Sunan At-Tirmidhi 3894

مناقب کا بیان

3894Sunan At-Tirmidhi

ازواج مطہرات کی فضیلت کے بارے میں

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ، وَعَبْدُ بْنُ حميد، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: بَلَغَ صَفِيَّةَ أَنَّ حَفْصَةَ قَالَتْ: بِنْتُ يَهُودِيٍّ فَبَكَتْ، فَدَخَلَ عَلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ تَبْكِي، فَقَالَ: مَا يُبْكِيكِ ؟ ، فَقَالَتْ: قَالَتْ لِي حَفْصَةُ: إِنِّي بِنْتُ يَهُودِيٍّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّكِ لَابْنَةُ نَبِيٍّ، وَإِنَّ عَمَّكِ لَنَبِيٌّ، وَإِنَّكِ لَتَحْتَ نَبِيٍّ، فَفِيمَ تَفْخَرُ عَلَيْكِ ؟ ثُمَّ قَالَ: اتَّقِي اللَّهَ يَا حَفْصَةُ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ.

انس ؓ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین صفیہ ؓ کو یہ بات پہنچی کہ ام المؤمنین حفصہ ؓ نے انہیں یہودی کی بیٹی ہونے کا طعنہ دیا ہے، تو وہ رونے لگیں، نبی اکرم ﷺ ان کے پاس آئے تو وہ رو رہی تھیں، آپ نے پوچھا: تم کیوں رو رہی ہو؟ تو انہوں نے کہا: حفصہ نے مجھے یہ طعنہ دیا ہے کہ میں یہودی کی بیٹی ہوں، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: تو ایک نبی کی بیٹی ہے، تیرا چچا بھی نبی ہے ١ ؎ اور تو ایک نبی کے عقد میں ہے، تو وہ کس بات میں تجھ پر فخر کر رہی ہے، پھر آپ نے (حفصہ سے) فرمایا: حفصہ! اللہ سے ڈر ۔

Sayyidina Anas reported that Sayyidah Safiyah (RA) had learnt that Sayyidah Hafsah commented (about her), ‘Daughter of a Jew.’ So, she wept, The Prophet ﷺ went to her and found her weeping. He asked her, ‘Why do you weep?” She said, “Hafsah says to me that lam the daughter of a Jew.” The Prophet ﷺ said, “And you are the daughter of a Prophet ﷺ and your uncle was a Prophet ﷺ and you are in marriage with a Prophet. So, of what does she boast over you?” Then he said, “Fear Allah, O Hafsah!” [Ahmed 12395]

صحيح، المشکاة (6183)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3894
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی صفیہ موسیٰ (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہیں، اور ان کے بھائی ہارون بھی نبی تھے، تو باپ اور چچا دونوں نبی ہوئے، ویسے حفصہ بھی ایک ( نبی اسماعیل (علیہ السلام) ) کی اولاد میں سے تھیں، اور اسماعیل کے بھائی اسحاق ( چچا ) بھی نبی تھے، اور نبی کی زوجیت میں بھی تھیں، اس لحاظ سے دونوں برابر تھیں، صرف اس طرح کے تفاخر سے آپ کو انہیں تنبیہ کرنا مقصود تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف (أخرجہ النسائي في الکبری) (صحیح)