حضرت عائشہ (رض) کی فضیلت
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: فَضْلُ عَائِشَةَ عَلَى النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيدِ عَلَى سَائِرِ الطَّعَامِ . وَفِي الْبَابِ عَنْ عَائِشَةَ، وَأَبِي مُوسَى. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْمَرٍ هُوَ أَبُو طُوَالَةَ الْأَنْصَارِيُّ الْمَدَنِيُّ ثِقَةٌ، وَقَدْ رَوَى عَنْهُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ.
انس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عورتوں پر عائشہ کی فضیلت اسی طرح ہے جیسے ثرید کی فضیلت دوسرے کھانوں پر ہے ١ ؎۔
صحيح، ابن ماجة (3281)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3887
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، ابوموسیٰ اشعری سے احادیث آئی ہیں، ٣- عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن معمر انصاری سے مراد ابوطوالہ انصاری مدنی ہیں اور وہ ثقہ ہیں، ان سے مالک بن انس نے بھی روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: ان عورتوں میں سے مریم، خدیجہ اور فاطمہ مستثنیٰ ہیں، جیسا کہ دوسری روایات سے ثابت ہوتا ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل الصحابة ٣٠ (٣٧٧٠)، والأطعمة ٢٥ (٥٤١٩)، و ٣٠ (٥٤٢٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ١٣ (٢٤٤٦)، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٤ (٣٢٨١) (تحفة الأشراف: ٩٧٠)، و مسند احمد (٣/١٥٦، ٢٦٤) (صحیح)