عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا گویا میرے ہاتھ میں موٹے ریشم کا ایک ٹکڑا ہے اور اس سے میں جنت کی جس جگہ کی جانب اشارہ کرتا ہوں تو وہ مجھے اڑا کر وہاں پہنچا دیتا ہے، تو میں نے یہ خواب (ام المؤمنین) حفصہ ؓ سے بیان کیا پھر حفصہ ؓ نے اسے نبی اکرم ﷺ سے بیان کیا تو آپ نے فرمایا: تیرا بھائی ایک مرد صالح ہے یا فرمایا: عبداللہ مرد صالح ہیں ١ ؎۔ امام ترمذی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) narrated: I saw in a dream as though I had a piece of silk in my hand. I did not point with it to any place in paradise, but it flew there with me. So, I related it to Hafsah and she recounted it to the Prophet ﷺ ‘ who said, “Your brother is a righteous man.” or (he said), “Abdullah is a righteous man.” [Bukhari 1121, Muslim 2478, Ahmed 4494]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3825
Notes · وضاحت
١ ؎: کسی کے صالح ہونے کی شہادت اللہ کے رسول ﷺ دیں، اس کے شرف کا کیا پوچھنا!۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (خواب میں) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ ؓ سے فرمایا: عائشہ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا ، تو آپ ﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah reported that the Prophet ﷺ saw the (light of a) lantern in the house of Zubayr and said, “O Ayshah, I do not see Asma but that a child is born to her. Do not name him till I give him a name.” Then he named him Abdullah and chewed a date and rubbed the moistened date on the child’s palate. --------------------------------------------------------------------------------
حسنصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3826
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی اسے چبا کر ان کے منہ میں ڈال دیا جس کے منہ میں اللہ کے نبی ﷺ کا لعاب دہن گیا وہ منہ کتنا مبارک ہوگیا! «ذلک فضل اللہ يؤتيه من يشاء» (الجمعة: ٤)۔
انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گزرے تو میری ماں ام سلیم نے آپ کی آواز سن کر بولیں: میرے باپ اور میری ماں آپ پر فدا ہوں اللہ کے رسول! یہ انیس ١ ؎ ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے میرے لیے تین دعائیں کیں، ان میں سے دو کو تو میں نے دنیا ہی میں دیکھ لیا ٢ ؎ اور تیسرے کا آخرت میں امیدوار ہوں ٣ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: As Allah’s Messenger ﷺ was passing by, my mother, Umm Sulaym, heard him. She said, “My parent be ransomed to you, O Messenger of Allah ﷺ (this is) Unays. Allah’s Messenger ﷺ prayed for me three supplications. I have found two of them (answered) in this world and I hope for the third in the Hereafter. [Muslim 2481]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3827
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- یہ حدیث انس سے دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اور وہ اسے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: انیس یہ انس کی تصغیر ہے۔ ٢ ؎: ان دونوں دعاؤں کا تعلق مال و اولاد کی کثرت سے تھا، انس ؓ کا خود بیان ہے کہ میری زمین سال میں دو مرتبہ پیداوار دیتی تھی، اور میری اولاد میں میرے پوتے اور نواسے اس کثرت سے ہوئے کہ ان کی تعداد سو کے قریب ہے ( دیکھئیے اگلی حدیث رقم: ٣٨٤٦)۔ ٣ ؎: اس دعا کا تعلق گناہوں کی مغفرت سے تھا جو انہیں آخرت میں نصیب ہوگی۔ «إن شاء اللہ»
ام سلیم ؓ کہتی ہیں کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! انس آپ کا خادم ہے، آپ اللہ سے اس کے لیے دعا فرما دیجئیے۔ آپ نے فرمایا: «اللهم أكثر ماله وولده وبارک له فيما أعطيته» اے اللہ! اس کے مال اور اولاد میں زیادتی عطا فرما اور جو تو نے اسے عطا کیا ہے اس میں برکت دے ۔
Sayyidh Umm Sulaym (RA) submitted, “O Messenger of Allah, Anas ibn Maalik (RA) is your servant. Pray to Allah for him.” He said, ‘O Allah, bless (him) in his wealth and his children, and bless for him that which You give him. [Ahmed 27496, Bukhari 1982, Muslim 2480]
