مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 14 of 18

3865Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ نَاجِيَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا مِنْ أَحَدٍ مِنْ أَصْحَابِي يَمُوتُ بِأَرْضٍ إِلَّا بُعِثَ قَائِدًا وَنُورًا لَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُسْلِمٍ أَبِي طَيْبَةَ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَهُوَ أَصَحُّ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے صحابہ میں سے جو بھی کسی سر زمین پر مرے گا تو وہ قیامت کے دن اس سر زمین والوں کا پیشوا اور ان کے لیے نور بنا کر اٹھایا جائے گا ۔

Sayyidina Buraydah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “None of my sahabah will die on any land but will be resurrected there on the Day of Resurrection as a leader and a light for them.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، الضعيفة (4468) // ضعيف الجامع الصغير (5138) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3865
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- یہ حدیث عبداللہ بن مسلم ابوطیبہ سے مروی ہے اور انہوں نے اسے بریدہ ؓ کے بیٹے کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، اور یہ زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٨٣) (ضعیف) (سند میں عبد اللہ بن مسلم ابو طیبہ روایت میں وہم کے شکار ہوجایا کرتے تھے)
3866Sunan At-Tirmidhi

اس بارے میں جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو برا بھلا کہے

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا النَّضْرُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا سَيْفُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِذَا رَأَيْتُمُ الَّذِينَ يَسُبُّونَ أَصْحَابِي فَقُولُوا: لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى شَرِّكُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ، لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَالنَّضْرُ مَجْهُولٌ، وَسَيْفٌ مَجْهُولٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب تم ایسے لوگوں کو دیکھو جو میرے اصحاب کو برا بھلا کہتے ہوں تو کہو: اللہ کی لعنت ہو تمہارے شر پر ۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “When you see those who revile my sahabah, say to them, ‘Allah’s curse be upon you for your mischief.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف جدا، المشکاة (6008 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (513) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3866
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث منکر ہے، ہم اسے عبیداللہ بن عمر (عمری) کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور نضر اور سیف دونوں مجہول راوی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٧١٣) (ضعیف جدا) (سند میں نضر اور سیف دونوں مجہول ہیں)
3867Sunan At-Tirmidhi

حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: إِنَّ بَنِي هِشَامِ بْنِ الْمُغِيرَةِ اسْتَأْذَنُونِي فِي أَنْ يُنْكِحُوا ابْنَتَهُمْ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ، فَلَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، ثُمَّ لَا آذَنُ، إِلَّا أَنْ يُرِيدَ ابْنُ أَبِي طَالِبٍ أَنْ يُطَلِّقَ ابْنَتِي وَيَنْكِحَ ابْنَتَهُمْ، فَإِنَّهَا بَضْعَةٌ مِنِّي يَرِيبُنِي مَا رَابَهَا وَيُؤْذِينِي مَا آذَاهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِالْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ نَحْوَ هَذَا.

مسور بن مخرمہ ؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ منبر پر تھے: ہشام بن مغیرہ کے بیٹوں نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی سے کردیں، تو میں اس کی اجازت نہیں دیتا، نہیں دیتا، نہیں دیتا، مگر ابن ابی طالب چاہیں تو میری بیٹی کو طلاق دے دیں، اور ان کی بیٹی سے شادی کرلیں، اس لیے کہ میری بیٹی میرے جسم کا ٹکڑا ہے، مجھے وہ چیز بری لگتی ہے جو اسے بری لگے اور مجھے ایذا دیتی ہے وہ چیز جو اسے ایذا دے ۔

Sayyidina Miswar ibn Makhramah (RA) reported having heard the Prophet ﷺ say from the pulpit, “Banu Hisham ibn Mughirah sought my permission to marry their daughter to Ali ibn Abu Talib. I do not permit that. I do not permit that. I do not permit that, unless Ibn Abu Talib decides to divorce my daughter and marry their daughter. She is part of me. It pains me what pains her and it hurts me what hurts her.” [Ahmed 18948, Bukhari 926, Muslim 2449, Abu Dawud 2071, Ibn e Majah 1998]

