Sunan At-Tirmidhi 3790

مناقب کا بیان

3790Sunan At-Tirmidhi

حضرت معاذ بن جبل زید بن ثابت ابی بن کعب اور ابوعبید بن جراح (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ وَكِيعٍ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ دَاوُدَ الْعَطَّارِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَرْحَمُ أُمَّتِي بِأُمَّتِي أَبُو بَكْرٍ، وَأَشَدُّهُمْ فِي أَمْرِ اللَّهِ عُمَرُ، وَأَصْدَقُهُمْ حَيَاءً عُثْمَانُ، وَأَعْلَمُهُمْ بِالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ، وَأَفْرَضُهُمْ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ، وَأَقْرَؤُهُمْ أُبَيٌّ بْنُ كَعْبٍ، وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَمِينٌ وَأَمِينُ هَذِهِ الْأُمَّةِ أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ الْجَرَّاحِ . قَالَ: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ قَتَادَةَ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو قِلَابَةَ، عَنْ أَنَسٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ، وَالْمَشْهُورُ حَدِيثُ أَبِي قِلَابَةَ.

انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: میری امت میں سب سے زیادہ میری امت پر رحم کرنے والے ابوبکر ہیں اور اللہ کے معاملہ میں سب سے زیادہ سخت عمر ہیں، اور سب سے زیادہ سچی حیاء والے عثمان بن عفان ہیں، اور حلال و حرام کے سب سے بڑے جانکار معاذ بن جبل ہیں، اور فرائض (میراث) کے سب سے زیادہ جاننے والے زید بن ثابت ہیں، اور سب سے بڑے قاری ابی بن کعب ہیں، اور ہر امت میں ایک امین ہوتا ہے اور اس امت کے امین ابوعبیدہ بن جراح ہیں ١ ؎۔

Sayyidina Anas ibn Maalik (RA) reported that Allah’s Messenger ﷺ said, “The most merciful member of my ummah to my ummah is Abu Bakr, and the most strict of them concerning Allah’s commands is Umar, and the most sincere of them showing modesty is Uthman ibn Affan, and the most knowledgeable of them concerning the lawful and the unlawful is Mu’adh ibn Jabal, and (the most knowledgeable) about (laws of) inheritance is Zayd ibn Thabit, and the most (knowledgeable) about recital (of Qur’an) is Ubayy ibn Ka’b, and there is for every ummah an amin (trustworthy) and the trustworthy of this ummah is Abu Ubsydah ibn Jarrah.”

صحيح، ابن ماجة (154)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3790
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث حسن غریب ہے، ہم اسے اس سند سے صرف قتادہ کی روایت سے جانتے ہیں ٢- اسے ابوقلابہ نے انس کے واسطہ سے نبی اکرم ﷺ سے اسی کے مانند روایت کیا ہے اور مشہور ابوقلابہ والی روایت ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: امین یوں تو سارے صحابہ تھے، مگر ابوعبیدہ ؓ اس بات میں ممتاز تھے، اس لیے ان کو «امین الامۃ» (آج کل کی اصطلاح میں پوری امت کا جنرل سیکریٹری ) کا لقب دیا، اسی طرح بہت ساری اچھی صفات میں بہت سے صحابہ مشترک ہیں مگر کسی کسی کی خاص خصوصیت ہے کہ جس کی وجہ سے آپ ﷺ نے ان کو اس صفت میں ممتاز قرار دیا، جیسے حیاء میں عثمان، قضاء میں علی، میراث میں زید بن ثابت اور قراءت میں ابی بن کعب، وغیرہم ؓ، ( دیکھئیے اگلی حدیث )۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف، وانظر ما بعدہ ( تحفة الأشراف: ١٣٤٤) (صحیح)