مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 13 of 18

3845Sunan At-Tirmidhi

حضرت عمر و بن عاص کے مناقب

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: قَالَ طَلْحَةُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ مِنْ صَالِحِي قُرَيْشٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ نَافِعِ بْنِ عُمَرَ الْجُمَحِيِّ، وَنَافِعٌ ثِقَةٌ، وَلَيْسَ إِسْنَادُهُ بِمُتَّصِلٍ، وَابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ لَمْ يُدْرِكْ طَلْحَةَ.

طلحہ بن عبیداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: عمرو بن العاص ؓ قریش کے نیک لوگوں میں سے ہیں ۔

Sayyidina Talhah ibn Ubaydullah (RA) reported that he heard Allah’s Mesenger ﷺ , “Indeed, Amr ibn al-Aas is among the righteous men of Quraysh.” [Ahmed 1382]

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3845
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
اس حدیث کو ہم صرف نافع بن عمر جمحی کی روایت سے جانتے ہیں اور نافع ثقہ ہیں اور اس کی سند متصل نہیں ہے، اور ابن ابی ملیکہ نے طلحہ کو نہیں پایا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٠٠١) (ضعیف الإسناد) (سند میں ابن ابی ملیکہ اور طلحہ کے درمیان انقطاع ہے)
3846Sunan At-Tirmidhi

حضرت خالد بن ولید کے مناقب

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْزِلًا، فَجَعَلَ النَّاسُ يَمُرُّونَ، فَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ هَذَا يَا أَبَا هُرَيْرَةَ ؟ ، فَأَقُولُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُ: نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا ، وَيَقُولُ: مَنْ هَذَا ؟ ، فَأَقُولُ: فُلَانٌ، فَيَقُولُ: بِئْسَ عَبْدُ اللَّهِ هَذَا ، حَتَّى مَرَّ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟ ، فَقُلْتُ: هَذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، فَقَالَ: نِعْمَ عَبْدُ اللَّهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ سَيْفٌ مِنْ سُيُوفِ اللَّهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَلَا نَعْرِفُ لِزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ سَمَاعًا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَهُوَ عِنْدِي حَدِيثٌ مُرْسَلٌ. قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک منزل پر پڑاؤ کیا، جب لوگ آپ کے سامنے سے گزرتے تو آپ پوچھتے: ابوہریرہ! یہ کون ہے؟ میں کہتا: فلاں ہے، تو آپ فرماتے: کیا ہی اچھا بندہ ہے یہ اللہ کا ، پھر آپ فرماتے: یہ کون ہے؟ تو میں کہتا: فلاں ہے تو آپ فرماتے: کیا ہی برا بندہ ہے یہ اللہ کا ١ ؎، یہاں تک کہ خالد بن ولید گزرے تو آپ نے فرمایا: یہ کون ہے؟ میں نے عرض کیا: یہ خالد بن ولید ہیں، آپ نے فرمایا: کیا ہی اچھے بندے ہیں اللہ کے خالد بن ولید، وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہیں ٢ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated: In a journey with Allah’s Messenger ﷺ we halted at a place. People began to go past us. Allah’s Messenger asked, “Who is he, O Abu Hurayrah?” As I named him, he said, “Excellent slave of Allah, this!” Then he asked, “And who is this?” I named him and he said, “Evil slave of Allah, this” So, on, till Khalid ibn Walid passed by and he asked, “Who is he?” I named him, “Khalid ibn Walid.” He said, “Excellent slave of Allah, Khalid ibn Walid, a sword of the swords of Allah!” [Ahmed 8728]

صحيح، المشکاة (6253 / التحقيق الثاني)، الصحيحة (1237 - 1826)، أحكام الجنائز (166)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3846
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، اور ہم نہیں جانتے کہ زید بن اسلم کا سماع ابوہریرہ ؓ سے ہے کہ نہیں اور یہ میرے نزدیک مرسل روایت ہے، ٢- اس باب میں ابوبکر صدیق ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جن لوگوں کے بارے میں آپ نے یہ جملہ ارشاد فرمایا شاید وہ منافقین ہوں گے، ورنہ کسی صحابی کے بارے میں آپ ایسا نہیں فرما سکتے تھے ٢ ؎: خالد بن ولید ؓ کے حق میں آپ کا یہ فرمان عمر ؓ کے دور خلافت میں سچ ثابت ہوا، اللہ نے خالد بن ولید ؓ کے ذریعہ دین کی ایسی تائید فرمائی کہ ان کے ہاتھوں متعدد فتوحات حاصل ہوئیں، خالد بن ولید ؓ حقیقت میں اس ملت کی ایسی تلوار تھے جسے اللہ نے کافروں کی برتری کے لیے میان سے باہر نکالی تھی۔ اور خالد بن ولید ؓ کے وہ اکیلے جرنیل ہیں جنہوں نے زندگی بھر کبھی کسی جنگ میں شکست نہیں کھائی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٢٩٠٧) (صحیح) (الصحیحة ١٢٣٧، ١٨٢٦)
3847Sunan At-Tirmidhi

