مناقب کا بیان

Sunan At-Tirmidhi · Chapter 45 · 359 hadiths · Page 17 of 18

3925Sunan At-Tirmidhi

مکہ مکرمہ کی فضیلت کے بارے میں۔

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عَلَى الْحَزْوَرَةِ، فَقَالَ: وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ صَحِيحٌ، وَقَدْ رَوَاهُيُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، نَحْوَهُ، وَرَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَحَدِيثُ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ ابْنِ حَمْرَاءَ، عِنْدِي أَصَحُّ.

عبداللہ بن عدی بن حمراء زہری کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو «حزوراء» (چھوٹا ٹیلہ) پر کھڑے دیکھا، آپ نے فرمایا: قسم اللہ کی! بلاشبہ تو اللہ کی سر زمین میں سب سے بہتر ہے اور اللہ کی زمینوں میں اللہ کے نزدیک سب سے محبوب سر زمین ہے، اگر مجھے تجھ سے نہ نکالا جاتا تو میں نہ نکلتا ١ ؎۔

Sayyidina Abdullah ibn Adi ibn Hamra reported that he saw Allah’s Messenger ﷺ standing at Hazwarah. He said, “By Allah, the best of Allah’s land and dearest of it to Allah are you. And, if I had not been driven away from you, I would not have gone.” [Ahmed 8749]

صحيح، ابن ماجة (3108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3925
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب صحیح ہے، ٢- اسے یونس نے بھی زہری سے اسی طرح روایت کیا ہے، اور اسے محمد بن عمرو نے بطریق: «أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلی اللہ عليه وسلم» روایت کیا ہے، اور زہری کی حدیث جو بطریق: «أبي سلمة عن عبد اللہ بن عدي ابن حمراء» آئی ہے وہ میرے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس حدیث نیز مسجد الحرام مکہ میں نماز کے اجر و ثواب والی حدیث سے معلوم ہوتا ہے، کہ مکہ: مدینہ سے افضل ہے، یہی محققین کا قول ہے۔
Takhrij · تخریج
سنن ابن ماجہ/المناسک ١٠٣ (٣١٠٨) (تحفة الأشراف: ٦٦٤١) (صحیح)
3926Sunan At-Tirmidhi

مکہ مکرمہ کی فضیلت کے بارے میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ، وَأَبُو الطُّفَيْلِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِمَكَّةَ: مَا أَطْيَبَكِ مِنْ بَلَدٍ وَأَحَبَّكِ إِلَيَّ، وَلَوْلَا أَنَّ قَوْمِي أَخْرَجُونِي مِنْكِ مَا سَكَنْتُ غَيْرَكِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عبداللہ بن عباس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مکہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کتنا پاکیزہ شہر ہے تو اور تو کتنا مجھے محبوب ہے، میری قوم نے مجھے تجھ سے نہ نکالا ہوتا تو میں تیرے علاوہ کہیں اور نہ رہتا ۔

Sayyidina lbn Abbas reported that Allah’s Messenger ﷺ addressed Makkah, saying, “What a nice town you are! How dear to me! Were it not that my people expelled me from you, I would not live anywhere besides you.”

صحيح، المشکاة (2724)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3926
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفردبہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٥٣٩) (صحیح)
3927Sunan At-Tirmidhi

عرب کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ قَابُوسَ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا سَلْمَانُ، لَا تَبْغَضْنِي فَتُفَارِقَ دِينَكَ ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَبْغَضُكَ وَبِكَ هَدَانَا اللَّهُ ؟ قَالَ: تَبْغَضُ الْعَرَبَ فَتَبْغَضُنِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَدْرٍ شُجَاعِ بْنِ الْوَلِيدِ، وسَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيل، يَقُولُ: أَبُو ظَبْيَانَ لَمْ يُدْرِكْ سَلْمَانَ، مَاتَ سَلْمَانُ قَبْلَ عَلِيٍّ.

