Sunan At-Tirmidhi 3911

مناقب کا بیان

3911Sunan At-Tirmidhi

انصار کے گھروں کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَال: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي أُسَيْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: خَيْرُ دُورِ الْأَنْصَارِ دُورُ بَنِي النَّجَّارِ، ثُمَّ دُورُ بَنِي عَبْدِ الْأَشْهَلِ، ثُمَّ بَنِي الْحَارِثِ بْنِ الْخَزْرَجِ، ثُمَّ بَنِي سَاعِدَةَ، وَفِي كُلِّ دُورِ الْأَنْصَارِ خَيْرٌ ، فَقَالَ سَعْدٌ: مَا أَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا قَدْ فَضَّلَ عَلَيْنَا فَقِيلَ: قَدْ فَضَّلَكُمْ عَلَى كَثِيرٍ. قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ، وَأَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ اسْمُهُ: مَالِكُ بْنُ رَبِيعَةَ، وَقَدْ رُوِيَ نَحْوُ هَذَا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَوَاهُ مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، وَعُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ابواسید ساعدی ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: انصار کے گھروں میں سب سے بہتر گھر بنی نجار کے گھر ١ ؎ ہیں، پھر بنی عبدالاشہل کے، پھر بنی حارث بن خزرج کے پھر بنی ساعدہ کے اور انصار کے سارے گھروں میں خیر ہے ، تو سعد نے کہا: میں رسول اللہ ﷺ کو یہی سمجھ رہا ہوں کہ آپ نے ہم پر لوگوں کو فضیلت دی ہے ٢ ؎ تو ان سے کہا گیا: آپ کو بھی تو بہت سے لوگوں پر فضیلت دی ہے ٣ ؎۔

Sayyidina Abu Usayd Saidi (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The best of the tribes of the ansar are the tribe of Banu Najjar, then the tribe Banu Abdul Ashhal, then Banu Harith ibn Khazraj, then Banu Sa’idah, and there is good in every tribe of ansar. Sad narrated, “I never saw Allah’s Messenger ﷺ but he preferred over us. So, someone said, “He preferred you, indeed, over many.” [Ahmed 16049, Bukhari 3789, Muslim 2511]

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3911
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن صحیح ہے، ٢- ابواسید ساعدی کا نام مالک بن ربیعہ ہے، ٣- اسی جیسی روایت ابوہریرہ ؓ سے بھی مرفوع طریقہ سے آئی ہے، ٤- اسے معمر نے زہری سے، زہری نے ابوسلمہ اور عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ سے اور ان دونوں نے ابوہریرہ ؓ کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے روایت کی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: قبائل و خاندان۔ ٢ ؎: آپ بنی ساعدہ میں سے تھے جن کا تذکرہ نبی ﷺ نے چوتھے درجہ پر کیا۔ ٣ ؎: یعنی: بنی ساعدہ کے بعد بھی تو انصار کے کئی خاندان ہیں جن کے اوپر بنی ساعدہ کو فضیلت دی ہے، نیز یہ بھی خیال رہے کہ یہ ترتیب آپ نے بحکم خداوندی بتائی تھی، اس لیے آپ پر اعتراض نہیں کرنا چاہیئے، یہ نصیحت خود سعد بن معاذ کے بھائی سہل نے کی تھی «کما فی مسلم»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/مناقب الأنصار ٧ (٣٧٨٩، و ٣٧٩٠)، و ١٥ (٣٨٠٧)، والأدب ٦٠٥٣٤٧)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٤٤ (٢٥١١) (تحفة الأشراف: ١١١٨٩) (صحیح)