١- یہ حدیث غریب ہے، اس حدیث کو ہم صرف جابر جعفی کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ ابونصر سے روایت کرتے ہیں، ٢- ابونصر کا نام خیثمہ بن ابی خیثمہ بصریٰ ہے، انہوں نے انس سے کئی حدیثیں روایت کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨٢٦) (ضعیف) (سند میں خیثمہ ابو نصر العبدی لین الحدیث راوی ہیں)
ثابت بنانی کا بیان ہے کہ مجھ سے انس بن مالک ؓ نے کہا: اے ثابت مجھ سے علم دین حاصل کرو کیونکہ اس کے لیے تم مجھ سے زیادہ معتبر آدمی کسی کو نہیں پاؤ گے، میں نے اسے (براہ راست) رسول اللہ ﷺ سے لیا ہے، اور آپ ﷺ نے جبرائیل (علیہ السلام) سے اور جبرائیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے لیا ہے۔
Thabit Bunani reported that Sayyidina Anas ibn Maalik said to him, “O Thabit, learn from me for, you will never derive from anyone (knowledge) more authentic than from me. I have derived it from Allah’s Messenger, and he derived it from Jibrilr who derived it from Allah, the Majestic, the Glorious.”
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3831
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف زید بن حباب کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤٩١) (ضعیف الإسناد) (سند میں میمون بن ابان مجہول الحال راوی ہے)
اس سند سے بھی انس ؓ سے ابراہیم بن یعقوب والی حدیث ہی کی طرح حدیث مروی ہے، لیکن اس میں اس کا ذکر نہیں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے اسے جبرائیل سے لیا ہے۔
Abu Kurayb reported the like of hadith of Ibrahim ibn Yaqub from Zayd ibn Hubab, from Maymun Abu Abdullah, from Thahit, from Anas ibn Maalik (RA) But, he did not mention: And the Prophet ﷺ derived it from Jibril.
انس ؓ کہتے ہیں کہ کبھی کبھی نبی اکرم ﷺ مجھے کہتے: اے دو کانوں والے ۔ ابواسامہ کہتے ہیں: یعنی آپ ان سے یہ مذاق کے طور پر فرماتے ١ ؎۔
Sayyidina Anas narrated: Allah’s Messenger ﷺ addressed me, “O possessor of two ears!’ Abu Salamah explained that it was by way of jest. [Abu Dawud 5002, Ahmed 12165]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3828
ابوخلدہ کہتے ہیں کہ میں نے ابوالعالیہ سے پوچھا: کیا انس ؓ نے نبی اکرم ﷺ سنا ہے؟ تو انہوں نے کہا: انس ؓ نے نبی اکرم ﷺ کی دس سال خدمت کی ہے اور آپ نے ان کے لیے دعا فرمائی ہے، اور انس ؓ کا ایک باغ تھا جو سال میں دو بار پھلتا تھا، اور اس میں ایک خوشبودار پودا تھا جس سے مشک کی بو آتی تھی۔
Abu Khaldah reported that he asked Abul Aaliyah if Anas had heard anything from the Prophet ﷺ . He said ‘He served him ten years and the Prophet ﷺ prayed for him. He had a garden that produced fruit twice each year and there was in it a tree that gave out the fragrance of musk.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، الصحيحة (2241)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3833
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور وہ محدثین کے نزدیک ثقہ ہیں اور ابوخلدہ نے انس بن مالک ؓ کا زمانہ پایا ہے، اور انہوں نے ان سے روایت کی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں بہت سی چیزیں آپ سے سنتا ہوں لیکن انہیں یاد نہیں رکھ پاتا، آپ نے فرمایا: اپنی چادر پھیلاؤ، تو میں نے اسے پھیلا دیا، پھر آپ نے بہت سے حدیثیں بیان فرمائیں، تو آپ نے جتنی بھی حدیثیں مجھ سے بیان فرمائیں میں ان میں سے کوئی بھی نہیں بھولا۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: I said, “O Messenger of Allah, I hear from you something but cannot retain it (in my memory).” He said, “Spread your cloak.’ So, I spread it, Then, he narrated many ahadith, and I did not forget anything that he narrated. [Bukhari 118, Muslim 2492]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3835
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اور ابوہریرہ ؓ سے کئی سندوں سے آئی ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو میں نے آپ کے پاس اپنی چادر پھیلا دی، آپ نے اسے اٹھایا اور سمیٹ کر اسے میرے دل پر رکھ دیا، اس کے بعد سے میں کوئی چیز نہیں بھولا۔
Sayyidina Abu Hurayrah narrated: I went to the Prophet ﷺ and spread my cloak befoure him. He took it and rolled it up on my heart. After that, I never forgot (anything).
