حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کے مناقب
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ، قَالَ: أَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَسَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسا صالحا، فيسر لِي أَبَا هُرَيْرَةَ، فَجَلَسْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنِّي سَأَلْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسا صالحا فوفقت لِي، فَقَالَ لِي: مِنْ أَيْنَ أَنْتَ ؟ ، قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ جِئْتُ أَلْتَمِسُ الْخَيْرَ وَأَطْلُبُهُ، قَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ سَعْدُ بْنُ مَالِكٍ مُجَابُ الدَّعْوَةِ، وَابْنُ مَسْعُودٍ صَاحِبُ طَهُورِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَعْلَيْهِ، وَحُذَيْفَةُ صَاحِبُ سِرِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَمَّارٌ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ، وَسَلْمَانُ صَاحِبُ الْكِتَابَيْنِ ، قَالَ قَتَادَةُ: وَالْكِتَابَانِ: الْإِنْجِيلُ، وَالْفُرْقَانُ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ، وَخَيْثَمَةُ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَبْرَةَ إِنَّمَا نُسِبَ إِلَى جَدِّهِ.
خیثمہ بن ابی سبرہ کہتے ہیں کہ میں مدینہ آیا تو میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں پانے کی دعا کی، چناچہ اللہ نے مجھے ابوہریرہ ؓ کی ہم نشینی کی توفیق بخشی ١ ؎، میں ان کے پاس بیٹھنے لگا تو میں نے ان سے عرض کیا: میں نے اللہ سے اپنے لیے ایک صالح ہم نشیں کی توفیق مرحمت فرمانے کی دعا کی تھی، چناچہ مجھے آپ کی ہم نشینی کی توفیق ملی ہے، انہوں نے مجھ سے پوچھا: تم کہاں کے ہو؟ میں نے عرض کیا: میرا تعلق اہل کوفہ سے ہے اور میں خیر کی تلاش و طلب میں یہاں آیا ہوں، انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں سعد بن مالک جو مستجاب الدعوات ہیں ٢ ؎ اور ابن مسعود جو رسول اللہ ﷺ کے لیے وضو کے پانی کا انتظام کرنے والے اور آپ کے کفش بردار ہیں اور حذیفہ جو آپ کے ہمراز ہیں اور عمار جنہیں اللہ نے شیطان سے اپنے نبی کی زبانی پناہ دی ہے اور سلمان جو دونوں کتابوں والے ہیں موجود نہیں ہیں۔ راوی حدیث قتادہ کہتے ہیں: کتابان سے مراد انجیل اور قرآن ہیں ٣ ؎۔
Khaythamah ibn Abu Sayrah narrated: I came to Madinah and prayed to Allah to get me a righteous companion. He made easy for me the company of Abu Hurayrah (RA). I sat down with him and said to him, “I prayed to Allah that He should make easy for me the company of a righteous men and he brought you and me toghether.” He asked me, “From where are you?” I said, “I am from Kufah. I have come seking good.” He asked, “Is not there among you Sa’d ibn Maalik whose prayers are answered, and Ibn Mas’ud who carried water for the Prophet’s ablution and his shoes, and Hudhayfah who was the Prophet’s confidant, and Ammar whom Allah kept away from the devil in answer to the Prophets I’ prayer, and Salman who is the man of two Books?” Qatadah explained, “The two Books are the Injil and the Qur’an.” [Bukhari 3758] --------------------------------------------------------------------------------