صحيح، ابن ماجة (1998)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3867
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے عمرو بن دینار نے اسی طرح ابن ابی ملیکہ سے اور ابن ابی ملیکہ نے مسور بن مخرمہ سے روایت کیا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الخمس ٥ (٣١١٠)، وفضائل الصحابة ٢٩ (٣٧٦٧)، والنکاح ١٠٩ (٥٢٣٠)، والطلاق ١٣ (٥٢٧٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٤ (٢٣٨٤)، سنن ابی داود/ النکاح ١٣ (٢٠٦٩-٢٠٧١)، سنن ابن ماجہ/النکاح ٥٦ (١٩٩٨) (تحفة الأشراف: ١١٢٦٧)، و مسند احمد (٤/٣٢٣) (صحیح)
3868Sunan At-Tirmidhi

حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ جَعْفَرٍ الْأَحْمَرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ بُرَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ أَحَبَّ النِّسَاءِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَاطِمَةُ، وَمِنَ الرِّجَالِ عَلِيٌّ . قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ، يَعْنِي مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

بریدہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو عورتوں میں سب سے زیادہ محبوب فاطمہ ؓ تھیں اور مردوں میں علی ؓ تھے، ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: یعنی اپنے اہل بیت میں۔

Sayyidina Buraydah (RA) reported that the dearest to Allah’s Messenger ﷺ among women was Fatimah and among men was Ali. Ibrahim said that this meant from ‘people of his household.’

منکر نقد الکتاني (29)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3868
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٩٨١) (منکر) (سند میں عبد اللہ بن عطاء روایت میں غلطیاں کر جاتے تھے، اور جعفر بن زیاد الاحمر شیعی ہے، اور روایت میں تشیع ہے)
3869Sunan At-Tirmidhi

حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ بِنْتَ أَبِي جَهْلٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا، وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، هَكَذَا قَالَ أَيُّوبُ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ ابْنِ الزُّبَيْرِ، وَقَالَ غَيْرُ وَاحِدٍ: عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ رَوَى عَنْهُمَا جَمِيعًا.

عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت ہے کہ علی ؓ نے ابوجہل کی بیٹی کا ذکر کیا تو اس کی خبر نبی اکرم ﷺ کو پہنچی، آپ نے فرمایا: فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، مجھے تکلیف دیتی ہے وہ چیز جو اسے تکلیف دیتی ہے، اور «تعب» میں ڈالتی ہے مجھے وہ چیز جو اسے «تعب» میں ڈالتی ہے ۔

Sayyidina Abdullah ibn Zubayr (RA) reported that Sayyidina Ali mentioned the daughter of Abu Jahl. That came to the Prophet’s ﷺ knowledge and he said, “Surely Fatimah is part of me. It hurts me what hurts her and it tires me what tires her.”

صحيح، الإرواء (8 / 294)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3869
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسی طرح ایوب نے ابی ملیکہ سے اور انہوں نے ابن زبیر سے روایت کی ہے جبکہ متعدد لوگوں نے ابن ابی ملیکہ کے واسطہ سے مسور بن مخرمہ سے روایت کی ہے۔ (جیسا کہ حدیث رقم: ٣٨٨٠) ٣- اس بات کا احتمال ہے کہ ابن ابی ملیکہ نے ایک ساتھ دونوں ہی سے روایت کیا ہو (اور ایسا بہت ہوا ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٢٧١) (صحیح)
3870Sunan At-Tirmidhi

حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ الْبَغْدَادِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ قَادِمٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطُ بْنُ نَصْرٍ الْهَمْدَانِيُّ، عَنِ السُّدِّيِّ، عَنْصُبَيْحٍ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَليٍّ، وَفَاطِمَةَ، وَالْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ: أَنَا حَرْبٌ لِمَنْ حَارَبْتُمْ، وَسَلْمٌ لِمَنْ سَالَمْتُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَصُبَيْحٌ مَوْلَى أُمِّ سَلَمَةَ لَيْسَ بِمَعْرُوفٍ.

زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین ؓ سے فرمایا: میں لڑنے والا ہوں اس سے جس سے تم لڑو اور صلح جوئی کرنے والا ہوں اس سے جس سے تم صلح جوئی کرو ۔

Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said to Ali, Fatimah, Hasan and Husain, “I will fight against whom you fight and make peace with whom you make peace.” [Ahmed 9704, Ibn e Majah 145]

ضعيف، ابن ماجة (145) // ضعيف سنن ابن ماجة برقم (27)، المشکاة (6145) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3870
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں اور صبیح مولیٰ ام سلمہ معروف نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٤٥) (تحفة الأشراف: ٣٦٦٢) (ضعیف) (سند میں صبیح لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)
3871Sunan At-Tirmidhi

حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ، حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَلَّلَ عَلَى الْحَسَنِ، وَالْحُسَيْنِ، وَعَلِيٍّ، وَفَاطِمَةَ كِسَاءً، ثُمَّ قَالَ: اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلُ بَيْتِي وَخَاصَّتِي أَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ، وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا ، فَقَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: وَأَنَا مَعَهُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ: إِنَّكِ إِلَى خَيْرٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَهُوَ أَحْسَنُ شَيْءٍ رُوِيَ فِي هَذَا الْبَابِ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، وَأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، وَأَبِي الْحَمْرَاءِ، وَمَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، وَعَائِشَةَ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حسن، حسین، علی اور فاطمہ ؓ کو ایک چادر سے ڈھانپ کر فرمایا:«اللهم هؤلاء أهل بيتي وخاصتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا » اے اللہ! یہ میرے اہل بیت اور میرے خاص الخاص لوگ ہیں، تو ان سے گندگی کو دور فرما دے، اور انہیں اچھی طرح سے پاک کر دے ، تو ام سلمہ ؓ بولیں: اور میں بھی ان کے ساتھ ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: تو (بھی) خیر پر ہے ۔

Sayyidah Umm Salamah (RA) reported that the Prophet ﷺ put a cloak over Hasan, Husayn, Ali and Fatimah and prayed, “O Allah, they are people of my house and closest to me. Remove from them evil and purify them a perfect purification.” Umm Salamah (RA) submitted, “I too am with them, O Messenger of Allah! ﷺ ” He said, “Indeed you are on what is good.” [Ahmed 26570]

صحيح بما تقدم رقم (3435)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3871
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے اور اس باب میں جو حدیثیں مروی ہیں ان میں سب سے اچھی ہے، ٢- اس باب میں عمر بن ابی سلمہ، انس بن مالک، ابوالحمراء، معقل بن یسار، اور عائشہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماتقدم برقم ٣٢٠٥، و ٣٧٨٧ (تحفة الأشراف: ١٨١٦٥) (صحیح) (سند میں شہر بن حوشب ضعیف راوی ہیں، لیکن متابعات کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے، دیکھئے حدیث نمبر (٣٧٨٧)
3872Sunan At-Tirmidhi

حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَشْبَهَ سَمْتًا، وَدَلًّا، وَهَدْيًا بِرَسُولِ اللَّهِ فِي قِيَامِهَا، وَقُعُودِهَا مِنْ فَاطِمَةَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: وَكَانَتْ إِذَا دَخَلَتْ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ إِلَيْهَا فَقَبَّلَهَا، وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ مِنْ مَجْلِسِهَا فَقَبَّلَتْهُ وَأَجْلَسَتْهُ فِي مَجْلِسِهَا، فَلَمَّا مَرِضَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَتْ فَاطِمَةُ فَأَكَبَّتْ عَلَيْهِ، فَقَبَّلَتْهُ، ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا، فَبَكَتْ، ثُمَّ أَكَبَّتْ عَلَيْهِ، ثُمَّ رَفَعَتْ رَأْسَهَا فَضَحِكَتْ، فَقُلْتُ: إِنْ كُنْتُ لَأَظُنُّ أَنَّ هَذِهِ مِنْ أَعْقَلِ نِسَائِنَا فَإِذَا هِيَ مِنَ النِّسَاءِ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لَهَا: أَرَأَيْتِ حِينَ أَكْبَبْتِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ، فَبَكَيْتِ، ثُمَّ أَكْبَبْتِ عَلَيْهِ، فَرَفَعْتِ رَأْسَكِ، فَضَحِكْتِ، مَا حَمَلَكِ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَتْ: إِنِّي إِذًا لَبَذِرَةٌ أَخْبَرَنِي أَنَّهُ مَيِّتٌ مِنْ وَجَعِهِ هَذَا، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي أَسْرَعُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ، فَذَاكَ حِينَ ضَحِكْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ عَائِشَةَ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے اٹھنے بیٹھنے کے طور و طریق اور عادت و خصلت میں فاطمہ ١ ؎ ؓ سے زیادہ رسول اللہ ﷺ کے مشابہ کسی کو نہیں دیکھا، وہ کہتی ہیں: جب وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آتیں تو آپ اٹھ کر انہیں بوسہ لیتے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے، اور جب نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آتے تو وہ اٹھ کر آپ کو بوسہ لیتیں اور آپ کو اپنی جگہ پر بٹھاتیں چناچہ جب نبی اکرم ﷺ بیمار ہوئے تو فاطمہ آئیں اور آپ پر جھکیں اور آپ کو بوسہ لیا، پھر اپنا سر اٹھایا اور رونے لگیں پھر آپ پر جھکیں اور اپنا سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، پہلے تو میں یہ خیال کرتی تھی کہ یہ ہم عورتوں میں سب سے زیادہ عقل والی ہیں مگر ان کے ہنسنے پر یہ سمجھی کہ یہ بھی آخر (عام) عورت ہی ہیں، یعنی یہ کون سا موقع ہنسنے کا ہے، پھر جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوگئی تو میں نے ان سے پوچھا کہ یہ کیا بات تھی کہ میں نے تمہیں دیکھا کہ تم نبی اکرم ﷺ پر جھکیں پھر سر اٹھایا تو رونے لگیں، پھر جھکیں اور سر اٹھایا تو ہنسنے لگیں، تو انہوں نے کہا: اگر آپ کی زندگی میں یہ بات بتا دیتی تو میں ایک ایسی عورت ہوتی جو آپ کے راز کو افشاء کرنے والی ہوتی، بات یہ تھی کہ پہلے آپ نے مجھے اس بات کی خبر دی کہ اس بیماری میں میں انتقال کر جانے والا ہوں، یہ سن کر میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ ان کے گھر والوں میں سب سے پہلے میں ان سے ملوں گی، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔

Sayyidah Ayshah (RA), the mother of the Believers, narrated: I have not seen anyone resembling Allah’s Messenger ﷺ more closely than Fatimah daughter of Allah’s Messenger ﷺ in habits, gait and characteristics, and in her getting up and her sitting down. When she came to the Prophet ﷺ he would stand up for her, kiss her and make her sit in his place. And when he visited her, she stood up from her seat, kissed him and gave him her place to sit down. When he was taken ill, she came to him, fell down on him, and kissed him. Then she raised her head and wept. Again, she fell down on him, and raised her head and laughed. I said (to myself). “I had thought that she was the most intelligent of women, but, after all, she is a woman.” When the Prophet ﷺ died, I said to her, ‘What do you say when you fell down on the Prophet ﷺ and raised your head (afterwards), you wept. Then again, you tell down, raised your head and laughed? What made you do that?” She said, “While he was alive, I had kept this secret. He informed me that he would die from that illness, so I wept. Then he informed me that I would be the quickest of his family to meet him. So at that time, I laughed.” [Bukhari 3623, Abu Dawud 5217, Muslim 2450, Ibn e Majah 1621, Ahmed 26475]

صحيح نقد الکتانی (44 - 45)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3872
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ عائشہ سے متعدد سندوں سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے فاطمہ ؓ کی منقبت کئی طرح سے ثابت ہوتی ہے، ١- فاطمہ ؓ آپ سے اخلاق و عادات میں بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھیں، ٢- فاطمہ ؓ آپ کو اپنے گھر والوں میں سب سے زیادہ پیاری تھیں، ٣- آخرت میں آپ سے شرف رفاقت سب سے پہلے فاطمہ ؓ کو حاصل ہوئی۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ١٥٥ (٥٢١٧) (تحفة الأشراف: ١٧٨٨٣) (صحیح)
3873Sunan At-Tirmidhi

حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَالِدٍ ابْنُ عَثْمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ يَعْقُوبَ الزَّمْعِيُّ، عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ وَهْبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ أُمَّ سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا فَاطِمَةَ يَوْمَ الْفَتْحِ فَنَاجَاهَا، فَبَكَتْ، ثُمَّ حَدَّثَهَا، فَضَحِكَتْ، قَالَتْ: فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَأَلْتُهَا عَنْ بُكَائِهَا وَضَحِكِهَا، قَالَتْ: أَخْبَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يَمُوتُ، فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَنِّي سَيِّدَةُ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَّا مَرْيَمَ ابْنَةَ عِمْرَانَ فَضَحِكْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

ام المؤمنین ام سلمہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے دن فاطمہ کو بلایا، اور ان سے سرگوشی کی تو وہ رو پڑیں، پھر دوبارہ آپ نے ان سے بات کی تو وہ ہنسنے لگیں، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ بتایا کہ آپ عنقریب وفات پاجائیں گے، تو میں رو پڑی، پھر آپ نے مجھے بتایا کہ میں مریم بنت عمران کو چھوڑ کر اہل جنت کی تمام عورتوں کی سردار ہوں گی تو میں ہنسنے لگی ١ ؎۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پچھلی حدیث اور اس حدیث میں کوئی تضاد نہیں ہے، وہ دوسرا واقعہ اور یہ دوسرا واقعہ ہے، نیز فاطمہ ؓ ہنسنے کے دونوں اسباب میں بھی تضاد نہ سمجھا جائے، دونوں باتیں خوش ہونے کی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (وھو عند الجماعة من حدیث فاطمة نفسھا) ( تحفة الأشراف: ١٨١٨٧) (صحیح)
3874Sunan At-Tirmidhi

حضرت فاطمہ (رض) کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ يَزِيدَ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ، عَنْ جُمَيْعِ بْنِ عُمَيْرٍ التَّيْمِيِّ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ عَمَّتِي عَلَى عَائِشَةَ، فَسُئِلَتْ: أَيُّ النَّاسِ كَانَ أَحَبَّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ قَالَتْ: فَاطِمَةُ ، فَقِيلَ: مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَتْ: زَوْجُهَا إِنْ كَانَ مَا عَلِمْتُ صَوَّامًا قَوَّامًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، قَالَ: وَأَبُو الْجَحَّافِ اسْمُهُ: دَاوُدُ بْنُ أَبِي عَوْفٍ، وَيُرْوَى عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ، حَدَّثَنَا أَبُو الْجَحَّافِ وَكَانَ مَرْضِيًّا.

جمیع بن عمیر تیمی کہتے ہیں کہ میں اپنے چچا کے ساتھ عائشہ ؓ کے پاس آیا تو ان سے پوچھا گیا: لوگوں میں رسول اللہ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھا؟ تو انہوں نے کہا: فاطمہ، پھر پوچھا گیا: مردوں میں کون تھا؟ انہوں نے کہا: ان کے شوہر، یعنی علی، میں خوب جانتی ہوں وہ بڑے صائم اور تہجد گزار تھے۔

Jumay’ ibn Umayr Taymi reported that he went to Sayyidah Ayshah (RA) with his paternal aunt. He asked her, “Which one of the people was dearest to Allah’s Messenger ﷺ . She said, “Fatimah.” She was asked, “And of the men?” she said, “Her husband. And I know he was much given to fast and to stand (in salah).

