Sunan At-Tirmidhi 3770

مناقب کا بیان

3770Sunan At-Tirmidhi

ابو محمد حسن بن علی بن ابی طالب (رض) اور حسین بن علی بن ابی طالب (رض) کے مناقب

حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرِ بْنِ حَازِمٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي نُعْمٍ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ سَأَلَ ابْنَ عُمَرَ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ يُصِيبُ الثَّوْبَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: انْظُرُوا إِلَى هَذَا يَسْأَلُ عَنْ دَمِ الْبَعُوضِ وَقَدْ قَتَلُوا ابْنَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ هُمَا رَيْحَانَتَايَ مِنَ الدُّنْيَا . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا صَحِيحٌ رَوَاهُ شُعْبَةُ،وَمَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَعْقُوبَ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ.

عبدالرحمٰن بن ابی نعم سے روایت ہے کہ اہل عراق کے ایک شخص نے ابن عمر ؓ سے مچھر کے خون کے بارے میں پوچھا جو کپڑے میں لگ جائے کہ اس کا کیا حکم ہے؟ ١ ؎ تو ابن عمر ؓ نے کہا: اس شخص کو دیکھو یہ مچھر کے خون کا حکم پوچھ رہا ہے! حالانکہ انہیں لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے نواسہ کو قتل کیا ہے، اور میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: حسن اور حسین ؓ یہ دونوں میری دنیا کے پھول ہیں ۔

Abdur Rahman ibn Abu Nu’m reported that a man of Iraq asked Ibn Umar (RA) about blood of a mosquito that stains a garment. Ibn Umar (RA) said, “Look at him. He asks about blood of a mosquito while they have killed the son° of Allah’s Messenger ﷺ had heard Allah’s Messenger ﷺ say. Surely, Hasan and Husayn are my two flowers in this world.” [Ahmed 5572, Bukhari 3753]

صحيح، المشکاة (6155)، الصحيحة (564)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3770
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث صحیح ہے، ٢- اسے شعبہ اور مہدی بن میمون نے بھی محمد بن ابی یعقوب سے روایت کیا ہے، ٣- ابوہریرہ کے واسطے سے بھی نبی اکرم ﷺ سے اسی طرح کی روایت آئی ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ سائل نے حالت احرام میں مچھر مارنے کے فدیہ کے بارے میں سوال کیا تھا، ہوسکتا ہے کہ مؤلف کی روایت میں کسی راوی نے مبہم روایت کردی ہو، سیاق و سباق کے لحاظ سے صحیح صورت حال مسئلہ وہی ہے جو صحیح بخاری میں ہے۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الأدب ١٨ (٥٩٩٤) (تحفة الأشراف: ٧٣٠٠) (صحیح)