سلمان ؓ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلمان! تم مجھ سے بغض نہ رکھو کہ تمہارا دین ہاتھ سے جاتا رہے ، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں کیسے آپ سے بغض رکھ سکتا ہوں اور حال یہ ہے کہ اللہ نے آپ ہی کے ذریعہ ہمیں ہدایت بخشی ہے، آپ نے فرمایا: تم عربوں سے بغض رکھو گے تو مجھ سے بغض رکھو گے ۔

Sayyidina Salman (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said to him, ‘O Salman, do not hate me, lest you abandon your religion.” He asked, “O Messenger of Allah, how can I hate you when through you, Allah has guided me.” He said, “If you hate the Arabs then you will hate me.” [Ahmed 23792]

ضعيف، الضعيفة (2020)، المشکاة (5989) // ضعيف الجامع الصغير (6394) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3927
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف ابوبدر شجاع بن ولید کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: ابوظبیان نے سلمان کا زمانہ نہیں پایا ہے اور سلمان علی سے پہلے وفات پا گئے تھے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف : ٤٤٨٨) (ضعیف) (سند میں قابوس لین الحدیث یعنی ضعیف راوی ہے)
3928Sunan At-Tirmidhi

عرب کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ الْعَبْدِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الْأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ طَارِقِ بْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ غَشَّ الْعَرَبَ لَمْ يَدْخُلْ فِي شَفَاعَتِي وَلَمْ تَنَلْهُ مَوَدَّتِي . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ حُصَيْنِ بْنِ عُمَرَ الْأَحْمَسِيِّ، عَنْ مُخَارِقٍ، وَلَيْسَ حُصَيْنٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ بِذَاكَ الْقَوِيِّ.

عثمان بن عفان ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے عربوں کو دھوکہ دیا وہ میری شفاعت میں شامل نہ ہوگا اور اسے میری محبت نصیب نہ ہوگی ۔

Sayyidina Uthman ibn Affan (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “He who betrays the Arabs will not be included in my intercession and will not get my love.” [Ahmed 519]

موضوع، الضعيفة (545)، المشکاة (5990) // ضعيف الجامع الصغير (5715) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3928
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ٢- ہم اسے صرف حصین بن عمر احمسی کی روایت سے جانتے ہیں اور وہ مخارق سے روایت کرتے ہیں، اور حصین محدثین کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩٨١٢) (موضوع) (سند میں حصین بن عمر الاحمسی “ متروک راوی ہے)
3929Sunan At-Tirmidhi

عرب کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ، عَنْ أُمِّهِ، قَالَتْ: كَانَتْ أُمُّ الْحُرَيْرِ إِذَا مَاتَ أَحَدٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْهَا، فَقِيلَ لَهَا: إِنَّا نَرَاكِ إِذَا مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْعَرَبِ اشْتَدَّ عَلَيْكِ، قَالَتْ: سَمِعْتُ مَوْلَايَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مِنَ اقْتِرَابِ السَّاعَةِ هَلَاكُ الْعَرَبِ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي رَزِينٍ: وَمَوْلَاهَا طَلْحَةُ بْنُ مَالِكٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ حَرْبٍ.

محمد بن رزین کی والدہ کہتی ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا تو ام جریر پر اس کی موت بڑی سخت ہوجاتی یعنی انہیں زبردست صدمہ ہوتا تو ان سے کہا گیا کہ ہم آپ کو دیکھتے ہیں کہ جب کوئی عرب مرتا ہے تو آپ کو بہت صدمہ پہنچتا ہے؟ تو انہوں نے کہا: میں نے اپنے مالک کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عربوں کی ہلاکت قرب قیامت کی نشانی ہے ۔ محمد بن رزین کہتے ہیں: ان کے مالک کا نام طلحہ بن مالک ہے۔

