Sunan At-Tirmidhi 3746

مناقب کا بیان

3746Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ صَخْرِ بْنِ جُوَيْرِيَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، قَالَ: أَوْصَى الزُّبَيْرُ إِلَى ابْنِهِ عَبْدِ اللَّهِ صَبِيحَةَ الْجَمَلِ، فَقَالَ: مَا مِنِّي عُضْوٌ إِلَّا وَقَدْ جُرِحَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى انْتَهَى ذَاكَ إِلَى فَرْجِهِ . قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَسَنٌ غَرِيبٌ حَدِيثِ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ.

ہشام بن عروہ کہتے ہیں کہ زبیر ؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ ؓ کو جنگ جمل کی صبح کو وصیت کی اور کہا: میرا کوئی عضو ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کی رفاقت میں زخمی نہ ہوا ہو یہاں تک کہ میری شرمگاہ بھی ١ ؎۔

Hisham ibn Urwah (RA) reported that during the Battle of Jamal, Zubayr instructed his son Abdullah and also said, “There is not any of my limb but has been wounded (in battles I fought) for Allah’s Messenger ﷺ so much so that my private parts were injured.” --------------------------------------------------------------------------------

صحيح الإسنادصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3746
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
حماد بن زید کی روایت سے یہ حدیث حسن غریب ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یہ وصیت انہوں نے اس لیے کی کہ جو قربانیاں ہم نے غلبہ دین حق کے لیے دی تھیں اور اسلام ان قربانیوں کے عوض دنیا پر غالب آگیا ہے، آج اسی قوت، طاقت، صلاحیت اور قربانی کو ہم آپس میں ضائع کر رہے ہیں چناچہ زبیر ؓ جنگ جمل سے دست بردار ہو کر واپس مکہ ( یا مدینہ طیبہ ) کی طرف پلٹ آئے تھے اور آپ کو راستے میں کسی نے شہید کردیا تھا۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٣٦٢٧) (صحیح الإسناد)