عبداللہ بن زیاد اسدی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے عمار بن یاسر ؓ کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ یعنی عائشہ ؓ دنیا اور آخرت دونوں میں آپ کی بیوی ہیں ١ ؎۔
صحيح وانظر الحديث (4149)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3889
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں علی ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: دیگر ازواج مطہرات کے دنیا میں دوسرے شوہر بھی تھے، جبکہ عائشہ ؓ کا آپ کے سوا کوئی شوہر نہ تھا، اور آخرت میں عائشہ ؓ کے آپ کی بیوی ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دیگر ازواج مطہرات آخرت میں آپ کی بیویاں نہیں ہوں گی، عائشہ ؓ بھی ہوں گی، وہ بھی ہوں گی۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ آپ سے عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ ، عرض کیا گیا مردوں میں؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد ۔
صحيح وانظر الحديث (4155)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3890
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے یعنی انس کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المقدمة ١١ (١٠١) (تحفة الأشراف: ٧٧٤) (صحیح)
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زوجات میں سے کسی پر مجھے اتنا رشک نہیں آیا جتنا خدیجہ پر آیا، اور اگر میں ان کو پا لیتی تو میرا کیا حال ہوتا؟ اور اس کی وجہ محض یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ انہیں کثرت سے یاد کرتے تھے، اگر آپ بکری بھی ذبح کرتے تو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خدیجہ کی سہیلیوں کو ہدیہ بھیجتے تھے۔
صحيح، ابن ماجة (1997)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3875
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا ام المؤمنین خدیجہ ؓ پر کیا، حالانکہ مجھ سے تو آپ نے نکاح اس وقت کیا تھا جب وہ انتقال کرچکی تھیں، اور اس رشک کی وجہ یہ تھی کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں جنت میں موتی کے ایک ایسے گھر کی بشارت دی تھی جس میں نہ شور و شغف ہو اور نہ تکلیف و ایذا کی کوئی بات۔
صحيح انظر ما قبله (3875)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3876
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- «من قصبٍ» سے مراد موتی کے بانس ہیں۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر (اپنے زمانہ میں) خدیجہ بنت خویلد تھیں اور دنیا کی عورتوں میں سب سے بہتر (اپنے زمانہ میں) مریم بنت عمران تھیں ۔
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3877
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں، انس، ابن عباس اور عائشہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ساری دنیا کی عورتوں میں سے تمہیں مریم بنت عمران، خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، اور فرعون کی بیوی آسیہ کافی ہیں ١ ؎۔
صحيح، المشکاة (6181)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3878
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی یہ چاروں عورتیں ساری دنیا کی عورتوں سے افضل ہیں اور پیروی و اقتداء کے لائق ہیں۔
عکرمہ کہتے ہیں کہ فجر کے بعد ابن عباس ؓ سے کہا گیا کہ نبی اکرم ﷺ کی ازواج میں سے فلاں کا انتقال ہوگیا، تو وہ سجدہ میں گرگئے، ان سے پوچھا گیا: کیا یہ سجدہ کرنے کا وقت ہے؟ تو انہوں نے کہا: کیا رسول اللہ ﷺ نے یہ نہیں فرمایا: جب تم اللہ کی طرف سے کوئی خوفناک بات دیکھو تو سجدہ کرو ، تو نبی اکرم ﷺ کے ازواج کے دنیا سے رخصت ہونے سے بڑی اور کون سی ہوسکتی ہے؟ ١ ؎۔
Sayyidina Ikrimah reported that Sayyidina Ibn Abbas (RA) was told after a salah of fajr that a certain wife of the Prophet ﷺ had died. He went down into prostration. Someone asked him, “Do you make prostration at this time?” He said, “Has not Allah’s Messenger ﷺ said, ‘When you see a sign, go down into prostration.’ So, which sign is greater than the departure of the wives of the Prophet ﷺ ?" [Abu Dawud 1197]
حسن، صحيح أبي داود (1081)، المشکاة (1491)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3891
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث یا دیگر احادیث میں اس جیسے سیاق و سباق میں «آیۃ» کا لفظ بطور خوفناک عذاب یا آسمانی مصیبت وغیرہ کے معنی میں استعمال ہوا ہے، جس سے مقصود بندوں کو ڈرانا ہوتا ہے، تو ازواج مطہرات دنیا میں برکت کا سبب تھیں، ان کے اٹھ جانے سے برکت اٹھ جاتی ہے، اور یہ بات خوفناک ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الصلاة ٢٦٩ (١١٩٧) (تحفة الأشراف: ٦٠٣٧) (حسن)