Muhammad ibn Abu Razin reported on the authority of his mother that she said that whenever an Arab died Umm Harir became very grieved. She was asked, “We observe that you are much grieved when anyone of the Arabs dies.” She said that she had heard her master say that Allah’s Messenger ﷺ said, one of the signs of the approach of the Last Hour is the destruction of the Arabs." --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، الضعيفة (4515)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3929
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف سلیمان بن حرب کی روایت سے جانتے ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٥٠٢٢) (ضعیف) (سند میں ام الحریر اور ام محمد بن ابی رزین دونوں مجہول ہیں)
3930Sunan At-Tirmidhi

عرب کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْأَزْدِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: حَدَّثَتْنِي أُمُّ شَرِيكٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: لَيَفِرَّنَّ النَّاسُ مِنَ الدَّجَّالِ حَتَّى يَلْحَقُوا بِالْجِبَالِ ، قَالَتْ أُمُّ شَرِيكٍ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ ؟ قَالَ: هُمْ قَلِيلٌ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

ام شریک ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگ دجال سے بھاگیں گے، یہاں تک کہ پہاڑوں پر جا رہیں گے ، ام شریک ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس وقت عرب کہاں ہوں گے؟ آپ نے فرمایا: وہ (تعداد میں) تھوڑے ہوں گے ۔

Sayyidah Umm Sharik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “People will flee from the dajjal and go to the mountains.” She asked, “O Messenger of Allah, where will the Arabs be on that day?” He said, “They will be few.” [Muslim 3231, Ahmed 27691]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3930
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/الفتن ٢٥ (٢٩٤٥) (تحفة الأشراف: ١٨٣٣٠) (صحیح)
3931Sunan At-Tirmidhi

عرب کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ الْعَقَدِيُّ بَصْرِيٌّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: سَامٌ أَبُو الْعَرَبِ، وَيَافِثُ أَبُو الرُّومِ، وَحَامٌ أَبُو الْحَبَشِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ، وَيُقَالُ: يَافِثُ، وَيَافِتُ، وَيفِثُ.

سمرہ بن جندب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «سام» عربوں کے جد امجد ہیں اور «یافث» رومیوں کے اور «حام» حبشیوں کے ١ ؎۔

Sayyidina Samurah ibn Jundub (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “Saam was the father of the Arabs, Yaafith of the Romans and Haam of the Ethiopians.”

ضعيف، الضعيفة (3683) // تقدم برقم (635 / 3461)، ضعيف الجامع الصغير (3214) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3931
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن ہے اور «یافث»، «یافِتُ» اور «یَفِتُ» تینوں لغتیں ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ تینوں نوح (علیہ السلام) کے بیٹوں کے نام ہیں۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٣٢٣١ (ضعیف)
3932Sunan At-Tirmidhi

عجم کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: ذُكِرَتِ الْأَعَاجِمُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَأَنَا بِهِمْ أَوْ بِبَعْضِهِمْ أَوْثَقُ مِنِّي بِكُمْ أَوْ بِبَعْضِكُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَصَالِحُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ هَذَا يُقَالُ لَهُ: صَالِحُ بْنُ مِهْرَانَ مَوْلَى عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ.

ابوہریرہ ؓ کا بیان ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس عجم کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: مجھے ان پر یا ان کے بعض لوگوں پر تم سے یا تمہارے بعض لوگوں سے زیادہ اعتماد ہے ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that the Ajam (non-Arabs) were mentioned before Allah’s Messenger ﷺ . He said, “Indeed, they or some of them are more trustworthy in my sight than you or some of you.” --------------------------------------------------------------------------------

ضعيف، المشکاة (6245)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3932
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے ہم اسے صرف ابوبکر بن عیاش کی روایت سے جانتے ہیں، ٢- اور صالح بن ابی صالح کو صالح بن مہران مولی عمرو بن حریث بھی کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٣٥٠٢) (ضعیف) (سند میں صالح بن ابی صالح ضعیف راوی ہیں)
3933Sunan At-Tirmidhi

