انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار میرے راز دار اور میرے خاص الخاص ہیں، لوگ عنقریب بڑھیں گے اور انصار کم ہوتے جائیں گے، تو تم ان کے بھلے لوگوں کی اچھائیوں کو قبول کرو اور ان کے خطا کاروں کی خطاؤں سے درگزر کرو ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The ansar are my reliable people and confidants. The people will multiply while they will decline. So, accept the pious among them and forgive their evil.” [Ahmed 12802, Bukhari 3801, Muslim 2510]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3907
سعد ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو قریش کی رسوائی چاہے گا اللہ اسے رسوا کر دے گا ١ ؎۔
Sayyidina Sa’d (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “If anyone wishes that the Quraysh should be humiliated then Allah will humiliate him.” [Ahmed 1473]
صحيح، الصحيحة (1178)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3905
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے غریب ہے، ٢- ہم سے عبد بن حمید نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: مجھے یعقوب بن ابراہیم بن سعد نے خبر دی، وہ کہتے ہیں: مجھ سے میرے والد نے بیان کیا اور انہوں نے صالح بن کیسان سے اور صالح نے ابن شہاب سے اسی سند سے اسی جیسی حدیث روایت کی۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث سے اللہ کے نزدیک قریش کے مقام و مرتبہ کا ثبوت ہے، کیونکہ قریش ہی سے سب سے افضل نبی پیدا ہوئے۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: کوئی شخص جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہو انصار سے بغض نہیں رکھ سکتا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that the Prophet ﷺ said to him, “A man who believes in Allah and the Last Day cannot despise the ansar.” [Ahmed 2819]
صحيح، الصحيحة (1234)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3906
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: کیونکہ آڑے وقت میں انصار ہی ایمان کی تائید و نصرت میں آگے آئے، اس لیے کہ قریش کی ناراضگی مول لی، ہر طرح کی قربانیاں پیش کیں۔
عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے اللہ! قریش کے پہلوں کو تو نے (قتل، قید اور ذلت کا) عذاب چکھایا ہے ١ ؎، تو ان کے پچھلوں کو بخشش و عنایت سے نواز دے ۔
Sayyidina Ibn Abbas (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “O Allah! You caused the first people of the Quraysh to taste punishment, now give the last of them to taste blessings and mercy.” [Ahmed 2170]
حسن صحيح الضعيفة تحت الحديث (398)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3908
انس ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: «اللهم اغفر للأنصار ولأبناء الأنصار ولأبناء أبناء الأنصار ولنساء الأنصار» اے اللہ! انصار کو، ان کے بیٹوں کو، ان کے بیٹوں کے بیٹوں کو اور ان کی عورتوں کو بخش دے ۔
Sayyidina Anas (RA) reported that the Prophet ﷺ prayed, “O Allah, forgive the ansar and the children of the ansar, and the children of the children of the ansar, and the women of the ansar.” [Ahmed 12595] -
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3909
انس بن مالک کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا میں تمہیں انصار کے بہتر گھروں کی یا انصار کے بہتر لوگوں کی خبر نہ دوں؟ لوگوں نے عرض کیا: کیوں نہیں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا : سب سے بہتر بنی نجار ہیں، پھر بنی عبدالاشہل ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی حارث بن خزرج ہیں جو ان سے قریب ہیں، پھر بنی ساعدہ ہیں ١ ؎، پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اشارہ کیا اور اپنی انگلیوں کو بند کیا، پھر کھولا جیسے کوئی اپنے ہاتھوں سے کچھ پھینک رہا ہو اور فرمایا: انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ٢ ؎۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Shall I inform you of the best houses of the ansar or the best of the ansar?” They said, “Certainly, O Messenger of Allah.’ He said, “Banu Najjar, and those who follow them Banu Abdul Ashhal, and those who follow them Banu al-Harith ibn Khazraj, and those who follow them Banu Sa’idah.” Then he gestured with his hand, closing his fist and spreading open his fingers as though he threw something with his hand and said, “There is good in all the houses of the ansar.” [Ahmed 12025, Bukhari 3879, Muslim 2511]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3910
