام پکارا کرو، یہی بات اللہ کے نزدیک زیادہ قرین انصاف بات ہے (الاحزاب: ٥) ، نازل ہوئی۔
Sayyidina Abdullah ibn Umar (RA) reported that they used to call Zayd ibn Harithah, Zayd ibn Muhammad till this was revealed: Call them by their fathers; that is more equitable in the sight of Allah. (35 :5) [Ahmed 5480, Bukhari 4782, Muslim 2425]
صحيح وهو مکرر الحديث (3439)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3814
زید بن حارثہ ؓ کے بھائی جبلہ بن حارثہ ؓ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے بھائی زید کو میرے ساتھ بھیج دیجئیے، آپ نے فرمایا: وہ موجود ہیں اگر تمہارے ساتھ جانا چاہ رہے ہیں تو میں انہیں نہیں روکوں گا ، یہ سن کر زید نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں آپ کے مقابلہ میں کسی اور کو اختیار نہیں کرسکتا، جبلہ کہتے ہیں: تو میں نے دیکھا کہ میرے بھائی کی رائے میری رائے سے افضل تھی۔
Jabalah ibn Harith brother of Zayd, narrated: I came to Allah’s Messenger ‘and said’ to him. “O Messenger of Allah, send with me my brother Zayd.” He said, “He is here! If he comes with you, I do not stop him.” But, Zayd interrupted, “O Messenger of Allah, by Allah, I will not prefer anyone over you.” So, I observed that my brother’s opinion was better than mine.
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک لشکر روانہ فرمایا اور اس کا امیر اسامہ بن زید کو بنایا تو لوگ ان کی امارت پر تنقید کرنے لگے چناچہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اگر تم ان کی امارت میں طعن کرتے ہو تو اس سے پہلے ان کے باپ کی امارت پر بھی طعن کرچکے ہو ١ ؎، قسم اللہ کی! وہ (زید) امارت کے مستحق تھے اور وہ مجھے لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب تھے، اور ان کے بعد یہ بھی (اسامہ) لوگوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب ہیں ۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ sent an army placing Usamah ibn Zayd as commander over them. The people were cynical about his commandership. So, he said, “If you are cynical about his commandership then indeed you had been cynical about the commandership of his father before. By Allah, he was worthy of being a commander and was also dearer to me than other people. And (now) he is the dearest of people to me after him.” [Ahmed 5894, Bukhari 3730, Muslim 2426]
صحيح
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3816
عبداللہ بن دینار نے عمر کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مالک بن انس کی حدیث ہی جیسی حدیث روایت کی۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3816
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: آپ کا اشارہ غزوہ موتہ میں زید کو امیر بنانے کے واقعے کی طرف ہے، اس حدیث سے دونوں باپ بیٹوں کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٨٧ (٤٤٦٩) (تحفة الأشراف: ٧٢٣٦) (صحیح)
انظر ما قبلہ (صحیح)
اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ کی بیماری شدید ہوگئی تو میں («جرف» سے) اتر کر مدینہ آیا اور (میرے ساتھ) کچھ اور لوگ بھی آئے، میں رسول اللہ ﷺ کے پاس اندر گیا تو آپ کی زبان بند ہوچکی تھی، پھر اس کے بعد آپ کچھ نہیں بولے، آپ اپنے دونوں ہاتھ میرے اوپر رکھتے اور اٹھاتے تھے تو میں یہی سمجھ رہا تھا کہ آپ میرے لیے دعا فرما رہے ہیں۔
SayyidinaUsamah ibn Zayd (RA) reported that when the sickness of Allah’s Messenger grew serious he and some other men returned to Madinah. He visited Allah’s Messenger ﷺ but he had lost speech and did not speak. However, Allah’s Messenger placed his hands on him and raised them. So, he understood that he was praying for him. [Ahmed 21814]
حسن، المشکاة (6166)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3817
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے اسامہ کی ناک پونچھنے کا ارادہ فرمایا ١ ؎ تو میں نے کہا: آپ چھوڑیں میں صاف کئے دیتی ہوں، آپ نے فرمایا: عائشہ! تم اس سے محبت کرو کیونکہ میں اس سے محبت کرتا ہوں ۔
Sayyidah Ayshah (RA) the Mother of the faithful narrated that the Prophet ﷺ intended to wipe Usamah’s nose. She said, “Let me do that.’ He said, “O Ayshah, love him, for, I love him.” --------------------------------------------------------------------------------
حسن، المشکاة (6167)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3818
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اس وقت کی بات ہے جب اسامہ بچے تھے، آدمی اسی بچے کی ناک پونچھتا ہے جس سے انتہائی محبت رکھتا ہے، جیسے اپنے بچے بسا اوقات آدمی کسی رشتہ دار یا دوست کے بچے سے محبت تو رکھتا ہے لیکن اس کی محبت میں اس حد تک نہیں جاتا کہ اس کی ناک پونچھے اس لیے آپ ﷺ کا اسامہ کی ناک پونچھنے کے لیے اٹھنا ان سے آپ کی انتہائی محبت کی دلیل ہے۔
اسامہ بن زید ؓ کا بیان ہے کہ میں نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں علی اور عباس ؓ دونوں اندر آنے کی اجازت مانگنے لگے، انہوں نے کہا: اسامہ! ہمارے لیے رسول اللہ ﷺ سے اجازت مانگو، تو میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! علی اور عباس دونوں اندر آنے کی اجازت مانگ رہے ہیں، آپ نے فرمایا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ وہ کیوں آئے ہیں؟ میں نے عرض کیا: میں نہیں جانتا، اس پر نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: مجھے تو معلوم ہے ، پھر آپ نے انہیں اجازت دے دی وہ اندر آئے اور عرض کیا کہ ہم آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں تاکہ ہم آپ سے پوچھیں کہ آپ کے اہل میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: فاطمہ بنت محمد ، تو وہ دونوں بولے: ہم آپ کی اولاد کے متعلق نہیں پوچھتے ہیں، آپ نے فرمایا: میرے گھر والوں میں مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ ہے جس پر اللہ نے انعام کیا اور میں نے انعام کیا ہے، اور وہ اسامہ بن زید ہیں ، وہ دونوں بولے: پھر کون؟ آپ نے فرمایا: پھر علی بن ابی طالب ہیں ، عباس بولے: اللہ کے رسول! آپ نے اپنے چچا کو پیچھے کردیا، آپ نے فرمایا: علی نے تم سے پہلے ہجرت کی ہے ۔
Sayyidina Usamah ibn Zayd (RA) narrated While I was sitting, Ali and Abbas came seeking permission. They said, “O Usamah, seek permission for us from Allah’s Messenger.” ﷺ I said “O Messenger of Allah, Ali and Abbas ask permission to come in.” He asked, “Do you know what has brought them here?” I said, “No.” He said, “But, I know. Give them permission.” So, they came in and said, “O Messenger of Allah, we have come to ask you which of your family member is dearest to you.” He said, “Fatimah bint Muhammad.” They said, “We have not come to ask that.” He said, “The dearest to me of my household is one on whom Allah has bestowed bounty and I have bestowed bounty, on him, Usamah ibn Zayd.” They asked, Who next?” He said, “Ali ibn Abu Talib.” So, Abbas said, “O Messenger of Allah, you have placed your uncle last of them.” He said, “Indeed, Ali preceeded you with hijrah (migration to Madinah).” --------------------------------------------------------------------------------
ضعيف، المشکاة (6168) // ضعيف الجامع الصغير (168) باختصار //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3819
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- شعبہ: عمر بن ابی سلمہ کو ضعیف قرار دیتے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٣) (ضعیف) (سند میں عمر بن ابی سلمہ روایت حدیث میں غلطیاں کر جاتے تھے)
جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کہتے ہیں کہ جب سے میں اسلام لایا ہوں رسول اللہ ﷺ نے مجھے (اجازت مانگنے پر اندر داخل ہونے سے) منع نہیں فرمایا ١ ؎ اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) said, “Allah’s Messenger ﷺ never deprived me (of his grants) since I embraced Islam and never saw me without laughing.” [Ahmed 19194, Bukhari 3035]
صحيح، ابن ماجة (159)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3820
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی جب بھی اندر آنے کی اجازت طلب کی آپ نے اجازت دیدی، منع نہیں کیا، اجازت کے بعد مستورات کو پردہ کرا کر اندر آنے دینے میں کوئی حرج نہیں، اس سے خواہ مخواہ یہ نکتہ نکالنے کی ضرورت نہیں کہ اس سے خاص مردانہ حلیہ مراد ہے، ہر بار اجازت لینے پر اندر آنے کی اجازت دے دینا اس آدمی سے خاص لگاؤ کی دلیل ہے۔
جریر بن عبداللہ بجلی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے جب سے میں اسلام لایا ہوں مجھے (اندر جانے سے) منع نہیں کیا اور جب بھی آپ نے مجھے دیکھا آپ مسکرائے۔
Sayyidina Jarir narrated: Allah’s Messenger ﷺ never kept me apart since I embraced Islam and he never saw me without smiling. --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، وهو بهذا اللفظ أرجح انظر ما قبله (3820)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3821
عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے جبرائیل (علیہ السلام) کو دو بار دیکھا اور نبی اکرم ﷺ نے ان کے لیے دو مرتبہ دعائیں کیں۔
Sayyidin Ibn Abbas (RA) reported that he saw Jibril twice, and the Prophet ﷺ prayed for him twice.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3822
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث مرسل ہے، ہمیں نہیں معلوم کہ ابوجہضم کا ابن عباس سے سماع ہے یا نہیں ٢- یہ حدیث عبیداللہ بن عبداللہ بن عباس سے بھی ابن عباس کے واسطہ سے آئی ہے، ٣- اور ابوجہضم کا نام موسیٰ بن سالم ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٦٥٠٢) (ضعیف) (سند میں لیث بن ابی سلیم ضعیف راوی ہیں)
یہ حدیث اس سند سے عطا کی روایت سے غریب ہے اور اسے عکرمہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک مرتبہ اپنے سینہ سے چمٹا کر آپ ﷺ نے ان کے حق میں یہ دعا کی کہ رب العالمین انہیں علم و حکمت عطا فرما اور دوسری مرتبہ جب وہ آپ ﷺ کے لیے وضو کا پانی رکھ رہے تھے تو یہ دعا کی کہ اللہ تو انہیں دین کی سمجھ عطا فرما۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مایأتي (صحیح)
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے سینے سے لگا کر فرمایا: «اللهم علمه الحکمة» اے اللہ! اسے حکمت سکھا دے ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) narrated: Allah’s Messenger embraced me and prayed, “O Allah grant him wisdom.” [Ahmed 33798, Bukhari 75, Muslim 2477, Ibn e Majah 166]