حسن الإسناد صحيحهصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3834
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابوہریرہ ؓ سے کہا: ابوہریرہ! آپ ہم سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہنے والے اور ہم سے زیادہ آپ ﷺ کی حدیثیں یاد رکھنے والے ہیں۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) said to Sayyidina Abu Hurayrah “O Abu Hurayrah, you were in the company of Allah’s Messenger ﷺ more than us and retained more hadith from him.” [Ahmed 4453]
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3836
مالک بن ابوعامر کہتے ہیں کہ ایک شخص نے طلحہ بن عبیداللہ کے پاس آ کر کہا: اے ابو محمد! کیا یہ یمنی شخص یعنی ابوہریرہ رسول اللہ ﷺ کی حدیثوں کا آپ لوگوں سے زیادہ جانکار ہے، ہم اس سے ایسی حدیثیں سنتے ہیں جو آپ سے نہیں سنتے یا وہ رسول اللہ ﷺ پر ایسی بات گھڑ کر کہتا ہے جو آپ نے نہیں فرمائی، تو انہوں نے کہا: نہیں ایسی بات نہیں، واقعی ابوہریرہ نے رسول اللہ ﷺ سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے آپ سے نہیں سنیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ مسکین تھے، ان کے پاس کوئی چیز نہیں تھی وہ رسول اللہ ﷺ کے مہمان رہتے تھے، ان کا ہاتھ (کھانے پینے میں) رسول اللہ ﷺ کے ہاتھ کے ساتھ پڑتا تھا، اور ہم گھربار والے تھے اور مالدار لوگ تھے، ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس صبح میں اور شام ہی میں آ پاتے تھے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ایسی چیزیں سنی ہیں جو ہم نے نہیں سنیں، اور تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس میں کوئی خیر ہو اور وہ رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھے۔
Maalik ibn Abu Aamir reported that a man came to Talhah ibn Ubaydullah and asked, “O Abu Muhammad, what do you say about this man from Yaman-that is, Abu Hurayrah (RA) does he know more ahadith of Allah’s Messenger than you people? We hear from him what we do not hear from you ,or, does he ascribe to Allah’s Messenger what he has not said?” He said He has, indeed, heard from Allah’s Messenger ﷺ what we did not hear. This, because he was poor, having nothing. He was the guest of Allah’s Messenger ‘. His hand was with the hand of Allah’s Messenger ‘ while we were people with fanilies, homes and riches. We would come to Allah’s Messenger ﷺ at the two ends of the day. Hence, there is no doubt whatever that he has heard from Allah’s Messenger ﷺ what we have not heard. And, you will never find anyone who has good in him ascribe words to Allah’s Messenger ﷺ that he had never said.
ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3837
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف محمد بن اسحاق کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اسے یونس بن بکیر نے اور ان کے علاوہ دوسرے راویوں نے بھی محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٠١٠) (ضعیف الإسناد) (سند میں محمد بن اسحاق مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تم کس قبیلہ سے ہو؟ میں نے عرض کیا: میں قبیلہ دوس کا ہوں، آپ نے فرمایا: میں نہیں جانتا تھا کہ دوس میں کوئی ایسا آدمی بھی ہوگا جس میں خیر ہوگی ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ asked, “To what tribe do you belong?” He said, “I come from Daws.” He said, “I had thought that there was none among Daws with any good in him.”
صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3838
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- ابوخلدہ کا نام خالد بن دینار ہے اور ابوالعالیہ کا نام رفیع ہے۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں کچھ کھجوریں لے کر حاضر ہوا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ان میں برکت کی دعا فرما دیجئیے، تو آپ نے انہیں اکٹھا کیا پھر ان میں برکت کی دعا کی اور فرمایا: انہیں لے جاؤ اور اپنے توشہ دان میں رکھ لو اور جب تم اس میں سے کچھ لینے کا ارادہ کرو تو اس میں اپنا ہاتھ ڈال کرلے لو، اسے بکھیرو نہیں چناچہ ہم نے اس میں سے اتنے اتنے وسق اللہ کی راہ میں دیئے اور ہم اس میں سے کھاتے تھے اور کھلاتے بھی تھے ١ ؎ اور وہ (تھیلی) کبھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتی تھی، یہاں تک کہ جس دن عثمان ؓ قتل کئے گئے تو وہ ٹوٹ کر (کہیں) گرگئی۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narated: I brought some dates to the Prophet ﷺ and requested him, ‘O Messenger of Allah, pray to Allah for blessing in these.’ He gathered them and prayed for me in it, and said to me, “Take them and put them in your tifin carrier, this one. Whenever you wish take any (date) from it put your hand into it. Take it out but do not dust it out.’ Indeed, I have carried many baskets full of this date given away in Allah’s path, we ate from it ourselves and fed other people. And it has never been put away from my back till the day when Uthman was killed it dropped (somewhere and was lost). [Ahmed 8636]
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3839
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- یہ حدیث ابوہریرہ ؓ سے دوسری سندوں سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: خیر و برکت کی دعا اللہ کے رسول ﷺ کسی مقبول بارگاہ الٰہی آدمی کے لیے کرسکتے ہیں؟ ثابت ہوا کہ ابوہریرہ ؓ مقبول بارگاہ الٰہی تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٨٩٣) (صحیح) (شواہد کی بنا پر صحیح ہے، الصحیحة: ٣٩٦٣، تراجع الالبانی ٢٢٧)
عبداللہ بن رافع کہتے ہیں کہ میں نے ابوہریرہ ؓ سے پوچھا: آپ کی کنیت ابوہریرہ کیوں پڑی؟ تو انہوں نے کہا: کیا تم مجھ سے ڈرتے نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں؟ قسم اللہ کی! میں آپ سے ڈرتا ہوں، پھر انہوں نے کہا: میں اپنے گھر والوں کی بکریاں چراتا تھا، میری ایک چھوٹی سی بلی تھی میں اس کو رات میں ایک درخت پر بٹھا دیتا اور دن میں اسے اپنے ساتھ لے جاتا، اور اس سے کھیلتا، تو لوگوں نے میری کنیت ابوہریرہ رکھ دی۔
Abdullah ibn Rafi’ reported that he asked Sayyidina Abu Hurayrah (RA) “How did you get the kunyah Abu Hurayrah? He asked, “Are you afraid of me?” He said, “Yes. By Allah, I fear you.” He said, “I used to graze the sheep of my family, and I had a small cat. I would put it up on a tree at night. When it was day, I would go out, and she with me and I would play with her. Thus, people gave me the kunyah Abu Hurayrah.”
حسن الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3840
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی حدیثیں مجھ سے زیادہ کسی کو یاد نہیں، سوائے عبداللہ بن عمرو کے کیونکہ وہ لکھ لیتے تھے اور میں لکھتا نہیں تھا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: There is not anyone knowing more ahadith from Allah’s Messenger than me except Abdullah ibn Amr.He used to write down while I did not write down. [Tirmidhi 2677, Ahmed 7393, Bukhari 113] --------------------------------------------------------------------------------
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3841
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: لکھ لینے کے باوجود عبداللہ بن عمرو ؓ کی روایات ابوہریرہ ؓ سے زیادہ نہیں ہیں، یہ صرف ان کا گمان تھا کہ لکھ دینے کی وجہ سے زیادہ ہوں گی، نیز اس روایت میں یہ بات بھی ہے کہ عہد نبوی میں بھی لوگ احادیث رسول لکھا کرتے تھے، خود ابوہریرہ ؓ کے پاس بعد میں تحریری شکل میں احادیث کا مجموعہ ہوگیا تھا۔ یہ بھی واضح رہے کہ ابوہریرہ ؓ نے علم حدیث کے سیکھنے سکھانے کو اپنی زندگی کا مشغلہ بنا لیا تھا، جب سے مدینہ آئے، رسول اللہ ﷺ کے ساتھ دن رات رہ کر احادیث کا علم حاصل کیا، بعد میں ٥٧ ھ سے ٥٨ ھ تک اسی کے نشر و اشاعت میں مدینۃ الرسول اور مسجد رسول میں بیٹھ کر مشغول رہے، جب کہ عبداللہ بن عمرو بن العاص ؓ نے مدینہ چھوڑ کر طائف کی سکونت اختیار کرلی، اور شاید اسی وجہ سے آپ کی احادیث ہم تک نہیں پہنچ سکیں۔
صحابی رسول عبدالرحمٰن بن ابی عمیرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے معاویہ ؓ کے بارے میں فرمایا: اے اللہ! تو ان کو ہدایت دے اور ہدایت یافتہ بنا دے، اور ان کے ذریعہ لوگوں کو ہدایت دے ١ ؎۔
Sayyidina Abdur Rahman ibn Abu Umayrah (RA) one of the sahabah of Allah’s Messenger reported that the Prophet ﷺ prayed for Mu’awiyah (RA). O Allah! guide him, make him a guided who guides and guide people through him. [Ahmed 17915]
١ ؎: اور یہ دعا آپ کی ان دعاؤں میں سے نہیں ہے جو قبول نہیں ہوئیں تھیں، یہ مقبول دعاؤں میں سے ہے، ثابت ہوا کہ معاویہ ؓ خود ہدایت پر تھے اور لوگوں کے لیے ہدایت کا معیار تھے، «ؓ»۔
ابوادریس خولانی کہتے ہیں کہ جب عمر بن خطاب ؓ نے عمیر بن سعد کو حمص سے معزول کیا اور ان کی جگہ معاویہ ؓ کو والی بنایا تو لوگوں نے کہا: انہوں نے عمیر کو معزول کردیا اور معاویہ کو والی بنایا، تو عمیر نے کہا: تم لوگ معاویہ ؓ کا ذکر بھلے طریقہ سے کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: «اللهم اهد به» اے اللہ! ان کے ذریعہ ہدایت دے ۔
Abu Idris Khawlani reported that when Umar ibn Khattab (RA) removed Umayr ibn Sad as governor of Hims and appointed Mu’awiyah (instead), the people commented, he has dismissed Umayr and appointed Muawiyah. So, Umayr said, “Do not mention Mu’awiyah except in praise, for, I have heard Allah’s Messenger ﷺ say: O Allah, guide people through him.”
صحيح بما قبله (3842)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3843
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- عمرو بن واقد حدیث میں ضعیف ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٨٩٢) (صحیح) (سند میں عمرو بن واقد ضعیف ہے، اوپر کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث صحیح ہے)
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف ابن لہیعہ کی روایت سے جانتے ہیں جسے وہ مشرح بن ہاعان سے روایت کرتے ہیں اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: عمرو بن العاص ؓ فتح مکہ سے ایک سال یا دو سال پہلے اسلام لا کر مدینہ کی طرف ہجرت کرچکے تھے، اور اہل مکہ میں سے جو لوگ فتح مکہ کے بعد اسلام لائے ان کی بنسبت عمرو بن العاص کا اسلام لانا کسی زور و زبردستی اور خوف و ہراس سے بالاتر تھا اسی لیے آپ نے ان کے متعلق فرمایا کہ دوسرے لوگ ( جو لوگ فتح مکہ کے دن ایمان لائے وہ ) تو خوف و ہراس کے عالم میں اسلام لائے، لیکن عمرو بن العاص ؓ کا ایمان ان کے دلی اطمینان اور چاہت و رغبت کا مظہر ہے، گویا اللہ نے انہیں اس ایمان قلبی سے نوازا ہے جس کا درجہ بڑھا ہوا ہے۔