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- انس سے بھی آئی ہے جسے وہ ابواسید ساعدی کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسلام کے لیے سبقت کے حساب سے ان قبائل کے فضائل کی ترتیب رکھی گئی ہے، جو جس قبیلہ نے جس ترتیب سے اول اسلام کی طرف سبقت کی آپ نے اس کو اسی درجہ کی فضیلت سے سرفراز فرمایا۔ ٢ ؎: یعنی: ایمان میں دیگر عربی قبائل کی بنسبت سبقت کے سبب انصار کے سارے خاندانوں کو ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔
ابواسید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ١ ؎ ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے، پھر بنی حارث بن خزرج کے پھر بنی ساعدہ کے اور انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ، تو سعد نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کو یہی سمجھ رہا ہوں کہ آپ نے ہم پر لوگوں کو فضیلت دی ہے ٢ ؎ تو ان سے کہا گیا: آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ٣ ؎۔
Sayyidina Abu Usayd Saidi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of the tribes of the ansar are the tribe of Banu Najjar, then the tribe Banu Abdul Ashhal, then Banu Harith ibn Khazraj, then Banu Sa’idah, and there is good in every tribe of ansar. Sad narrated, “I never saw Allah’s Messenger ﷺ but he preferred over us. So, someone said, “He preferred you, indeed, over many.” [Ahmed 16049, Bukhari 3789, Muslim 2511]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3911
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابواسید ساعدی کا نام مالک بن ربیعہ ہے، ٣- اسی جیسی روایت ابوہریرہ ؓ سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ٤- اسے معمر نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور ان دونوں نے ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: قبائل و خاندان۔ ٢ ؎: آپ بنی ساعدہ میں سے تھے جن کا تذکرہ نبی ﷺ نے چوتھے درجہ پر کیا۔ ٣ ؎: یعنی: بنی ساعدہ کے بعد بھی تو انصار کے کئی خاندان ہیں جن کے اوپر بنی ساعدہ کو فضیلت دی ہے، نیز یہ بھی خیال رہے کہ یہ ترتیب آپ نے بحکم خداوندی بتائی تھی، اس لیے آپ پر اعتراض نہیں کرنا چاہیئے، یہ نصیحت خود سعد بن معاذ کے بھائی سہل نے کی تھی «کما فی مسلم»۔
جابر بن عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that Allah’s Messenger said, “The best of houses of the ansar are the Banu Najjar.”
صحيح بما قبله (3911)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3912
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بنی نجار ہی میں نبی اکرم ﷺ کے والد عبداللہ کا ننہیال تھا، یہ آپ کے ماموؤں کا خاندان تھا، نیز اسلام میں نسبت بھی اسی قبیلے نے کی تھی، یا اسلام میں ان کی قربانیاں دیگر خاندان کی بنسبت زیادہ تھیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٣٥٣) (صحیح) (سند میں مجالد بن سعید ضعیف راوی ہیں، لیکن سابقہ حدیث کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے)
جابر عبداللہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار میں سب سے بہتر بنی عبدالاشہل ہیں ١ ؎۔
Sayyidina Jabir ibn Abdullah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of the ansar are the Banu Abdul Ashhal.” --------------------------------------------------------------------------------
صحيح بما قبله (3912)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3913
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سابقہ حدیث میں «بنی اشہل» کا ذکر «بنی نجار» کے بعد آیا ہے، تو یہاں «من» کا لفظ محذوف ماننا ہوگا، یعنی: «بنی اشہل» انصار کے سب سے بہتر خاندانوں میں سے ہیں۔
