Sunan At-Tirmidhi 3682

مناقب کا بیان

3682Sunan At-Tirmidhi

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، حَدَّثَنَا خَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ الأَنْصَارِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: إِنَّ اللَّهَ جَعَلَ الْحَقَّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ ، وَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: مَا نَزَلَ بِالنَّاسِ أَمْرٌ قَطُّ فَقَالُوا فِيهِ، وَقَالَ: فِيهِ عُمَرُ، أَوْ قَالَ: ابْنُ الْخَطَّابِ فِيهِ شَكَّ خَارِجَةُ إِلَّا نَزَلَ فِيهِ الْقُرْآنُ عَلَى نَحْوِ مَا قَالَ عُمَرُ، وَفِي الْبَابِ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ، وَأَبِي ذَرٍّ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ. قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَذَا حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ هَذَا الْوَجْهِ، وَخَارِجَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيُّ هُوَ ابْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ وَهُوَ ثِقَةٌ.

عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان و دل پر حق کو جاری فرما دیا ہے ۔ عبداللہ بن عمر ؓ کہتے ہیں: کبھی کوئی ایسا واقعہ نہیں ہوا جس میں لوگوں نے اپنی رائیں پیش کیں ہوں اور عمر بن خطاب ؓ نے (راوی خارجہ کو شک ہوگیا ہے) بھی رائے دی ہو، مگر قرآن اس واقعہ سے متعلق عمر ؓ کی اپنی رائے کے موافق نہ اترا ہو ١ ؎۔

Sayyidina Ibn Umar (RA) reported that Allah’s Messenger said, “Surely, Allah brought the truth on the tongue of Umar and his heart.” He also reported that when a situation arose and other people said something and Umar (RA) said something-or he said that Ibn ul-Khattab said something (the narrator being unsure which way), the Qur’an was revealed upholding Umar’s view. --------------------------------------------------------------------------------

صحيح، ابن ماجة (108)صحيح وضعيف سنن الترمذي الألباني: حديث نمبر 3682
Imam Tirmidhi's comment · امام ترمذی
١- یہ حدیث اس سند سے حسن صحیح غریب ہے، ٢- خارجہ بن عبداللہ انصاری کا پورا نام خارجہ بن عبداللہ بن سلیمان بن زید بن ثابت ہے اور یہ ثقہ ہیں، ٣- اس باب میں فضل بن عباس، ابوذر اور ابوہریرہ ؓ سے بھی احادیث آئی ہیں۔
Notes · وضاحت
١ ؎: اسی لیے آپ کو «ملہم» یا «محدث» کہا جاتا ہے۔
Takhrij · تخریج
تفرد بہ المؤلف ( تحفة الأشراف: ٧٦٥٦)، و مسند احمد (٢/٥٣، ٩٥) (صحیح)