عجم کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ زَيْدٍ الدِّيلِيُّ، عَنْ أَبِي الْغَيْثِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أُنْزِلَتْ سُورَةُ الْجُمُعَةِ، فَتَلَاهَا، فَلَمَّا بَلَغَ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ سورة الجمعة آية 3، قَالَ لَهُ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنْ هَؤُلَاءِ الَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِنَا ؟ فَلَمْ يُكَلِّمْهُ، قَالَ: وَسَلْمَانُ الْفَارِسِيُّ فِينَا، قَالَ: فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى سَلْمَانَ، فَقَالَ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَوْ كَانَ الْإِيمَانُ بِالثُّرَيَّا لَتَنَاوَلَهُ رِجَالٌ مِنْ هَؤُلَاءِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبُو الْغَيْثِ اسْمُهُ: سَالِمٌ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُطِيعٍ مَدَنِيٌّ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ جس وقت سورة الجمعہ نازل ہوئی ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس موجود تھے، آپ نے اس کی تلاوت فرمائی، جب «وآخرين منهم لما يلحقوا بهم» پر پہنچے تو آپ سے ایک شخص نے عرض کیا: اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں جو ابھی ہم سے ملے نہیں ہیں تو آپ نے اسے کوئی جواب نہیں دیا، وہ کہتے ہیں: اور سلمان فارسی ہم میں موجود تھے، تو رسول اللہ ﷺ نے اپنا ہاتھ سلمان کے اوپر رکھا اور فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر ایمان ثریا پر بھی ہوگا تو بھی اس کے کچھ لوگ اسے حاصل کرلیں گے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah narrated: We were with Allah’s Messenger ﷺ when surah al-Jumu’ah was revealed. He recited it. When he came to the words: "And (also for) others of them who have not yet joined them." (62 : 3) A man said to him, “O Messenger of Allah, who are they who have not yet joined us.” He did not say anything to him. Salman Farsi was among us. Allah’s Messenger placed his hand on Salman and said, “By Him in Whose Hand is my soul, were faith to be in Thurayya (Pleiades) some of these men would fetch it.’

صحيح وهو مکرر الحديث (3541)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3933
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن ہے، ٢- اور یہ متعدد سندوں سے ابوہریرہ ؓ سے مرفوع طریقہ سے آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: سلمان فارسی ؓ عجمی ( ملک ایران کے ) تھے اور اس آیت میں انہیں لوگوں کی طرف اشارہ ہے، عجم میں بیشمار محدثین اور عظیم امامان اسلام پیدا ہوئے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/تفسیر سورة الجمعة ١ (٤٨٩٧)، ٤٨٩٨)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥٩ (٢٥٢٦) (تحفة الأشراف: ١٢٩١٧)، و مسند احمد (٢/٢٩٧، ٤٢٠، ٤٦٩) (صحیح)
3934Sunan At-Tirmidhi

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زِيَادٍ الْقَطَوَانِيُّ، وَغَيْرُ وَاحِدٍ، قَالُوا: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ، عَنْقَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ قِبَلَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اللَّهُمَّ أَقْبِلْ بِقُلُوبِهِمْ، وَبَارِكْ لَنَا فِي صَاعِنَا وَمُدِّنَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ.

زید بن ثابت ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے یمن کی طرف دیکھا اور فرمایا: اے اللہ! ان کے دلوں کو ہماری طرف پھیر دے اور ہمارے صاع اور مد میں ہمیں برکت دے ١ ؎۔

Sayyidina Zayd ibn Thabit (RA) reported that the Prophet ﷺ looked in the direction of Yemen and prayed: O Allah turn their hearts towards us, and bless us in our sa’ and our mudd. [Ahmed 21606]