علی ؓ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ جب ہم حرہ سقیا ١ ؎ میں پہنچے جو سعد بن ابی وقاص ؓ کا محلہ تھا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «اللهم إن إبراهيم کان عبدک وخليلک ودعا لأهل مكة بالبرکة وأنا عبدک ورسولک أدعوک لأهل المدينة أن تبارک لهم في مدهم وصاعهم مثلي ما بارکت لأهل مكة مع البرکة بركتين» مجھے وضو کا پانی دو ، چناچہ آپ نے وضو کیا، پھر آپ قبلہ رخ کھڑے ہوئے اور فرمایا: اے اللہ! ابراہیم تیرے بندے اور تیرے دوست ہیں اور انہوں نے اہل مکہ کے لیے برکت کی دعا فرمائی، اور میں تیرا بندہ اور تیرا رسول ہوں، اور تجھ سے اہل مدینہ کے لیے دعا کرتا ہوں کہ تو ان کے مد اور ان کی صاع میں اہل مکہ کو جو تو نے برکت دی ہے اس کی دوگنا برکت فرما، اور ہر برکت کے ساتھ دو برکتیں (یعنی اہل مکہ کی دوگنی برکت عطا فرما ٢ ؎ ) ۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib narrated: we went forth with Allah’s Messenger ﷺ till we were at Harrah Suqya, The locality of Sa’d ibn Abu Waqqas. Allah’s Messenger ﷺ said, “Fetch me water for ablultion.” He performed ablution and stood up and faced the qiblah. Then he prayed: "O Allah! Surely, Ibrahim was Your slave and Your friend. He prayed (to You) for the people of Makkah to be blessed. And, I am Your slave and Your Messenger. I pray to You for the people of Madinah that You bless them in their mudd and their Sa’ like You blessed for the people of Makkah, with a blessing twice over." [Ahmed 9361] --------------------------------------------------------------------------------
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں عائشہ، عبداللہ بن زید اور ابوہریرہ ؓ سے احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: «حرّۃ السقیا» مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے دو دن کے راستے پر ایک جگہ کا نام ہے۔ ٢ ؎: مکہ میں گرچہ اللہ کا گھر ہے، مگر مکہ والوں نے اللہ کے سب سے محبوب بندے کو مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تو مدینہ نے محبوب الٰہی کو پناہ دی جو آپ کی آخری پناہ ہوگئی، نیز یہیں کے باشندوں نے اسلام کو پناہ دی، اس کے لیے قربانیاں پیش کیں، جان و مال کا نذرانہ پیش کردیا، سارے عالم میں یہیں سے اسلام کا پھیلاؤ ہوا، اس لیے مدینہ کے لیے دوگنی برکت کی دعا فرمائی، اس دعا کا اثر ہر زائر مکہ کے لیے واضح طور پر دیکھی سنی حقیقت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) وانظر مسند احمد (١/١١٥) (صحیح)
علی اور ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان (مسجد نبوی) جو حصہ ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ١ ؎۔
Sayyidina Ali ibn Abu Talib and Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “That which is between my house and my pulpit is a garden of the gardens of paradise.” [Ahmed 7227, 8894]
حسن صحيح ظلال الجنة (731)، الروض النضير (1115)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3915
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، اور یہ حدیث ابوہریرہ ؓ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوعاً آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: روضۃ الجنۃ، مسجد نبوی میں ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، پس اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: میرے گھر اور میرے منبر کے درمیان جو حصہ ہے وہ جنت کی کیا ریوں میں سے ایک کیا ری ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “The portion between my house and my pulpit is a garden of the gardens of paradise." It is also reported through the same sanad that the Prophet ﷺ said, “A salah offered in this, my mosque is better than a thousand salah offered in any other of the mosques, except Masjid al-Haram.
حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405)
حسن صحيح، ابن ماجة (1404 و 1405)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3916
اور اسی سند سے نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: میری اس مسجد میں ایک نماز دوسری اور مسجدوں کے ایک ہزار نمازوں سے بہتر ہے سوائے مسجد الحرام کے ١ ؎۔
صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3916
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے، یہ حدیث ابوہریرہ ؓ سے اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مسجد الحرام میں ایک نماز کا ثواب دوسری مسجدوں کی بنسبت ایک لاگھ گنا ہے، مسجد نبوی میں نماز کا ثواب ایک ہزار گنا ہے، اور مسجد نبوی مدینہ میں ہے، اس سے مدینہ کی فضیلت ثابت ہوئی۔
عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو مدینہ میں مرسکتا ہو تو اسے چاہیئے کہ وہیں مرے کیونکہ جو وہاں مرے گا میں اس کے حق میں سفارش کروں گا ١ ؎۔
Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that the Prophet ﷺ said, “If anyone can die in Madinah, let him die there for, I will intercede for one who dies there.” [Ahmed 5438, Ibn e Majah 311] --------------------------------------------------------------------------------
صحيح، ابن ماجة (3112)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3917
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے یعنی ایوب سختیانی کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں سبیعہ بنت حارث اسلمیہ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی مدینہ میں رہنے کے لیے اسباب اختیار کرے، اگر کامیابی ہوگئی تو «فبہا» ورنہ یہ کوئی فرض کام نہیں ہے، نیز مدینہ میں اسی مرنے والے کے لیے آپ ﷺ شفاعت فرمائیں گے، جس کی وفات صحیح ایمان و عقیدہ پر ہوئی ہو، نہ کہ مشرک اور بدعتی کی شفاعت بھی کریں گے، آپ نے فرمایا ہے: آخرت کے لیے اٹھا کر رکھی گئی میری دعا اس کو فائدہ پہنچائے گی جس نے اللہ کے ساتھ کسی قسم کا شرک نہیں کیا ہوگا ( اس حدیث میں مدینہ کی ایک اہم فضیلت کا بیان ہے )۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/الحج ١٠ (٣١١٢) (تحفة الأشراف: ٧٥٥٣) (صحیح)
عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، (آپ نے کہا) «اصبري لکاع»! کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اس کی (مدینہ کی) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا ١ ؎۔
It is reported about Sayyidina Ibn Umar (RA) that one of his freed woman came to him. She said, “Times are very hard upon me and I intend to go away to Iraq.” He said, “Why do you not go to Syria? It is the land of gathering. Besides, O foolish one! Why do you not show patience? I have heard Allah’s Messenger say that if anyone exercises patience over the hardships of Madinah and over hunger then, on the day of resurrection, he will be his-witness or intercessor.” [Muslim 1377, Ahmed 6449]
صحيح تخريج فقه السيرة (184)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3918
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اسلام کے شہروں میں ویرانی کے اعتبار سے مدینہ سب سے آخری شہر ہوگا ۔
Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The last city of the cites of Islam to be destroyed will be Madinah.”
ضعيف، الضعيفة (1300) // ضعيف الجامع الصغير (4) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3919
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف جنادہ کی روایت سے جانتے ہیں، جسے وہ ہشام بن عروہ سے روایت کرتے ہیں، ٢- محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کے ابوہریرہ ؓ پر تعجب کا اظہار کیا ہے (یعنی ایسی بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے) ۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤١٦٦) (ضعیف) (سند میں جنادہ کو بہت سے أئمہ نے ضعیف قرار دیا ہے)
جابر ؓ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ ﷺ سے اسلام پر بیعت کی، پھر اسے مدینہ میں بخار آگیا تو وہ اعرابی نبی اکرم ﷺ پاس آیا اور کہنے لگا، آپ مجھے میری بیعت پھیر دیں، تو رسول اللہ ﷺ نے انکار کیا، پھر وہ دوبارہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: آپ میری بیعت مجھے پھیر دیں تو پھر آپ نے انکار کیا، پھر وہ اعرابی مدینہ چھوڑ کر چلا گیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ ایک بھٹی کے مثل ہے جو دور کردیتا ہے اپنے کھوٹ کو اور خالص کردیتا ہے پاک کو ١ ؎۔
Sayyidina Jabir (RA) reported that a villager swore allegiance to Allah’s Messenger ﷺ over Islam. But, he was overtaken by fever in Madinah. So, he came to Allah’s Messenger ﷺ and said, “Return me (that is, cancel) my pledge.” But, Allah’s Messenger ﷺ refused. So, the villager went away only to come back and say again, Return me my pledge,” but he refused. The villager went out and came back later and said “Return me my pledge,” but the Prophet ﷺ refused (to do that). He went away and Allah’s Messenger ﷺ said, “Madinah is like bellows that drives away its impurity and purifies the good in it.”