حضرت سعد بن معاذ کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنِ الْبَرَاءِ، قَالَ: أُهْدِيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَوْبُ حَرِيرٍ، فَجَعَلُوا يَعْجَبُونَ مِنْ لِينِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذَا، لَمَنَادِيلُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِنْ هَذَا . وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

براء ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ ریشمی کپڑے ہدیہ میں آئے، ان کی نرمی کو دیکھ کر لوگ تعجب کرنے لگے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جنت میں سعد بن معاذ ؓ کے رومال اس سے بہتر ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Bara (RA) reported that a piece of silk cloth’ was presented to Allah’s Messenger .The people were astonished at its softness. Allah’s Messenger ﷺ said, “Are you astonished at this? The head gears of Sa’d ibn Mu’adh in paradise would be more beautiful than this.” [Ahmed 17418]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3847
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں انس ؓ بھی حدیث مروی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیگر لفظوں میں آپ نے دنیا ہی میں سعد بن معاذ کے جنتی ہونے کی خوشخبری سنا دی ؓ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٨ (٣٢٤٩)، مناقب الأنصار ١٢ (٣٨٠٢)، واللباس ٢٦ (٥٨٣٦)، والأیمان والنذور ٣ (٦٦٤٠)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٤ (٢٤٦٨)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥٧) (تحفة الأشراف: ١٨٥٠) (صحیح)
3848Sunan At-Tirmidhi

حضرت سعد بن معاذ کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَجَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ: اهْتَزَّ لَهُ عَرْشُ الرَّحْمَنِ . قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ، وَرُمَيْثَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو کہتے ہوئے سنا: اور سعد بن معاذ ؓ کا جنازہ (اس وقت لوگوں کے سامنے رکھا ہوا تھا) : ان کے لیے رحمن کا عرش (بھی خوشی سے) جھوم اٹھا ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say when the funeral bier of Sad ibn Muadh was placed before them, “The throne of the Compassionate shook.” [Ahmed 14155, Muslim 2466]

صحيح، ابن ماجةصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3848
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں اسید بن حضیر، ابو سعید خدری اور رمیثہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: ان کے آسمان پر آ جانے کی خوشی میں، بعض لوگوں نے رحمان کے عرش کو اٹھانے والے فرشتے مراد لیا ہے کہ وہ سعد بن معاذ ؓ کے آسمان پر آنے کی خوشی میں جھوم اٹھے، بہرحال یہ ان کے مقرب بارگاہ الٰہی ہونے کی دلیل ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ١٢ (٣٨٠٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٤ (٢٤٦٦)، سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٥٨) (تحفة الأشراف: ٢٨١٥) (صحیح)
3849Sunan At-Tirmidhi

حضرت سعد بن معاذ کے مناقب

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: لَمَّا حُمِلَتْ جَنَازَةُ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ قَالَ الْمُنَافِقُونَ: مَا أَخَفَّ جَنَازَتَهُ، وَذَلِكَ لِحُكْمِهِ فِي بَنِي قُرَيْظَةَ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ الْمَلَائِكَةَ كَانَتْ تَحْمِلُهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ ؓ کا جنازہ اٹھایا گیا تو منافقین کہا: کتنا ہلکا ہے ان کا جنازہ؟ اور یہ طعن انہوں نے اس لیے کیا کہ سعد نے بنی قریظہ کے قتل کا فیصلہ فرمایا تھا، جب نبی اکرم ﷺ کو اس کی خبر ہوئی تو آپ نے فرمایا: فرشتے اسے اٹھائے ہوئے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Anas (RA) reported that when the funeral of Sa’d ibn Mu’adh (RA) was carried, the hypocrites commented, “How light is his funeral bier! That is because of his judgement on the Banu Quraysh.” This was conveyed to the Prophet ﷺ and he said, “Surely the angels are carrying it.” [Ahmed 13454, Muslim 2467]

صحيح، المشکاة (6228)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3849
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: نبی اکرم ﷺ جب خندق کی لڑائی سے فارغ ہوگئے اور بنی قریظہ کا رخ کیا تو اس وقت یہ لوگ ایک قلعہ میں محبوس تھے، لشکر اسلام نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا، پھر یہ لوگ سعد بن معاذ ؓ کے فیصلہ پر راضی ہوئے، چناچہ سعد نے ان کے حق میں یہ فیصلہ دیا کہ ان کے جنگجو جوان قتل کردیئے جائیں، مال مسلمانوں میں تقسیم ہوں اور عورتیں بچے غلام و لونڈی بنا لیے جائیں، آپ ﷺ نے سعد کا یہ فیصلہ بہت پسند فرمایا اور اسی پر عمل ہوا، اسی فیصلہ کی وجہ سے منافقوں نے ان سے جل کر یہ طعن کیا کہ ان کا جنازہ کیسا ہلکا ہے، ان احمقوں کو یہ خبر نہ تھی کہ اسے ملائکہ اٹھائے ہوئے ہیں ( یہ ان کے اللہ کے ازحد محبوب بندہ ہونے کی دلیل ہے )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٤٥) (صحیح)
3850Sunan At-Tirmidhi