ام المؤمنین صفیہ بنت حی ؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے، مجھے حفصہ اور عائشہ ؓ کی طرف سے ایک (تکلیف دہ) بات پہنچی تھی جسے میں نے آپ سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا: تم نے یہ کیوں نہیں کہا؟ کہ تم دونوں مجھ سے بہتر کیسے ہوسکتی ہو، میرے شوہر محمد ﷺ ہیں اور باپ ہارون ہیں، اور چچا موسیٰ ہیں اور جو بات پہنچی تھی وہ یہ تھی کہ حفصہ اور عائشہ ؓ نے کہا تھا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے نزدیک ان سے زیادہ باعزت ہیں، اس لیے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی ازواج ہیں، اور آپ کے چچا کی بیٹیاں ہیں۔
Sayyidah Safiyah bint Huyyay narrated: Allah’s Messenger ﷺ came to me and I had heard the comment of Hafsah and Ayshah. I mentioned that to him and he said to me, “Why did you not say, ‘How can you be better than me while my husband is Muhammad and father is Harun and uncle Musa?” That which she had heard was their saying, “We are more honourable than her in the sight of Allah’s Messenger ﷺ . We are his wives and daughters of his uncle.’
ضعيف الإسناد وانظر الحديث (3625) // (3807) //، الرد علی الحبشي (35 - 38)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3892
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- صفیہ کی اس حدیث کو ہاشم کوفی کی روایت سے جانتے ہیں، اور اس کی سند زیادہ قوی نہیں ہے، ٣- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٩٠٥) (ضعیف الإسناد) (سند میں ہاشم بن سعید الکوفی ضعیف راوی ہیں)
انس ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ ؓ نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ تو انہوں نے کہا: حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے ١ ؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے (حفصہ سے) فرمایا: حفصہ! اللہ سے ڈر ۔
Sayyidina Anas reported that Sayyidah Safiyah (RA) had learnt that Sayyidah Hafsah commented (about her), ‘Daughter of a Jew.’ So, she wept, The Prophet ﷺ went to her and found her weeping. He asked her, ‘Why do you weep?” She said, “Hafsah says to me that lam the daughter of a Jew.” The Prophet ﷺ said, “And you are the daughter of a Prophet ﷺ and your uncle was a Prophet ﷺ and you are in marriage with a Prophet. So, of what does she boast over you?” Then he said, “Fear Allah, O Hafsah!” [Ahmed 12395]
صحيح، المشکاة (6183)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3894
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صفیہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں، اور ان کے بھائی ہارون بھی نبی تھے، تو باپ اور چچا دونوں نبی ہوئے، ویسے حفصہ بھی ایک ( نبی اسماعیل (علیہ السلام) ) کی اولاد میں سے تھیں، اور اسماعیل کے بھائی اسحاق ( چچا ) بھی نبی تھے، اور نبی کی زوجیت میں بھی تھیں، اس لحاظ سے دونوں برابر تھیں، صرف اس طرح کے تفاخر سے آپ کو انہیں تنبیہ کرنا مقصود تھا۔
ام المؤمنین ام سلمہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فتح مکہ کے سال فاطمہ کو بلایا اور ان کے کان میں کچھ باتیں کہیں تو وہ رو پڑیں، پھر آپ نے دوبارہ ان سے کچھ کہا تو وہ ہنسنے لگیں، پھر جب رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے تو میں نے ان سے ان کے رونے اور ہنسنے کی وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یہ بتایا تھا کہ عنقریب آپ وفات پاجائیں گے، تو (یہ سن کر) میں رونے لگی تھی، پھر آپ نے جب مجھے یہ بتایا کہ مریم بنت عمران کو چھوڑ کر میں اہل جنت کے تمام عورتوں کی سردار ہوں گی ١ ؎، تو یہ سن کر میں ہنسنے لگی۔
Sayyidah Umm Salamah reported that Allah’s Messenger ﷺ called Sayyidah Fatimah (RA) in the year of the conquest and confided something to her. She wept. Then he conversed with her and she laughed. When Allah’s Messenger (RA) died, she asked her about her weeping and her laughing, she said, “Allah’s Messenger informed me that he would die, so I wept. Then, he told me that I was the chief of the women of paradise, with the exception of Maryam, daughter of Imran, so I laughed.”