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3920
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابوہریرہ ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی لوہار کی بھٹی جس طرح لوہے کے میل اور اس کے زنگ کو دور کردیتی ہے اسی طرح مدینہ اپنے یہاں سے برے لوگوں کو نکال پھینکتا ہے۔ اور مدینہ کی یہ خصوصیت کیا صرف عہد نبوی تک کے لیے تھی ( جیسا کہ قاضی عیاض کہتے ہیں ) یا عہد نبوی کے بعد بھی باقی ہے؟ ( جیسا کہ نووی وغیرہ کہتے ہیں ) نووی نے حدیث دجال سے استدلال کیا ہے کہ اس وقت بھی مدینہ ایسا کرے گا، کہ برے لوگوں کو اپنے یہاں سے نکال باہر کرے گا، اب اپنی یہ بات کہ بہت سے صحابہ و خیار تابعین بھی مدینہ سے باہر چلے گئے، تو کیا وہ لوگ بھی برے تھے؟ ہرگز نہیں، اس حدیث کا مطلب ہے: جو مدینہ کو برا جان کر وہاں سے نکل جائے وہ اس حدیث کا مصداق ہے، اور رہے صحابہ کرام تو وہ مدینہ کی سکونت کو افضل جانتے تھے، مگر دین اور علم دین کی اشاعت کے مقصد عظیم کی خاطر باہر گئے تھے، ؓ۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/فضائل المدینة ١٠ (١٨٨٣)، والأحکام ٤٥ (٧٢٠٩)، و ٤٧ (٧٢١١)، و ٥٠ (٧٢١٦)، والاعتصام ١٦ (٧٣٢٢)، صحیح مسلم/الحج ٨٨ (١٣٨٣) (تحفة الأشراف: ٣٠٧١)، موطا امام مالک/الجامع ٢ (٤)، و مسند احمد (٣/٢٩٢) (صحیح)
ابوہریرہ ؓ کہتے تھے کہ اگر میں مدینہ میں ہرنوں کو چرتے دیکھوں تو انہیں نہ ڈراؤں اس لیے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے: اس کی دونوں پتھریلی زمینوں ١ ؎ کے درمیان کا حصہ حرم ہے ۔
Sayyidina Abu Hurayrah used to say, “If I were to see a deer grazing in Madinah, I would not frighten it off. Allah’s Messenger said that the portion between the two rocks is sacred land.” [Bukhari 1869, Muslim 1372, Ahmed 7222]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3921
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- ابوہریرہ ؓ کی یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں سعد، عبداللہ بن زید، انس، ابوایوب، زید بن ثابت، رافع بن خدیج، سہل بن حنیف اور جابر ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ دونوں پتھریلی زمینیں ( حرہ ) حرّہ غربیہ اور حرّہ شرقیہ کے نام سے معروف ہیں۔
انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کو احد پہاڑ نظر آیا تو آپ نے فرمایا: یہ ایسا پہاڑ ہے کہ یہ ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے، اے اللہ! ابراہیم نے مکہ کو حرام کیا اور میں اس (مدینہ) کی دونوں پتھریلی زمینوں کے بیچ کے حصہ کو حرام قرار دے رہا ہوں ۔
Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that on seeing Uhud, Allah’s Messenger ﷺ said, “This Mountain loves us and we love it. O Allah, surely, Ibrahim declared Makkah to be sacred and I declare sacred that which lies between the two rocks (Madinah).” [Ahmed 12612, Muslim 1365]
صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3922
جریر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: اللہ نے میری طرف وحی کی کہ مدینہ، بحرین اور قنسرین ان تینوں میں سے جہاں بھی تم جاؤ وہی تمہارا دار الہجرت ہے ۔
Sayyidina Jarir ibn Abdullah (RA) reported that the Prophet ﷺ said, ‘Indeed, Allah revealed to me that in whichever of these three places I take up residence, that will be the place of my hijrah (migration): Madinah, Bahrayn or Qinnasrin (a place in Syria).”
موضوع الرد علی الکتاني رقم الحديث (1) // ضعيف الجامع الصغير (1573) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3923
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف فضل بن موسیٰ کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے ابوعمار یعنی حسین بن حریث روایت کرنے میں منفرد ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٢٤١) (موضوع) (سند میں غیلان بن عبد اللہ سخت ضعیف راوی ہے)
ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مدینہ کی تنگی معیشت اور اس کی سختیوں پر جو صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ اور سفارشی ہوں گا ١ ؎۔
Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “No one endures the hardships and rigours of Madinah but I will be an intercessor or a witness for him on the day of resurrection.” [Muslim 1378, Ahmed 9172]
صحيح تخريج فقه السيرة (184)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3924
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن غریب ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں، ٣- صالح بن ابی صالح سہیل بن ابی صالح کے بھائی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: شرط وہی ہے کہ وہ پکا موحد ہو، کسی طرح کے بھی شرک کا مرتکب اس شفاعت کا مستحق نہیں ہوگا۔