Sunan At-Tirmidhi 3756

مناقب کا بیان

3756Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ، أَنَّ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً، قَالَ: لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا يَحْرُسُنِيَ اللَّيْلَةَ ، قَالَتْ: فَبَيْنَمَا نَحْنُ كَذَلِكَ إِذْ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ السِّلَاحِ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا ؟ ، فَقَالَ: سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا جَاءَ بِكَ ؟ ، فَقَالَ سَعْدٌ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ، فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَامَ. قَالَ: هَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ.

ام المؤمنین عائشہ ؓ کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو کسی غزوہ سے مدینہ واپس آنے پر ایک رات نیند نہیں آئی، تو آپ نے فرمایا: کاش کوئی مرد صالح ہوتا جو آج رات میری نگہبانی کرتا ، ہم اسی خیال میں تھے کہ ہم نے ہتھیاروں کے کھنکھناہٹ کی آواز سنی، تو آپ ﷺ نے پوچھا: یہ کون ہے؟ آنے والے نے کہا: میں سعد بن ابی وقاص ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے پوچھا: تم کیوں آئے ہو؟ تو سعد ؓ نے کہا: میرے دل میں یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ کہیں رسول اللہ ﷺ کو کوئی نقصان نہ پہنچے اس لیے میں آپ کی نگہبانی کے لیے آیا ہوں، تو رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے دعا فرمائی پھر سو گئے ١ ؎۔

Sayyidah Ayshah (RA) narrated: Allah’s Messenger ﷺ arrived in Madinah one night from a battle but could not sleep. So, he said, “Would that a pious man stand guard for me tonight!” While we were on tht,’we heard a rustle of weapons. He asked, ‘Who is that?” There was a reply, “Sa’d ibn Abu Waqqas.” Allah’s Messenger ﷺ asked, “What is with you?” Sad said, “I felt within myself fear for Allah’s Messenger ﷺ ?-‘ So, I came to guard him.” So, Allah’s Messenger ﷺ prayed for him. Then he went to sleep. [Ahmed 25147, Bukhari 2885, Muslim 2410] --------------------------------------------------------------------------------

صحيحصحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3756
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
یہ حدیث حسن صحیح ہے۔
Notes · وضاحت
١ ؎: یعنی: اللہ کے رسول اللہ ﷺ کے فرمان «رجل صالح» کے مصداق سعد ؓ قرار پائے، یہ ایک بہت بڑی فضیلت ہوئی کہ رسول اللہ ﷺ کسی کو «رجل صالح» قرار دیں ہیں، «ؓ وأرضاہ»۔
Takhrij · تخریج
صحیح البخاری/الجھاد ٧٠ (٢٨٨٥)، والتمنی ٤ (٧٢٣١)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٥ (٢٤١٠) (تحفة الأشراف: ١٦٢٢٥) (صحیح)