١ ؎: بعض روایات میں آیا ہے ( الفتح: مناقب خدیجہ ) کہ دنیا کی عورتوں کی سردار: مریم، پھر فاطمہ پھر خدیجہ، پھر آسیہ ہیں، اور حاکم کی روایت میں ہے کہ جنت کی عورتوں میں سب سے افضل: خدیجہ، فاطمہ، مریم اور آسیہ ہیں، معلوم ہوا کہ یہ چاروں دنیا اور جنت دونوں میں دیگر ساری عورتوں سے افضل ہیں۔
ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے بہتر ہو اور میں اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہوں اور جب تم میں سے کوئی مرجائے تو اسے خیر باد کہہ دو، یعنی اس کی برائیوں کو یاد نہ کرو ١ ؎۔
Savyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger said, “The best of you is the best among you to his family and I am the best among you to my family. And when one of you dies, do not speak ill of him.”
صحيح، الصحيحة (285)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3895
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث ثوری کی روایت سے حسن غریب صحیح ہے اور ثوری سے روایت کرنے والے اسے کتنے کم لوگ ہیں اور یہ حدیث ہشام بن عروہ سے عروہ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے مرسلاً بھی آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ اور اس کے بعد کی دونوں حدیثوں کی اس باب سے کوئی مناسبت نہیں، یہ گویا اس کتاب کی متفرق چھوٹی چھاٹی احادیث کے طور پر یہاں درج کی گئی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف بھذا التمام ( تحفة الأشراف: ١٦٩١٩)، وأخرج الجملة الأخیرة ” إذا مات … “ کل من: صحیح البخاری/الجنائز ٩٧ (٤٨٩٩)، وسنن النسائی/الجنائز ٥٢ (١٩٣٨)، و مسند احمد (٦/١٨٠) (صحیح)
عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے اصحاب میں سے کوئی کسی کی برائی مجھ تک نہ پہنچائے، کیونکہ میں یہ پسند کرتا ہوں کہ جب میں ان کی طرف نکلوں تو میرا سینہ صاف ہو ، عبداللہ بن مسعود ؓ کہتے ہیں: (ایک بار) رسول اللہ ﷺ کے پاس کچھ مال آیا اور آپ نے اسے تقسیم کردیا، تو میں دو آدمیوں کے پاس پہنچا جو بیٹھے ہوئے تھے اور کہہ رہے تھے: قسم اللہ کی! محمد نے اپنی اس تقسیم سے جو انہوں نے کی ہے نہ رضائے الٰہی طلب کی ہے نہ دار آخرت، جب میں نے اسے سنا تو یہ بات مجھے بری لگی، چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو آپ کا چہرہ سرخ ہوگیا اور آپ نے فرمایا: مجھے جانے دو کیونکہ موسیٰ کو تو اس سے بھی زیادہ ستایا گیا پھر بھی انہوں نے صبر کیا ۔
Sayyidina Abdullah ibn Mas’ud (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said “Let not anyone convey to me anything about one of my sahabah, for, I like to go out to them while I am clean-hearted.” Abdullah narrated: Once some property was brought to Allah’s Messenger ﷺ and he distributed it. I ended up with two men who were sitting and saying, “By Allah, Muhammad has no intention with this division to seek Allah’s pleasure or the home of the hereafter.” I felt very bad about it when I heard them, so I came to Allah’s Messenger ﷺ and informed him of that. His face turned red and he said, “Leave me alone. Indeed, Musa was annoyed more than this, yet he was patient.” [Abu Dawud 4860, Ahmed 3759]
ضعيف الإسناد، لکن الشطر الثاني منه في القسمة صحيح // ضعيف الجامع الصغير (6322) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3896
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے اور اس سند میں ایک آدمی کا اضافہ کردیا گیا ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابی داود/ الأدب ٣٣ (٤٨٦٠) (تحفة الأشراف: ٩٢٢٧) (ضعیف الإسناد) (سند میں زید بن زائدہ لین الحدیث راوی ہیں)
ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں، چناچہ آپ نے انہیں «لم يكن الذين کفروا» پڑھ کر سنایا، اس میں یہ بات بھی کہ بیشک دین والی، اللہ کے نزدیک تمام ادیان وملل سے کٹ کر اللہ کی جانب یکسو ہوجانے والی مسلمان عورت ہے، نہ یہودی، نصرانی اور مجوسی عورت، جو کوئی نیکی کرے گا تو اس کی ناقدری ہرگز نہیں کی جائے گی اور آپ نے انہیں یہ بھی بتایا کہ انسان کے پاس مال سے بھری ہوئی ایک وادی ہو تو وہ دوسری بھی چاہے گا، اور اگر اسے دوسری مل جائے تو تیسری چاہے گا، اور انسان کا پیٹ صرف مٹی ہی بھر سکے گی اور اللہ اسی کی توبہ قبول کرتا ہے جو واقعی توبہ کرے ١ ؎۔
Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that Allah’ Messenger ﷺ said to him, “Allah has commanded me that I should recite the Qur’an to you.” Then he recited to him Surah al-Bayyinah, 98. He also recited: Surely, the religion with Allah is upright Islam not Judaism and not Christianity and not Magian. He, who performs good deeds, does not disbelieve. He then said, “If the son of Aadam has a valley full of wealth, he would crave for a second, and if he had a second, he would crave for a third. Nothing will fill the belly of the son of Aadam but dust. And Allah relents to one who repents.” --------------------------------------------------------------------------------
حسن، وجملة ابن آدم صحيحة تخريج المشکلة (14)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3898
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- یہ حدیث اس کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی آئی ہے، اسے عبداللہ بن عبدالرحمٰن بن ابزی نے اپنے والد سے انہوں نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ، ٣- اسے قتادہ نے انس سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ابی بن کعب سے فرمایا: اللہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں قرآن پڑھ کر سناؤں ۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حقیقت میں انسان ایسا حریص ہے کہ وہ دنیا کے مال و متاع سے کسی بھی طرح سیر نہیں ہوتا اسے قبر کی مٹی ہی آسودہ کرسکتی ہے۔ ( دیکھئیے حدیث رقم: ٣٧٩٣ کا اور اس کے حواشی ) یہ حدیث پیچھے معاذ بن جبل، زید بن ثابت، ابی بن کعب اور ابوعبیدہ بن جراح ؓ کے اکٹھے باب میں بھی آچکی ہے اور امام ترمذی نے اس حدیث پر ابی بن کعب کا باب قائم کر کے ان کی فضیلت مزید بیان کیا ہے، اس لیے کہ وہ بہت بڑے عالم بھی تھے۔
ابی بن کعب ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر ہجرت نہ ہوتی تو میں بھی انصار ہی کا ایک فرد ہوتا ١ ؎۔ اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا: اگر انصار کسی وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں بھی انہیں کے ساتھ ہوں گا ۔
Sayyidina Ubayy ibn Ka’b (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If there was no hijrah then I would have been one of the ansar.’ (Through the some isnad it is reported from the Prophet ﷺ that he said, “Were the ansar to trek through a valley or a mountain pass, I would be with them.” [Ahmed 21304]
حسن صحيح، الصحيحة (1768)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3899