حسن صحيح، المشکاة (6263 / التحقيق الثانی)، الإرواء (4 / 176)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3934
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے، ہم اسے یعنی زید بن ثابت کی اس حدیث کو صرف عمران قطان کی روایت سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: مدینہ میں زیادہ تر علم یمن سے آیا کرتا تھا، اس لیے آپ نے اہل یمن کی دلوں کو مدینہ کی طرف پھیر دینے کی دعا فرمائی، اسی مناسبت سے آپ نے مدینہ کی صاع اور مد ( یعنی صاع اور مد میں ناپے جانے غلے ) میں برکت کی دعا فرمائی۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٦٩٧) (حسن صحیح)
3935Sunan At-Tirmidhi

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَاكُمْ أَهْلُ الْيَمَنِ هُمْ أَضْعَفُ قُلُوبًا، وَأَرَقُّ أَفْئِدَةً الْإِيمَانُ يَمَانٍ، وَالْحِكْمَةُ يَمَانِيَةٌ . وَفِي الْبَابِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَابْنِ مَسْعُودٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: تمہارے پاس اہل یمن آئے وہ نرم دل اور رقیق القلب ہیں، ایمان یمنی ہے اور حکمت بھی یمنی ہے ١ ؎۔

Sayyidina Abu Hurayrah reported that Allah’s Messenger said, “The people of Yemen have come to you. They have most mild thoughts and, most soft hearts. Faith comes from Yemen and wisdom is (also) from there.” [Ahmed 10982, Bukhari 3301, Muslim 52]

صحيح، الروض النضير (1034)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3935
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- اس باب میں ابن عباس اور ابن مسعود ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: بقول بعض آپ ﷺ نے ایمان و حکمت کو جو یمنی فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان و حکمت دونوں مکہ سے نکلے ہیں اور مکہ تہامہ سے ہے اور تہامہ سر زمین یمن میں داخل ہے، اور بقول بعض یہاں ظاہری معنی ہی مراد لینے میں کوئی حرج نہیں، یعنی یہاں خاص یمن جو معروف ہے کہ وہ لوگ مراد ہیں جو اس وقت یمن سے آئے تھے، نہ کہ ہر زمانہ کے اہل یمن مراد ہیں، نیز یہ معنی بھی بیان کیا گیا ہے کہ یمن والوں سے بہت آسانی سے ایمان قبول کرلیا، جبکہ دیگر علاقوں کے لوگوں پر بہت زیادہ محنت کرنی پڑتی تھی، اس لیے اہل یمن ( اس وقت کے اہل یمن ) کی تعریف کی، «واللہ اعلم»
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المغازي ٧٤ (٤٣٨٨، ٤٣٩٠)، صحیح مسلم/الإیمان ٢١ (٥٢/٨٤) (تحفة الأشراف: ١٥٠٤٧)، و مسند احمد (٢/٢٥٢، ٢٥٨، ٢٥٨، ٤٨٠، ٥٤١) (صحیح)
3936Sunan At-Tirmidhi

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مَرْيَمَ الْأَنْصَارِيُّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْمُلْكُ فِي قُرَيْشٍ، وَالْقَضَاءُ فِي الْأَنْصَارِ، وَالْأَذَانُ فِي الْحَبَشَةِ، وَالْأَمَانَةُ فِي الْأَزْدِ يَعْنِي: الْيَمَنَ .

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سلطنت (حکومت) قریش میں رہے گی، اور قضاء انصار میں اور اذان حبشہ میں اور امانت قبیلہ ازد میں یعنی یمن میں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Kingdom belongs to the Quraysh, judgement to the Ansar, adhan to Ethiopia and fidelity to the Azd, meaning Yemen.” [Ahmed 8769]

صحيح، الصحيحة (1083)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3936
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٥٤٦١) (صحیح)
3937Sunan At-Tirmidhi