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کے مناقب

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: كَانَ قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَنْزِلَةِ صَاحِبِ الشُّرَطِ مِنَ الْأَمِيرِ . قَالَ الْأَنْصَارِيُّ: يَعْنِي مِمَّا يَلِي مِنْ أُمُورِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ الْأَنْصَارِيِّ.حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ نَحْوَهُ، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ قَوْلَ الْأَنْصَارِيِّ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ قیس بن سعد ؓ نبی اکرم ﷺ کے لیے ایسے ہی تھے جیسے امیر (کی حفاظت) کے لیے پولیس والا ہوتا ہے۔ راوی حدیث (محمد بن عبداللہ) انصاری کہتے ہیں: یعنی وہ (آپ ﷺ کی حفاظت کے لیے) آپ کے بہت سے امور انجام دیا کرتے تھے۔

Sayyidina Anas (RA) reported that Sayyidina Qays ibn Sad was with the Prophet ﷺ like a courtier with an amir. (The narrator Ansari said that he discharged hiscommands). [Bukhari 7155]

صحيح صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3850 ہم سے محمد بن یحییٰ نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے محمد بن عبداللہ انصاری نے اسی جیسی حدیث بیان کی لیکن اس میں انصاری کا قول ذکر نہیں کیا۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3850
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف انصاری کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأحکام ١٢ (٧١٥٥) (تحفة الأشراف : ٥٠١) (صحیح) انظر ما قبلہ (صحیح)
3851Sunan At-Tirmidhi

حضرت جابر بن عبداللہ کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: جَاءَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ بِرَاكِبِ بَغْلٍ وَلَا بِرْذَوْنٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس آئے ١ ؎، آپ نہ کسی خچر پر سوار تھے نہ ترکی گھوڑے پر۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that when Allah’s Messenger ﷺ visited him, hewas neither riding a mule nor riding a Turk horse. (Rather, he came on foot).

صحيح مختصر الشمائل (291)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3851
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری اور دیگر کتب سنن میں ہے کہ آپ میری عیادت کو آئے … بہرحال اس میں جابر ؓ سے آپ ﷺ کے غایت درجہ محبت کرنے کی دلیل ہے، کہ سواری نہ ہونے پر پیدل چل کر ان کی عیادت کو گئے، ؓ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المرضی ١٥ (٥٦٦٤)، سنن ابی داود/ الجنائز ٦ (٣٠٩٦)، وانظر ماتقدم برقم ٢٠٩٧) (تحفة الأشراف: ٣٠٢١) (صحیح)
3852Sunan At-Tirmidhi

حضرت جابر بن عبداللہ کے مناقب

حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: اسْتَغْفَرَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ الْبَعِيرِ خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: لَيْلَةَ الْبَعِيرِ مَا رُوِيَ عَنْ جَابِرٍ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَبَاعَ بَعِيرَهُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَاشْتَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ، يَقُولُ جَابِرٌ: لَيْلَةَ بِعْتُ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْبَعِيرَ اسْتَغْفَرَ لِي خَمْسًا وَعِشْرِينَ مَرَّةً، وَكَانَ جَابِرٌ قَدْ قُتِلَ أَبُوهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَرَامٍ يَوْمَ أُحُدٍ وَتَرَكَ بَنَاتٍ، فَكَانَ جَابِرٌ يَعُولُهُنَّ وَيُنْفِقُ عَلَيْهِنَّ وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبَرُّ جَابِرًا، وَيَرْحَمُهُ لِسَبَبِ ذَلِكَ. هَكَذَا رُوِيَ فِي حَدِيثٍ عَنْ جَابِرٍ نَحْوَ هَذَا.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے «ليلة البعير» (اونٹ کی رات) میں میرے لیے پچیس بار دعائے مغفرت کی۔

