Sunan At-Tirmidhi 3863

مناقب کا بیان

3863Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَزْهَرُ السَّمَّانُ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ، عَنْ خِدَاشٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مَنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ إِلَّا صَاحِبَ الْجَمَلِ الْأَحْمَرِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ.

جابر ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی (یعنی بیعت رضوان میں شریک رہے) وہ ضرور جنت میں داخل ہوں گے، سوائے سرخ اونٹ والے کے ١ ؎۔

Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that the Prophet ﷺ said, “Surely they will enter paradise who had pledged allegiance under the tree except the owner of the red camel.” *The owner of the red camel is the hypocrite, Jaad bin Qays who instead of giving the pledge was looking for his camel.

ضعيف الصحيحة تحت الحديث (2160) // ضعيف الجامع الصغير (4873) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3863
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کہا جاتا ہے کہ سرخ اونٹ والے سے جد بن قیس منافق مراد ہے اس کا اونٹ کھو گیا تھا اس سے کہا گیا آ کر بیعت کرلو تو اس نے کہا: میرا اونٹ مجھے مل جائے، یہ مجھے بیعت کرنے سے زیادہ محبوب ہے ( مگر یہ حدیث ضعیف ہے اس لیے حتمی طور پر یہ کہنا صحیح نہیں ہے )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٧٠٢) (ضعیف) (سند میں خداش بن عیاش لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)