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ، حَدَّثَنِي عَمِّي صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْكَبِيرِ بْنِ شُعَيْبِ بْنِ الْحَبْحَابِ، حَدَّثَنِي عَمِّيعَبْدُ السَّلَامِ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَزْدُ أُسْدُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ، يُرِيدُ النَّاسُ أَنْ يَضَعُوهُمْ، وَيَأْبَى اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَرْفَعَهُمْ، وَلَيَأْتِيَنَّ عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَقُولُ الرَّجُلُ: يَا لَيْتَ أَبِي كَانَ أَزْدِيًّا، يَا لَيْتَ أُمِّي كَانَتْ أَزْدِيَّةً . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَرُوِيَ هَذَا الْحَدِيثُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ أَنَسٍ مَوْقُوفٌ وَهُوَ عِنْدَنَا أَصَحُّ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: «ازد» ( اہل یمن) زمین میں اللہ کے شیر ہیں، لوگ انہیں گرانا چاہتے ہیں اور اللہ انہیں اٹھانا چاہتا ہے، اور لوگوں پر ایک ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ آدمی کہے گا، کاش! میرا باپ ازدی ہوتا، کاش میری ماں! ازدیہ ہوتی ۔

Sayyidina Anas reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The Azd are Allah’s Azd (Aza or Asad meaning Lion) on earth. People wish to put them down, but Allah refuses every thing except that He should raise them. A time will come to the people when a man will lament: would that my father was an Azd. Would that my father was an Azd!”

ضعيف، الضعيفة (2467) // ضعيف الجامع الصغير (2275) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3937
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- یہ حدیث اس سند سے انس سے موقوف طریقہ سے آئی ہے، اور یہ ہمارے نزدیک زیادہ صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٩١٩) (ضعیف) (سند میں صالح بن عبد الکریم مجہول ہے)
3938Sunan At-Tirmidhi

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ جَرِيرٍ، قَال: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنْ لَمْ نَكُنْ مِنَ الْأَزْدِ، فَلَسْنَا مِنَ النَّاسِ ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ اگر ہم ازدی (یعنی قبیلہ ازد کے) نہ ہوں تو ہم آدمی ہیں ہی نہیں ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) narrated: If we were not of the Azd, we would not have been of the (perfect) people.

صحيح الإسناد موقوفصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3938
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی ہم مکمل انسان نہ ہوتے، انس ؓ قبیلہ انصار کے تھے، اور سارے انصار قبیلہ ازد کے ہیں، اور یہ قبیلہ یمن سے حجاز آیا۔
Takhrij · تخریج
(صحیح) تحفة الأحوذی (٤١٩٦/١٠/٣٠٤) کے نسخے میں یہ حدیث ہے، اور مکتبة المعارف کے نسخے اور تحفة الأشراف میں یہ حدیث نہیں ہے)
3939Sunan At-Tirmidhi

اہل یمن کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ زَنْجُوَيْهِ بَغْدَادِيٌّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ مِينَاءَ مَوْلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، قَال: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كُنَّا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ رَجُلٌ أَحْسِبُهُ مِنْ قَيْسٍ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْعَنْ حِمْيَرًا فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: رَحِمَ اللَّهُ حِمْيَرًا أَفْوَاهُهُمْ سَلَامٌ، وَأَيْدِيهِمْ طَعَامٌ، وَهُمْ أَهْلُ أَمْنٍ وَإِيمَانٍ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، وَيُرْوَى عَنْ مِينَاءَ هَذَا أَحَادِيثُ مَنَاكِيرُ.

ابوہریرہ ؓ کہتے ہیں کہ ہم نبی اکرم ﷺ کے پاس تھے کہ اتنے میں ایک شخص آیا (میرا خیال ہے کہ وہ قبیلہ قیس کا تھا) اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! قبیلہ حمیر پر لعنت فرمائیے، تو آپ نے اس سے چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آیا، آپ نے پھر اس سے اپنا چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے پھر اپنا چہرہ پھیرلیا، پھر وہ دوسری طرف سے آیا تو آپ نے اپنا چہرہ پھیرلیا اور فرمایا: اللہ حمیر پر رحم کرے، ان کے منہ میں سلام ہے، ان کے ہاتھ میں کھانا ہے، اور وہ امن و ایمان والے لوگ ہیں ۔

Sayyidina Abu Hurayrah (RA) narrated: We were with Allah’s Messenger ﷺ when a man came to him-I suppose, from the Qays. He said, “O Messenger of Allah, curse the Himyar.” But he turned away from him. Then he came from the other side, but the Prophet ﷺ again turned away. Again, he came from another side, but he turned away from him and said, ‘May Allah have mercy on the Himyar! May there be peace in their mouths and food in their hands! they are folk of peace and faith.” [Ahmed 7749]

موضوع، الضعيفة (349) // ضعيف الجامع الصغير (3109) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3939
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے عبدالرزاق کی روایت سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں، ٢- اور میناء سے بہت سی منکر حدیثیں روایت کی جاتی ہیں۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٤٦٣٣)، و مسند احمد (٢/٢٧٨) (موضوع) (سند میں مینا بن ابی مینا متروک شیعی راوی ہے، نیز ملاحظہ ہو: الضعیفة ٣٤٩)
3940Sunan At-Tirmidhi

قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ اور مزینہ کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، حَدَّثَنَا أَبُو مَالِكٍ الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الْأَنْصَارُ، وَمُزَيْنَةُ، وَجُهَيْنَةُ، وَغِفَارٌ، وَأَشْجَعُ، وَمَنْ كَانَ مِنْ بَنِي عَبْدِ الدَّارِ مَوَالِيَّ، لَيْسَ لَهُمْ مَوْلًى دُونَ اللَّهِ، وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ مَوْلَاهُمْ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ابوایوب انصاری ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار، مزینہ، جہینہ، غفار، اشجع اور جو قبیلہ عبدالدار کے ہوں وہ میرے رفیق ہیں، ان کا اللہ کے علاوہ کوئی اور رفیق نہیں، اور اللہ اور اس کے رسول ان کے رفیق ہیں ۔

Sayyidina Abu Ayyub Ansari (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said,. “The Ansar, the Muzaynah, the Juhaynah, the Ashja,’ the Ghifar and the members of Banu Abd ad-Dar are my friends. They have no Lord other than Allah. And Allah and His Messenger are their friends.” [Muslim 2519]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3940
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٧ (٢٥١٩) (تحفة الأشراف: ٣٤٩٣) (صحیح)
3941Sunan At-Tirmidhi

قبیلہ غفار، اسلم، جہینہ اور مزینہ کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَسْلَمُ سَالَمَهَا اللَّهُ، وَغِفَارٌ غَفَرَ اللَّهُ لَهَا، وَعُصَيَّةُ عَصَتِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بنی اسلم کو اللہ صحیح سالم رکھے، غفار کو اللہ بخشے اور عصیہ (قبیلہ) نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ١ ؎۔

Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس میں، قبیلہ اسلم، اور غفار کی منقبت ہے، جبکہ قبیلہ عصیہ کی برائی ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/المناقب ٦ (٣٥١٣)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٦ (٢٥١٨)، ویأتي برقم ٣٩٤٨ (تحفة الأشراف: ٧١٣٠)، و مسند احمد (٢/٢٠، ٥٠، ٦٠) (صحیح)
3942Sunan At-Tirmidhi

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْرَقَتْنَا نِبَالُ ثَقِيفٍ فَادْعُ اللَّهَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: اللَّهُمَّ اهْدِ ثَقِيفًا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.

جابر ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ثقیف کے تیروں نے ہمیں زخمی کردیا، تو آپ اللہ سے ان کے لیے بد دعا فرمائیں، آپ نے فرمایا:«اللهم اهد ثقيفا» اے اللہ! ثقیف کو ہدایت دے ۔

Sayyidina Jabir (RA) reported that people said, “O Messenger of Allah! ﷺ The arrows of the Thaqif have burned us, so curse them.” He said, “O Allah, guide Thaqif.” [Ahmed 14708]

ضعيف، المشکاة (5986)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3942
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٢٧٧٩) (ضعیف) (سند میں ابوالزبیر محمد بن مسلم مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے)
3943Sunan At-Tirmidhi

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ أَخْزَمَ الطَّائِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاهِرِ بْنُ شُعَيْبٍ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: مَاتَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَكْرَهُ ثَلَاثَةَ أَحْيَاءٍ: ثَقِيفًا، وَبَنِي حَنِيفَةَ، وَبَنِي أُمَيَّةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

عمران بن حصین ؓ کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی اور آپ تین قبیلوں ثقیف، بنی حنیفہ اور بنی امیہ کو ناپسند کرتے تھے ١ ؎۔

Sayyidina Imran ibn Husayn (RA) reported that the Prophet ﷺ died while he detested three tribes: Thaqif. Banu Hanifah and Banu Umayyah.

ضعيف الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3943
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث غریب ہے، ہم اسے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سلسلہ میں علماء کا کہنا ہے کہ ثقیف کو حجاج بن یوسف اور بنی حنیفہ کو مسیلمہ کذاب اور بنی امیہ کو عبیداللہ بن زیاد کی وجہ سے ناپسند کرتے تھے ( واللہ اعلم )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ١٠٨١٣) (ضعیف الإسناد) (حسن بصری مدلس ہیں، اور عنعنہ سے روایت ہے، جب کہ عمران بن حصین ؓ “ سے ان کا سماع بھی نہیں ہے)
3944Sunan At-Tirmidhi

بنو ثقیف اور بنو حنیفہ کے بارے میں

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، عَنْ شَرِيكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُصْمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فِي ثَقِيفٍ كَذَّابٌ وَمُبِيرٌ .حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ وَاقِدٍ أَبُو مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ يُكْنَى أَبَا عُلْوَانَ وَهُوَ كُوفِيٌّ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ شَرِيكٍ، وَشَرِيكٌ يَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُصْمٍ، وَإِسْرَائِيلُ، يروي عَنْ هَذَا الشَّيْخِ، وَيَقُولُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِصْمَةَ، وَفِي الْبَاب عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ.

عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ثقیف میں ایک جھوٹا اور ایک تباہی مچانے والا ظالم شخص ہوگا ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “There is in Thaqif a liar and one who will cause ruin." [Ahmed 4790]

صحيح ومضی (2221) // هذا الرقم فی طبعة الدع اس، وهو عندنا برقم (1808 / 2331) // صحيح ومضی (2221) // هذا الرقم فی طبعة الدع اس، وهو عندنا برقم (1808 / 2331) //صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3944 ہم سے عبدالرحمٰن بن واقد ابومسلم نے بیان کیا، وہ کہتے ہیں: ہم سے شریک نے اسی سند سے اسی طرح کی حدیث بیان کی اور عبدالرحمٰن بن عاصم کی کنیت ابوعلوان ہے اور وہ کوفی ہیں۔ صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3944
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے صرف شریک کی روایت سے جانتے ہیں، اور شریک کی روایت میں عبداللہ بن عصم ہے، اور اسرائیل بھی انہیں شیخ سے روایت کرتے ہیں، لیکن انہوں نے عبداللہ بن عصم کے بجائے عبداللہ بن عصمۃ کہا ہے، ٣- اس باب میں اسماء بنت ابی بکر ؓ سے بھی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اس سے اشارہ مختار بن عبید ثقفی کی طرف ہے جس نے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا اور ظالم حجاج بن یوسف ثقفی کی طرف ہے جس نے ہزاروں صالحین اور اکابرین کو اپنے ظلم و بربریت کا نشانہ بنایا۔
Takhrij · تخریج
انظر حدیث رقم ٢٢٢٠ (صحیح) انظر ماقبلہ (صحیح)