Sayyidina Jabir (RA) narrated: Allah’s Messenger sought forgiveness for me on the night of the camel twenty-five times. [Bukhari 2718, Muslim 715, Ahmed 15017, Nisai 4655] --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (6238)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3852
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- ان کے قول «ليلة البعير» اونٹ کی رات سے وہ رات مراد ہے جو جابر سے کئی سندوں سے مروی ہے کہ وہ ایک سفر میں نبی اکرم ﷺ کے ساتھ تھے، انہوں نے اپنا اونٹ نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ بیچ دیا اور مدینہ تک اس پر سوار ہو کر جانے کی شرط رکھ لی، جابر ؓ کہتے ہیں: جس رات میں نے نبی اکرم ﷺ کے ہاتھ اونٹ بیچا آپ نے پچیس بار میرے لیے دعائے مغفرت فرمائی۔ اور جابر کے والد عبداللہ بن عمرو بن حرام ؓ احد کے دن شہید کردیئے گئے تھے اور انہوں نے کچھ لڑکیاں چھوڑی تھیں، جابر ان کی پرورش کرتے تھے اور ان پر خرچ دیتے تھے، اس کی وجہ سے نبی اکرم ﷺ ان کے ساتھ حسن سلوک فرماتے تھے اور ان پر رحم کرتے تھے، ٣- اسی طرح ایک اور حدیث میں جابر سے ایسے ہی مروی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي) ( تحفة الأشراف: ٢٦٩١) (ضعیف) (ابوالزبیر مدلس ہیں، اور روایت عنعنہ سے ہے)
3853Sunan At-Tirmidhi

ضرت نصعب بن عمیر کے مناقب

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ خَبَّابٍ، قَالَ: هَاجَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبْتَغِي وَجْهَ اللَّهِ، فَوَقَعَ أَجْرُنَا عَلَى اللَّهِ فَمِنَّا مَنْ مَاتَ وَلَمْ يَأْكُلْ مِنْ أَجْرِهِ شَيْئًا، وَمِنَّا مَنْ أَيْنَعَتْ لَهُ ثَمَرَتُهُ فَهُوَ يَهْدِبُهَا، وَإِنَّ مُصْعَبَ بْنَ عُمَيْرٍ مَاتَ، وَلَمْ يَتْرُكْ إِلَّا ثَوْبًا كَانُوا إِذَا غَطَّوْا بِهِ رَأْسَهُ خَرَجَتْ رِجْلَاهُ، وَإِذَا غُطِّى بِهَا رِجْلَيْهِ خَرَجَ رَأْسُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: غَطُّوا رَأْسَهُ وَاجْعَلُوا عَلَى رِجْلَيْهِ الْإِذْخِرَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ شَقِيقِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ نَحْوَهُ.

خباب ؓ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہجرت کی ١ ؎، ہم اللہ کی رضا کے خواہاں تھے تو ہمارا اجر اللہ پر ثابت ہوگیا ٢ ؎ چناچہ ہم میں سے کچھ لوگ تو ایسے ہیں کہ انہوں نے اپنے اجر میں سے (دنیا میں) کچھ بھی نہیں کھایا ٣ ؎ اور کچھ ایسے ہیں کہ ان کے امید کا درخت بار آور ہوا اور اس کے پھل وہ چن رہے ہیں، اور مصعب بن عمیر ؓ نے ایسے وقت میں انتقال کیا کہ انہوں نے کوئی چیز نہیں چھوڑی سوائے ایک ایسے کپڑے کے جس سے جب ان کا سر ڈھانپا جاتا تو دونوں پیر کھل جاتے اور جب دونوں پیر ڈھانپے جاتے تو سر کھل جاتا، یہ دیکھ کر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ان کا سر ڈھانپ دو اور ان کے پیروں پر اذخر گھاس ڈال دو ٤ ؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

Sayyidina Khabbab (RA) narrated: We made hijrah (migrated to Madinah) with the Prophet ﷺ seeking Allah’s countenance. So, our reward was with Allah. There were those of us who died before receiving reward (in the world) and there were others who survived to reap the fruit thereof. Mus’ab ibn Umayr (RA), “ died leaving behind nothing but a garment such that if his head was covered with it, his feet became bare and if it was stretched over his feet, his head was exposed. So, Allah’s Messenger said, “Cover his head and put izkhir on his feet.” (Izkhir is lemon grass). [Ahmed 21134, Bukhari 1276, Muslim 940, Abu Dawud 3155, Nisai 1899] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح أحكام الجنائز (57 - 58) صحيح أحكام الجنائز (57 - 58)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3853 ہم سے ہناد نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابن ادریس نے بیان کیا، اور ابن ادریس نے اعمش سے، اعمش نے ابو وائل شفیق بن سلمہ سے اور ابو وائل نے خباب بن ارت ؓ سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3853
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی آپ کے حکم سے ہجرت کی، ورنہ ہجرت میں آپ کے ساتھ صرف ابوبکر ؓ تھے، یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے آپ کے آگے پیچھے ہجرت کی اور بالآخر سب مدینہ پہنچے۔ ٢ ؎: یعنی اللہ کے اپنے اوپر آپ خود سے واجب کرنے پر، ورنہ آپ پر کون کوئی چیز واجب کرسکتا ہے، یا آپ نے ایسا اس لیے کہا کہ اللہ نے اس کا خود ہی وعدہ فرمایا ہے، اور اللہ کا وعدہ سچا پکا ہوتا ہے۔ ٣ ؎: یعنی فتوحات سے قبل ہی ان کا انتقال ہوگیا تو اموال غنیمت سے استفادہ کرنے کا ان کو موقع نہیں ملا، ورنہ صحابہ نے خاص مال غنیمت کی نیت سے ہجرت نہیں کی تھی۔ ٤ ؎: چونکہ مصعب کا انتقال فراخی ہونے سے پہلے ہوا تھا اس لیے سرکاری بیت المال میں بھی اتنی گنجائش نہیں تھی کہ ان کے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجنائز ٢٧ (١٢٧٦)، ومناقب الأنصار ٤٥ (٣٨٩٧)، والمغازي ١٧ (٤٠٤٧)، و ٢٦ (٤٠٨٢)، والرقاق ٧ (٦٤٣٢)، ١٦ (٦٤٤٨)، صحیح مسلم/الجنائز ١٣ (٩٤٠)، سنن ابی داود/ الوصایا ١١ (٢٨٧٦)، سنن النسائی/الجنائز ٤٠ (١٩٠٤) (تحفة الأشراف: ٣٥١٤)، و مسند احمد (٥/١٠٩، ١١٢) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3854Sunan At-Tirmidhi