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس فرمان سے انصار کی دل جمعی مقصود ہے، یعنی انصار کی خوشنودی کے لیے میں یہاں تک جاسکتا ہوں کہ اگر ممکن ہوتا تو میں بھی انصار ہی میں سے ہوجاتا، مگر نسب کی تبدیل تو ممکن نہیں یہ بات انصار کی اسلام کے لیے فدائیت اور قربانی کا اعتراف ہے، اگلا فرمان البتہ ممکن ہے کہ اگر انصار کسی وادی میں چلیں تو میں انہی کے ساتھ ہوں گا اگر اس کی نوبت آ پاتی تو مہاجرین و انصار کی آپسی محبت چونکہ اللہ و رسول کے حوالہ سے تھی اس لیے ان کے آپس میں اس طرح کی بات ہونے کی نوبت ہی نہیں آسکی، ؓ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٣)، و مسند احمد (٥/١٣٧، ١٣٨) (حسن صحیح)
براء بن عازب ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ سے سنا، یا کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے انصار کے بارے میں فرمایا: ان سے مومن ہی محبت کرتا ہے، اور ان سے منافق ہی بغض رکھتا ہے، جو ان سے محبت کرے گا اس سے اللہ محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا اس سے اللہ بغض رکھے گا ١ ؎۔
Adi ibn Thabit reported on the authority of Sayyidina Bara ibn Aazib (RA) that he heard the Prophet ﷺ say or that the Prophet ﷺ said about the ansar, “No one but a believer loves them and only a hypocrite will hate them. He who loves them Allah will love him and he who hates them Allah will hate him.” They asked him, “Did you hear it from Bara?” Adi said, “This is how he narrated (it).” [Bukhari 3783, Muslim 75, Ibn e Majah 163, Ahmed 18600]
صحيح، ابن ماجة (163)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3900
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اب اس سے بڑھ کر کسی کی فضیلت اور کیا ہوگی، «رضی اللہ عن الأنصار وأرضاہم وعن جمیع الصحابۃ رضوان اللہ علیہم اجمعین»۔
انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (فتح مکہ کے وقت) انصار کے کچھ لوگوں کو اکٹھا کیا ١ ؎ اور فرمایا: کیا تمہارے علاوہ تم میں کوئی اور ہے؟ لوگوں نے عرض کیا: نہیں سوائے ہمارے بھانجے کے، تو آپ نے فرمایا: قوم کا بھانجا تو قوم ہی میں داخل ہوتا ہے ، پھر آپ نے فرمایا: قریش اپنی جاہلیت اور (کفر کی) مصیبت سے نکل کر ابھی نئے نئے اسلام لائے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ کچھ ان کی دلجوئی کروں اور انہیں مانوس کروں، (اسی لیے مال غنیمت میں سے انہیں دیا ہے) کیا تم یہ پسند نہیں کرتے کہ لوگ دنیا لے کر اپنے گھروں کو لوٹیں اور تم اللہ کے رسول کو لے کر اپنے گھر جاؤ، لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں، ہم اس پر راضی ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اگر لوگ ایک وادی یا گھاٹی میں چلیں اور انصار دوسری وادی یا گھاٹی میں چلیں تو میں انصار کی وادی و گھاٹی میں چلوں گا ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ assembled some people of the ansar and asked, ‘Tell me is there among you, a stranger not one of you?’. They said, “No, except the son of a brother of ours.” He said, “A nephew belongs to the people.” Then he said, “The Quraysh are newly relieved of jahiliyah and difficulties. I intend to console them and show them affinity. Would it not please you that people return with worldly possessions while you return with Allah’s Messenger ﷺ to your homes?” They said, “Of Course!” So, Allah’s Messenger said i3 “If people trek through a valley or a pass and the ansar trek through another valley or pass then I will take the valley of the ansar or their pass.” [83146, Muslim 1059, Nisai 2606, Ahmed 139151
١ ؎: یہ غزوہ حنین کے بعد کا واقعہ ہے، جس کے اندر آپ نے قریش کے نئے مسلمانوں کو مال غنیمت میں سے بطور تالیف قلب عطا فرمایا تو بعض نوجوان انصاری حضرات کی طرف سے کچھ ناپسندیدہ رنجیدگی کا اظہار کیا گیا تھا، اسی پر آپ نے انصار کو جمع کر کے یہ ارشاد فرمایا۔
زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک ؓ کو خط لکھا اس خط میں وہ ان کی ان لوگوں کے سلسلہ میں تعزیت کر رہے تھے جو ان کے گھر والوں میں سے اور چچا کے بیٹوں میں سے حرّہ ١ ؎ کے دن کام آ گئے تھے تو انہوں نے (اس خط میں) انہیں لکھا: میں آپ کو اللہ کی طرف سے ایک خوشخبری سناتا ہوں، میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ نے فرمایا: اے اللہ! انصار کو، ان کی اولاد کو، اور ان کی اولاد کے اولاد کو بخش دے ٢ ؎۔
Sayyidina Zayd ibn Arqam (RA) reported that he wrote to Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) a condolence (letter) on what had afflicted his family and the children of his uncle in the Battel of al-Harrah. He wrote to him, “I give you glad tidings-tidings from Allah. I had heard Allah’s Messenger ﷺ pray: O Allah, forgive the ansar, the children of the ansar, and the children of their children.” [Ahmed 19362, Bukhari 4906, Muslim 2506]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3902
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اسے قتادہ نے بھی نضر بن انس ؓ سے اور انہوں نے زید بن ارقم ؓ سے روایت کیا ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: حرّہ کا دن اس واقعے کو کہا جاتا ہے جس میں یزید کی فوجوں نے مسلم بن قتیبہ مُرّی کی سرکردگی میں سنہ ٦٣ ھ میں مدینہ پر حملہ کر کے اہل مدینہ کو لوٹا تھا اور مدینہ کو تخت و تاراج کیا تھا، اس میں بہت سے صحابہ و تابعین کی جانیں چلی گئی تھیں، یہ فوج کشی اہل مدینہ کے یزید کی بیعت سے انکار پر کی گئی تھی، ( عفا اللہ عنہ ) یہ واقعہ چونکہ مدینہ کے ایک محلہ حرّہ میں ہوا تھا اس لیے اس کا نام یوم الحرّۃ پڑگیا۔ ٢ ؎: یعنی: اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ کے کام آنے والے آپ کی اولاد کو نبی ﷺ کی دعا کی برکت شامل ہے، اس لیے آپ کو ان کی موت پر رنجیدہ نہیں ہونا چاہیئے، ایک مومن کا منتہائے آرزو آخرت میں بخشش ہی تو ہے۔
ابو سعید خدری ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میری جامہ دانی جس کی طرف میں پناہ لیتا ہوں یعنی میرے خاص لوگ میرے اہل بیت ہیں، اور میرے راز دار اور امین انصار ہیں تو تم ان کے خطا کاروں کو درگزر کرو اور ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو ١ ؎۔
Sayyidina Abu Sa’eed (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “Surely, my confidants to whom I return are my family members. And those whom I trust are the ansar; so, forgive the evil among them and accept the pious of them.”
منکر - بذکر أهل البيت -، المشکاة (6240) // ضعيف الجامع الصغير (2175) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3904
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اس باب میں انس سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «عيبه» جامہ دانی اور صندوق کو کہتے ہیں جس میں کپڑے حفاظت سے رکھے جاتے ہیں، آپ نے اپنے اہل بیت کو جامہ دانی اس لیے کہا کہ وہ آپ کے خدمت گار اور معاون تھے، اور «کرش» جانور کے اس عضو کا نام ہے جو مثل معدہ کے ہوتا ہے، آپ نے انصار کو «کرش» اس معنی میں کہا کہ جس طرح معدہ میں کھانا اور غذا جمع ہوتی ہے پھر اس سے سارے بدن و نفع پہنچتا ہے اسی طرح میرے لیے انصار ہیں کیونکہ وہ بےانتہا دیانت دار اور امانت دار ہیں اور میرے عہود و مواثیق اور اسرار کے حافظ و نگہبان اور مجھ پر دل و جان سے قربان ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٤١٩٨) (منکر) (اہل بیت کے ذکر کے ساتھ منکر ہے، سند میں عطیہ عوفی ضعیف راوی ہیں، مگر حدیث رقم ٣٩٠٦ سے تقویت پا کر اس کا دوسرا ٹکڑا صحیح ہے)