منکر نقد الکتاني ص (20)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3874
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- ابوجحاف کا نام داود بن ابی عوف ہے، اور سفیان ثوری سے «عن ابی الجحاف» کے بجائے یوں مروی ہے: «حدثنا أبو الجحاف وکان مرضيا»۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٠٥٤) (منکر) (سند میں ابو الجحاف داود بن عوف دونوں شیعہ ہیں، اور روایت میں شیعیت موجود ہے )
3879Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ دُرُسْتَ بَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّاسُ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، قَالَتْ: فَاجْتَمَعَ صَوَاحِبَاتِي إِلَى أُمِّ سَلَمَةَ، فَقُلْنَ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ إِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، وَإِنَّا نُرِيدُ الْخَيْرَ كَمَا تُرِيدُ عَائِشَةُ فَقُولِي لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ إِلَيْهِ أَيْنَمَا كَانَ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ أُمُّ سَلَمَةَ، فَأَعْرَضَ عَنْهَا ثُمَّ عَادَ إِلَيْهَا، فَأَعَادَتِ الْكَلَامَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَوَاحِبَاتِي قَدْ ذَكَرْنَ أَنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، فَأْمُرِ النَّاسَ يُهْدُونَ أَيْنَمَا كُنْتَ، فَلَمَّا كَانَتِ الثَّالِثَةُ قَالَتْ ذَلِكَ، قَالَ: يَا أُمَّ سَلَمَةَ لَا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنَّهُ مَا أُنْزِلَ عَلَيَّ الْوَحْيُ وَأَنَا فِي لِحَافِ امْرَأَةٍ مِنْكُنَّ غَيْرِهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رَوَى بَعْضُهُمْ هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ هَذَا الْحَدِيثُ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ رُمَيْثَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ شَيْئًا مِنْ هَذَا، وَهَذَا حَدِيثٌ قَدْ رُوِيَ عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَلَى رِوَايَاتٍ مُخْتَلِفَةٍ، وَقَدْ رَوَى سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ نَحْوَ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدئیے تحفے بھیجنے کے لیے عائشہ ؓ کے دن (باری کے دن) کی تلاش میں رہتے تھے، تو میری سوکنیں سب ام سلمہ ؓ کے یہاں جمع ہوئیں، اور کہنے لگیں: ام سلمہ! لوگ اپنے ہدایا بھیجنے کے لیے عائشہ ؓ کے دن کی تلاش میں رہتے ہیں اور ہم سب بھی خیر کی اسی طرح خواہاں ہیں جیسے عائشہ ہیں، تو تم رسول اللہ ﷺ سے جا کر کہو کہ آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں (یعنی جس کے یہاں بھی باری ہو) وہ لوگ وہیں آپ کو ہدایا بھیجا کریں، چناچہ ام سلمہ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا، تو آپ نے اعراض کیا، اور ان کی بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دی، پھر آپ ان کی طرف پلٹے تو انہوں نے اپنی بات پھر دہرائی اور بولیں: میری سوکنیں کہتی ہیں کہ لوگ اپنے ہدایا کے لیے عائشہ کی باری کی تاک میں رہتے ہیں تو آپ لوگوں سے کہہ دیں کہ آپ جہاں بھی ہوں وہ ہدایا بھیجا کریں، پھر جب انہوں نے تیسری بار آپ سے یہی کہا تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ام سلمہ تم عائشہ کے سلسلہ میں مجھے نہ ستاؤ کیونکہ عائشہ کے علاوہ تم سب میں سے کوئی عورت ایسی نہیں جس کے لحاف میں مجھ پر وحی اتری ہو ١ ؎۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3879
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ٢- بعض راویوں نے اس حدیث کو حماد بن زید سے، حماد نے ہشام بن عروہ سے اور ہشام نے اپنے باپ عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً روایت کیا ہے، ٣- یہ حدیث ہشام بن عروہ کے طریق سے عوف بن حارث سے بھی آئی ہے جسے عوف بن حارث نے رمیثہ کے واسطہ سے ام سلمہ ؓ سے اس کا کچھ حصہ روایت کیا ہے، ہشام بن عروہ سے مروی یہ حدیث مختلف طریقوں سے آئی ہے، ٤- سلیمان بن بلال نے بھی بطریق: «هشام بن عروة عن أبيه عن عائشة» حماد بن زید کی حدیث کی طرح روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری میں کعب بن مالک ؓ کی توبہ کی قبولیت کی وحی کے بارے میں آیا ہے کہ یہ وحی ام سلمہ ؓ کے گھر میں نازل ہوئی، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اور ام سلمہ ؓ ایک ہی لحاف میں تھے، لحاف میں وحی نازل ہونے کی خصوصیت صرف عائشہ ؓ کی ہے، اور یہ بہت بڑی فضیلت کی بات ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الھبة ٧ (٢٥٧٤)، و ٨ (٢٥٨٠، ٢٥٨١)، وفضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٧٥)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤١)، سنن النسائی/عشرة النساء ٣ (٣٣٩٦) (تحفة الأشراف: ١٦٨٦١)، و مسند احمد (٦/٢٩٣) (صحیح)
3880Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ الْمَكِّيِّ، عَنِ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ جِبْرِيلَ جَاءَ بِصُورَتِهَا فِي خِرْقَةِ حَرِيرٍ خَضْرَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ هَذِهِ زَوْجَتُكَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، وَقَدْ رَوَى عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ هَذَا الْحَدِيثَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مُرْسَلًا، وَلَمْ يَذْكُرْ فِيهِ عَنْ عَائِشَةَ، وَقَدْ رَوَى أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا مِنْ هَذَا.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ جبرائیل (علیہ السلام) ایک سبز ریشم کے ٹکڑے پر ان کی تصویر لے کر نبی اکرم ﷺ کے پاس آئے، اور کہا: یہ آپ کی بیوی ہیں، دنیا اور آخرت دونوں میں ١ ؎۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3880
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف عبداللہ بن عمرو بن علقمہ کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- عبدالرحمٰن بن مہدی نے اس حدیث کو عبداللہ بن عمرو بن علقمہ سے اسی سند سے مرسلاً روایت کیا ہے اور اس میں عائشہ سے روایت کا ذکر نہیں کیا ہے، ٣- ابواسامہ نے اس حدیث کے کچھ حصہ کو ہشام بن عروہ سے، انہوں نے اپنے باپ سے، انہوں نے عائشہ ؓ سے انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے ٢ ؎۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ہوسکتا ہے کہ یہ واقعہ تصویر کی حرمت سے پہلے کا ہو، کیونکہ اللہ نے ہر طرح کے جاندار کی تصویر کو حرام کردیا ہے، یا یہ اللہ کے خاص حکم سے جبرائیل (علیہ السلام) کا کام تھا جس کا تعلق عام انسانوں سے نہیں ہے، عام انسانوں کے لیے وہی حرمت والا معاملہ ہے، واللہ اعلم۔ ٢ ؎: یہ روایت صحیح بخاری کتاب النکاح باب رقم ٥ اور باب رقم: ٣٥ میں آئی ہے، اس میں جبرائیل کی بجائے صرف فرشتہ کا لفظ ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٦٢٥٨) (صحیح)
3881Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَائِشَةُ هَذَا جِبْرِيلُ وَهُوَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، قَالَتْ: قُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ تَرَى مَا لَا نَرَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عائشہ! یہ جبرائیل ہیں، تمہیں سلام کہہ رہے ہیں، میں نے عرض کیا: اور انہیں بھی میری طرف سے سلام اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، آپ وہ دیکھتے ہیں جو ہم نہیں دیکھ پاتے (جیسے جبرائیل کو) ١ ؎۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3881
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/بدء الخلق ٦ (٣٢١٧)، وفضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٦٨)، والأدب ١١١ (٦٢٠١)، والاستئذان ١٦ (٦٢٤٩)، و ١٩ (٦٢٥٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٧)، سنن النسائی/عشرة النساء ٣ (٣٤٠٥، ٣٤٦) (تحفة الأشراف: ١٧٧٦٦)، و مسند احمد (٦/١٤٦، ١٥٠، ٢٠٨، ٢٢٤) (صحیح)
3882Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا سُوَيْدٌ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ جِبْرِيلَ يَقْرَأُ عَلَيْكِ السَّلَامَ ، فَقُلْتُ: وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جبرائیل تمہیں سلام کہہ رہے ہیں تو میں نے عرض کیا: ان پر سلام اور اللہ کی رحمتیں اور اس کی برکتیں ہوں ۔