حضرت براہ بن مالک کے مناقب

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا ثَابِتٌ، وَعَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَمْ مِنْ أَشْعَثَ أَغْبَرَ ذِي طِمْرَيْنِ لَا يُؤْبَهُ لَهُ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ مِنْهُمْ الْبَرَاءُ بْنُ مَالِكٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ حَسَنٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کتنے پراگندہ بال غبار آلود اور پرانے کپڑے والے ہیں کہ جن کی کوئی پرواہ نہیں کرتا ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر قسم کھا لیں تو اللہ ان کی قسم کو سچی کر دے ١ ؎، انہیں میں سے براء بن مالک ہیں ۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, ‘How many there are with dishevelled hair and dusty bodies, worried and wearing a pair of ragged garments to whom people pay no attention, yet, if they were to adjure by Allah, He would confirm them to be true! One of them is Bara ibn Maalik --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، المشکاة (6239)، تخريج المشکلة (125)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3854
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ ان کے اللہ تعالیٰ کے نہایت محبوب ہونے کی دلیل ہے، اور یہ محبوبیت یونہی حاصل ہوجاتی، بلکہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے اوامر و نواہی اور احکامات کی صدق دل اور فدائیت کے ساتھ بجا آوری کرتے ہیں، اس لیے ان کو یہ مقام حاصل ہوجاتا ہے، اور ان میں براء بن مالک بھی تھے، ؓ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٧٥، و ١١٠١)، و مسند احمد (٣/١٤٥) (صحیح)
3855Sunan At-Tirmidhi

حضرت ابوموسیٰ اشعری کے مناقب

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكِنْدِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: يَا أَبَا مُوسَى لَقَدْ أُعْطِيتَ مِزْمَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَفِي الْبَابِ عَنْ بُرَيْدَةَ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَنَسٍ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ابوموسیٰ تمہیں آل داود کی خوش الحانیوں (اچھی آوازوں) میں سے ایک خوش الحانی دی گئی ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Musa narrated: The Prophet ﷺ said, “O Abu Musa! Indeed, you are given a sweet voice from the sweet voice of the descendants of Dawood.” [Bukhari 5048, Muslim 793] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3855
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- اس باب میں بریدہ، ابوہریرہ اور انس ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ایک بار اللہ کے نبی ﷺ اور عائشہ ؓ ابوموسیٰ اشعری ؓ کے گھر کے پاس سے گزرے ابوموسیٰ نہایت خوش الحانی سے قرآن کی تلاوت کر رہے تھے، صبح کو اسی واقعہ پر آپ نے ان کی بابت یہ فرمایا، «مزمار» (بانسری ) گرچہ ایک آلہ ہے جس کے ذریعہ اچھی آواز نکالی جاتی ہے، مگر یہاں صرف اچھی آواز مراد ہے، داود (علیہ السلام) اپنی کتاب زبور کی تلاوت اس خوش الحانی سے فرماتے کہ اڑتی ہوئی چڑیاں فضا میں رک کر آپ کی تلاوت سننے لگتی تھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل القرآن ٣١ (٥٠٤٨)، صحیح مسلم/المسافرین ٣٤ (٧٩٣) (تحفة الأشراف: ٩٠٦٨) (صحیح)
3856Sunan At-Tirmidhi

حضرت سہل بن سعد کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَحْفِرُ الْخَنْدَقَ، وَنَحْنُ نَنْقُلُ التُّرَابَ فَيَمُرُّ بِنَا، فَقَالَ: اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَةِ فَاغْفِرْ لِلْأَنْصَارِ وَالْمُهَاجِرَهْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَأَبُو حَازِمٍ اسْمُهُ: سَلَمَةُ بْنُ دِينَارٍ الْأَعْرَجُ الزَّاهِدُ، قَالَ: وَفِي الْبَابِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ.

سہل بن سعد ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھے، آپ خندق کھود رہے تھے اور ہم مٹی ڈھو رہے تھے، آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فاغفر للأنصار والمهاجره» اے اللہ زندگی تو آخرت ہی کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی مغفرت فرما ١ ؎۔

Sayyidina Sahl ibn Sa’ad (RA) narrated: We were with Allah’s Messenger ﷺ when he was digging the trenches. We excavated the soil. He passed by us and said: O Allah, there is no life except the life of the Hereaftar. So, forgive the ansar and the muhajir. [Bukhari 6414, Ahmed 22878] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3856
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں انس بن مالک سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صاحب تحفہ الأحوذی نے اس حدیث پر باب مناقب سہل بن سعد کا عنوان لگایا ہے، اور یہی مناسب ہے، کہ اس حدیث کا تعلق ابوموسیٰ ؓ سے کسی طرح نہیں ہے، اور اس میں تمام مہاجرین و انصار صحابہ کی منقبت کا بیان ہے، جو خاص طور پر خندق کھودنے میں شریک تھے، ؓ اجمعین۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٩ (٣٧٩٧)، والمغازي ٢٩ (٤٠٩٨)، والرقاق ١ (٦٤١٤) (تحفة الأشراف: ٤٧٣٧) (صحیح)
3857Sunan At-Tirmidhi

حضرت سہل بن سعد کے مناقب

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ لَا عَيْشَ إِلَّا عَيْشَ الْآخِرَهْ فَأَكْرِمْ الْأَنْصَارَ وَالْمُهَاجِرَهْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ فرماتے تھے: «اللهم لا عيش إلا عيش الآخره فأكرم الأنصار والمهاجره» بار الٰہا زندگی تو آخرت کی زندگی ہے، تو انصار و مہاجرین کی تکریم فرما ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said: O Allah, there is no life but the life of the hereafter. So, give honur to the ansar and the muhajirin. [Ahmed 12950, Bukhari 2834, Muslim 1805] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3857
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ٢- انس ؓ سے یہ حدیث کئی سندوں سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ حدیث اگلی حدیث کے استشہاد میں لائے ہیں، یہی اس باب سے اس کی مناسبت ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٩ (٣٧٩٥)، والرقاق ١ (٦٤١٣)، صحیح مسلم/الجھاد ٤٤ (١٨٠٥) (تحفة الأشراف: ١٢٤٦) (صحیح)
3858Sunan At-Tirmidhi

صحابہ کرام کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرٍ الْأَنْصَارِيُّ، قَال: سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: لَا تَمَسُّ النَّارُ مُسْلِمًا رَآنِي، أَوْ رَأَى مَنْ رَآنِي . قَالَ طَلْحَةُ: فَقَدْ رَأَيْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، وَقَالَ مُوسَى: وَقَدْ رَأَيْتُ طَلْحَةَ، قَالَ يَحْيَى: وَقَالَ لِيّ مُوسَى: وَقَدْ رَأَيْتُنِي وَنَحْنُ نَرْجُو اللَّهَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيِّ، وَرَوَى عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ أَهْلِ الْحَدِيثِ، عَنْ مُوسَى هَذَا الْحَدِيثَ.

جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: جہنم کی آگ کسی ایسے مسلمان کو نہیں چھوئے گی جس نے مجھے دیکھا، یا کسی ایسے شخص کو دیکھا جس نے مجھے دیکھا ہے ، طلحہ (راوی حدیث) نے کہا: تو میں نے جابر بن عبداللہ ؓ کو دیکھا ہے اور موسیٰ نے کہا: میں نے طلحہ کو دیکھا ہے اور یحییٰ نے کہا کہ مجھ سے موسیٰ (راوی حدیث) نے کہا: اور تم نے مجھے دیکھا ہے اور ہم سب اللہ سے نجات کے امیدوار ہیں۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah (RA) reported that he heard Allah’s Messenger ﷺ say, “The fire will not touch him who has seen me, or seen one who has seen me.” Talhah said, “Indeed, I have seen Jabir ibn Abdullah.” And, Musa said, “Indeed, I saw Talhah.” And, Yahya said, and Musa said to me, “Indeed, you have seen me and we have hopes in Allah.”

