حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنَّهُ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ ؟ قَالَ: عَائِشَةُ ، قَالَ: مِنَ الرِّجَالِ ؟ قَالَ: أَبُوهَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ إِسْمَاعِيل، عَنْ قَيْسٍ.
عمرو بن العاص ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ ، انہوں نے پوچھا: مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد ۔
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی اسماعیل کی روایت سے جسے وہ قیس سے روایت کرتے ہیں حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ماقبلہ ( تحفة الأشراف: ١٠٧٤٥) (صحیح)