حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے مناقب
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، قَالَ: أَتَيْنَا عَلَى حُذَيْفَةَ، فَقُلْنَا: حَدِّثْنَا مَنْ أَقْرَبُ النَّاسِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَدْيًا وَدَلًّا فَنَأْخُذَ عَنْهُ وَنَسْمَعَ مِنْهُ، قَالَ: كَانَ أَقْرَبُ النَّاسِ هَدْيًا، وَدَلًّا، وَسَمْتًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنُ مَسْعُودٍ حَتَّى يَتَوَارَى مِنَّا فِي بَيْتِهِ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ هُوَ مِنْ أَقْرَبِهِمْ إِلَى اللَّهِ زُلْفَى ، قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.
عبدالرحمٰن بن یزید کہتے ہیں کہ ہم حذیفہ ؓ کے پاس آئے تو ہم نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ لوگوں میں چال ڈھال میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے قریب کون ہے کہ ہم اس کے طور طریقے کو اپنائیں، اور اس کی باتیں سنیں؟ تو انہوں نے کہا کہ لوگوں میں چال ڈھال اور طور طریقے میں رسول اللہ ﷺ سے سب سے قریب ابن مسعود ؓ ہیں، یہاں تک کہ وہ ہم سے اوجھل ہو کر آپ کے گھر کے اندر بھی جایا کرتے تھے، اور رسول اللہ ﷺ کے اصحاب کو جو کسی طرح کی تحریف یا نسیان سے محفوظ ہیں یہ بخوبی معلوم ہے کہ ام عبد کے بیٹے یعنی عبداللہ بن مسعود ؓ ان سب میں اللہ سے سب سے نزدیک ہیں۔
Abdur Rahman ibn Yazid reported that they went to Hudhayfah (RA)and requested him to narrate to them about one who was most close of all people to Allah’s Messenger in style of living and habits that they might learn from him and listen to him.’ He said, “The closest of men to Allah’s Messenger ﷺ in way of life and habits is Ibn Mas’ud so much so that he would visit his house more regularly than us and knew his confidential affairs more than other sahabah. Indeed, Ibn Umm Abd (Abdullah ibn Mas’ud) was the closest to Allah than the others.’ [Ahmed 23468, Bukhari 3762]