ضعيف، المشکاة (6004 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (6277) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3858
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف موسیٰ بن ابراہیم انصاری کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اس حدیث کو علی بن مدینی نے اور محدثین میں سے کئی اور لوگوں نے بھی موسیٰ سے روایت کی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٢٨٨) (ضعیف) (سند میں موسیٰ بن ابراہیم انصاری صدوق ہیں، لیکن احادیث کی روایت میں غلطی کرتے ہیں، گرچہ حدیث کی تحسین ترمذی نے کی ہے، اور ضیاء مقدسی نے اسے احادیث مختارہ میں ذکر کیا ہے، اور البانی نے بھی مشکاة کی پہلی تحقیق میں اس کی تحسین کی تھی، لیکن ضعیف الترمذی میں اسے ضعیف قرار دیا، حدیث میں نکارہ بھی ہے کہ اس میں سارے صحابہ اور صحابہ کے تابعین سب کے بارے میں عذاب جہنم کی نفی موجود ہے، جب کہ اس عموم پر کوئی اور دلیل نہیں ہے، اس لیے یہ حدیث منکر بھی قرار پائے گی، نیز ملاحظہ ہو: تراجع الالبانی ٣٥٩)
3859Sunan At-Tirmidhi

صحابہ کرام کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ هُوَ السَّلْمَانِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ النَّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ يَأْتِي قَوْمٌ مِنْ بَعْدِ ذَلِكَ تَسْبِقُ أَيْمَانُهُمْ شَهَادَاتِهِمْ أَوْ شَهَادَاتُهُمْ أَيْمَانَهُمْ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ، وَعِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، وَبُرَيْدَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سب سے بہتر میرا زمانہ ہے ١ ؎، پھر ان لوگوں کا جو ان کے بعد ہیں ٢ ؎، پھر ان کا جو ان کے بعد ہیں ٣ ؎، پھر ان کے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو گواہیوں سے پہلے قسم کھائے گی یا قسموں سے پہلے گواہیاں دے گی ٤ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of people are from my age, then those who will follow them, then those who will follow them. Then, a people will come after them whose oaths will precede their testimonies or their testimonies will precede their oaths.” [Ahmed 4130, Bukhari 2652, Muslim 2533]

صحيح، ابن ماجة (2362)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3859
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عمر، عمران بن حصین اور بریدہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کا زمانہ جو نبی ﷺ کے زمانہ میں تھے، ان کا عہد ایک قرن ہے، جو ایک ہجری کے ذرا سا بعد تک ممتد ہے، آخری صحابی ( واثلہ بن اسقع ) کا اور انس ؓ کا انتقال ١١٠ ھ میں ہوا تھا۔ ٢ ؎: یعنی تابعین رحمہم اللہ۔ ٣ ؎: یعنی: اتباع تابعین رحمہم اللہ ان کا زمانہ سنہ ٢٢٠ ھ تک ممتد ہے ( بعض علماء نے ان تین قرون سے: عہد صدیقی، عہد فاروقی اور عہد عثمانی مراد لیا ہے، کہ عہد عثمانی کے بعد فتنہ و فساد کا دور دورہ ہوگیا تھا، واللہ اعلم۔ ٤ ؎: یعنی گواہی دینے اور قسم کھانے کے بڑے حریص ہوں گے، ہر وقت اس کے لیے تیار رہیں گے ذرا بھی احتیاط سے کام نہیں لیں گے، یہ باتیں اتباع تابعین کے بعد عام طور سے مسلمانوں میں پیدا ہوگئی تھیں۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الشھادات ٩ (٢٦٥٢)، وفضائل الصحابة ١ (٣٦٥١)، والأیمان والنذور ١٠ (٦٤٢٩)، والرقاق ٧ (٦٦٥٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٢ (٢٥٣٣)، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٧ (٢٣٦٢) (تحفة الأشراف: ٩٤٠٣)، و مسند احمد (١/٣٧٨، ٤١٧، ٤٣٤) (صحیح)
3860Sunan At-Tirmidhi

بیعت رضوان والوں کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَدْخُلُ النَّارَ أَحَدٌ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جن لوگوں نے (حدیبیہ میں) درخت کے نیچے بیعت کی ہے ان میں سے کوئی بھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “None of those who swore allegiance under the tree will enter Hell.” [Ahmed 4784, Abu Dawud 4653] --------------------------------------------------------------------------------

صحيح ظلال الجنة (860)، الصحيحة (2160)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3860
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: جس درخت کے نیچے بیعت ہوئی تھی یہ ایک کیکر کا درخت تھا اور اس بیعت سے مراد بیعت رضوان ہے، یہ ٦ ھ میں مقام حدیبیہ میں ہوئی، اس میں تقریباً تیرہ سو صحابہ شامل تھے۔ ایسے لوگوں کے منہ خاک آلود اور ان کی عاقبت برباد ہو جو صحابہ کرام ؓ اجمعین پر بکواس کرتے اور ان پر تہمتیں دھرتے ہیں، ہماری اس بددعا کی تائید کے لیے اگلی احادیث پڑھ لیجئے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ السنة ٩ (٤٨٥٣) (تحفة الأشراف: ٢٩١٨)، و مسند احمد (٣/٣٥٠) (صحیح)
3861Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، قَال: سَمِعْتُ ذَكْوَانَ أَبَا صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَسُبُّوا أَصْحَابِي، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ أَنَّ أَحَدَكُمْ أَنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا مَا أَدْرَكَ مُدَّ أَحَدِهِمْ وَلَا نَصِيفَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَمَعْنَى قَوْلِهِ: نَصِيفَهُ يَعْنِي نِصْفَ الْمُدِ. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ وَكَانَ حَافِظًا، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

ابو سعید خدری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ کو برا بھلا نہ کہو، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر بھی سونا خرچ کرے تو ان کے ایک مد بلکہ آدھے مد کے (اجر کے) برابر بھی نہیں پہنچ سکے گا ۔

Sayyidina Abu Sa’eed Khudri reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Do not revile my campanions, for, by Him in Whose hand is my soul, were any of you to spend gold equal to mount Uhud he would not attain to a mudd (2/3 of Kg) of one of them nay half of that. [Ahmed 11079, Bukhari 3673, Muslim 2591, Abu Dawud 46581

صحيح الظلال (988) صحيح الظلال (988)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3861 ہم سے حسن بن خلال نے بیان کیا اور وہ حافظ تھے، وہ کہتے ہیں کہ ہم سے ابومعاویہ نے بیان کیا اور ابومعاویہ نے اعمش سے، اعمش نے ابوصالح سے اور ابوصالح نے ابو سعید خدری کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی حدیث روایت کی۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3861
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- آپ کے قول «نصيفه» سے مراد نصف (آدھا) مد ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٧٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٤ (٢٥٤١)، سنن ابی داود/ السنة ١١ (٤٦٥٨) (تحفة الأشراف: ٤٠٠١)، و مسند احمد (٣/١١) (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)
3862Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنَا عَبِيدَةُ بْنُ أَبِي رَائِطَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، اللَّهَ اللَّهَ فِي أَصْحَابِي، لَا تَتَّخِذُوهُمْ غَرَضًا بَعْدِي فَمَنْ أَحَبَّهُمْ فَبِحُبِّي أَحَبَّهُمْ، وَمَنْ أَبْغَضَهُمْ فَبِبُغْضِي أَبْغَضَهُمْ، وَمَنْ آذَاهُمْ فَقَدْ آذَانِي، وَمَنْ آذَانِي فَقَدْ آذَى اللَّهَ، وَمَنْ آذَى اللَّهَ فَيُوشِكُ أَنْ يَأْخُذَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن مغفل ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو، میرے صحابہ کے معاملہ میں، اور میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Mughaffal (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Allah! Allah! my sahabah do not take them as target (for blame) after me. He who loves them, loves them because of my love and he who despises them, despises them because of despising me. And, he who hurts them, has hurt me; and, he who hurts me, hurts Allah; and, he who hurts Allah, soon He will seize him (in punishment).”

ضعيف تخريج الطحاوية (471) // (673) //، الضعيفة (2901) // ضعيف الجامع الصغير (1160) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3862
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٦٦٢)، و مسند احمد (٤/٨٧) (ضعیف) (سند میں عبد الرحمن بن زیاد مجہول راوی ہے، تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الضعیفة رقم: ٢٩٠١)
3863Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that the Prophet ﷺ said, “Surely they will enter paradise who had pledged allegiance under the tree except the owner of the red camel.” *The owner of the red camel is the hypocrite, Jaad bin Qays who instead of giving the pledge was looking for his camel.

ضعيف الصحيحة تحت الحديث (2160) // ضعيف الجامع الصغير (4873) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3863
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جد بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کرلو تو اس نے کہا: میرا اونٹ مجھے مل جائے، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے ( مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٧٠٢) (ضعیف) (سند میں خداش بن عیاش لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
3864Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ عَبْدًا لِحَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَشْكُو حَاطِبًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيَدْخُلَنَّ حَاطِبٌ النَّارَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَذَبْتَ لَا يَدْخُلُهَا، فَإِنَّهُ قَدْ شَهِدَ بَدْرًا وَالْحُدَيْبِيَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ حاطب بن ابی بلتعہ ؓ کا ایک غلام نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر حاطب کی شکایت کرنے لگا، اس نے کہا: اللہ کے رسول! حاطب ضرور جہنم میں جائیں گے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم نے غلط کہا وہ اس میں داخل نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ بدر اور حدیبیہ دونوں میں موجود رہے ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that a slave of Sayyidina Hatib (RA) came to Allah’s Messenger ﷺ complaining about Hatib, saying, “O Messenger of Allah, surely Hatib will go to hell.” He said, “You lie. He will not go to it, for, he participated in (the Battle of) Badr and in the (Peace) Hudaybiyah.”

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3864
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اور اللہ نے بدریوں کی عام مغفرت کا اعلان کردیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٣٦ (٢٤٩٥/١٦٢) (تحفة الأشراف: ٢٩١٠) (صحیح)