حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کے مناقب
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاق الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُؤَمَّلِ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْعَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى فِي بَيْتِ الزُّبَيْرِ مِصْبَاحًا، فَقَالَ: يَا عَائِشَةُ مَا أُرَى أَسْمَاءَ إِلَّا قَدْ نُفِسَتْ، فَلَا تُسَمُّوهُ حَتَّى أُسَمِّيَهُ ، فَسَمَّاهُ عَبْدَ اللَّهِ، وَحَنَّكَهُ بِتَمْرَةٍ بِيَدِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.
ام المؤمنین عائشہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے (خواب میں) زبیر کے گھر میں ایک چراغ دیکھا تو آپ نے عائشہ ؓ سے فرمایا: عائشہ! میں یہی سمجھا ہوں کہ اسماء کے یہاں ولادت ہونے والی ہے، تو اس کا نام تم لوگ نہ رکھنا، میں رکھوں گا ، تو آپ ﷺ نے ان کا نام عبداللہ رکھا، اور اپنے ہاتھ سے ایک کھجور کے ذریعہ ان کی تحنیک کی ١ ؎۔
Sayyidah Ayshah reported that the Prophet ﷺ saw the (light of a) lantern in the house of Zubayr and said, “O Ayshah, I do not see Asma but that a child is born to her. Do not name him till I give him a name.” Then he named him Abdullah and chewed a date and rubbed the moistened date on the child’s palate. --------------------------------------------------------------------------------