صحيح وقد مضی (2846)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3882
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
انظر ماقبلہ، وحدیث رقم ٢٦٩٣ (صحیح)
3883Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ، حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ الرَّبِيعِ، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ سَلَمَةَ الْمَخْزُومِيُّ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: مَا أَشْكَلَ عَلَيْنَا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَدِيثٌ قَطُّ فَسَأَلْنَا عَائِشَةَ إِلَّا وَجَدْنَا عِنْدَهَا مِنْهُ عِلْمًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ابوموسیٰ اشعری ؓ کہتے ہیں کہ ہم اصحاب رسول اللہ ﷺ پر جب بھی کوئی حدیث مشکل ہوتی اور ہم نے اس کے بارے میں عائشہ ؓ سے پوچھا تو ہمیں ان کے پاس اس کے بارے میں کوئی جانکاری ضرور ملی ١ ؎۔

صحيح، المشکاة (6185)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3883
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ عائشہ ؓ کی وسعت علمی کی دلیل ہے، اور اس سے عام صحابہ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (صحیح)
3884Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ دِينَارٍ الْكُوفِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْمُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَحَدًا أَفْصَحَ مِنْ عَائِشَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

موسیٰ بن طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے عائشہ ؓ سے زیادہ فصیح کسی کو نہیں دیکھا۔ امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔

صحيح، المشکاة (6186)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3884
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٧٦٦٨/الف) (صحیح)
3885Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَاللَّفْظُ لِابْنِ يَعْقُوبَ، قَالَا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَهُ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: عَائِشَةُ ، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ: أَبُوهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں لشکر ذات السلاسل کا امیر مقرر کیا، وہ کہتے ہیں: تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ ، میں نے پوچھا: مردوں میں کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ان کے باپ ١ ؎۔

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3885
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: پیچھے فاطمہ ؓ کے مناقب میں گزرا ہے کہ عورتوں میں فاطمہ اور مردوں میں ان کے شوہر علی ؓ اللہ کے رسول ﷺ کو زیادہ محبوب تھے، لیکن وہ حدیث ضعیف منکر ہے، اور یہ حدیث صحیح ہے، اور دونوں عورتوں اور دونوں مردوں کے اللہ کے رسول ﷺ کے زیادہ محبوب ہونے میں تضاد ہی کیا ہے، یہ سب سے زیادہ محبوب تھے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٥ (٣٦٦٢)، والمغازي ٦٣ (٤٣٥٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١ (٢٣٨٤) (تحفة الأشراف: ١٠٧٣٨) (صحیح)
3886Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: عَائِشَةُ ، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ: أَبُوهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ.

عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ ، انہوں نے پوچھا: مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد ۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی اسماعیل کی روایت سے جسے وہ قیس سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف: ١٠٧٤٥) (صحیح)
3887Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ هُوَ أَبُو طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.

انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے ١ ؎۔

صحيح، ابن ماجة (3281)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3887
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابوموسیٰ اشعری سے احادیث آئی ہیں، ٣- عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری سے مراد ابوطوالہ انصاری مدنی ہیں اور وہ ثقہ ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان عورتوں میں سے مریم، خدیجہ اور فاطمہ مستثنیٰ ہیں، جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٧٠)، والأطعمة ٢٥ (٥٤١٩)، و ٣٠ (٥٤٢٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٦)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٤ (٣٢٨١) (تحفة الأشراف: ٩٧٠)، و مسند احمد (٣/١٥٦، ٢٦٤) (صحیح)
3888Sunan At-Tirmidhi

حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ، أَنَّ رَجُلًا نَالَ مِنْ عَائِشَةَ عِنْدَ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ، فَقَالَ: أَغْرِبْ مَقْبُوحًا مَنْبُوحًا أَتُؤْذِي حَبِيبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عمرو بن غالب سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عمار بن یاسر ؓ کے پاس عائشہ ؓ کی عیب جوئی کی تو انہوں نے کہا: ہٹ مردود بدتر، کیا تو رسول اللہ ﷺ کی محبوبہ کو اذیت پہنچا رہا ہے؟ امام ترمذی کہتے ہی: یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3888
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٣٦٤) (ضعیف الإسناد) (سند میں عمرو بن غالب لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہیں)