Sunan At-Tirmidhi 3918

مناقب کا بیان

3918Sunan At-Tirmidhi

مدینہ منورہ کی فضیلت کے بارے میں۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَال: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ مَوْلَاةً لَهُ أَتَتْهُ، فَقَالَتْ: اشْتَدَّ عَلَيَّ الزَّمَانُ وَإِنِّي أُرِيدُ أَنْ أَخْرُجَ إِلَى الْعِرَاقِ، قَالَ: فَهَلَّا إِلَى الشَّأْمِ أَرْضِ الْمَنْشَرِ، اصْبِرِي لَكَاعِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: مَنْ صَبَرَ عَلَى شِدَّتِهَا وَلَأْوَائِهَا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، وَسُفْيَانَ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، وَسُبَيْعَةَ الْأَسْلَمِيَّةِ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ حَدِيثِ عُبَيْدِ اللَّهِ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کی ایک آزاد کردہ لونڈی ان کے پاس آئی اور ان سے کہنے لگی میں گردش زمانہ کی شکار ہوں اور عراق جانا چاہتی ہوں، تو انہوں نے کہا: تو شام کیوں نہیں چلی جاتی جو حشر و نشر کی سر زمین ہے، (آپ نے کہا) «اصبري لکاع»! کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اس کی (مدینہ کی) سختی اور تنگی معیشت پر صبر کیا تو میں قیامت کے دن اس کے لیے گواہ یا سفارشی ہوں گا ١ ؎۔

It is reported about Sayyidina Ibn Umar (RA) that one of his freed woman came to him. She said, “Times are very hard upon me and I intend to go away to Iraq.” He said, “Why do you not go to Syria? It is the land of gathering. Besides, O foolish one! Why do you not show patience? I have heard Allah’s Messenger say that if anyone exercises patience over the hardships of Madinah and over hunger then, on the day of resurrection, he will be his-witness or intercessor.” [Muslim 1377, Ahmed 6449]

صحيح تخريج فقه السيرة (184)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3918
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث عبیداللہ کی روایت سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- اس باب میں ابو سعید خدری، سفیان بن ابی زہیر اور سبیعہ اسلمیہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ بھی مدینہ کی ایک فضیلت ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٨١٢٢) (صحیح)